شکیل عادل زادہ بازیگر کی آخری قسط لکھ رہے ہیں

شکیل عادل زادہ نے بتایا‘ کِہ اس زمانے میں ’’سب رنگ ڈائجسٹ‘‘ اپنے عروج پر تھا۔ یہ نہیں‘ کِہ اس زمانے میں انھوں نے صرف کام ہی کیا‘ رُپیا پیسا ہی کمایا‘ وہ سب رنگ دوستوں کے ساتھ چھٹیاں منانے کبھی کہیں‘ تو کبھی کہیں جاتے تھے۔ موپساں کی اس کہانی کو یاد دلانے پر فرمایا‘ ایک بار ریل کے سفر میں ایک لڑکی سے ملاقات ہوئی‘ جب اسے پتا چلا‘ کِہ ہمی ’’سب رنگ‘‘ کے مدیر شکیل عادل زادہ ہیں‘ تو وہ کہنے لگیں‘ پہلے ہمارے یہاں ’’سب رنگ‘‘ آتا تھا‘ لیکن اب نہیں آتا۔ مدیر کا وجہ معلوم کرنا فطری تھا۔ استفسار پر اس لڑکی نے موپساں کی اسی کہانی کا حوالہ دیتے کہا‘ کِہ میرے والد صاحب نے جب ڈائجسٹ میں یہ کہانی دیکھی‘ تو گھر میں ’’سب رنگ‘‘ کا داخلہ بند کرا دیا گیا۔ شکیل عادل زادہ نے کہا‘ کِہ وہ دِن اور آج کا دِن‘ ہم نے ’’سب رنگ ڈائجسٹ‘‘ چھاپتے اس بات کو مدِ نظر رکھا‘ کِہ کوئی ایسی شے نہ چھاپی جائے‘ جو چاہے کتنی اچھی ہو‘ لیکن کسی گھر میں ’’سب رنگ‘‘ کا داخلہ بند کرا دے۔

Read more

کیا پاکستان خدانخواستہ دوبارہ بھی ٹوٹ سکتا ہے؟

ریاست فقط زمین کے ٹکڑے کا نام نہیں ہوتا۔ ریاست کی جغرافیائی سرحدوں (ملک) کے اندر بسنے والی اقوام (شہریوں) کا آپس میں ایک معاہدہ ہوتا ہے‘ کِہ ہم ان سرحدوں کے بیچ میں ان شرائط کے ساتھ رہیں گے۔ جیسا کہ تمام شہریوں کے حقوق یک ساں ہوں گے۔ انھیں زندگی کی دوڑ میں آگے بڑھنے کے ایک سے مواقع مہیا کیے جائیں گے۔ انھیں ہر قسم کی آزادی حاصل ہو گی‘ جو آئین (معاہدہ) میں درج ہے؛ یعنی آزادی بھی مادر پدر آزاد نہیں ہوتی‘ اس کی حدود متعین کی جاتی ہیں۔ ریاست پاکستان ہی کو دیکھ لیں، تو اس معاہدے کے تحت ملک میں بسنے والی اقوام پنجابی کو بلوچ‘ بلوچ کو سندھی‘ سندھی کو پختون پر فوقیت حاصل نہیں ہے۔ ایک جغرافیائی سرحد کے اندر ان سب کو لے کے چلنے والا ڈھانچا‘ مقننہ یعنی پارلیمان‘ عدلیہ اور انتظامیہ کے مجموعے کو ریاست کہتے ہیں۔ آئین (معاہدہ) کے تحت پارلیمان ان میں سب سے سپریم ہے۔

Read more

میری نا قابل اشاعت اردو سیکس اسٹوری

میں اعتراف کرتا ہوں کہ سوشل میڈیا سے اس طرح فائدہ نہیں اٹھا سکا، جیسے بہت سے احباب اُٹھاتے ہیں۔ میں شاعری کے فورم میں اپنا وقت برباد کر رہا تھا، کہ ایک شاعر دوست نے بتایا، فیس بک پر ایسے ”پیجز“ ہیں، جن پر جا کے اردو زبان میں لکھی سیکسی کہانیاں پڑھی جا سکتی ہیں۔ بدقسمتی کہیے کہ میں جس گھرانے میں پلا بڑھا ہوں، وہاں کتابیں پڑھنے کا رواج تھا۔ گھر میں جتنی رسائل و کتب آتیں وہ سبھی اہل خانہ پڑھتے تھے۔ اس لیے کوئی کتاب چھپا کے پڑھنا فورا نظر میں آ جاتا۔ جب کتاب پڑھنا منع نہیں ہے تو چھپا کے کیوں‌ پڑھی جائے۔ یہی وجہ رہی کہ میں وہی وہانوی یا وحی وہانوی کے نام سے بھی بہت دیر میں جا کر واقف ہوا۔ (آپ اس سے میری بے گناہی کا اندازہ کریں، میں مصنف کے نام کی املا سے واقف نہیں) ان موصوف کو پڑھنے کا اتفاق آج تک نہیں ہوسکا۔ اپنی اس محرومی کا احساس اس وقت دو چند ہو گیا، جب دوست نے سوشل میڈیا پر کچھ ایسے پیجز کی بات کی جہاں اردو میں سیکس اسٹوری پڑھی جا سکتی ہیں۔

Read more

اردو کی مخالفت چھوڑیے، اپنا طرزِ فکر بدلیے

ایک شے ہے ’نظریہ‘؛ ایک شے ہے، ’تجربہ‘۔ ایک نظریہ ہے‘ کِہ افراد کو اُن کی مادری زبان میں تعلیم دینے سے قومیں ترقی کرتی ہیں۔ اِس نظریے کو پرکھنے کے لیے‘ تجربات کا مشاہدہ کرتے ہیں‘ کِہ دُنیا میں کون سی اقوام ہیں‘ جن کے حالات دیکھتے اِس نظریے کی صداقت پرکھی جائے۔ اگر…

