کیا ادیب، فن کار اکیڈمی سے نکلتے ہیں؟

کیا کسی ادارے سے تربیت لے کر رائٹر بنا جا سکتا ہے؟ اس کا ایک سیدھا سا جواب یہ ہے، ”نہیں۔ ایسا تو نہیں ہے، کہ کوئی کسی اکیڈمی میں داخلہ لے اور رائٹر بن جائے“ ۔ آرٹ میں ایسا نہیں ‌ ہوتا، کہ آپ کسی ادارے میں داخلہ لیں، اور ضمانت دی جائے کہ آپ آرٹسٹ بنا دیے جائیں گے۔ کوئی کسی اکیڈمی سے ہنر مند بن کے نکل سکتا ہے، فن میں مہارتیں حاصل کر سکتا ہے۔ ایک پینٹنگ اسکول میں داخلہ لے کے کوئی یہ جان سکتا ہے، کہ برش سے اسٹروک کیسے لگایا جاتا ہے۔ دائرہ کھینچنے کی مشق کیسے کی جاتی ہے۔ مستطیل، مربع بناتے لائن کتنی سیدھی رکھنی ہے۔ کتنا دور تک لے جانی ہے۔ اسکیچ کیسے بنانا ہے۔ کون کون سے رنگوں کے ملاپ سے کون سا شیڈ بنتا ہے اور خاکے میں رنگ بھرتے کن تکنیکی پہلوؤں کو ذہن میں رکھنا ہے۔

Read more

چنٹو میرا بچپن ساتھ لے گیا

اسی کی دہائی کے اولین سالوں میں جب پاکستان میں وی سی آر کی آمد ہوئی، ستر کی دہائی کی فلمیں بھی نئی ریلیز فلموں کی طرح دیکھی گئیں۔ وہ میرے بچپن کے دن تھے۔ ہندی فلموں میں امیتابھ بچن کا جادو سر چڑھ کے بول رہا تھا۔ امیتابھ کی اس دور کی فلمیں دیکھیں تو ان کی باڈی لینگویج سے صاف عیاں ہوتا ہے، کہ کوئی ان کے دائیں بائیں دور دور تلک نہیں ہے۔ جیتندر اور راجیش کھنہ اپنی آخری اننگز کھیل رہے تھے، متھن چکرورتی کسی ستارے کی طرح ابھرے، اور ڈوب بھی گئے۔ ونود کھنہ نے دوبارہ اینٹری دی، کمل ہاسن ایک منفرد اداکار کے طور پہ سامنے آئے، اور نو جوانوں میں پسند بھی کیے گئے، لیکن امیتابھ امیتابھ ہی تھے۔ ان چند ناموں میں رشی کپور کا تو کہیں ذکر ہی نہیں۔ حالاں کہ اس بیچ میں ان کی فلم ”پریم روگ“ سپر ہٹ فلموں میں شمار ہوتی ہے۔

Read more

آئیے ٹیلی ویژن ڈراما اور فلم لکھیں

ہمارے یہاں قصہ گوئی کی ایک تاریخ ہے۔ ہم برصغیر والوں کی تاریخ ایران عرب کی کہے بہ غیر مکمل نہیں ہوتی۔ عرب میں داستان گوئی کی روایت بڑی مضبوط رہی ہے۔ "لیلا مجنوں" سے برصغیر والے بھی واقف ہیں۔ ایران کے "شیریں فرہاد"، "رُستم و سہراب" سے لے کر کے "قصہ چہار درویش"، "طلسم…

Read more

یہ خاموشی کوئی روز جب چیخ بنے گی

کل ایک کام کے سلسلے میں بنک جانا ضروری ٹھیرا۔ میں عام دنوں میں بھی گھر سے کم ہی نکلنا ہوتا ہے، سو حالیہ صورت احوال میں میرے شب و روز میں نمایاں تبدیلی نہیں آئی۔ فقط یہ احساس رہا کہ میرا جی چاہے تو بھی مجھے گھر سے باہر نہیں نکلنا۔ کرونا کے دنوں میں جس طرح وباوں کا بازار گرم رہا، سچ پوچھیے تو مجھے ایک دن بھی ڈر محسوس نہیں ہوا۔ بہت سے اعزا و اقارب کو یہ کہ کے حوصلہ دیا، کہ افواہوں پہ کان مت دھریں، نیوز چینل کم سے کم دیکھیں، لیکن اپنی طرف سے پوری پوری احتیاط کریں، کہ نہ کسی سے وائرس لیا جائے نہ کسی کو وائرس منتقل کیا جائے۔ یہ احساس ہی گھناونا ہے کہ ہماری وجہ سے کوئی بیماری میں مبتلا ہو جائے۔ باقی رہی موت تو اسے ایک دن آ کے رہنا ہے۔ دنیا میں سبھی کرونا سے نہیں مرتے۔

