اب تو کہیں کے نہیں رہے

میرے پر نانا اور دادا دونوں رزق کی تلاش میں پہاڑوں سے اتر کے شہروں میں چلے آئے تھے۔ اولادوں نے اسکول کالجوں کی شکلیں دیکھیں اور یوں پہاڑ کے بیٹے شہری بابو بن گئے۔ جنم میرا لاہور میں ہوا؛ ہوش راول پنڈی میں سنبھالا؛ لڑکپن میں گجرات پڑھنے چلا گیا؛ اور وہیں سے لاہور منتقل ہونا پڑا کہ پہلی ملازمت وہیں کی۔ لاہور سے ملتان، پنڈی؛ پنڈی سے لاہور، لاہور سے کراچی، لاہور، گلگت، کراچی سے کوئٹہ، سرگودھا، ایبٹ

Read more

انسان اور جانور: بلوغت، فطرت اور اخلاقیات

استاذی فرماتے ہیں، ”انسان“ لفظ بڑی احتیاط سے استعمال کرنا چاہیے، آدمی اور انسان میں فرق ہوتا ہے۔ آدم خوب سے سدھایا گیا ہو تو انسان بنتا ہے۔ اپنے اپنے دور کے حساب سے مذاہب، مفکرین، فلسفیوں نے ہر قدم انسانیت کو آگے بڑھایا، وگرنہ آدمی کی جبلت درندوں کی سی ہے ؛ انسان نے اس جبلت کو لگام ڈالی۔ فطرت کے اپنے اصول ہیں، جنھیں ہم آپ جانتے ہیں۔ فطرت سکھاتی ہے کہ کوئی ذی روح بلوغت کی عمر

Read more

سائیکل کا جنون

مجھے سائیکل کا جس قدر جنوں رہا ہے، کسی اور سواری کے لیے دل ایسے نہیں مچلا۔ بچپن کی یاد داشتوں میں ایک ٹرائی سائیکل ہے جو میری ملکیت تھی، مگر بائیسکل کی بات سوا تھی۔ تب شاید بچوں کی بائیسکل عام نہ ہوں گی، اس لیے کسی کے پاس چھوٹی بائیسکل دیکھی نہیں، مگر گھر گھر نہیں تو اڑوس پڑوس میں بڑوں کی بائیسکل تو عام سی بات تھی۔ سہراب کی سائیکل تب ایسی بیش اہمیت کی ہو گی،

Read more

آئی ایم ایف، عید قربان اور قوم کی کھال

میرا نیک پڑوسی عید کے دوسرے دن قربانی کا گوشت دینے آیا تو اس کے چہرے پر پھیلی خوشی دیدنی تھی۔ میں نے کہا، قربانی دینے والے کا روشن چہرہ بتا رہا ہے کہ رب کے یہاں اس کی قربانی منظور ہوئی۔ اس نے شرمیلے انداز میں بتایا کہ یہ خوشی مودی کے سینے پر لوٹتے سانپ کا سوچ کر چھائی ہے۔ میں نے حیرانی سے پوچھا کہ بھارتی وزیر اعظم پر ایسی کیا گزری؟ پڑوسی نے پر جوش لہجے

Read more

فلم اور ٹی وی کے لیے لکھتے ہوئے کیا خیال رکھنا ہے

داستان گو جس سے مخاطب ہے، اس کا ہاتھ ان سامعین/قارئین/ ناظرین کی نبض پر ہونا چاہیے۔ کمرشل رائٹر بننے کے لیے سب سے پہلے ٹارگٹ آڈینس کو سمجھنا ہے کہ ہم جو لکھ رہے ہیں، وہ کس کے لیے ہے۔ مثال کے طور پر ہم اردو میں لکھتے ہیں تو یقیناً اردو بولنے والے قارئین/ناظرین کو ذہن میں رکھتے ہیں۔ وہ مصنف جو پاکستانی ٹیلے ویژن چینلوں کے لیے لکھتے ہیں، انھیں پاکستان کے شہریوں کے رسم و رواج

Read more

فلم میکنگ شارٹ کورس

اسکرین پلے رائٹنگ، پلاننگ، بجٹنگ، آڈیو ویژول اسٹوری ٹیلنگ ٹیکنیک، فائنل پروڈکٹ کورس انسٹرکٹر: ظفر عمران دورانیہ: چار ہفتے۔ ہفتے میں تین دن، جمعہ ہفتہ اتوار آغاز 28 اپریل 2023 پاکستانی وقت: 8 بجے شب (کم از کم ایک گھنٹا)  

Read more

ہیرا منڈی کے بالا خانے سے ٹیلے ویژن کے جھروکے تک

لاہور میں سنار کے کام سے وابستہ تھا؛ رنگ محل آنا جانا معمول ہوا۔ جب میں پہلی بار ”استاد جی“ کے ساتھ اُس بازار کی گلی سے گزرا تو دیکھا، جوان عورتیں بالکونی میں کھڑی ہیں، کوئی دیکھے یا اشارہ کرے، تو بجائے جھجھک کر اوٹ میں ہونے کے، وہ مسکرا کر دیکھتی ہیں۔ استاد جی نے بتایا، اِس وقت ہم جس بازار سے گزررہے ہیں، یہ ”ہیرامنڈی“ ہے۔ میں ایسے گھبرایا، جیسے گناہ کا مرتکب ہوا ہوں۔ لاہور کے

Read more

میری نا قابل اشاعت اردو سیکس اسٹوری

میں اعتراف کرتا ہوں کہ سوشل میڈیا سے اس طرح فائدہ نہیں اٹھا سکا، جیسے بہت سے احباب اُٹھاتے ہیں۔ میں شاعری کے فورم میں اپنا وقت برباد کر رہا تھا، کہ ایک شاعر دوست نے بتایا، فیس بک پر ایسے ”پیجز“ ہیں، جن پر جا کے اردو زبان میں لکھی سیکسی کہانیاں پڑھی جا سکتی ہیں۔ بدقسمتی کہیے کہ میں جس گھرانے میں پلا بڑھا ہوں، وہاں کتابیں پڑھنے کا رواج تھا۔ گھر میں جتنی رسائل و کتب آتیں وہ سبھی اہل خانہ پڑھتے تھے۔ اس لیے کوئی کتاب چھپا کے پڑھنا فورا نظر میں آ جاتا۔ جب کتاب پڑھنا منع نہیں ہے تو چھپا کے کیوں‌ پڑھی جائے۔ یہی وجہ رہی کہ میں وہی وہانوی یا وحی وہانوی کے نام سے بھی بہت دیر میں جا کر واقف ہوا۔ (آپ اس سے میری بے گناہی کا اندازہ کریں، میں مصنف کے نام کی املا سے واقف نہیں) ان موصوف کو پڑھنے کا اتفاق آج تک نہیں ہوسکا۔ اپنی اس محرومی کا احساس اس وقت دو چند ہو گیا، جب دوست نے سوشل میڈیا پر کچھ ایسے پیجز کی بات کی جہاں اردو میں سیکس اسٹوری پڑھی جا سکتی ہیں۔

Read more

ٹی وی اور فلم: کل، آج اور کل

آج کل ہمارے یہاں ترکی کے ٹی وی ڈراموں کا چرچا ہے۔ اپنی کوالٹی کے اعتبار سے، اسکرپٹ کے حوالے سے، پروڈکشن کے لحاظ سے ترکی ڈرامے بہت اچھے ہیں۔ ان ڈراموں کے بجٹ بھی ہمارے ڈراموں کے بجٹ سے کہیں بڑھ کے ہیں۔ کورین ڈرامے بھی اچھے ہیں۔ ایران کی بات کریں تو وہ ایسی ہی بند مارکیٹ ہے، جیسی ہمارے یہاں اکلوتا پی ٹی وی ہوا کرتا تھا؛ لہاذا یہاں ایران کی مثال دینا بنتی نہیں۔ اگر ایرانی

Read more

کیا نظریے کی حمایت میں ہتھیار اٹھانا چاہیے؟

”کیا کسی کو اپنے نظریے کی حمایت ہتھیار اٹھانا چاہیے؟“
کچھ سوال بظاہر سیدھے سادے ہوتے ہیں، لیکن ان کا جواب سادہ نہیں ہوتے۔
”یہ تو ڈپینڈ کرتا ہے، کہ نظریہ کیا ہے۔ دیکھنا ہو گا، کہ اس ’نظریہ‘ میں ہتھیار اٹھانے کی اجازت ہے؟“

Read more

شام کی خبر

”سگے بیٹے نے اپنے ہی باپ کو سفاکی سے ذبح کر ڈالا۔“

یہ شام کے اخبار کی نمایاں سرخی تھی۔ اول تو وہ صبح کا اخبار بھی نہیں دیکھتا تھا، دوئم یہ کہ شام کے اخبار کو تو نری فسانہ طرازی سمجھتا تھا، لہاذا خریدنے کا کیا سوال۔ وہ آئی آئی چندری گر روڈ کے پہلو کی ایک گلی کے چائے خانے پر بیٹھا، ایک دوست کا انتظار کر رہا تھا۔ یہاں اطراف میں ٹیلی ویژن چینل، اخبار کے دفاتر ہیں، تو کچھ بنکوں کی شاخیں بھی قائم ہیں۔ اس کے سامنے میز پر شام کا اخبار پڑا تھا۔ وہ چائے پیتے وقت گزاری کے لیے اسے دیکھنے لگا۔

Read more

قائد اعظم اور عوام کی توہین

ریاست کے ادارے آئین و قوانین کے تابع ہوتے ہیں۔ آئین میں ہر ادارے کا کردار متعین کیا جاتا ہے۔ اسی طرح پارلیمانی ادارہ ہے، اس کے ارکان کے انتخاب کا ایک طریقہ وضع کیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی ہو، صوبائی اسمبلی، یا سینیٹ اور دیگر شعبے، سبھی ایک قانون کے تحت معرض وجود میں آئے، اور قانون کے تحت چلنے کے پا بند ہیں۔ عسکری ادارے ہوں، پولس، عدلیہ، کسٹم، مواصلاتی ادارے اور سب کے سب، آئین و قوانین کے ما تحت ہیں۔ عدالت میں ایک مقدمہ پیش ہوتا ہے، تو منصف اپنے ضمیر کے مطابق نہیں، قانون کے مطابق فیصلہ سناتا ہے۔ کیوں کہ قانون ہی مقدم ہے۔ توقع کی جاتی ہے کہ سیاست دان منتخب ہو کر عوام کی بھلائی کے اقدام کرے گا، اپنے تئیں کرتا بھی ہے۔ بری بھلی تنقید ہوتی ہے، تنقید سننا، تنقید سہنا اس کے فرائض میں شامل ہے۔ وہ غیر قانونی اقدام کرے تو عدالت اس کو سزا دے سکتی ہے۔

ہمارے یہاں یہ رواج چل نکلا ہے، کہ تنقید صرف سیاست دان پر ہو تو حق کہلاتی ہے، کسی اور سرکاری ادارے کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگایا جائے، تو اعتراض اٹھتا ہے کہ ادارے مقدم ہیں، ان پر تنقید کرنے سے یہ کم زور پڑتے ہیں، چناں چہ تنقید نہ کی جائے۔ سب ادارے یہ نہیں کہتے، مثلا: واپڈا، ریل ویز، پولس، پی آئی اے، اور اس طرح کے دیگر اداروں پر تنقید کی جائے تو تحسین ہوتی ہے، کیوں کہ عام تاثر یہ ہے کہ ان کی بری کارکردگی کے ذمہ دار صرف اور صرف سیاست دان ہیں۔ ظاہر ہے ان کی اچھی کارکردگی اس ادارے کے افسران کے مرہون منت ہے۔ ریاستی اداروں جیسا کہ عدلیہ اور فوج پر مثبت تنقید پر بھی ناک بھوں چڑھائی جاتی ہے۔ گویا یہ ادارے پارلیمان سے بھی معزز ہیں، جو انھیں آئینی تحفظ فراہم کرتا ہے۔

Read more

اک کوڑیالے نے بچپن کو ڈس لیا

دن میں ہم تتلیوں کے پیچھے بھاگتے اور رات کو جگنُو دیکھ کے گھر لوٹتے تھے۔ مینھ کے بعد نمُودار ہونے والے کیچوے پر لُون چھڑک کر اُسے مٹی ہوتا دیکھتے۔ کبھی کبھار خراتین جتنا سنپولیا نکل آتا، جسے پیروں تلے مسل دیتے۔ بچپن خواہ شاہ کا ہو یا مفلس کا، ہوتا عالی شان ہے۔ کامل یقین سے بولے گئے کچے کچے جھوٹ، معصومیت میں کہے گئے پکے وٹے سچ، سبھی بچپن کی سُندرتا کے چہرے ہیں۔

یاد پڑتا ہے، کالُونی میں انگریز دور کے پانچ کشادہ مکان تھے۔ یورپین انڈین طرزِ تعمیر کا امتزاج۔ ایک میں ہم رہتے تھے۔ گھر سے نکلتے ہی سامنے ہرا میدان، اور میدان کے دوسری طرف، ریل گاڑیوں کے اوقات کو کنٹرول کرتا وائرلیس آفس۔ اِس مناسبت سے اسے ریلوے وائرلیس کالونی کہا جاتا ہے۔ کیا ہی خوب منظر تھا۔ پوٹھوہار کا لینڈ اسکیپ مجھے پسند ہے۔ ولایتی کیلنڈروں میں کہیں سطح مرتفع کا لینڈ اسکیپ دیکھنے کو ملے تو گمان ہوتا ہے، یہ میرے بچپن کا راول پنڈی ہے۔

Read more

بیوی سے سچ بولنے والے فرشتے

انگریز بادشاہ تو ہیں ہی، بادشاہ فلمیں بھی بناتے ہیں۔ اپنی شادی سے کوئی دو تین ماہ پہلے Meet Joe Black دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ یہ فلم ہے یا حیرتوں کا اک خزینہ ہے۔ کہانی کی ابتدا میں ملک الموت، ایک کام یاب تاجر بِل پیرش کو انسانی قالب میں اپنا دیدار کرواتا ہے۔ ایک نوجوان جو سڑک کے حادثے میں ہلاک ہو جاتا ہے، اجل نے اس کا بدن اوڑھ رکھا ہے۔ مسٹر پیرش کو جینے کے واسطے پینسٹھویں یومِ ولادت کی شب تک کی سانسیں ملتی ہیں۔ سال گرہ کے آنے میں چند روز باقی ہیں۔ تب تک بِل پیرش کی ‘قضا’ اس کے ساتھ رہتے، یہ جاننے کی کوشش کرتی ہے کہ آدمی بن کر بسر کرنا کیسا تجربہ ہے۔ مسٹر بِل پیرش کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ مسٹر جو بلیک در اصل فنا کا اوتار ہے۔

Read more

نئی ریاست مدینہ کے موٹر وے پر بے فکری سے ڈرائیو کرتی محفوظ عورت

ملازمت کے تین مہینے بعد افسر اعلا نے میری کارکردگی سے خوش ہو کے تنخواہ میں دس ہزار اضافہ کر دیا۔ ہم کاروں کو کھانے کی دعوت دی۔ پروڈیوسر، ایسوسی ایٹ پروڈیوسر، اسسٹنٹ سبھی تین سے چار گاڑیوں میں سوار ہو کے سپر ہائے وے کی طرف بڑھے۔ رش کے باعث کوئی آگے چلا گیا تو کوئی پیچھے رہ گیا۔ ہم تین دوست ایک کار میں تھے۔ یاسر ڈرائیونگ سیٹ پر تھا۔ اس نے کار الآصف اسکوائر کے بالکل سامنے کھڑی کر کے ٹیلی فون کال کی، کہ پتا کریں باقی ساتھی کہاں رہ گئے ہیں۔ الآصف اسکوائر کے سامنے بسوں کا اڈا ہے، اور بہت پر رونق علاقہ ہے۔ جنھیں کال کی گئی تھی وہ ہم سے بہ مشکل ایک منٹ کی دوری پہ تھے۔ جونہی کال ڈس کانیکٹ ہوئی، ڈرائیونگ سیٹ کی طرف کے شیشے پر دستک ہوئی۔ ایک سولہ سترہ سال کا لڑکا ہاتھ میں پسٹل لیے کھڑا تھا۔ اتنے میں فرنٹ سیٹ کے دروازے کے سامنے ایک تیرہ چودہ سال کا لڑکا، اپنے ساتھی کو کور دینے ‌آ گیا۔ یہ سب اتنا آناً فاناً ہوا کہ کچھ اور سوچنے کا لمحہ ہی نہ ملا۔ آٹھ دس سال پہلے کراچی میں یہ معمول کا واقعہ تھا کہ راہ چلتے ڈکیتی ہو جائے۔

Read more

یا اللہ! یا رسول! عاصم باجوہ بے قصور

سی پیک پاکستان کے عوام کی خوش حالی کا وہ منصوبہ ہے، جس کا سن کے بھارتی پردھان منتری مودی کو ایک رات بھی چین کی نیند نہیں آئی۔ ادھر اسرائیل نے بھی امریکا کو دھمکی دی کہ اگر سی پیک منصوبہ مکمل ہو گیا، تو تمام یہودی امریکا سے اپنا سارا سرمایہ نکال لیں گے۔ یہ تو پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے، امریکا کو یہودی کنٹرول کرتے ہیں، تو امریکا نے سی آئی اے میں اینٹی سی پیک

Read more

عنوان منتخب کیجیے، پلیز

میں نے پہلی فلم پانچ چھہ سال کی عمر میں امی کے ساتھ ریکس سنیما راول پنڈی میں دیکھی تھی۔ فلم کا نام ”معصوم“ ہے۔ مرکزی کرداروں میں غلام محی الدین اور بابرہ دکھائی دیتے ہیں۔ مجھے اس فلم کے کچھ منظر ابھی تک یاد ہیں۔ امی اکثر اس حیرانی کا اظہار کر چکی ہیں، کہ مجھے بہت کم سنی کی باتیں بھی صحیح سے یاد ہیں۔ جیسے ملتان کے گھر کا نقشہ اور وہاں کے چند واقعات۔ میں دو

Read more

مریم نواز کو کیا کرنا چاہیے؟

پاکستانی عوام، مزاجا وراثتی سیاست کی امین ہیں۔ یہاں کوئی بھی پارٹی الیکشن کروا دے، ووٹ اسی کو ملتے ہیں، جو خود کو سابق پارٹی لیڈر کا وارث ثابت کر دے۔ اہل سادات کی حرمت کا دم بھرنے والی قوم کو یہ سمجھانا کہ وراثتی سیاست میں کوئی حرج نہیں، کیا مشکل ہے!؟ اگر عوام بھٹو کی بیٹی، نواز شریف کی بیٹی کو اپنا لیڈر مانتے ہیں، تو کسی فرد یا محکمے کو اس پر اعتراض ہی کیوں ہو؟ کیا

Read more

ثقافت کی افیون اور ہماری فلم انڈسٹری

پاکستان اور ہندُستان کے بیچ میں فلم کی تجارت پہ پابندی کے کیا فائدے اور کیا نقصانات ہوئے، اس کا جائزہ لینے سے پہلے اُس اعتراض پہ نظر ڈالتے ہیں، جو اٹھایا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے، کہ ہندُستان اور ہماری ثقافت میں‌ فرق ہے، اس لیے اُن کے پروگرام ہماری ثقافت پہ اثر انداز ہوتے ہیں۔ ثقافت کی آج تک کوئی ایسی تعریف نہیں کی جا سکی، جس پہ سبھی متفق ہوں۔ بتایا جاتا ہے، کہ ایک سو ساٹھ

Read more

زاہد کاظمی کا وجاہت مسعود پر بہتان در بہتان اور میری تابڑ توڑ حیرانی

”وجاہت بھائی کہتے ہیں، تم سیدھے لفظوں کو مشکل بنا دیتے ہو“ ۔
”یہ وجاہت مسعود صاحب نے کہا؟“
”ہاں! انھوں نے فرمایا، تم ’خوش‘ اور ’بو‘ کو توڑ کے لکھتے ہو تو ایسا پڑھا جاتا ہے، جیسے ’خوش ہو‘ لکھا ہے۔ زاہد بھائی میں نے اب سابق املا سے رجوع کر لیا ہے۔ میں نیک پرویز بن چکا ہوں۔ آئندہ تمام الفاظ جوڑ کے لکھا کروں گا۔ ’خوشبو‘ بھی نہیں، بلکہ خ کے بعد کا واؤ حذف کر کے ’خشبو‘ لکھوں گا۔
”ایسے لکھنا بھی ٹھیک ہے۔ لیکن وجاہت صاحب آپ کے ساتھ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ آپ دو لفظوں کو توڑ کے لکھتے ہیں، تو اس سے معنی واضح ہوتے ہیں“ ۔
”میں غلط ہوں۔ بس میں تسلیم کر چکا“ ۔

ہمارے دوست زاہد کاظمی ہری پور میں ہوتے ہیں۔ کتابوں سے محبت کرتے ہیں۔ ان کے ذاتی کتب خانے میں تیس ہزار سے زائد کتب ہیں۔ یہ تعداد سننے میں بہت نہیں لگتی، لیکن حقیقت میں ایک فرد کے لیے اتنی کتابیں اکٹھی کرنا معنی رکھتا ہے۔ گزشتہ دو سال سے انھوں نے ”سنگی اشاعت گھر“ کے نام سے ادارہ بنایا ہے۔ اس پلیٹ فارم سے وہ معروف و غیر معروف شخصیات کی آپ بیتیوں کو شایع کرنے کا اہتمام کرتے ہیں۔ زاہد کاظمی نے مجھے ایک کتاب دی کہ آپ اس کی پروف ریڈنگ کر دیں۔

Read more

سب رنگ نگار خانہ: ایک خواب کی تعبیر

”سب رنگ ڈائجسٹ“ اور شکیل عادل زادہ کے ان گنت عاشق ہیں۔ انھی میں ایک حسن رضا گوندل کا نام نمایاں ہے۔ حسن کا تعلق منڈی بہا الدین سے ہے، لیکن روزگار کے سلسلے میں برمنگھم میں مقیم ہیں۔ دو ہزار سولہ کے آخری مہینوں میں حسن میرے پاس کراچی آئے۔ غرض یہ تھی کہ شکیل عادل زادہ سے ملاقات کی جائے، نیز انھیں اس بات پر قائل کیا جائے کہ ”سب رنگ ڈائجسٹ“ کی کہانیوں کو کتابی صورت میں شایع کیا جائے۔ ایسا کئی بار ہوا، جس کسی پبلشرز کے علم میں آتا، میرا شکیل عادل زادہ سے انس کا تعلق ہے، وہ مجھ سے ضرور یہ مطالبہ کرتا کہ ”سب رنگ ڈائجسٹ“ کی کہانیوں کو کتابی صورت میں شایع کرنے کی اجازت لے دوں۔ میں نے ایک پبلشرز سے پوچھا، کیا شکیل بھائی کو کچھ رقم دی جائے گی؟ جواب یہ رہا، بدلے میں، وہ میرا ناول مفت میں چھاپ دے گا۔ اس پیش کش سے اندازہ ہوتا ہے، ہمارے یہاں لکھنے والا اپنی کتاب شایع کروانے کے لیے جیب سے خرچ کرتا ہے۔ میں نے موصوف کو انھی کے لہجے میں جواب دیا، ”جب میں ناول لکھوں گا، تب آپ سے رابطہ کروں گا“ ۔

Read more

اے آر وائے کا مذاق اڑانے پر وسیم بادامی کو ڈانٹ پڑنا

مجھے فائنل پروگرام سے پہلے سن گن مل گئی تھی کہ ظہیر عباس کو آخری پروگرام کے بعد چینل کی طرف سے جو چیک دیا جانا ہے، اس کی ادائی کا کوئی امکان نہیں۔ بل کہ چینل کے کچھ بڑے ٹھٹھا اڑا رہے تھے کہ ظہیر عباس یونھی لوٹائے جائیں گے تو کیا دیکھنے لائق منظر ہو گا۔ اب ہونا یہ تھا کہ آخری شو رات گئے ختم ہوتا۔ ظہیر عباس پروڈیوسر (مجھ سے چیک کا پوچھتے۔ پروڈیوسر) میں جواب دیتا، اکاؤنٹ تو شام پانچ بجے کلوز ہو جاتا ہے، کل صبح کال کیجیے گا۔ یہاں میں اس کا نام نہیں لوں گا، جس نے مجھے کہا، ظہیر عباس کو کال کر کے یقین دلا دو کہ آخری روز چیک ضرور مل جائے گا۔ آصف اقبال، کہ جن کے سامنے جاوید میاں داد جیسے لیجنڈ بھی دبتے ہوں، ظہیر عباس انھیں فقط آصف کہ کر مخاطب کیا کرتے تھے۔ اور کئی بار آصف سے نہایت بے تکلفی سے گزشتہ ’سانجھی وارداتوں‘ کا ذکر کر جاتے۔ ”تمھیں وہ دن یاد ہے، جب وہ“ ؟ ۔ ۔ وہ بھول جاتے کہ ہم وہاں موجود ہیں۔ جب آصف اقبال کے چہرے پر چھائی سنجیدگی میں ذرا تبدیلی نہ آتی، تو ظہیر سمجھ جاتے یہ تخلیے کی بات ہے، بچوں کے سامنے کرنا مناسب نہیں۔

Read more

عمران خان پر مرنے والی لڑکیوں کے قصے اور ظہیر عباس کی جنت

جون 2009 ء ہی میں اے آر وائے ون ورلڈ کا نام، اے آر وائے نیوز کر دیا گیا، جب ہم ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ 2009 ء کی کوریج میں مصروف تھے۔ عبد القادر پی سی بی میں چیف سلیکٹر کے عہدے پر اور یونس خان پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان تھے۔ یاد نہیں رہا ٹورنامنٹ کا وہ کون سا میچ تھا، جس میں پاکستان کو شکست ہوئی تھی، اور یونس خان کے ٹی 20 کھلائے جانے پر اعتراضات بڑھ گئے تھے۔ نیز عبد القادر کی ٹیم سلیکشن پر تنقید ہوئی تھی۔ اس وقت ہم پری میچ کمنٹری کے لیے اسٹوڈیو میں داخل ہوئے ہی تھے کہ عبد القادر کے استعفے کی خبر آ گئی۔ آصف اقبال نے مجھے ہدایت دی کہ پروگرام میں جاوید کا بیپر لو۔ آن لائن جانے سے پہلے کی افراتفری تھی۔ میاں داد پی سی بی کے ڈائریکٹر یا کچھ ایسے عہدے پر تھے۔ بعد میں اس عہدے کا ذکر میرے سننے میں نہیں آیا۔

Read more

کرکٹر آصف اقبال سے میرا سوال اور ان کی حیرانی

ٹی 20 ورلڈ کپ 2009 ء کی افتتاحی تقریب کے بعد ایک ہی میچ تھا۔ ہم پری میچ شو کر آئے تھے اور پوسٹ میچ تبصرے کے لیے دو تین گھنٹے کا وقفہ تھا۔ ظہیر عباس کسی کام سے چلے گئے کہ شو سے پہلے لوٹ آئیں گے۔ جب کہ ڈائریکٹر شیخ سعید، میں اور آصف اقبال بورڈ روم میں آ کے بیٹھ گئے۔ یہ پہلی بار تھا کہ آصف اقبال صاحب سے سکون کے لمحو‍ں میں بات ہو سکتی تھی۔ چھریرے بدن کے آصف اقبال بہت نرم لہجے میں، ٹھیر ٹھیر کے بات کرتے ہیں۔ ایسے میں ان کی شخصیت کا سحر دو چند ہو جاتا ہے۔ میں انھیں محض ایک کرکٹر سمجھ کر کرکٹ پہ بات کر رہا تھا۔ ان سے منسوب قصوں کا ذکر کر رہا تھا۔ کرکٹ سے میرا لگاؤ دیکھ کر وہ خوش تھے۔ میں ایسے بے تکلف ہو رہا تھا، جیسے ان کے بعد کرکٹ پر ایک میں ہی اتھارٹی ہوں۔ اس دوران میں، میں نے پوچھ لیا:

”سر! آپ آج کل کیا کرتے ہیں“ ؟

Read more

ملنا آصف قبال اور ظہیر عباس سے

جیسا کہ ذکر ہو چکا، انیق احمد اپنے پروگرام ’آغاز‘ کے لیے مجھے پروڈیوسر رکھنے کو چینل مالکوں تک سے جا ملے تھے۔ لیکن اسی دوران میں، میں انھیں اپنے استعفے کی خبر دے چکا تھا۔ اب میں نے ان کی چاہ کے مطابق ’آغاز‘ کی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ میں نے اس پروڈیوسر سے بات کی، جو مجھ سے پہلے ’آغاز‘ کے معاملات دیکھتا تھا تا کہ انیق احمد اور پروڈیوسر کے درمیان جو مسائل پیدا ہوتے ہیں، انھیں سمجھوں۔ میں یہ ذکر بھی کر چکا، انیق احمد اس پروگرام کی ایڈٹنگ خود کرواتے تھے، تو میں نے انیق بھائی سے یہ کہا، پروگرام کی ایڈٹنگ میں کرواؤں گا، آپ فائنل کٹ دیکھ لینا۔ وہ اس پہ رضا مند ہو گئے۔ بعد میں یہ شو ’لائیو‘ ہونے لگا۔ انیق احمد کے تاثرات نہ جانے کیا ہوں، اس شو کو کرتے مجھے ان سے ایک دن بھی پرابلم نہیں ہوئی۔ میں نے شو کے سیٹ میں تھوڑی بہت تبدیلیاں کروائیں اور لائٹنگ میں بھی تبدیلی لے آیا۔

Read more

میری ”بد معاشیوں“ کے انداز

مایا اور میں عارف حسین کے سامنے بیٹھے تھے۔ میری ڈائریکٹ اپائنٹ منٹ عارف حسین کی تھی۔ مجھے محسوس ہوتا تھا کہ عارف حسین کو مجھ پہ بہت مان ہے۔ پہلے تو سرزنش کی کہ مایا کی ای میل کا جواب ”کیپیٹل لیٹر“ میں کیوں دیا۔ انھوں نے پوچھا مسئلہ کیا ہے۔ مجھے لگا اگر میں نے یہاں وہ سب الزام لگا دیے، جو مجھے محسوس ہوتا تھا، کہ مایا نے غلط کیا ہے تو اس کی بہت سبکی ہو گی۔ میں نے اتنا کہا، مجھے پورے اختیار کے ساتھ کام کرنا ہے، ورنہ نہیں۔ اور مایا میرے اختیار میں مداخلت کرتی ہیں۔ ’عورت کہانی‘ کی مثال دی، جس کی میزبان مایا تھی۔ میرا کہنا تھا پروڈیوسر میں ہوں، مایا کو سیٹ پر اینکر بن کے رہنا چاہیے۔ سیٹ پر میں کسی کو باس نہیں مانتا۔ اس میٹنگ میں بہت سی ایسی باتیں ہوئیں، جن کی تفصیل میں جانا ضروری نہیں۔ عارف حسین نے آخری سوال کیا:

Read more

آپ پر کھلے بال سوٹ کرتے ہیں

یہ جون 2009ء کی ایک شام تھی۔ اس روز میرا ڈے آف تھا۔ کام کے عادی شخص کی طرح، گھر میں میرا وقت نہیں گزر رہا تھا۔ سینیئر پروڈیوسر مایا خان کی کال آئی کہ آپ فورا آفس پہنچیں۔ میں نے کہا، آج میری چھٹی ہے اور میرا کوئی ارادہ نہیں آفس کی شکل دیکھوں۔ در اصل میں نوکری سے اکتا چکا تھا اور بہانہ ڈھونڈ رہا تھا، بس کوئی مجھے استعفا دینے کا جواز مہیا کر دے۔ ملازمت بے وجہ چھوڑی نہ جا رہی تھی، کیوں کہ مجھے تکلفات کا پاس رہتا ہے۔ اس کے لیے ایک جھگڑا ضروری تھا۔ میرے تمام ساتھی پروڈیوسرز کی نسبت، مایا مجھ پر بہت بھروسا کرتی تھی۔ یوں کَہ لیجیے، میں اس کو چہیتا تھا۔ احوال یہ تھا کہ میں صبح نو یا دس یا گیارہ بجے بستر سے نکلتا، جلدی جلدی تیاری کرتا اور آفس کی راہ لیتا۔ ابھی میں آدھا راستہ بھی طے نہ کر پاتا تھا کہ مایا کی کال آ جاتی۔
”ظفر، کہاں ہیں، آپ“؟

Read more

رند مشرب رقاصہ اور عورت کا اظہار

کاشف گرامی نے دبے لہجے میں کہا، ”یہ ماضی کی اداکارہ مہرین کی بیٹی ہے۔ مہرین جو ’اَنا‘ کی ہیروئن تھی۔ وہ دیکھیے، وہ بیٹھی ہے لیکن آپ پہچان نہیں پائیں گے“۔ وہ دھان پان سی لڑکی جو میرے بچپن میں ٹی وی سیریز ’انا‘ کے ٹائٹل رول میں جلوہ گر ہوئی تھی، اب بالکل نہیں پہچانی جا رہی تھی. جوانی انعام ہے تو بڑھاپا ضرور فطرت کا انتقام ہو گا۔ حِسین لوگوں کو بوڑھا نہیں ہونا چاہیے، یا بوڑھوں

Read more

رجنی گندھا سپنے اپنے اور انو راگی من

ہم نفس! کہو کیسے ہو؟ گزشتہ دنوں کوہ قاف سے خبر آئی، کہ آکاس گنگا کا اک اور تارہ ٹوٹ گرا۔ یوگیش نے آنکھیں موند لیں۔ وہی یوگیش جس کے لکھے بول، ہمیں فلموں کی الف لیلا میں لے جاتے ہیں۔ ”رم جھم گرے ساون، سلگ سلگ جائے من“۔ ”دور کہیں جب دِن ڈھل جائے، سانجھ کی دُلھن بدن چرائے، چپکے سے آئے“۔ ”نہ جانے کیوں، ہوتا ہے زندگی کے ساتھ“۔ ”بڑی سُونی سُونی ہے، زندگی یہ زندگی“۔ اور سب

Read more

ہندی سنیما کے مان باسو چٹر جی سے ملیے

اسکرین پلے رائٹر اور ہدایت کار باسو چٹر جی ہندی فلم کے متوازی سینما کے نمایاں ناموں میں سے ایک ہیں۔ انھیں کیمرا مین نہیں بننا تھا، لیکن انھیں کیمرے کی آنکھ سے دیکھنے کا شوق تھا۔ ”سارا آکاش” سے ہدایت کاری کے سفر کی شروعات کرنے والے باسو کی فلموں کی کہانیاں جہاں عام آدمی کی زندگی کی بہ ترین عکاسی کرتی تھیں، وہیں ان فلموں کی مدھر دھنیں اور شاعری بھی خاص تھی۔ ”سارا آکاش” 1969ء میں ریلیز ہوئی اور پہلی فلم نے نا صرف فلم فیئر کے بہ ترین اسکرین پلے کا ایوارڈ جتوایا، بل کہ نیشنل فلم ایواررڈ کی بہ ترین سنیماٹو گرافی کا ایوارڈ بھی لے اُڑی۔ اس کے بعد 1972ء میں ”پیا کا گھر” بنائی لیکن 1974ء میں ”رجنی گندھا” وہ فلم تھی جس نے انھیں سب کی نظروں میں پہچان دی۔

Read more

کنول جھیل کا رستہ اور وہ لڑکی

میرا پاؤں کیبل میں الجھا، ایک سرے سے ٹرائی پاڈ پر رکھا کیمرا ڈول گیا، اور دوسرے سرے پر بوم راڈ کھنچ گیا، سبھی میری طرف متوجہ ہوئے، جس ناہنجار کی وجہ سے رکارڈنگ کا عمل ڈسٹرب ہو گیا تھا۔ ہدایت کار نے نا گواری سے کہا، ”کیا کر رہے ہو؟ تمھارا دھیان کہاں ہے“ ؟ یقیناً میرا چہرہ شرمندگی سے لال پڑ گیا ہو گا۔ میں واقعی وہاں تھا، نہیں تھا، کہیں اور کھویا ہوا تھا۔ جس چاند میں کھویا تھا، کنکھیوں سے اسے دیکھا وہ میری حالت پر زیر لب مسکرا رہی تھی۔ یہی کوئی چوبیس پچیس سال پرانی بات ہے، کنول جھیل کے اطراف میں ایک ٹی وی ڈرامے کی رکارڈنگ تھی۔ آج قریب اتنے ہی برس ہوئے، میں پلٹ کے کنول جھیل نہیں گیا۔

Read more

کیا ادیب، فن کار اکیڈمی سے نکلتے ہیں؟

کیا کسی ادارے سے تربیت لے کر رائٹر بنا جا سکتا ہے؟ اس کا ایک سیدھا سا جواب یہ ہے، ”نہیں۔ ایسا تو نہیں ہے، کہ کوئی کسی اکیڈمی میں داخلہ لے اور رائٹر بن جائے“ ۔ آرٹ میں ایسا نہیں ‌ ہوتا، کہ آپ کسی ادارے میں داخلہ لیں، اور ضمانت دی جائے کہ آپ آرٹسٹ بنا دیے جائیں گے۔ کوئی کسی اکیڈمی سے ہنر مند بن کے نکل سکتا ہے، فن میں مہارتیں حاصل کر سکتا ہے۔ ایک پینٹنگ اسکول میں داخلہ لے کے کوئی یہ جان سکتا ہے، کہ برش سے اسٹروک کیسے لگایا جاتا ہے۔ دائرہ کھینچنے کی مشق کیسے کی جاتی ہے۔ مستطیل، مربع بناتے لائن کتنی سیدھی رکھنی ہے۔ کتنا دور تک لے جانی ہے۔ اسکیچ کیسے بنانا ہے۔ کون کون سے رنگوں کے ملاپ سے کون سا شیڈ بنتا ہے اور خاکے میں رنگ بھرتے کن تکنیکی پہلوؤں کو ذہن میں رکھنا ہے۔

