ریاست کے ادارے آئین و قوانین کے تابع ہوتے ہیں۔ آئین میں ہر ادارے کا کردار متعین کیا جاتا ہے۔ اسی طرح پارلیمانی ادارہ ہے، اس کے ارکان کے انتخاب کا ایک طریقہ وضع کیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی ہو، صوبائی اسمبلی، یا سینیٹ اور دیگر شعبے، سبھی ایک قانون کے تحت معرض وجود میں آئے، اور قانون کے تحت چلنے کے پا بند ہیں۔ عسکری ادارے ہوں، پولس، عدلیہ، کسٹم، مواصلاتی ادارے اور سب کے سب، آئین و قوانین کے ما تحت ہیں۔ عدالت میں ایک مقدمہ پیش ہوتا ہے، تو منصف اپنے ضمیر کے مطابق نہیں، قانون کے مطابق فیصلہ سناتا ہے۔ کیوں کہ قانون ہی مقدم ہے۔ توقع کی جاتی ہے کہ سیاست دان منتخب ہو کر عوام کی بھلائی کے اقدام کرے گا، اپنے تئیں کرتا بھی ہے۔ بری بھلی تنقید ہوتی ہے، تنقید سننا، تنقید سہنا اس کے فرائض میں شامل ہے۔ وہ غیر قانونی اقدام کرے تو عدالت اس کو سزا دے سکتی ہے۔
ہمارے یہاں یہ رواج چل نکلا ہے، کہ تنقید صرف سیاست دان پر ہو تو حق کہلاتی ہے، کسی اور سرکاری ادارے کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگایا جائے، تو اعتراض اٹھتا ہے کہ ادارے مقدم ہیں، ان پر تنقید کرنے سے یہ کم زور پڑتے ہیں، چناں چہ تنقید نہ کی جائے۔ سب ادارے یہ نہیں کہتے، مثلا: واپڈا، ریل ویز، پولس، پی آئی اے، اور اس طرح کے دیگر اداروں پر تنقید کی جائے تو تحسین ہوتی ہے، کیوں کہ عام تاثر یہ ہے کہ ان کی بری کارکردگی کے ذمہ دار صرف اور صرف سیاست دان ہیں۔ ظاہر ہے ان کی اچھی کارکردگی اس ادارے کے افسران کے مرہون منت ہے۔ ریاستی اداروں جیسا کہ عدلیہ اور فوج پر مثبت تنقید پر بھی ناک بھوں چڑھائی جاتی ہے۔ گویا یہ ادارے پارلیمان سے بھی معزز ہیں، جو انھیں آئینی تحفظ فراہم کرتا ہے۔
Read more