Read more

تیسری قسم: مارے گئے گلفام

فلم ’تیسری قسم‘ پھنیشور ناتھ رینو کی ہندی کہانی ’مارے گئے گلفام‘ کے پلاٹ پر مبنی ہے۔ باکمال باسو بھٹا چاریہ نے اس فلم کی ہدایات دی ہیں۔ فلم کے مرکزی کرداروں میں راج کپور اور وحیدہ رحمان کو منتخب کیا گیا۔ شنکر داس کیسری لال 30 اگست 1923ء کو راول پنڈی میں پیدا ہوئے؛…

Read more

جہالت میں پڑی قوم اور مست حکمران

بہت پہلے “لائف از بیوٹی فل” دیکھی تھی۔ دوسری عالمی جنگ کے پس منظر میں بنی اس فلم کا خیال اس قدر شان دار ہے، کہ میں ہر با ذوق سے کہوں گا، اگر اس نے یہ مووی نہیں دیکھی تو ضرور دیکھے (یو ٹیوب پہ دیکھی جا سکتی ہے)۔

ایک شخص اور اس کا کم سن بیٹا، دیگر افراد کے ساتھ نازی کیمپ میں قید کر دیے جاتے ہیں۔ وہ شخص اپنے بیٹے سے (میرے لفظوں میں) کہتا ہے، یہ جو کچھ ہمارے ساتھ ہو رہا ہے، یہ سچ میں نہیں ہے، بل کہ ایک کھیل ہے۔ میں، تم باقی لوگ، سپاہی یہ سب اس کھیل کے کھلاڑی ہیں۔ ہمیں اس کیمپ سے فرار ہونا ہے، لیکن اس طرح کے کسی دوسرے کھلاڑی کو ہمارے منصوبے کی خبر نہ ہو۔ فلم کے آخری مناظر میں، جب باپ بیٹا “کھیل کے مطابق” کیمپ سے فرار ہونے کی کوشش کرتے ہیں، تو باپ سرچ لائٹ کی روشنی میں آ جاتا ہے۔

Read more

وبا کے دنوں کا ایک سچا منظر

وبا کا خوف گام گام، گھر گھر مایوسی کا ڈیرا تھا۔ حاکم نے حکم لگا رکھا تھا، کوئی شہری ماسک پہنے بہ غیر گلی میں نہ آئے۔ بھوک سے بلکتے بچوں کے لیے غذا لینے بازار آیا، تو سپاہی نے سیٹی بجا کے روک لیا، کہ ماسک نہ پہن کر حکم عدولی کا مرتکب ہوا…

Read more

فلم اور ڈرامے میں زوال کا ذمہ دار کون؟

اُردو زبان میں نِت نئے موضوعات پر لکھنے والوں کی بہت کمی ہے۔ بعض موضوع عموماََ سائنسی معلومات و معاملات‘ جن کا ہماری زندگی سے لمحہ بہ لمحہ واسطہ ہے‘ اُن پر کچھ لکھا ہی نہیں جاتا؛ مثلا: حیاتیات‘ طبیعات‘ ارضیات وغیرہ؛ گو کہ شاعری‘ ادب‘ تنقید‘ افسانہ میں پھر کچھ موضوع چھیڑے گئے ہیں‘…

Read more

کمرشل ازم بیچ چوراہے میں برہنہ ہونے کا نام نہیں

”متوازی سینما“، عمومی طور پر ’آرٹ‘ فلم کے نام سے پکارا جاتا ہے، اور کمرشل سینما کو اس کا متضاد سمجھا جاتا ہے۔ عمومی تاثر ہے کہ کمرشل فلم ’آرٹ‘ نہیں۔ کسی فلم کی ناکامی، کسی فلم کا بڑی حد تک بور کرنا، کیا یہی ’آرٹ‘ ہے؟ یہ آسانی بھی ہے، کہ ہر وہ فلم…

Read more