Read more

چنٹو میرا بچپن ساتھ لے گیا

اسی کی دہائی کے اولین سالوں میں جب پاکستان میں وی سی آر کی آمد ہوئی، ستر کی دہائی کی فلمیں بھی نئی ریلیز فلموں کی طرح دیکھی گئیں۔ وہ میرے بچپن کے دن تھے۔ ہندی فلموں میں امیتابھ بچن کا جادو سر چڑھ کے بول رہا تھا۔ امیتابھ کی اس دور کی فلمیں دیکھیں تو ان کی باڈی لینگویج سے صاف عیاں ہوتا ہے، کہ کوئی ان کے دائیں بائیں دور دور تلک نہیں ہے۔ جیتندر اور راجیش کھنہ اپنی آخری اننگز کھیل رہے تھے، متھن چکرورتی کسی ستارے کی طرح ابھرے، اور ڈوب بھی گئے۔ ونود کھنہ نے دوبارہ اینٹری دی، کمل ہاسن ایک منفرد اداکار کے طور پہ سامنے آئے، اور نو جوانوں میں پسند بھی کیے گئے، لیکن امیتابھ امیتابھ ہی تھے۔ ان چند ناموں میں رشی کپور کا تو کہیں ذکر ہی نہیں۔ حالاں کہ اس بیچ میں ان کی فلم ”پریم روگ“ سپر ہٹ فلموں میں شمار ہوتی ہے۔

Read more

آئیے ٹیلی ویژن ڈراما اور فلم لکھیں

ہمارے یہاں قصہ گوئی کی ایک تاریخ ہے۔ ہم برصغیر والوں کی تاریخ ایران عرب کی کہے بہ غیر مکمل نہیں ہوتی۔ عرب میں داستان گوئی کی روایت بڑی مضبوط رہی ہے۔ "لیلا مجنوں” سے برصغیر والے بھی واقف ہیں۔ ایران کے "شیریں فرہاد”، "رُستم و سہراب” سے لے کر کے "قصہ چہار درویش”، "طلسم ہوش رُبا” اور سیکڑوں اساطیر آج بھی ان کی داستان گوئی کے فن کی عظمت کا پتا دیتی ہیں۔ داستان سُننے اور داستان کہنے میں

Read more

یہ خاموشی کوئی روز جب چیخ بنے گی

کل ایک کام کے سلسلے میں بنک جانا ضروری ٹھیرا۔ میں عام دنوں میں بھی گھر سے کم ہی نکلنا ہوتا ہے، سو حالیہ صورت احوال میں میرے شب و روز میں نمایاں تبدیلی نہیں آئی۔ فقط یہ احساس رہا کہ میرا جی چاہے تو بھی مجھے گھر سے باہر نہیں نکلنا۔ کرونا کے دنوں میں جس طرح وباوں کا بازار گرم رہا، سچ پوچھیے تو مجھے ایک دن بھی ڈر محسوس نہیں ہوا۔ بہت سے اعزا و اقارب کو یہ کہ کے حوصلہ دیا، کہ افواہوں پہ کان مت دھریں، نیوز چینل کم سے کم دیکھیں، لیکن اپنی طرف سے پوری پوری احتیاط کریں، کہ نہ کسی سے وائرس لیا جائے نہ کسی کو وائرس منتقل کیا جائے۔ یہ احساس ہی گھناونا ہے کہ ہماری وجہ سے کوئی بیماری میں مبتلا ہو جائے۔ باقی رہی موت تو اسے ایک دن آ کے رہنا ہے۔ دنیا میں سبھی کرونا سے نہیں مرتے۔

Read more

تیسری قسم: مارے گئے گلفام

فلم ’تیسری قسم‘ پھنیشور ناتھ رینو کی ہندی کہانی ’مارے گئے گلفام‘ کے پلاٹ پر مبنی ہے۔ باکمال باسو بھٹا چاریہ نے اس فلم کی ہدایات دی ہیں۔ فلم کے مرکزی کرداروں میں راج کپور اور وحیدہ رحمان کو منتخب کیا گیا۔ شنکر داس کیسری لال 30 اگست 1923ء کو راول پنڈی میں پیدا ہوئے؛ وہ ’شیلندر‘ کے قلمی نام سے جانے جاتے ہیں۔ فلم ساز، ہدایت کار، مصنف و شاعر گلزار کا کہنا ہے، ہندستانی سینما کا سب بہترین

Read more

جہالت میں پڑی قوم اور مست حکمران

بہت پہلے "لائف از بیوٹی فل” دیکھی تھی۔ دوسری عالمی جنگ کے پس منظر میں بنی اس فلم کا خیال اس قدر شان دار ہے، کہ میں ہر با ذوق سے کہوں گا، اگر اس نے یہ مووی نہیں دیکھی تو ضرور دیکھے (یو ٹیوب پہ دیکھی جا سکتی ہے)۔

ایک شخص اور اس کا کم سن بیٹا، دیگر افراد کے ساتھ نازی کیمپ میں قید کر دیے جاتے ہیں۔ وہ شخص اپنے بیٹے سے (میرے لفظوں میں) کہتا ہے، یہ جو کچھ ہمارے ساتھ ہو رہا ہے، یہ سچ میں نہیں ہے، بل کہ ایک کھیل ہے۔ میں، تم باقی لوگ، سپاہی یہ سب اس کھیل کے کھلاڑی ہیں۔ ہمیں اس کیمپ سے فرار ہونا ہے، لیکن اس طرح کے کسی دوسرے کھلاڑی کو ہمارے منصوبے کی خبر نہ ہو۔ فلم کے آخری مناظر میں، جب باپ بیٹا "کھیل کے مطابق” کیمپ سے فرار ہونے کی کوشش کرتے ہیں، تو باپ سرچ لائٹ کی روشنی میں آ جاتا ہے۔

Read more

وبا کے دنوں کا ایک سچا منظر

وبا کا خوف گام گام، گھر گھر مایوسی کا ڈیرا تھا۔ حاکم نے حکم لگا رکھا تھا، کوئی شہری ماسک پہنے بہ غیر گلی میں نہ آئے۔ بھوک سے بلکتے بچوں کے لیے غذا لینے بازار آیا، تو سپاہی نے سیٹی بجا کے روک لیا، کہ ماسک نہ پہن کر حکم عدولی کا مرتکب ہوا ہوں۔ "تم وہ موذی ہو، جس سے سماج کو خطرہ ہے”۔ میں نے دہائی دی، کہ اس وقت میری کل پونجی پانسو رُپیا ہے، اور

Read more

فلم اور ڈرامے میں زوال کا ذمہ دار کون؟

اُردو زبان میں نِت نئے موضوعات پر لکھنے والوں کی بہت کمی ہے۔ بعض موضوع عموماََ سائنسی معلومات و معاملات‘ جن کا ہماری زندگی سے لمحہ بہ لمحہ واسطہ ہے‘ اُن پر کچھ لکھا ہی نہیں جاتا؛ مثلا: حیاتیات‘ طبیعات‘ ارضیات وغیرہ؛ گو کہ شاعری‘ ادب‘ تنقید‘ افسانہ میں پھر کچھ موضوع چھیڑے گئے ہیں‘ لیکن فلم اور ٹی وی سیریز جیسے مضبوط‘ موثر میڈیم کا اس طرح استعمال نہیں کیا گیا‘ جس طرح باقی دُنیا میں ہوا۔ ہمارے یہاں

Read more

کمرشل ازم بیچ چوراہے میں برہنہ ہونے کا نام نہیں

”متوازی سینما“، عمومی طور پر ’آرٹ‘ فلم کے نام سے پکارا جاتا ہے، اور کمرشل سینما کو اس کا متضاد سمجھا جاتا ہے۔ عمومی تاثر ہے کہ کمرشل فلم ’آرٹ‘ نہیں۔ کسی فلم کی ناکامی، کسی فلم کا بڑی حد تک بور کرنا، کیا یہی ’آرٹ‘ ہے؟ یہ آسانی بھی ہے، کہ ہر وہ فلم جو مبہم ہو، ناکام ٹھیرے، ہم یہ کہ کر آگے بڑھ جائیں، کہ یہ آرٹ فلم تھی، فن سے ناآشنا کیا جانیں آرٹ کیا ہوتا

Read more

موجودہ وزیر اعظم کو نا اہل قرار دیا جا سکتا ہے

کہتے ہیں جسے کوئی کام نہ ہو، وہ دوسروں کو مشورے دیا کرے۔ آج کل میں فرصت سے تھا، تو مشورہ مفت کا کلینک کھول لیا (خدارا اسے ’کلنک‘ پڑھنے سے احتراز کیجیے گا)۔ ارادہ یہ تھا، کہ میرے مشورے اگر کارگر ثابت ہوئے لگے، تو مستقبل میں مشورے کی فیس بھی رکھوں گا۔ فی الحال کمپنی کی مشہوری کے واسطے فی سبیل اللہ مشورے دیتا ہوں۔ کسی دانا کا قول ہے، مفت کی بیماری بھی ملے تو لوگ انکار

Read more

مولانا فضل الرحمان کا دھرنا اور ہوا میں معلق لبرل ازم کے وکیل

گزشتہ دنوں ایک خبر یا افواہ یا لطیفہ گوئی کی گئی، کہ مولانا فضل الرحمان وزیر اعظم بننے کے لیے انگریزی زبان سیکھ رہے ہیں. یہ شگفتہ بیانی سہی لیکن عامی کے لیے اس میں مسکرانے کو کچھ نہیں تھا، عوام کو معلوم ہے، وزیر اعظم بننے کی اہلیتوں میں سے ایک، انگریزی زبان میں بات کرنا بھی ہے. یوں تو ہم دُنیا کے اُن رہ نماوں کے قصیدے پڑھتے نہیں چُوکتے جو اقوام متحدہ میں اپنی قومی زبان میں

Read more

اپسرا – ایک عورت ڈھائی فسانے

”تو مجھ سے شادی کرے گی؟“ ”کر لوں؟“ مایا نے دھیمے سے لہجے میں، دِل باختگی سے پُوچھا۔ ”اللہ کا نام ہے، کہیں ہاں ہی نہ کَہ دینا۔“ شکیل مَتذَبذِب ہنسی کے بیچ میں گویا ہوا۔ ”جس طرح میرا بیٹا تم سے اٹیچڈ ہے، دِل کرتا ہے، میں تم سے شادی کر لوں۔“ مایا نے بڑی لگاوٹ سے جِتلایا۔ ”اچھا چھوڑو، ابھی تم نواز ہی کے بارے میں سوچو۔ میرے ساتھ تم خوش نہیں رہ سکتیں۔“ دونوں مایا کے گھر

Read more

دال چاول سے دال گو-شت اور میں فوڈی تک

کراچی کے فلیٹ میں منتقل ہوئے مجھ ایک دو مہینے گزرے تھے، کہ ایک دن احسن لاکھانی کی کال آ گئی۔ پتا پوچھ کے کچھ ہی دیر میں وہ میرے پاس تھے۔ احسن لاکھانی سے کبھی میری شناسائی میرے عزیز دوست سہیل گوندل کی وساطت سے ہوئی تھی۔ اس سے پیش تر ہم ایک دوسرے کو عرصے سے جانتے تھے، لیکن احسن اور میرے بیچ میں تکلف کی ایک دیوار سی تھی۔ پیشے کے لحاظ سے احسن لاکھانی ٹیلی ویژن

Read more

شو بِز کی بے قابو عورتیں

کراچی میں پشاور کی وہی سانولی سلونی سی ماہ رُخ میرے سامنے تھیں؛ ویسے ہی جیسے جمشید فرشوری کے سامنے محمد علی اور زیبا۔ کام تو کام ہوتا ہے؛ ایک بیٹس مین میدان میں اُترے تو یہ تھوڑی دیکھتا ہے، کہ مقابلے میں کون سا باولر ہے، اُس کی پوری توجہ گیند پر ہونی چاہیے؛ اگر وہ باولر کے سابق کارناموں سے متاثر ہو گیا، تو اس کو اعتماد سے کیسے کھیلے گا۔

پختہ عمر کے باوجود ان میں ایک کشش تھی۔ اسکرپٹ کے مطابق سچوایشن یہ ہے کہ ان کا شوہر نے ان کے منہ پر تھپڑ مارنا ہے، اور اپنے جملے ادا کر کے فریم آوٹ ہو جانا ہے۔ سانولی سلونی نے مقابل اداکار سے کہا، تھپڑ حقیقی لگنا چاہیے، تو ایسا کرو، سچ مچ کا مار دو۔ مقابل اداکار عمر میں تو انھی جیسا تھا، لیکن تجربے میں ان سے کہیں کم؛ اوپر سے یہ عورت ذات، تو مشکل یہ تھی کہ وہ تھپڑ کیوں کر مارے۔ فرسٹ ٹیک، سیکنڈ ٹیک، تھرڈ ٹیک، کئی ٹیکس؛ سین مکمل ہو کے نہیں دے رہا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ ماہ رُخ کا ردِ عمل وہ نہ تھا جو مطلوب تھا۔

Read more

خود پر لعن طعن کرتے صحافی صحافت چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟

’’اچھے کام جو نیوز آف دی ورلڈ کرتا ہے، انھیں ایسے طرز عمل سے داغ دار کر دیا گیا ہے، جو غلط تھا۔ اگر یہ حالیہ الزامات درست ہیں، تو یہ غیر انسانی عمل تھا، جس کے لیے ہماری کمپنی میں کوئی جگہ نہیں۔ دی نیوز آف دی ورلڈ کا کام دوسروں کا احتساب کرنا ہے، لیکن جب اس کی اپنی بات آئی تو یہ نا کام ہو گیا۔‘‘ یہ وہ بیان ہے، کو ایک سو اڑسٹھ سال سے جاری

Read more

کیا مہنگے اسکول میں پڑھنے والے بچے بہتر ہوتے ہیں؟

ہر ماں باپ کی خواہش ہوتی ہے، کہ اُن کی اولاد پڑھ لکھ کر کسی اعلا مقام تک پہنچے۔ عمومی طور پر ”اعلا مقام“ سے مراد، سرکاری ادارے میں افسر ”لگ جانا“ لیا جاتا ہے۔ میری اہلیہ سرکاری ادارے میں افسر ہیں، دس برس پہلے ہم کراچی میں ایک سرکاری کالونی میں سکونت پذیر تھے، جہاں قریب ہی اُن کی ڈیوٹی تھی۔ میرے بچوں کی ماں نے چاہا، کہ بچوں کو ایک ایسے نجی اسکول میں داخل کروا دیا جائے

Read more

رات بھی، نیند بھی، کہانی بھی

وہ میری زندگی میں چھ ماہ لیٹ آئی تھی۔ ’’منڈیو، اکھ مٹکا کر لیا کرو۔ اے تسی ڈرامے دے منڈے ہوکے وی، شریف دے شریف ریہنڑا اے‘‘؟ ہمیں اس قسم کے طعنے دینا ندیم اکبر ڈار کا معمول تھا۔ اگر چہ میں کیمرا مین نہیں‌ ہوں، لیکن ندیم اکبر ڈار میرے اساتذہ کی طرح ہیں۔ میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ یہی نہیں کہ تکنیکی امور، حتیٰ کہ میرے چاہنے پر ذاتی معاملات میں بھی مشورے دیا کرتے

Read more

عابد علی کی چند یادیں چند باتیں

کوئی سنہری دُپہر تھی، اسٹیفن روڈ کے گیٹ سے داخل ہوتے راول پنڈی ریل ویز اسٹیشن کے پلیٹ فارم پرچڑھتے میں نے ایک طلسماتی منظر دیکھا۔ غالباً تب میں تیسری یا چوتھی جماعت میں تھا۔ پلیٹ فارم پر ادھر اُدھر رکھے بڑے فریم کی طرز کے تختے، ان پر منڈھی سگرٹ کی ڈبیا میں موجود پنی جیسی جھلمل کرتے ورق (بعد میں معلوم ہوا، انھیں ریفلیکٹر کہا جاتا ہے ) ۔ ایک طرف لکڑی کے اسٹینڈ (ٹرائی پاڈ) پر دھرا کیمرا، اور پلیٹ فارم پر متحرک چند لوگ۔ گلے میں مفلر ڈالے، ایک کھویا کھویا سا نوجوان، پلیٹ فارم کے ایک بنچ پر بیٹھا، فرش پر نظریں گاڑے ہوئے ہے۔

Read more

عید میں رنگ تو بچوں کی عیدی سے آتا ہے

’’ابو، بہت ساری عیدی چاہیے؛ بہت ساری‘‘۔ ’کتنی بہت ساری‘‘؟ ’’بہت ساری، ناں، ابو؛ بہت ساری‘‘۔ ’’پچاس روپے‘‘؟ ’’نہیں ناں، ابو‘‘۔ اُس نے ملتجی ہوتے اپنے ننھے بازوں کو پورے پھیلا کر کہا، ’’اتنی ساری‘‘۔ میری سات سالہ بیٹی ماہی مجھ سے عیدی کی طلب گار تھی، اور میں اُس سے دل لگی کر رہا تھا۔ ’’اتنی ساری کا نام بھی تو لو؟ کتنے پیسے‘‘؟ ’’ابو، پانچ سو‘‘۔ اُس نے آنکھیں مِیچ کے ’پانچ سو‘ پہ یوں زور دیا، جیسے

Read more

کاش مور کی سودے بازی اور اِنڈو پنڈو کی نا مکمل کہانی

’’آپ کی نظر میں کاش مور کا مستقبل اور کیا ہو سکتا تھا‘‘؟ ’’یہی کہ اُسے اِنڈو سے آزادی ملنی چاہیے‘‘۔ ’’یہ مت بھولو، کِہ آدھے سے زیادہ کاش مور اُن کے پاس ہے، تو آدھا ہمارے پاس۔ کاش موریوں کو آزادی ملی، تو ہمارا کاش مور بھی ہمارے ہاتھ سے جائے گا‘‘۔ ’’کاش موری ہمارے ساتھ رہنا چاہتے ہیں‘‘! یہ بات سن کے اُس نے فلک شگاف قہقہہ لگایا۔ اُسے یوں لگا، ابھی چھت اُن کے اوپر آن گرے

Read more

وارے کی عورت، وارے کا مرد

سوشل میڈیا پر ایک دوست نے ہڈ بیتی بیان کی، کِہ اُنھوں نے ایک غریب گھرانے کی بیٹی کی شادی کا بِیڑا اُٹھاتے ہوئے، اُن کو یقین دِلایا، کِہ آپ رشتہ دیکھ کے تاریخ طے کر دیں، شادی پہ اُٹھنے والے اخراجات کی کوئی سبیل ہو جائے گی۔ گرچہ خود اُس گھر کے جوان، نکھٹو تھے، لیکن والدین کو اپنی بچی کے لیے ایسا ہینڈ سم نو جوان مطلوب تھا، جس کی آمدن لاکھ ڈیڑھ لاکھ ماہانہ سے اوپر ہو،

Read more

ایک ٹی وی سیریز جسے فحش قرار دے کر کوئی سرمایہ کاری نہیں کر رہا

میں نے اس ٹی وی سیریز کا مرکزی خیال جس جس پروڈکشن ہاوس کو دکھایا، اُس نے چھوٹتے ہی انکار کر دیا، کہ یہ ٹی وی سیریز ہمارے یہاں نہیں بن سکتی، کیوں کہ ہماری اقدار کے خلاف ہے۔ مجھے نہیں سمجھ آتا جہاں ہم ایسے ایسے لغو ٹی وی سیریز بنا رہے ہیں، وہاں میرا یہ اچھوتا خیال کیوں کسی پروڈکشن ہاوس کی توجہ نہیں حاصل کر پا رہا۔ میں یہاں اس ٹی وی سیریز کا مرکزی خیال، آپ

Read more

اب سنگ مداوا ہے اس آشفتہ سری کا

استعفا تو میں بھیج چکا تھا، لیکن مایا نے میرا استعفا آگے نہیں بڑھایا۔ یہ بات مجھے کچھ دنوں بعد معلوم ہوئی۔ میں ڈراما سیریل ’’گردش‘‘ کی رِکارڈنگ میں مصروف تھا، اور مجھے آفس سے کالیں آ رہی تھیں۔ کال کرنے والا ایک سینیئر پروڈیوسر تھا، جس نے میرے اے آر وائے آنے کے بعد ہمیں جوائن کیا تھا۔ اس سینیئر پروڈیوسر اور میں نے پی ٹی وی اکیڈمی اسلام آباد سے ایک ساتھ پروگرام پروڈیوسر کا کورس کیا تھا۔

Read more

شکیل عادل زادہ: جن کے ہونے سے بہت کام ہمارے نکلے

    ستمبر اکتوبر 2007 میں میری بیگم کی پوسٹنگ کراچی میں ہو گئی۔ مجھے بھی کراچی شفٹ ہونا پڑا۔ ایک وسیلے سے اے آر وائے ون ورلڈ میں ملازمت کی پیش کش ہوئی جسے میں نے یہ کَہ کر ٹھکرا دِیا، کِہ میری فیلڈ انٹرٹینمنٹ ہے، نیوز نہیں۔ سب دوستوں کا کہنا تھا، مجھے اے آر وائے ون ورلڈ جوائن کر لینا چاہیے۔ ایک دوست کی دلیل مجھے بھا گئی، کہ ابھی تم کراچی کے راستوں سے واقف نہیں

Read more

اے آر وائے ون ورلڈ اور کچھ باتیں مایا میم صاحب کی

ایک دِن کسی کام سے اِڈٹنگ رُوم کے سامنے سے گزرا تو انیق احمد نے مجھے آواز دے کے بلا لیا۔ میں اِڈٹنگ رُوم میں گیا تو اُٹھ کھڑے ہوئے۔ کہنے لگے ’’آغاز‘‘ کا ’پرومو‘ فائنل کر رہا ہوں، دیکھ کے بتاو اس میں کوئی کمی تو نہیں ہے۔ میں نے پرومو دیکھ کے جو سمجھ آیا، اُن سے کَہ دیا کہ یہ کچھ تبدیل کر لیں۔ انھوں نے میری بات کو غور سے سنا۔ جیسا کہ پہلے کَہ چکا

Read more

صحافی کے اوقات اور سیٹھ میڈیا کی پالیسی

ہم اسٹوڈیو میں تھے، کِہ جونھی آخری گیند پھینکی جائے، شو کا آغاز کر دیں۔ پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی تھے، انھوں نے قوم کو خوش خبری دی تھی، کِہ ورلڈ کپ فائنل کے روز ملک میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ نہیں ہو گی۔ میں نے بادامی کو شو سے پہلے سمجھا رکھا تھا، وہ ابتدائی کلمات میں یہ کَہ دے، یوں تو بجلی کی پیداواری قلت ہے، کہا یہ جاتا ہے کہ ہمارے اتنے وسائل نہیں، اتنی

Read more

یہ میں ہوں اور بس یہی کچھ ہوں

تین چار سال قبل دوستوں کی ایک محفل میں یہ سوال رکھا گیا، کِہ کتاب لانا کیوں ضروری ہے۔ ایسے میں ایک دوست نے مجھ سے کہا، کہ تم اپنے ڈراموں کی کتاب کیوں نہیں چھپواتے؟ ’’ڈرامے کون پڑھتا ہے؟‘‘ میرا یہ پوچھنا تھا۔ اسکرین کے لیے لکھے گئے سیریل یا فلمیں بھلا پڑھنے کی شے تھوڑی ہوتی ہیں۔ وہ اسکرین ہی پہ بھلی لگتی ہیں۔ دوسرے نے کہا، کہ اس طرح تمھاری کتاب تو مارکیٹ میں آ جائے گی۔

Read more

ورلڈ کپ: شارجہ، سٹہ، میں اور جھوٹی باتیں

عبد القادر چیف سلیکٹر تھے۔ یونس خان پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان۔ یاد نہیں رہا، ٹی 20 ورلڈ کپ 2009ء کا وہ کون سا میچ تھا، جس میں پاکستان کو شکست ہوئی تھی، اور یونس خان کے ٹی 20 کھلائے جانے پر اعتراضات بڑھ گئے تھے۔ نیز عبد القادر کی ٹیم سلیکشن پر تنقید ہوئی تھی۔ اس وقت ہم پری میچ کمنٹری کے لیے اسٹوڈیو میں داخل ہوئے تھے، کہ عبد القادر کے استعفے کی خبر آ گئی۔ آصف اقبال

