فرقہ امید پرستوں کا


حمید جان کا فیصلہ کوئی راز نہ تھا، جو چھپا رہتا۔ اگلے روز ان لوگوں کے، کچھ نمایندے حمید کے پاس آئے، جنھیں سرکار دہشت گرد کہتی ہے۔ اُسے ایسی روایات یاد دلائی گئیں، جو خون کا بدلہ خون سے متعلق تھیں ؛ بزدِل اور بے غیرت کہا گیا۔ حمید خود حیران تھا، کہ عفُو و درگزر اور تقدیر پر شاکر ہو جانے کا ننھا پودا، کیوں کر روایات کی زمین کا سخت سینہ چیر کر باہر نکل آیا ہے؟ مالی کی دُوربین نگاہوں نے جان لیا تھا، عفو کے پودے پر پھول کھِلیں گے ؛ اِس کی حفاظت ضروری ہے ؛ اِس کی آب یاری فرض ہے۔ دودِن اور گزرے ؛ حمید صبح کاذب کے وقت، اپنے بیٹے کو لے کر، شہر کی طرف روانہ ہوا۔ اس ڈر سے کہ کہیں روکنے والے، اس کا راستہ نہ روکیں۔ روشنی پھیلنے تک، حمید اور اُس کا بیٹا، گاؤں کی حدود سے بہت دُور نکل چُکے تھے۔ احتیاطا انھوں نے گاؤں کی سڑک سے ہٹ کر سفر کیا تھا۔ جہاں اس کے بیٹے کو چلنے میں دشواری ہوتی، حمید اُسے گود میں اُٹھا لیتا، یا پھر کندھے پر بٹھا کر چلنے لگتا۔

جتنا دشوار راستہ تھا، اس سے کہیں زیادہ اُلجھے سوال، اُس کا بیٹا کرتا۔ ہم گاؤں چھوڑ کر کیوں جارہے ہیں؟ کیا شہر میں، اس کی ماں، اس کا انتظار کر رہی ہو گی؟ کیا شہر پر آسمان سے بم نہیں گرائے جاتے؟ حمید اپنے تئیں اُسے سمجھانے کی کوشش کرتا، ہر سوال کا جواب پر اُمید دیتا، تا کِہ بچے کے ذہن پر برا اثر نہ پڑے۔ اس وقت وہ سستانے کو رُکے تھے۔ بچے نے پوچھا۔
”بابا، ہم گاؤں واپس کب جائیں گے“؟

حمید کے پاس کوئی مناسب جواب نہ تھا، وہ یہ نہیں کہنا چاہتا تھا، کہ جب یہاں اَمن ہو جائے گا، ہم لوٹ آئیں گے ؛ کیوں کہ جب اَمن کی بات آئے گی، تو جنگ کے بارے میں بھی سمجھانا پڑے گا۔ وہ اچھی اچھی باتیں کرنا چاہتا تھا۔ حمید کی آنکھیں جواب کے لیے، لفظ تلاش کر رہی تھیں، اُس کا دھیان، پہاڑوں پر اُگے نونہالوں کی طرف گیا، جنھیں کل کو تن آور درخت بننا تھا۔ حمید کو فورا جواب سوجھ گیا۔
”بیٹا ہم اس وقت گاؤں لوٹ آئیں گے، جب یہ ننھے پودے بڑھ کر درخت بن جائیں گے، بالکل اس درخت کی طرح“۔ اُس نے ایک دیو قامت درخت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

بچہ بلند و بالا درخت کو حسرت سے تکنے لگا اور کہا۔
”بابا، انھیں درخت بنتے تو بہت وقت لگے گا، تب تک تو میں بوڑھا ہو جاوں گا“۔
حمید جان اس کے معصوم شکوے پر بے ساختہ ہنسنے لگا۔ اسی لمحے ایک ٹیس بھی محسوس کی، جس نے اُس کی آنکھیں نَم کر دیں۔ حمید جان جانتا تھا، وہ واپس آنے کے لیے نہیں جا رہا۔ یہ جنگ کبھی ختم ہو گی، یا نہیں؟ ہو گی! یہ جنگ ایک نہ ایک دن ضرور ختم ہو گی۔ اُس کے مَن میں، اُمید کے ننھے پودے نے سر اُٹھایا۔ وہ بیٹے کو لے کر شہر آ گیا۔

نرسری کے احاطے میں، پکی اینٹوں سے بنا خستہ مکان، اُس کے بیٹے کو گاؤں کے گھر ہی کی طرح لگا۔ اُس کے سوالات ختم ہونے کا نام نہ لیتے تھے۔ حمید کبھی کبھی چِڑ جاتا، لیکن حتی المقدور تحمل مزاجی کا مظاہرہ کرتا۔ بچے کا چہرہ مرجھا گیا تھا، جیسے پودے کو ایک جگہ سے اُکھاڑ کر، دوسری جگہ لگایا جائے، تو وہ ڈھیلا پڑ جاتا ہے۔ نرسری کے اطراف میں بلند و بالا درخت بھی تھے۔ حمید نے دیکھا کہ اس کا بیٹا، ان درختوں کو چپ چاپ کھڑا دیکھتا رہتا ہے۔ کیا سوچتا ہے؟ باپ نے کبھی سوال نہ کیا۔

شہر میں آئے بیسواں روز تھا، حمید پنیری نکال کر گملوں میں منتقل کر رہا تھا، اتنے میں عصر کی اذان ہونے لگی، یہ سوچ کر کام ادھورا چھوڑ دیا، کہ باقی کا کام نماز کے بعد کرے گا۔ جونھی امام صاحب نے، تکبیر کے لیے، اللہ اکبر کہا، ایک زور دار دھماکا ہوا؛ پندرہ نمازی شدید زخمی ہوئے، تین نے بعد میں دم توڑ دِیا؛ سات نمازی موقع پر شہید ہو گئے تھے۔ اِن میں سے ایک امید کے فرقے سے تعلق رکھنے والا حمید جان بھی تھا۔ عین اس وقت اُس کا بیٹا، نرسری کے اطراف میں لگے، اونچے اونچے درختوں کے قدموں میں کھڑا، اُن کی اونچائی دیکھ رہا تھا۔ اسے اُمید تھی، ایک دِن وہ نونہال بھی قد آور درخت بن جائیں گے، جنھیں اُس نے گاؤں سے شہر آتے ہوئے، رستے میں دیکھا تھا۔ تب وہ باپ کے ساتھ، اپنے گاؤں لوٹ جائے گا۔ وہ دن ضرور آئے گا۔
(سرگودھا؛ اپریل 2012 )

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔ خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلی ویژن پروگرام پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلی ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ آج کل اسکرین پلے رائٹنگ اور پروگرام پروڈکشن کی (آن لائن اسکول) تربیت دیتے ہیں۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 326 posts and counting.See all posts by zeffer-imran