Read more

مینوں نوٹ وخا میرا موڈ بنے

اکثر یہ سوال پوچھا جاتا ہے، کہ ہماری فلم انڈسٹری کی تنزلی کے کیا اسباب رہے ہیں۔ یا یہ کہ کیا وجہ ہے، ہمارے ٹیلے ویژن ڈرامے کا وہ معیار نہیں رہا، جو کبھی پاکستان ٹیلے ویژن کارپوریشن کے ڈراموں کا ہوا کرتا تھا۔ مجھے جب کبھی ایسے سوالات کا سامنا ہوا، یہ کہہ کر صاف…

Read more

یونان سے در آمد کی گئی ایک مثبت کہانی

دور دیس کی کہانی ہے وہاں مروج بیانیہ یہ تھا، کہ سوال کرنے کا حق ہر ایک کو نہیں دیا جا سکتا۔ سوال مقدس ہوتے ہیں اور دیوتا سوالوں سے ناراض ہو جاتے ہیں۔ دیوتا پتھر کی مورتیوں کو کہا جاتا تھا، جن کے کانوں میں نہ کوئی آواز پڑتی تھی، نہ یہ ہاتھ پاؤں…

Read more

آبا کی شاہ خرچیاں برباد کر گئیں

یہ ان دنوں کی بات ہے، جب میں انسٹی ٹیوٹ آف سرامکس گجرات میں پڑھا کرتا تھا، میری کفیل میری والدہ تھیں، جو اسکول میں پڑھایا کرتی تھیں۔ مجھے ایک محدود سا جیب خرچ ملا کرتا تھا۔ صبح انسٹی ٹیوٹ جاتا تھا اور شام کو وہیں کے انڈسٹریل ایریا میں ایک سرامکس فیکٹری میں ’مولڈ‘ بنا کر کچھ کما لیتا۔ یہاں میرا رابطہ مزدور طبقے سے ہوا، جن میں ایک کثیر تعداد کم سِن بچوں اور بالغ بچوں کی تھی۔ ان بچوں کی حیثیت ملازم کی سی نہیں، ایک غلام کی سی ہوتی تھی، شاید اب بھی ایسا ہی ہوتا ہو کہ بقول رحمان حفیظ:

اتنے یک ساں ہیں مری قوم کے سب معمولات
صرف تاریخ سے اخبار بدل جاتا ہے

Read more

کاغذ قلم اٹھائیے اور لکھیے

آپ کیسے لکھتے ہیں؟ ڈراما کیسے لکھا جاتا ہے؟ کہانی کیسے لکھتے ہیں؟ کبھی کبھی اس طرح کے سوالوں کا سامنا رہتا ہے۔ جب بھی ایسا ہو، میں‌ سوچ میں پڑ جاتا ہوں؛ جواب کی کھوج میں لگ جاتا ہوں۔ بہت پہلے میں نے ایک رسالے کے مدیر کو ٹیلے فون کال کی، اور کہا،…

Read more

چیف جسٹس کی فکر مندی اور بھکاری کی بے پروائی

میں اسے یہاں دیکھ کے حیران رہ گیا، وہ چائے پی رہا تھا، اور اخبار کھولے ادارتی صفحہ دیکھ رہا تھا۔ ابھی کچھ دیر پہلے جب میں موٹر مکینک سے اپنی گاڑی مرمت کروا رہا تھا، تو وہ مجھ سے بھیک میں بیس رُپے کا کڑکتا نوٹ لے کر گیا تھا۔ کراچی ایرپورٹ سے شاہ راہ فیصل پر قدم رکھو، تو سامنے ہی بڑی بڑی عمارتیں ہیں، عرف عام میں اس کو ”چھوٹا گیٹ“ کہا جاتا ہے۔ یہاں موٹر مکینک، کار اے سی، پوشش، بیٹری، ویل الائنمنٹ بیلنسنگ، آٹو اسپیر پارٹس شاپس، الغرض گاڑیوں سے متعلق سبھی کاروبار ہیں۔ انھی کے بیچ میں کہیں کہیں خوانچوں پر اصلی اور لذید حلیم، اسکرین ثابت کرنے والے کو ایک لاکھ انعام دینے کا اعلان کرتا شربت فروش، چائے خانے، روش، نہاری اور مقوی اعضا خوراک کی بہتات ہے۔ غریبوں کے دو ہی شوق ہوتے ہیں، ایک تو جب کھانا خوب کھانا، کہ کھانے کے لیے ہی وہ کام کرتے ہیں، اور دوسرا ۔۔۔۔۔۔۔۔ دوسرا یہاں بتانا مناسب نہیں، کیوں کہ فیصلہ ہوا ہے، آیندہ ”ہم سب“ پر ایسی گندی گندی باتیں نہیں ہوا کریں گی۔

Read more

فرقہ امید پرستوں کا

حمید جان بس اسٹینڈ پر اُترا تو ہر طرف سے کیچڑ نے اُس کا اِستقبال کِیا۔ پہاڑی علاقوں میں پانی نشیب میں اُتر جاتا ہے، لیکن اِس چھوٹے سے سے حصے کو بس اسٹینڈ کے لیے ہم وار کیا گیا تھا؛ اطراف میں بے ڈھب دُکانوں نے آب کی نکاسی کا راستہ روک رکھا تھا۔…

Read more