Read more

کیا افغان نمک حرام ہیں؟

نائن الیون کے مہینا ڈیڑھ بعد، جنوب ایشیا میں بھائی چارے کے لیے کام کرنے والی ایک این جی او کی وساطت سے بھارت یاترا کا موقع ملا۔ امرتسر کے قریب ڈھڈیکی میں لالہ لاج پت رائے کی حویلی میں مہمانوں کو ٹھیرایا گیا۔ تین روزہ اکٹھ کی سب ثقافتی تقریبات وہیں ہونا تھیں۔ اس میں پہلی بار افغانستان کو بھی نمایندگی دی گئی تھی۔

باقی تو سب نے خوب آو بھگت کی، لیکن پہلی ہی رات افغان بھائیوں نے پاکستانی وفد کے چند ارکان کی سر زنش کی، کہ مسلمان ہو کے تم وہاں موجود عورتوں سے گھل مل کیوں گئے ہو، ان سے ہنس ہنس کے باتیں کیوں کرتے ہو۔ تفصیل میں جائے بغیر اتنا کہنا ہے، کہ یہ اُن کا زیرِ ناف حملہ تھا۔

Read more

ورلڈ کپ: ظہیر عباس، میں اور جھوٹی باتیں

’’اسپورٹس روم لائیو‘‘ ٹی 20 اسپیشل (ورلڈ کپ 2009ء) میں، آصف اقبال کے ساتھ دوسرے مبصر معروف ٹیسٹ کرکٹر ظہیر عباس تھے۔ میں نے ظہیر عباس کو ان کے آخری دور میں کھیلتے دیکھا ہے، بس دھندلا سا یاد ہے. پی ٹی وی سے نشر ہونے والا ان کا وہ انٹرویو بھی کچھ کچھ یاد آتا ہے، جس میں وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ شریک تھے۔ شاید اسی یا کسی اور انٹرویو میں انھوں نے عمران خان کا نام لیے

Read more

ورلڈ کپ: مایا، آصف اقبال، میں اور جھوٹی باتیں

ٹی 20 ورلڈ کپ 2009 کی کوریج پر ہمارے شو کا ٹائٹل "اسپورٹس روم لائیو” تھا۔ میزبان اے آر وائے نیوز کے نیوز کاسٹر وسیم بادامی تھے۔ دوسرے یا تیسرے روز میں نے بادامی سے پوچھا، آپ کا یہ چشمہ، نظر کا ہے؟ تو بادامی نے کہا، نہیں۔ وہ چہرے مہرے سے نو عمر دِکھتے ہیں، تو اپنی عمر سے زرا بڑا دکھائی دینے کے لیے چشمہ لگاتے ہیں۔

Read more

ورلڈ کپ: آصف اقبال، میں اور جھوٹی باتیں

کرکٹ کو میں کچھ عرصے سے فالو کرنا چھوڑ چکا تھا۔ اس کی ایک خاص وجہ ہے، جس کا بیان یہاں لازم نہیں۔ کس ملک کی نیشنل ٹیم میں کون سے پلیئر ہیں، ٹورنا منٹ کے لیے کون سی ٹیم فیورٹ ہے، مجھے معلوم نہیں تھا۔ 4 جون 2009 کی شام مجھے کہا گیا تھا، کہ کل سے ٹی 20 ورلڈ کپ کی کوریج آپ کریں گے، تو ٹیموں کا احوال جاننے سے زیادہ، مجھے سیٹ لگوانے، اور دیگر انتظامات

Read more

ورلڈ کپ: مایا، میں اور کچھ جھوٹی باتیں

یہ جون 2009ء کی ایک شام تھی۔ اس روز میرا ڈے آف تھا۔ ہر کام کے عادی شخص کی طرح، گھر میں میرا وقت نہیں گزر رہا تھا۔ سینیئر پروڈیوسر مایا خان کی کال آئی کِہ آپ فورا آفس پہنچیں. میں نے رُکھائی سے کہا، آج میری چھٹی ہے اور میرا کوئی ارادہ نہیں ہے، کہ آفس کی شکل دیکھوں۔ در اصل میں نوکری سے اکتا چکا تھا اور بہانہ ڈھونڈ رہا تھا، کہ بس کوئی مجھے استعفا دینے کا جواز مہیا کر دے۔ ملازمت بے وجہ چھوڑی نہ جا رہی تھی، کیوں کہ مجھے تکلفات کا پاس رہتا ہے۔ استعفے کے لیے ایک جھگڑا ضروری تھا۔

میرے تمام ساتھی پروڈیوسرز سے زیادہ، مایا مجھ پر بہت بھروسا کرتی تھی. یوں کَہ لیجیے، میں اُس کو چہیتا تھا. اُن دنوں میرا احوال یہ تھا، کہ میں صبح نو یا دس یا گیارہ بجے بستر سے نکلتا، جلدی جلدی تیاری کرتا اور آفس کی راہ لیتا۔ ابھی میں آدھا راستہ بھی طے نہ کر پاتا تھا، کہ مایا کی کال آ جاتی.

Read more

آڈیو کالم: کامیابی کا تیر بہ ہدف نسخہ

ایک بار میں نے ٹیلے ویژن کے ایک معروف اداکار سے پوچھا، کہ کام یابی کے حصول کا کوئی نسخہ ہے، جس پر عمل کر کے یقینی طور پہ کامران ہوا جا سکے؟ یہ سوال کرتے میرے ذہن میں تھا، کہ وہ کہیں گے:”نہیں! بالکل بھی نہیں۔ کام یابی کا کوئی فارمولا نہیں ہے، جس پر عمل کر کے لا محالہ کامران ہوا جا سکے“۔مجھے حیرت اُس وقت ہوئی، جب اُنھوں نے کہا۔”یقینا! ہے؛ کام یابی کا نسخہ ہے“۔

Read more

ایسے واقعات دُنیا بھر میں ہوتے ہیں، خاص طور پہ یورپ میں

’’ایسے واقعات دُنیا بھر میں ہوتے ہیں۔ خاص طور پہ یورپ میں۔‘‘ زینب یا فرشتہ جیسی معصوم سی بیٹی کی لاش سامنے آنے پر، جب کوئی ایسا کہتا ہے، تو میرا دِل کٹ کے رہ جاتا ہے۔ یہ کون لوگ ہیں؟ کیا ان کی بہن، بیٹی یا کوئی عزیز ایسی نہیں ہو گی، خدا نخواستہ جس کا ایسا ہی انجام سوچ کر ان کی روح نہ کپکپا جاتی ہو گی؟ ایک لمحے کو مان لیتے ہیں، کہ دُنیا بھر میں

Read more

افطار پارٹی: بار بار آزمائے ہوئے کو پھر آزمانے کی بھی کوئی حد ہے؟

ذیشان حسین نے کالم ’’افطار پارٹی عوام کے ساتھ مذاق تھا‘‘ لکھا۔ تھوڑی بہت رسم و راہ بھائی ذیشان حسین سے ہے۔ یہی سبب ہے کہ ان کے مارکسسٹ‌ اپروچ سے سرسری سہی لیکن واقفیت رکھتا ہے۔ اسی تناظر کو ذہن میں رکھتے، میں نے ٹی وی سیریز کی زبان میں‌ اس کالم کی ’’ون لائن‘‘ کچھ یوں نکالی: ’’یہ وہ جماعتیں ہیں، جنھوں نے ماضی میں جمہوری حقوق کے نام پر غاصبوں کے خلاف نعرہ لگا کے عوام کو

Read more

سیکس، شادی، اور شادی کے بعد کسی اور کی چاہت

دیہات میں کم سنی کی شادی کا رواج عام ہے۔ ہم لڑک پن کی حدود میں داخل ہوئے تو ایک دیہی پس منظر رکھنے والے دوست کی شادی ہو گئی۔ اس وقت ہم شہری بابووں کو یہ علم نہ تھا، کہ شادی کے بعد حقوق زوجیت کیسے ادا کیے جاتے ہیں۔ میرا خیال ہے میرے ساتھ کے سبھی دوستوں کو نہ پتا ہو گا، لیکن دوست کی بارات میں شامل ہم سب اسکول بوائز ایک دوسرے کو گول مول جواب دیتے یہ تاثر دیتے رہے، کہ ہم سب جانتے ہیں۔ ہو سکتا ہے آپ اس کو میری سادگی کا ڈھونگ کہیں، لیکن واقعہ یہ ہے کہ ہمارے لڑک پن میں سائبر ورلڈ نہ تھا۔ یہ تو کالج دور کی بات ہے کہ ہوسٹل میں وی سی آر منگوا کے پورن فلم دیکھی، اس وقت کیا حالت ہوئی وہ تو رہنے ہی دیں، اس کے بعد کئی روز تک پیٹ بھر کے نہ کھایا گیا، نہ پیا گیا۔ جونھی اورل سیکس کا کوئی منظر نگاہوں کے سامنے گھومتا، متلی سی ہونے لگتی۔ جس نے کچھ دیکھا ہی نہ ہو، اس پر یک دم جنت کے دروازے کھول دیے جائیں تو اس کا یہی احوال ہوتا ہو گا۔

Read more

مجھے پتا ہے تمھارا موزہ کہاں ہے

انسانی حقوق پر جزوی اختلاف ہیں کہ انسان کے بنیادی حقوق کیا ہیں، لیکن اکثریت تسلیم کرتی ہے، کہ تمام انسانوں کے حقوق یک ساں ہیں؛ انسانی حقوق و شہری حقوق، مثلا؛ ان میں سے چند کو یوں بیان کیا جا سکتا ہے۔ آزادی، اظہار رائے کی آزادی، انسان کے جسمانی تحفظ کی یقین دہانی، معاشی خود مختاری، ووٹ کا حق، جنسی استحصال سے تحفظ، حکومتی اور سماجی اداروں میں برابری کی بنیاد پر ملازمتیں، برابری کی بنیاد پر معاوضہ، پسند کی شادی کا حق، اولاد پیدا کرنے کا حق، جائداد رکھنے کا حق، اور تعلیم کا حق، وغیرہ۔ انسانوں میں مرد عورت کی تخصیص نہیں؛ گویا انسانی حقوق ہی نسوانی حقوق ہیں، اس میں کچھ تخصیص ہے، تو ایسے ہی جیسے بچوں کے حقوق، مریضوں کے حقوق، بزرگوں کے حقوق۔عورت اور مرد کی تقسیم کرتے ہمارے یہاں دو انتہائیں ہیں۔ ایک طرف وہ انتہا پسند ہیں، جو عورت اور مرد کی تقسیم کرتے، عورتوں کو ان کے بنیادی انسانی حقوق سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے وہ مقدس کتابوں سے حوالے لے آتے ہیں، اور دوسری طرف وہ انتہا پسند ہیں جو مغرب سے مثالیں لاتے ہیں، اور اصرار کرتے ہیں کہ بس انھی کو حتمی تسلیم کیا جائے۔ ان دو انتہاوں کے بیچ میں پاکستانی معاشرہ ہے، جو نہ مذہبی معاشرے کی تعریف پر پورا اترتا ہے، نہ مغربی معاشرے کی طرح کا ہے (اگر مغرب کو مذہب اور پاکستان کے متضاد رکھ کے سمجھا جائے)۔

Read more

ہالی ووڈ کے مجاہدین اور ہندوستانی ٹماٹر

میڈیا کے طالب علم ہونے کے ناتے سے ہم نے یہ پڑھا تھا‘ کہ پروپگنڈا کیسے کیا جاتا ہے‘ کیسے ذرائع ابلاغ سے متعلق شخصیات کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایک کند ذہن طالب علم ہونے کی وجہ سے‘ بہت سی پڑھائی‘ ہمارے سر سے گزر گئی‘ لیکن آج جب ہم میڈیا کی وسیع تر پہنچ کے سبب‘ عالمی و ملکی حالات کے بگڑتے سنورتے واقعات پر نطر ڈالیں‘ تو کند ذہن ہونے کے باوجود‘ ہمیں تمام تر کھیل

Read more

شکیل عادل زادہ بازیگر کی آخری قسط لکھ رہے ہیں

شکیل عادل زادہ نے بتایا‘ کِہ اس زمانے میں ’’سب رنگ ڈائجسٹ‘‘ اپنے عروج پر تھا۔ یہ نہیں‘ کِہ اس زمانے میں انھوں نے صرف کام ہی کیا‘ رُپیا پیسا ہی کمایا‘ وہ سب رنگ دوستوں کے ساتھ چھٹیاں منانے کبھی کہیں‘ تو کبھی کہیں جاتے تھے۔ موپساں کی اس کہانی کو یاد دلانے پر فرمایا‘ ایک بار ریل کے سفر میں ایک لڑکی سے ملاقات ہوئی‘ جب اسے پتا چلا‘ کِہ ہمی ’’سب رنگ‘‘ کے مدیر شکیل عادل زادہ ہیں‘ تو وہ کہنے لگیں‘ پہلے ہمارے یہاں ’’سب رنگ‘‘ آتا تھا‘ لیکن اب نہیں آتا۔ مدیر کا وجہ معلوم کرنا فطری تھا۔ استفسار پر اس لڑکی نے موپساں کی اسی کہانی کا حوالہ دیتے کہا‘ کِہ میرے والد صاحب نے جب ڈائجسٹ میں یہ کہانی دیکھی‘ تو گھر میں ’’سب رنگ‘‘ کا داخلہ بند کرا دیا گیا۔ شکیل عادل زادہ نے کہا‘ کِہ وہ دِن اور آج کا دِن‘ ہم نے ’’سب رنگ ڈائجسٹ‘‘ چھاپتے اس بات کو مدِ نظر رکھا‘ کِہ کوئی ایسی شے نہ چھاپی جائے‘ جو چاہے کتنی اچھی ہو‘ لیکن کسی گھر میں ’’سب رنگ‘‘ کا داخلہ بند کرا دے۔

Read more

کیا پاکستان خدانخواستہ دوبارہ بھی ٹوٹ سکتا ہے؟

ریاست فقط زمین کے ٹکڑے کا نام نہیں ہوتا۔ ریاست کی جغرافیائی سرحدوں (ملک) کے اندر بسنے والی اقوام (شہریوں) کا آپس میں ایک معاہدہ ہوتا ہے‘ کِہ ہم ان سرحدوں کے بیچ میں ان شرائط کے ساتھ رہیں گے۔ جیسا کہ تمام شہریوں کے حقوق یک ساں ہوں گے۔ انھیں زندگی کی دوڑ میں آگے بڑھنے کے ایک سے مواقع مہیا کیے جائیں گے۔ انھیں ہر قسم کی آزادی حاصل ہو گی‘ جو آئین (معاہدہ) میں درج ہے؛ یعنی آزادی بھی مادر پدر آزاد نہیں ہوتی‘ اس کی حدود متعین کی جاتی ہیں۔ ریاست پاکستان ہی کو دیکھ لیں، تو اس معاہدے کے تحت ملک میں بسنے والی اقوام پنجابی کو بلوچ‘ بلوچ کو سندھی‘ سندھی کو پختون پر فوقیت حاصل نہیں ہے۔ ایک جغرافیائی سرحد کے اندر ان سب کو لے کے چلنے والا ڈھانچا‘ مقننہ یعنی پارلیمان‘ عدلیہ اور انتظامیہ کے مجموعے کو ریاست کہتے ہیں۔ آئین (معاہدہ) کے تحت پارلیمان ان میں سب سے سپریم ہے۔

Read more

اردو کی مخالفت چھوڑیے، اپنا طرزِ فکر بدلیے

ایک شے ہے ’نظریہ‘؛ ایک شے ہے، ’تجربہ‘۔ ایک نظریہ ہے‘ کِہ افراد کو اُن کی مادری زبان میں تعلیم دینے سے قومیں ترقی کرتی ہیں۔ اِس نظریے کو پرکھنے کے لیے‘ تجربات کا مشاہدہ کرتے ہیں‘ کِہ دُنیا میں کون سی اقوام ہیں‘ جن کے حالات دیکھتے اِس نظریے کی صداقت پرکھی جائے۔ اگر ہم برطانیہ کی مثال لیں، کہ اس نے لگ بھگ ساری دُنیا میں راج کیا، اور اس کی وجہ یہ بتائیں‘ چوں کِہ وہ مادری

Read more

مینوں نوٹ وخا میرا موڈ بنے

اکثر یہ سوال پوچھا جاتا ہے، کہ ہماری فلم انڈسٹری کی تنزلی کے کیا اسباب رہے ہیں۔ یا یہ کہ کیا وجہ ہے، ہمارے ٹیلے ویژن ڈرامے کا وہ معیار نہیں رہا، جو کبھی پاکستان ٹیلے ویژن کارپوریشن کے ڈراموں کا ہوا کرتا تھا۔ مجھے جب کبھی ایسے سوالات کا سامنا ہوا، یہ کہہ کر صاف بچ نکلا، کہ بتایئے، پاکستان میں کون سا شعبہ ہے جو ترقی کی منازل طے کرتا چلا گیا ہے؟ خواہ ریل ویز ہو، پی آئی

Read more

یونان سے در آمد کی گئی ایک مثبت کہانی

دور دیس کی کہانی ہے وہاں مروج بیانیہ یہ تھا، کہ سوال کرنے کا حق ہر ایک کو نہیں دیا جا سکتا۔ سوال مقدس ہوتے ہیں اور دیوتا سوالوں سے ناراض ہو جاتے ہیں۔ دیوتا پتھر کی مورتیوں کو کہا جاتا تھا، جن کے کانوں میں نہ کوئی آواز پڑتی تھی، نہ یہ ہاتھ پاؤں زبان ہلاتے تھے۔ سو دیوتا کسی کو نقصان پہنچا سکتے نہ فائدہ۔ رعایا کے لیے یہ ایک طرح کا روحانی بندوبست تھا کہ ہم جیسے

Read more

آبا کی شاہ خرچیاں برباد کر گئیں

یہ ان دنوں کی بات ہے، جب میں انسٹی ٹیوٹ آف سرامکس گجرات میں پڑھا کرتا تھا، میری کفیل میری والدہ تھیں، جو اسکول میں پڑھایا کرتی تھیں۔ مجھے ایک محدود سا جیب خرچ ملا کرتا تھا۔ صبح انسٹی ٹیوٹ جاتا تھا اور شام کو وہیں کے انڈسٹریل ایریا میں ایک سرامکس فیکٹری میں ’مولڈ‘ بنا کر کچھ کما لیتا۔ یہاں میرا رابطہ مزدور طبقے سے ہوا، جن میں ایک کثیر تعداد کم سِن بچوں اور بالغ بچوں کی تھی۔ ان بچوں کی حیثیت ملازم کی سی نہیں، ایک غلام کی سی ہوتی تھی، شاید اب بھی ایسا ہی ہوتا ہو کہ بقول رحمان حفیظ:

اتنے یک ساں ہیں مری قوم کے سب معمولات
صرف تاریخ سے اخبار بدل جاتا ہے

Read more

کاغذ قلم اٹھائیے اور لکھیے

آپ کیسے لکھتے ہیں؟ ڈراما کیسے لکھا جاتا ہے؟ کہانی کیسے لکھتے ہیں؟ کبھی کبھی اس طرح کے سوالوں کا سامنا رہتا ہے۔ جب بھی ایسا ہو، میں‌ سوچ میں پڑ جاتا ہوں؛ جواب کی کھوج میں لگ جاتا ہوں۔ بہت پہلے میں نے ایک رسالے کے مدیر کو ٹیلے فون کال کی، اور کہا، سر میں آپ کے لیے لکھنا چاہتا ہوں، کیسے لکھوں؟ وہاں سے جواب آیا، کہ ’’بہت آسان ہے؛ بس کاغذ قلم اٹھائیے اور لکھیے‘‘۔ اس

Read more

چیف جسٹس کی فکر مندی اور بھکاری کی بے پروائی

میں اسے یہاں دیکھ کے حیران رہ گیا، وہ چائے پی رہا تھا، اور اخبار کھولے ادارتی صفحہ دیکھ رہا تھا۔ ابھی کچھ دیر پہلے جب میں موٹر مکینک سے اپنی گاڑی مرمت کروا رہا تھا، تو وہ مجھ سے بھیک میں بیس رُپے کا کڑکتا نوٹ لے کر گیا تھا۔ کراچی ایرپورٹ سے شاہ راہ فیصل پر قدم رکھو، تو سامنے ہی بڑی بڑی عمارتیں ہیں، عرف عام میں اس کو ”چھوٹا گیٹ“ کہا جاتا ہے۔ یہاں موٹر مکینک، کار اے سی، پوشش، بیٹری، ویل الائنمنٹ بیلنسنگ، آٹو اسپیر پارٹس شاپس، الغرض گاڑیوں سے متعلق سبھی کاروبار ہیں۔ انھی کے بیچ میں کہیں کہیں خوانچوں پر اصلی اور لذید حلیم، اسکرین ثابت کرنے والے کو ایک لاکھ انعام دینے کا اعلان کرتا شربت فروش، چائے خانے، روش، نہاری اور مقوی اعضا خوراک کی بہتات ہے۔ غریبوں کے دو ہی شوق ہوتے ہیں، ایک تو جب کھانا خوب کھانا، کہ کھانے کے لیے ہی وہ کام کرتے ہیں، اور دوسرا ۔۔۔۔۔۔۔۔ دوسرا یہاں بتانا مناسب نہیں، کیوں کہ فیصلہ ہوا ہے، آیندہ ”ہم سب“ پر ایسی گندی گندی باتیں نہیں ہوا کریں گی۔

Read more

فرقہ امید پرستوں کا

حمید جان بس اسٹینڈ پر اُترا تو ہر طرف سے کیچڑ نے اُس کا اِستقبال کِیا۔ پہاڑی علاقوں میں پانی نشیب میں اُتر جاتا ہے، لیکن اِس چھوٹے سے سے حصے کو بس اسٹینڈ کے لیے ہم وار کیا گیا تھا؛ اطراف میں بے ڈھب دُکانوں نے آب کی نکاسی کا راستہ روک رکھا تھا۔ طویل سفر کی تکان، حمید جان کے جسم سے لڑھکتی ہوئی، وہیں کہیں کیچڑ میں گم ہو گئی۔ وہ ایک مدت کے بعد گاؤں لوٹ

Read more

ریما کا ریٹ کیا ہے؟

ہمارے ایک دوست نے یہ اعتراض اٹھایا، کہ ہیں تو آپ شوبز سے، لیکن آپ سیاست پر لکھتے ہیں۔ یہ کیوں؟ آپ شوبز کی داستان سنایا کریں۔ فن کار کو سیاست یا سیاست پر تبصرے سے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ میں نے یونھی ایک دو مثالیں دیں، پوچھا کہ کیا شاعر ادیب رومان کی بات کرے تو ہی فن کار کہلائے گا؟ ان یورپی امریکی ادیبوں کے حوالے دیے، جو سیاسی نقطہ نظر رکھنے کے باعث معتوب ٹھیرے۔ طنز کیا

Read more

پارلر سے سج دھج کر نکلی غریب لڑکی اور چائے کا ڈراما

میرے دوست احسن لاکھانی، آج کل مجھ سے روٹھے ہوئے ہیں۔ بات معمولی سی ہے، لیکن بعض اوقات معمولی باتیں بھی بڑے صدموں کا باعث بن جاتی ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ہم سر جوڑے اس بات پہ وچار کر رہے تھے، کہ پاکستان کے ٹیلے ویژن ڈراموں‌ کا معیار کیسے بلند کیا جا سکتا ہے۔ بھائی احسن لاکھانی درد مندی سے کہنے لگے، کِہ ہمارے ٹیلے ویژن ڈرامے میں ”چائے“ کا بہت ذکر ملتا ہے، ہر منظر چائے سے شروع

Read more

قصہ پھٹیچر قوم اور قاضی قرطبہ کا

یہ گزرے وقتوں کے شہر بغداد کا قصہ ہے؛ جب کا ماجرا ہے، تب وہاں انصاف کا دور دورہ تھا۔ شاہی تاریخ نویس لکھتا ہے، کہ اُس دور میں نہ کوئی پھٹیچر قاضی تھا، نہ کوئی پھٹیچر سیاست دان، نہ پھٹیچر طریقے سے ایشوز کو کھڈے لائن لگایا جاتا تھا، اور رعایا بھی نا سمجھ نہ تھی۔ اس زمانے میں پھٹیچر عوام کے جذبوں کی تسکین پھٹیچر ایشوز سے نہیں ہوتی تھی؛ کیوں کہ وہاں کرکٹ کا کھیل بہت مقبول

Read more

اب نہیں آئے گا گلیوں میں غبارے والا؟

جب میں بچہ تھا، تو اے حمید سے لے کر اشتیاق احمد اور جبار توقیر وغیرہ بچوں کے لیے کہانیاں ناول لکھا کرتے تھے۔ بچوں کے لیے اردو زبان میں نونہال، پھول، تعلیم و تربیت نامی رسائل شایع ہوا کرتے تھے. صوفی تبسم کے ٹوٹ بٹوٹ بھی سانس لیتے تھے، اور میری نانی اماں بھی کہیں خلا میں تکتے، ادڑا بھائیا ( ادھورا آدمی/ بھائی) پچھل پیری کی کہانیاں سناتی تھیں۔ رات کو بستر میں لیٹ کر کہانی سننے کا

Read more

جس کی لاٹھی وہی گائے

محاوہ کچھ یوں ہے، ’’جس کی لاٹھی، اُس کی بھینس‘‘۔ بھینسیں تو بِک گئیں، لاٹھیاں محفوظ کر لی گئیں۔ یہ لاٹھیاں کب کب کام میں لانی ہیں، یہ وہی جانیں جن کے ہاتھ میں لاٹھی ہے۔ ماہرین لسان کہتے ہیں، کہ محاورہ تبدیل نہیں ہوتا، ورنہ یہ محاورہ یوں بھی ہو سکتا ہے، ’’جس کی لاٹھی، اُس کی گائے‘‘۔ آپ کہتے ہوں گے، آخر محاورہ تبدیل کرنے کا مطالبہ کیوں ہے۔ آپ سے میرا سوال ہے، جمہوریت پر یقین رکھنے

Read more

میرے دیس کے بونسائی

بیتا دن بڑا بیزار کن رہا۔ میری بیٹی کی چودھویں سال گرہ گزری تھی۔ اور ہم نے ایک بھی درخت نہیں‌ لگایا۔ میں بچوں سے یہی کہتا آیا، وہ اپنی سال گرہ کے دن کم از کم ایک پودا ضرور لگائیں۔ یوں وہ جتنے برس کے ہو جائیں گے، اتنے درخت لگا چکے ہوں گے۔ ارادہ تھا کہ سال گرہ سے اگلے روز اسے سیر گاہ لے جاوں گا، وہاں اس کے ہاتھ سے ننھا سا پودا لگوا کے سال

Read more

تمھارا اور میرا نام، جنگل میں، درختوں پر، ابھی لکھا ہوا ہے

دروازے پر مسلسل دستک سن کے ناچار آ کے اُٹھا۔ گھر کے دو ہی فرد تھے، ایک میں اور دوسرا امی۔ امی اسکول میں پڑھاتی تھیں، اور اُن دِنوں میں فرصت کے رات دِن گزار رہا تھا۔ امی ملازمت پر جانے سے پہلے، میرے لیے ناشتا بنا کے رکھ جاتیں، اور میں دِن دَس گیارہ بجے اُٹھ کے وہی ناشتا گرم کرتا۔ اِس دو منزلہ مکان کے اوپر کے پورشن میں صحن تھا، برآمدے کے سامنے لوہے کا جالی والا

Read more

کیا جنسی ہراسانی کی تعریف ہر جگہ ایک سی ہے؟

”وہاں تو بھائی کو بہن کی ’ڈیٹس‘ بھی معلوم ہوتی ہیں، کہ کب ہیں، کب نہیں‘‘۔ یہ خبر دینے والے ہمارے دوست، انگلستان سے پڑھ کے لوٹے تھے، اور ہم نوجوانوں کو وہاں کی دستور بتا رہے تھے۔ ”وہاں بھائی کے سامنے اُس کے بہن سے پوچھا جائے۔ ’وِل یو میری می‘، تو بھائی، اپنی بہن کی طرف دیکھے گا، کِہ اُس کا جواب کیا ہے۔ اگر بہن کَہ دے، ’یس‘، تو بھائی پوچھنے والے سے غرض نہ رکھے گا۔

Read more

ہمیں معاف ہی رکھیں بی بی

تمام الہامی مذاہب کی کتابوں میں یہ ذکر ہے، کہ حوا نے آدم کو ورغلایا۔ کسی ایک جگہ یہ ذکر نہیں، کہ ورغلانے والا آدم تھا۔ اسی طرح ہندوؤں کی مذہبی کہانیاں عورت کی چال بازیوں سے منسوب ہیں۔ یونانی اساطیر کی دیویاں ان کے کردارکی گواہ ہیں۔ ان باتوں کے جواب میں بعض حلقوں کی جانب سے یہ بھی کہا جا سکتا ہے، کہ یہ تمام کتابیں مردوں پہ اتری ہیں، یا تحریف کی گئی ہے۔ اس لیے ہر

Read more

کار آمد تخلیق

توقیر عباس اِتفاق سے میرا دوست بن گیا، اِتفاق سے وہ شاعر بھی ہے، اور اِتفاق ہی سے، وہ اچھا اِنسان بھی ہے۔ اچھا انسان والا جُملہ معترضہ ہے؛ کیوں کِہ وہ ایک شام مجھے ایک ایسی محفل میں لے گیا، جو اُس کے اچھا ہونے کو مشکوک بناتی ہے۔ جب ہم اُس جگہ پہنچے، تو محفل گرم تھی۔ اَب یہ اتفاق نہیں، کِہ ہال میں بجلی نہ تھی؛ چار برس پہلے لاہور میں بارہ سے چودہ گھنٹے کی لوڈ

Read more

کرشن چندر سے بڑا ادیب

ملک کے سب سے بڑے پبلشنگ ہاوس سے اس کا معاہدہ ہوگیا تھا، کہ وہ اُس کی کہانیوں کا مجموعہ شایع کریں گے۔ گزشتہ دس بارہ برسوں میں جو کہانیاں لکھی تھیں، انھیں کوئی شایع کرنے کو تیار نہ ہوا تھا۔ جس جس پبلشرز کے پاس گیا، اُس نے کتاب شایع کرنے کے لیے رقم مانگی۔ ہارون کا کہنا یہی تھا، کہ وہ ادیب ہے، تاجر نہیں؛ لہاذا وہ کیوں سرمایہ لگائے۔ اسے شکوہ تھا، کہ ہمارے یہاں ادیب کی

Read more

جب موتیے کے پھول کھِل اُٹھتے ہیں

رُخصت ہوتے ہوئے گیٹ کے ساتھ باغیچے میں اُگی، موتیے کی جھاڑیوں کے پاس ہم پل بھر کو ٹھیرے، تو وجاہت نے موتیے کے تین پھول توڑ کے میرے ہاتھ پہ رکھ دیے۔ پس! یہ طے ہو گیا کہ وجاہت مجھ سے پیار کرتے ہیں، ورنہ بے خیالی میں اُن سے یہ حرکت نہ سرزد ہوتی۔ اس سے پہلے عدنان پوچھ رہا تھا، کہ ناسٹیلیجیا کو کیسے لکھا جائے، نمونے کے طور پہ کچھ پڑھنے کو بتایا جائے۔ حسنین نے

Read more

کھل نائیک: شباب، شراب، اور کباب

یہ نوجوانی میں دیکھی ایک فلم ہے۔ فلم کا نام تو یاد نہیں، لیکن ایک شاٹ یاد ہے، کہ مصطفے قریشی کے سامنے شراب کا گلاس دھرا ہے، اور وہ اسے خباثت بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ اسی ایک شاٹ سے ہدایت کار نے یہ واضح کر دیا، کہ یہ صاحب کھل نائیک ہیں۔ ولن ہیں۔۔۔ فلم، ریڈیو، ٹی وی، تھیٹر کے لیے کردار نگاری اہم ”جاب“ ہے۔ جب ایک مصنف کسی کردار کو لکھتا ہے، تو ہدایت کار،

Read more

ایک طوائف، ایک شرمیلا دولہا اور ایک ڈرائیور

مومن شاہ قبرستان کے سامنے کھڑے مستقیم اور نجیب، بھولا مسیح کا انتظار کر رہے تھے۔ نجیب کا خیال تھا، کہ عورت ہو اور شراب نہ ہو، سواد ادھورا رہ جاتا ہے۔ بھولا مسیح سائکل سے اُترا اور نیفے سے شاپنگ بیگ میں لپٹی بوتل نکال کے تھما دی۔ ”پندرہ سو رُپے“۔ ”لیکن قیصر نے کہا تھا، ایک ہزار دینے ہیں“؟! ”پولِس نے سختی کی ہے، راستے میں چیکنگ بہت ہوتی ہے۔ کچھ بچتا نہیں ہمیں۔ “ بھولے نے ہشیاری

Read more

لکھنا کیسے سیکھا جا سکتا ہے

کسی بھی فن کے طالب علم کے لیے، دیگر فنون کے طلبا سے میل ملاپ، دیگر فنون کے مکاتب فکر، ان فنون میں مختلف ادوار میں اُبھرتی ڈوبتی تحاریک، تازہ رحجانات، اُن فنون پر مباحث، اپنے فن نکھارنے میں بہت مدد دیتا ہے۔ فلم میکنگ تمام فنون کا مجموعہ ہے۔ یہ ایک ہی وقت میں کاروبار بھی ہے؛ فن بھی۔ پینٹنگ بھی، عکاسی بھی، رقص بھی ہے، موسیقی بھی، اداکاری بھی ہے، ماڈلنگ بھی، سنگھار بھی، اور صدا کاری بھی۔

Read more

کام یابی کا تیر بہ ہدف نسخہ

ایک بار میں نے ٹیلے ویژن کے ایک معروف اداکار سے پوچھا، کہ کام یابی کے حصول کا کوئی نسخہ ہے، جس پر عمل کر کے یقینی طور پہ کامران ہوا جا سکے؟ یہ سوال کرتے میرے ذہن میں تھا، کہ وہ کہیں گے: ”نہیں! بالکل بھی نہیں۔ کام یابی کا کوئی فارمولا نہیں ہے، جس پر عمل کر کے لا محالہ کامران ہوا جا سکے“۔ مجھے حیرت اُس وقت ہوئی، جب اُنھوں نے کہا۔ ”یقینا! ہے؛ کام یابی کا

Read more

من کا پاپی اور عشقِ ممنوع

اس کی پنڈلیوں کے بال چاول کے دانے سے ذرا بڑے، سخت اور سیاہ رنگ کے تھے۔ صفی چور نظروں سے دیکھا کیا۔ وہ دونوں فرش پہ بیٹھے، دیوار سے ٹیک لگائے، آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ صفی نے محسوس کیا، کہ وہ اس کی دُزدیدہ نگاہی کو بھانپ گئی ہے، تبھی اپنے پاؤں کے انگوٹھے سے فرش کو کرید رہی ہے۔ وہ دو بچوں کی ماں تھی، لیکن اُس کے حسن میں کوئی کمی نہ آئی تھی۔ کچھ لڑکیاں شادی

Read more

ایک کال گرل کی کہانی

’’اس کہانی کا ایک مرکزی کردار ڈاکٹر عدیل ہے، جس کی عمر یہی کوئی پچاس پچپن سال ہو گی‘‘۔ ’’ہوں‘‘! وہ ہوٹل میں ایک کال گرل طلب کرتا ہے۔ پچیس چھبیس سال کی لڑکی‘‘۔ ’’عمر کم نہیں ہو سکتی؟ یہی کوئی بیس بائیس سال‘‘؟ ’’دیکھ لیتے ہیں۔ فی الحال مرکزی خیال سن لیں۔ سونیا نام ہے اُس کا‘‘۔ ’’اصلی نام‘‘؟ ’’ہاں! یہی سمجھ لیں‘‘۔ ’’پر ایسی لڑکیاں اپنا اصلی نام نہیں بتاتیں‘‘۔ ’’جی ایسا ہی ہے؛ یہ ہم واضح کر

Read more

میری ادھوری کہانی

آج ایک مدت بعد ملاقات ہوئی۔ اُس کی آنکھیں، جو کبھی مِیر کی غزل کی طرح گنگناتی تھیں، اِس وقت دھواں دے رہی تھیں۔ میں ٹک ٹک دیدم تھا۔ بجلی نہ ہونے کے سبب، کمرا نیم روشن تھا، موم شعلے کی نذر ہو کر، آنسووں کی شکل میں لکڑی کی میز پر گِر رہا تھا۔ وہ تھی، اور میں ۔۔۔۔ میں تھا، اور لرزتا شعلہ ۔۔۔۔۔ ایک وقت تھا، جب میں حمیرا کی محبت میں دیوانہ ہوا کرتا تھا، اور

Read more

کار جہاں دراز ہے یا زلف سیاہ دراز ہے

ہم سب مسیحا بن کے پاکستان لوٹ رہے تھے؛ خوش تھے، اداس تھے۔ کرغزستان نامی فردوس میں ہم نے لگ بھگ سات برس گزار دیئے تھے؛ طالب علمی کے زمانے کا تو ہر لمحہ، ہر دن ہی یادگار ہوتا ہے۔ باغِ عدن کے شب و روز میں، شاذ ہی ایسا تھا، جس نے ریشمی زلفوں سے شراب نہ کشید کی ہو، شربتی آنکھوں کے دام نہ بھرے ہوں. مہ روز انھی نادر العجوبات میں سے ایک تھا، جس کو نشہ

Read more