جہالت میں پڑی قوم اور مست حکمران

بہت پہلے “لائف از بیوٹی فل” دیکھی تھی۔ دوسری عالمی جنگ کے پس منظر میں بنی اس فلم کا خیال اس قدر شان دار ہے، کہ میں ہر با ذوق سے کہوں گا، اگر اس نے یہ مووی نہیں دیکھی تو ضرور دیکھے (یو ٹیوب پہ دیکھی جا سکتی ہے)۔

ایک شخص اور اس کا کم سن بیٹا، دیگر افراد کے ساتھ نازی کیمپ میں قید کر دیے جاتے ہیں۔ وہ شخص اپنے بیٹے سے (میرے لفظوں میں) کہتا ہے، یہ جو کچھ ہمارے ساتھ ہو رہا ہے، یہ سچ میں نہیں ہے، بل کہ ایک کھیل ہے۔ میں، تم باقی لوگ، سپاہی یہ سب اس کھیل کے کھلاڑی ہیں۔ ہمیں اس کیمپ سے فرار ہونا ہے، لیکن اس طرح کے کسی دوسرے کھلاڑی کو ہمارے منصوبے کی خبر نہ ہو۔ فلم کے آخری مناظر میں، جب باپ بیٹا “کھیل کے مطابق” کیمپ سے فرار ہونے کی کوشش کرتے ہیں، تو باپ سرچ لائٹ کی روشنی میں آ جاتا ہے۔

Read more

وبا کے دنوں کا ایک سچا منظر

وبا کا خوف گام گام، گھر گھر مایوسی کا ڈیرا تھا۔ حاکم نے حکم لگا رکھا تھا، کوئی شہری ماسک پہنے بہ غیر گلی میں نہ آئے۔ بھوک سے بلکتے بچوں کے لیے غذا لینے بازار آیا، تو سپاہی نے سیٹی بجا کے روک لیا، کہ ماسک نہ پہن کر حکم عدولی کا مرتکب ہوا…

Read more

فلم اور ڈرامے میں زوال کا ذمہ دار کون؟

اُردو زبان میں نِت نئے موضوعات پر لکھنے والوں کی بہت کمی ہے۔ بعض موضوع عموماََ سائنسی معلومات و معاملات‘ جن کا ہماری زندگی سے لمحہ بہ لمحہ واسطہ ہے‘ اُن پر کچھ لکھا ہی نہیں جاتا؛ مثلا: حیاتیات‘ طبیعات‘ ارضیات وغیرہ؛ گو کہ شاعری‘ ادب‘ تنقید‘ افسانہ میں پھر کچھ موضوع چھیڑے گئے ہیں‘…

Read more

کمرشل ازم بیچ چوراہے میں برہنہ ہونے کا نام نہیں

”متوازی سینما“، عمومی طور پر ’آرٹ‘ فلم کے نام سے پکارا جاتا ہے، اور کمرشل سینما کو اس کا متضاد سمجھا جاتا ہے۔ عمومی تاثر ہے کہ کمرشل فلم ’آرٹ‘ نہیں۔ کسی فلم کی ناکامی، کسی فلم کا بڑی حد تک بور کرنا، کیا یہی ’آرٹ‘ ہے؟ یہ آسانی بھی ہے، کہ ہر وہ فلم…

Read more

موجودہ وزیر اعظم کو نا اہل قرار دیا جا سکتا ہے

کہتے ہیں جسے کوئی کام نہ ہو، وہ دوسروں کو مشورے دیا کرے۔ آج کل میں فرصت سے تھا، تو مشورہ مفت کا کلینک کھول لیا (خدارا اسے ’کلنک‘ پڑھنے سے احتراز کیجیے گا)۔ ارادہ یہ تھا، کہ میرے مشورے اگر کارگر ثابت ہوئے لگے، تو مستقبل میں مشورے کی فیس بھی رکھوں گا۔ فی…

Read more

مولانا فضل الرحمان کا دھرنا اور ہوا میں معلق لبرل ازم کے وکیل

گزشتہ دنوں ایک خبر یا افواہ یا لطیفہ گوئی کی گئی، کہ مولانا فضل الرحمان وزیر اعظم بننے کے لیے انگریزی زبان سیکھ رہے ہیں. یہ شگفتہ بیانی سہی لیکن عامی کے لیے اس میں مسکرانے کو کچھ نہیں تھا، عوام کو معلوم ہے، وزیر اعظم بننے کی اہلیتوں میں سے ایک، انگریزی زبان میں…

Read more

اپسرا – ایک عورت ڈھائی فسانے

”تو مجھ سے شادی کرے گی؟“ ”کر لوں؟“ مایا نے دھیمے سے لہجے میں، دِل باختگی سے پُوچھا۔ ”اللہ کا نام ہے، کہیں ہاں ہی نہ کَہ دینا۔“ شکیل مَتذَبذِب ہنسی کے بیچ میں گویا ہوا۔ ”جس طرح میرا بیٹا تم سے اٹیچڈ ہے، دِل کرتا ہے، میں تم سے شادی کر لوں۔“ مایا نے…

Read more

دال چاول سے دال گو-شت اور میں فوڈی تک

کراچی کے فلیٹ میں منتقل ہوئے مجھ ایک دو مہینے گزرے تھے، کہ ایک دن احسن لاکھانی کی کال آ گئی۔ پتا پوچھ کے کچھ ہی دیر میں وہ میرے پاس تھے۔ احسن لاکھانی سے کبھی میری شناسائی میرے عزیز دوست سہیل گوندل کی وساطت سے ہوئی تھی۔ اس سے پیش تر ہم ایک دوسرے…

Read more

شو بِز کی بے قابو عورتیں

کراچی میں پشاور کی وہی سانولی سلونی سی ماہ رُخ میرے سامنے تھیں؛ ویسے ہی جیسے جمشید فرشوری کے سامنے محمد علی اور زیبا۔ کام تو کام ہوتا ہے؛ ایک بیٹس مین میدان میں اُترے تو یہ تھوڑی دیکھتا ہے، کہ مقابلے میں کون سا باولر ہے، اُس کی پوری توجہ گیند پر ہونی چاہیے؛ اگر وہ باولر کے سابق کارناموں سے متاثر ہو گیا، تو اس کو اعتماد سے کیسے کھیلے گا۔

پختہ عمر کے باوجود ان میں ایک کشش تھی۔ اسکرپٹ کے مطابق سچوایشن یہ ہے کہ ان کا شوہر نے ان کے منہ پر تھپڑ مارنا ہے، اور اپنے جملے ادا کر کے فریم آوٹ ہو جانا ہے۔ سانولی سلونی نے مقابل اداکار سے کہا، تھپڑ حقیقی لگنا چاہیے، تو ایسا کرو، سچ مچ کا مار دو۔ مقابل اداکار عمر میں تو انھی جیسا تھا، لیکن تجربے میں ان سے کہیں کم؛ اوپر سے یہ عورت ذات، تو مشکل یہ تھی کہ وہ تھپڑ کیوں کر مارے۔ فرسٹ ٹیک، سیکنڈ ٹیک، تھرڈ ٹیک، کئی ٹیکس؛ سین مکمل ہو کے نہیں دے رہا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ ماہ رُخ کا ردِ عمل وہ نہ تھا جو مطلوب تھا۔

Read more