دنیا ہماری بات کیوں نہیں مانتی؟


ٹرمپ کے اشتعال انگیز بیانات کے باوجود صورت حال اب بھی وہی ہے۔ امریکی وزارت دفاع کے ترجمان کرنل رابرٹ میننگ نے ایک پریس بریفنگ میں افغانستان کے حوالے سے پاکستان کی اہمیت پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ اس بارے میں امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ اس طرح پاکستان اور امریکہ ایک دوسرے پر غرّانے کے باوجود عملی طور سے ایک ہی بات کررہے ہیں کہ افغانستان میں قیام امن کے لئے پاکستان اہم ہے اور پاک فوج کے سربراہ یقین دلاتے ہیں کہ ’ہم افغانستان میں قیام امن کے لئے کوشش کرتے رہیں گے‘۔

تاہم الزام تراشی کی زد پر آئے ہوئے پاکستانی عوام ضرور اس سوال کا جواب چاہتے ہیں کہ پاکستان اسامہ بن لادن کی موجودگی اور ہلاکت کے مشن کے بارے میں تفصیلات عوام اور دنیا کو بتانے سے کیوں قاصر ہے۔ ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ کو خفیہ رکھا گیا ہے اور پاکستان کی سلامتی اور خود مختاری کے ذمہ دار اداروں نے پاک سرزمین پر امریکی حملہ کو روکنے میں ناکامی پر نہ قوم سے معافی مانگی ہے اور نہ ہی اس کے کسی افسر پر اس ناکامی کی ذمہ داری عائد کی گئی ہے۔ پاکستانی عوام نے ہمیشہ پاک فوج پر بھروسہ کیا ہے۔ ملکی جمہوری نظام کو تاراج کرنے اور ملک کو دو لخت کروانے میں کردار ادا کرنے کے باوجود پاک فوج کو عزت و احترام دیا گیا اور اس کی قیادت پر اعتبار کیا گیا۔ لیکن جب پاک فوج اسامہ بن لادن کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے الزامات پر خاموشی اختیار کرتی ہے تو اس سے پیدا ہونے والے شبہات کا بوجھ بھی عوام ہی کو اٹھانا پڑتا ہے۔

پاکستان پر مذہبی انتہا پسندی کے حوالے سے سنگین الزامات عائد ہوتے ہیں۔ دراصل یہی شدت پسندانہ مزاج ملک میں دہشت گردی کی قبولیت اور سرپرستی کرنے والے عناصر پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کا درست دعویٰ کرنے کے باوجود اس سوال کا جواب دینے سے قاصر ہے کہ ملک میں مذہب کے نام پر انتہا پسندی میں کیوں اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران ایک نئی طرح کے مذہبی شدت پسند گروہ نے قوت حاصل کی ہے لیکن فوج اس کے ساتھ بھی شفقت کا رویہ اختیار کرتی ہے اور حکومت بھی اس کی بے ادائیوں کو نظر انداز کرنے میں ہی عافیت سمجھتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ عام طور سے ججوں اور عدالت کی عزت کے معاملہ میں حساس چیف جسٹس بھی خادم رضوی اور افضل قادری کی دشنام طرازی پر غور کرنا ضروری نہیں سمجھتے۔

ملک میں اقلیتوں کو سنگین صورت حال کا سامنا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے مذہبی شدت پسندی کا جواب دینے کے لئے خود مذہب کو اپنے سیاسی منشور کا حصہ بنا کر ایک مقبول ایجنڈے پر عمل کرنے کا طریقہ شروع کیا ہے۔ آج اسلا م آباد میں دو روزہ عالمی رحمت العالمین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے بتایا ہے کہ پاکستانی حکومت توہین مذاہب کے خلاف تمام ممالک کو ایک ڈیکلیریشن پر آمادہ کرنے کے لئے کام کررہی ہے۔ اس طرح وہ مذہب کو سیاسی منشور کا حصہ بنا کر مذہبی انتہا پسندی کا راستہ روکنا چاہتے ہیں لیکن انتہا پسند عناصر کے خلاف بات کرنے یا اقلیتوں کو درپیش حالات کو تبدیل کرنے کے لئے کسی مؤثر حکمت عملی کا اعلان کرنے میں ناکام ہیں۔

آسیہ بی بی کے معاملہ میں حکومت نے مذہبی شدت پسندوں سے شکست قبول کرکے یہ تسلیم کیا ہے کہ وہ ملک میں عقیدہ اور فرقہ وارانہ منافرت کو روکنے میں ناکام ہو رہی ہے۔ اس مقصد کو نظر انداز کرنے والی حکومت کیوںکر دہشت گردی کے حوالے سے کسی مستقل کامیابی کی دعویدار ہو سکتی ہے۔ وزیر اعظم نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ جو لوگ پیغمبر اسلام ﷺ کے فلسفہ حیات کو سمجھنے میں ناکام ہیں، وہی عقیدے کے محافظ بن بیٹھےہیں۔ لیکن وہ ان عناصر کی نشاندہی کرنے اور ان کے خلاف قومی مہم جوئی کا اعلان کرنے سے قاصر ہیں۔ اس کے برعکس وہ ڈینش سیاست دان گیرٹ وائیلڈرز کی طرف سے رسول پاک ﷺ کے توہین آمیز خاکوں کا مقابلہ منسوخ کرنے کے معاملہ کو اپنی حکومت کی سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کرکے ایسے مقبول ایجنڈے کو مستحکم کررہے ہیں جو انتہاپسندی میں اضافہ کا سبب بنے گا۔

جنرل قمر جاوید باجوہ کے اس بیان سے اختلاف کی گنجائش نہیں ہوسکتی کہ ’ پاکستان کا وقار اور اس کی سلامتی سرفہرست ہے‘۔ لیکن اس حوالے سے بعض چبھتے سوالوں کا دوٹوک جواب دینا ہوگا۔ اسی طرح مذہب کو مقبول سیاسی ایجنڈا بنانے کا طریقہ ترک کئے بغیر مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف نہ تو پاکستان کی جنگ مکمل طور سے کامیاب ہو سکے گی اور نہ ہی دنیا اس کی قربانیوں کو تسلیم کرے گی۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali