نواز شریف اقتدار نہیں، بنیادی حقوق اور آئین کے تحفظ کی سیاست کریں


پاکستان کو اس وقت دنیا میں جن مشکل حالات کا سامنا ہے، اس کا مظاہرہ گزشتہ چند ماہ کے دوران ادائیگیوں کے توازن کو برقرار رکھنے کے لئے وزیر اعظم اور ان کی ٹیم کی بھاگ دوڑ سے بھی ہوتا رہا ہے۔ عمران خان ماضی میں یہ ناز کرتے رہے ہیں کہ وہ وزیر اعظم کے طور پر کبھی کسی دوسرے ملک سے ’امداد‘ کی بھیک نہیں مانگیں گے۔ لیکن اقتدار کی ہوس نے انہیں فوری طور پر ’بھکاری‘ بننے پر مجبور کردیا۔ اگرچہ وہ اس کا سارا الزام سابقہ حکومتوں اور بدعنوانی کو دے کر خود اپنا سر فخر سے بلند کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

 لیکن ملک جن حالات سے گزر رہا ہے انہیں پیدا کرنے میں سیاستدانوں کی غلط پالیسیوں اور بدعنوانی سے زیادہ اہداف کے تعین میں منتخب حکومتوں کی بے بسی بھی رہی ہے۔ اسمبلیاں کبھی خود مختاری سے فیصلے کرنے کی مجاز نہیں رہیں اور سیاست دانوں نے اقتدار حاصل کرنے کے لئے یا اسے طول دینے کے لئے قومی مقاصد کو نظر انداز کرنے میں دیر نہیں کی۔

 اسی کا نتیجہ ہے کہ پاکستان کو ایک طرف شدید اقتصادی دباؤ کا سامنا ہے جسے حل کرنے کے لئے سعودی عرب سے 3 سے 6 ارب ڈالر کا فوری پیکیج ملنے کے باوجود وزیر اعظم کو چین اور متحدہ عرب امارات سے امداد کی اپیل کرنا پڑی ہے۔ اس تعاون کے لئے عمران خان کو جس ہتک اور ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہوگا، اس کا حال وہ خود ہی جانتے ہوں گے۔ آئی ایم ایف سے مالی پیکیج کے سلسلہ میں ہونے والے مذاکرات بھی اسی توہین کا تسلسل ہیں۔

 مالی مشکلات کے علاوہ پاکستان کو سفارتی دباؤ اور عالمی سطح پر خارجہ و سیکورٹی پالیسیوں کے حوالے سے بھی مزاحمت کا سامنا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان پر تازہ ترین حملے اسی تکلیف دہ صورت حال کا ایک پہلو ہیں۔ ٹرمپ کی تنقید کے جواب میں سخت بیان دینے سے پاکستان کی مشکلات پوری ہونے کی امید نہیں کی جاسکتی۔

 دریں حالات ہر پاکستانی یہ خواہش رکھتا ہے کہ ملک پر جس پارٹی کی بھی حکومت ہو، اسے کامیابی نصیب ہو۔ وہ قوم کو درپیش مشکلات کو ختم کرنے کے لئے پالیسیاں بنانے میں کامیاب ہو سکے۔ عالمی سطح پر ملک کی قیادت کو عزت و احترام حاصل ہو اور اس کے لیڈروں کو بار بار اقتصادی عدم توازن کی وجہ سے بیرونی امداد کے لئے ہاتھ نہ پھیلانا پڑیں۔ پاکستان کی کامیابی کسی ایک پارٹی یا لیڈرکی کامیابی نہیں ہو سکتی بلکہ یہ اس ملک کے اکیس کروڑ عوام کی کامیابی ہوگی۔

 اسی لئے جب عمران خان کسی قومی مقصد کے لئے آواز اٹھائیں گے یا جب بھی وہ قوم کو درست راہ پر گامزن کرنے کا اقدام کریں گے تو پوری قوم بلا تخصیص ان کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ اس کا مظاہرہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے الزامات کے جواب میں عمران خان کے سخت مؤقف کو ملنے والی بین الجماعتی حمایت سے بھی لگایا جاسکتا ہے۔ پاکستان اگر عمران خان کی قیادت میں کامیابی کی منازل طے کرتا ہے تو اس سے ہر پاکستانی کا دل اطمینان اور فخر سے بھر جائے گا۔ تاہم جب ان کے اقدامات سیاسی ہوس کا پرتو ہوں گے، یا وہ بطور منتخب لیڈر عوامی حق حکمرانی کا تحفظ کرنے میں ناکام رہیں گے اور آزاد ی رائے کو محدود کرکے آمرانہ اقدامات کے لئے راہ ہموار کرنے کی کوشش کی جائے گی تو اس کے خلاف آواز بھی بلند ہو گی اور ان پالیسیوں کی مزاحمت بھی کی جائے گی۔

 قوم نوازشریف سے اس مزاحمت کی قیادت کرنے کی امید کرتی ہے۔ ان کے اور ان کے اہل خاندان کے خلاف قائم مقدمات کو اسی لئے سیاسی کہا جاتا ہے کیوں کہ ان سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ خفیہ ہاتھ نواز شریف کو دباؤ میں لا کر سیاست میں ان کا راستہ مسدود کرنا چاہتے ہیں۔ سیاست گو کہ عوام کی حمایت سے عوام کی بہبود کے لئے اقتدار سنبھالنے اور فیصلے کرنے کا راستہ بھی ہے لیکن اس سے بھی پہلے یہ عوام کے حق حکمرانی کو تسلیم کروانے اور بنیادی شہری حقوق کو بحال کروانے کی جد و جہد کا نام ہے۔ نواز شریف کو تمام تر الزامات اور غلط کاریوں کے باوجود ’ووٹ کو عزت دو‘ یا ’عوام کے حق حکمرانی کا احترام کیاجائے‘ کا نعرہ بلند کرنے کی وجہ سے مقبولیت نصیب ہوئی ہے۔

 وہ اگر کسی مصلحت یا حکمت عملی کی وجہ سے اس راستہ کو ترک کردیں گے یا ایک ایسے وقت میں خاموشی اختیار کریں گے جب ملک میں خوف اور بے یقینی کی فضا گہری ہے، بات کرنے کی آزادی محدود ہے اور سیاست پر دائمی حکمران اسٹبلشمنٹ کی گرفت سخت ہورہی ہے تو وہ عوام اور عوامی حقوق کے لئے کام کرنے والوں کی نظر میں غیر متعلق ہوکر رہ جائیں گے۔ یہ قدم نواز شریف کی سیاست کو حتمی مگر المناک انجام سے دوچار کر دے گا۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali