تاریخ کی آخری کتاب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پیارے بچو۔ ہم سب جانتے ہیں کہ برصغیر میں محمد بن قاسم کے حملے سے پہلے انسانوں نے قدم نہیں رکھے تھے اور اسی وجہ سے ہماری درسی تاریخ محمد بن قاسم سے شروع ہوتی ہے۔ آپ سب کی سہولت کے لیے ”تاریخ کی آخری کتاب“ پیش کی جا رہی ہے جو برصغیر میں نسل انسانی کی پہلی آباد کاری کے بارے میں آپ کو جانکاری دے گی۔ امید ہے کہ ملک بھر کے ٹیکسٹ بک بورڈ اسے نصاب میں شامل کرنے پر سنجیدگی سے غور کریں گے اور انہوں نے جو کوتاہی ”اردو کی آخری کتاب“ نصاب میں شامل نہ کرتے ہوئے کی ہے، اس کا ازالہ کر دیں گے۔

یہ بات تاریخ سے ثابت ہے کہ محمد بن قاسم سے پہلے برصغیر میں انسان نہیں رہتے تھے۔ اس کتاب کو پڑھ کر بلاوجہ کی بچکانہ تنقید کرنے والے کچھ گمراہ لوگ ہڑپہ اور موہنجوداڑو کے کھنڈرات کی طرف اشارہ کر کے آپ کو کہیں گے کہ یہ اس علاقے میں زمانہ قدیم سے انسانوں کی موجودگی کا ثبوت ہے۔ لیکن خدارا گمراہ مت ہوں۔ ان آثار کی حقیقت صرف اتنی سی ہے کہ تحریک پاکستان کے مخالف چالاک ہندو بنیوں نے ان آثار کو بنا کر مٹی کے نیچے دبا دیا تھا تاکہ بعد میں ٹی وی کیمروں کے سامنے انہیں کھود نکال کر بھولے بھالے بچوں کو یہ دھوکہ دیا جا سکے کہ محمد بن قاسم سے پہلے بھی اس خطے کی کوئی تاریخ ہوا کرتی تھی۔

دوسری طرف یہ بحث بھی کی جانے لگی ہے کہ کیا بچوں کو نظریاتی تعلیم دے کر اچھا روبوٹ بنایا جائے یا پھر ان کو حقیقت بتا کر خود اچھے برے کی تمیز کرنی سکھائی جائے۔ جس شخص نے بھی آرنلڈ شوارزنیگز کی ٹرمینیٹر نامی فلمیں دیکھی ہیں، وہ بخوبی جانتا ہے کہ دنیا پر جلد ہی روبوٹوں کی حکومت قائم ہونے والی ہے، اس لیے نظریاتی تعلیم دینا ہماری قوم کو وہ عروج دے گا کہ دنیا ہماری مثال دیا کرے گی اور کرہ ارض پر کوئی بھی دھماکہ خیز بات ہو تو ہمارا نام ہی لیا جائے گا۔ دور جدید کی ضروریات جانتے ہوئے اس جدید تاریخی ریڈر میں اس بات کا پورا خیال رکھا گیا ہے کہ بچوں کی نظریاتی بنیاد خوب مستحکم ہو جائے اور وہ صرف خود کو ہی انسان سمجھیں۔ بلاوجہ بچوں کو سچ بولنا سننا سکھا دیا، تو وہ فسادی بن جائیں گے اور اپنا دماغ استعمال کرنے کے عادی ہو جائیں گے۔

تاریخ کی آخری کتاب

باب اول: برصغیر میں نسل انسانی کے پہلے قدم اور سندھ کی فتح

تو پیارے بچو، ہوا یوں کہ حجاج بن یوسف کو سندھ نامی ایک جنگل کے بندی خانے سے ایک خط ملا۔ کوئی مبینہ دوشیزہ دعوی کر رہی تھی کہ اسے زبردستی بندی بنا دیا گیا ہے۔ عراق کے حکمران حجاج بن یوسف نے تحقیق حال کے لیے اپنے سترہ سالہ بھتیجے محمد بن قاسم کو سندھ بھیجا۔ محمد بن قاسم سندھ پہنچا تو یہاں ایک دیبل نامی شہر ملا جس پر بندروں کی حکومت تھی۔ کسی انسان کا نام و نشان تک نہ تھا اور صرف فوجی ساز و سامان سے آراستہ ہاتھی گھوڑے وہاں صفیں بنائے کھڑے تھے۔ ابن قاسم نے منجنیقوں سے گولہ باری کر کے دیبل کو فتح کر لیا۔ ابن قاسم کو دیبل میں کوئی انسان نظر نہیں آیا۔ کوئی جیل یا لڑکی بھی نہیں ملی۔ اس پر حیران ہو کر اس نے شہر سے سینکڑوں بندریاں پکڑ کر خلیفہ کو بطور کنیز بھیج دیں اور جو بندر زندہ بچے تھے، ان کو پکڑ کر پنجروں میں بند کر دیا تاکہ دمشق کے چڑیا گھر کو بیچ کر مہم کا خرچہ پورا کرے۔

اس عظیم الشان فتح کے بعد وہ برہمن آباد نامی شہر پہنچا۔ یہ شہر بالکل ویران پڑا تھا، نہ آدم نہ آدم زاد ۔ حتی کہ بندر تک نہیں تھے۔ ابن قاسم نے اپنی فوج کو شہر پر حملے کا حکم دیا۔ سارا دن اس کی فوج ہوا سے لڑتی رہی، آخر شام کے قریب حبس ہوا اور ہوا بالکل تھم گئی تو ابن قاسم کو شاندار فتح نصیب ہوئی۔ پھر وہ سندھ کے دارالحکومت الور تک آن پہنچا۔

اب تک وہ ہندوستان کے حالات سے خوب واقف ہو چکا تھا اس لیے الور میں کسی انسان کو نہ پا کر حیران نہیں ہوا۔ لیکن شہر کا دفاع نہایت مضبوط تھا اور اسے فتح کرنا کارِ محال دکائی دیتا تھا۔ قریبی جنگل کے جانور حملہ آور فوجوں کو دیکھ کر قلعہ بند ہو چکے تھے۔ شہر کے برجوں پر گھوڑے چڑھے تیر برسا رہے تھے اور فصیلوں پر ہاتھی کھڑے ابلتا ہوا تیل اپنی سونڈوں میں بھر بھر کر نیچے ابن قاسم کی فوجوں پر پھینک رہے تھے۔ ایک لنگور ان کا راجہ بنا ان کی ہمت بندھا رہا تھا۔ ابن قاسم کے سپاہیوں نے سینکڑوں جانیں گنوا کر بمشکل الور کو فتح کیا۔ یہاں سے کافی کم جنگلی جانور ہاتھ لگے کیونکہ یہاں کے بندر قلعہ ہاتھ سے جاتے دیکھ کر قریبی جنگل کے درختوں پر چڑھ گئے تھے جن سے ان کو اتارنا بصرے کے صحرائی سپاہیوں کے لیے کار محال ثابت ہوا۔

ابن قاسم کی فوجیں اسی طرح مار دھاڑ کرتی ملتان تک آن پہنچیں۔

یہ اس زمانے کی تہذیب کا ایک بڑا مرکز تھا اور ہندوستان بھر کے تمام جانور اس کے سوریہ مندر کی زیارت کے لیے آیا کرتے تھے۔ ابن قاسم نے اس پر حملہ کیا تو اس کی حفاظت پر مامور ہاتھی گھوڑوں نے قلعے کے دروازے کھول دیے اور شاہی خاندان کے بندروں کو پکڑ کر ابن قاسم کے حوالے کر دیا۔ یوں کسی خاص نقصان کے بغیر ملتان بھی فتح ہو گیا۔

اسی اثنا میں حجاج بن یوسف کا انتقال ہو گیا اور دوسری طرف سلیمان بن عبدالملک بھی خلیفہ بن گیا۔ نئے خلیفہ نے ابن قاسم کو واپس بلوا لیا۔ ابن قاسم سندھ میں یا بقیہ ہندوستان میں کسی انسان کے وجود سے انکاری تھا لیکن فتوحات کے معاملے میں کہتا تھا کہ بہت مشکل سے ہوئی ہیں۔ روایت ہے کہ خلیفہ پہلے ہی ابن قاسم کی بھیجی ہوئی بندریا کنیزوں سے شدید دق تھا، اس نے ابن قاسم کے ان متضاد بیانات پر شدید کنفیوز ہو کر اسے بیل کی کھال میں سلوا دیا جس سے وہ انتقال کر گیا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1205 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

One thought on “تاریخ کی آخری کتاب

  • 08/09/2016 at 6:05 pm
    Permalink

    بہت خوبصورت ۔۔۔۔۔۔۔ بہت ہی خوبصورت مضمون لکھا ھے آپکو دونوں ھاتھوں سے سلام

Comments are closed.