موجودہ وزیر اعظم کو نا اہل قرار دیا جا سکتا ہے

کہتے ہیں جسے کوئی کام نہ ہو، وہ دوسروں کو مشورے دیا کرے۔ آج کل میں فرصت سے تھا، تو مشورہ مفت کا کلینک کھول لیا (خدارا اسے ’کلنک‘ پڑھنے سے احتراز کیجیے گا)۔ ارادہ یہ تھا، کہ میرے مشورے اگر کارگر ثابت ہوئے لگے، تو مستقبل میں مشورے کی فیس بھی رکھوں گا۔ فی…

Read more

مولانا فضل الرحمان کا دھرنا اور ہوا میں معلق لبرل ازم کے وکیل

گزشتہ دنوں ایک خبر یا افواہ یا لطیفہ گوئی کی گئی، کہ مولانا فضل الرحمان وزیر اعظم بننے کے لیے انگریزی زبان سیکھ رہے ہیں. یہ شگفتہ بیانی سہی لیکن عامی کے لیے اس میں مسکرانے کو کچھ نہیں تھا، عوام کو معلوم ہے، وزیر اعظم بننے کی اہلیتوں میں سے ایک، انگریزی زبان میں…

Read more

اپسرا – ایک عورت ڈھائی فسانے

”تو مجھ سے شادی کرے گی؟“ ”کر لوں؟“ مایا نے دھیمے سے لہجے میں، دِل باختگی سے پُوچھا۔ ”اللہ کا نام ہے، کہیں ہاں ہی نہ کَہ دینا۔“ شکیل مَتذَبذِب ہنسی کے بیچ میں گویا ہوا۔ ”جس طرح میرا بیٹا تم سے اٹیچڈ ہے، دِل کرتا ہے، میں تم سے شادی کر لوں۔“ مایا نے…

Read more

دال چاول سے دال گو-شت اور میں فوڈی تک

کراچی کے فلیٹ میں منتقل ہوئے مجھ ایک دو مہینے گزرے تھے، کہ ایک دن احسن لاکھانی کی کال آ گئی۔ پتا پوچھ کے کچھ ہی دیر میں وہ میرے پاس تھے۔ احسن لاکھانی سے کبھی میری شناسائی میرے عزیز دوست سہیل گوندل کی وساطت سے ہوئی تھی۔ اس سے پیش تر ہم ایک دوسرے…

Read more

شو بِز کی بے قابو عورتیں

کراچی میں پشاور کی وہی سانولی سلونی سی ماہ رُخ میرے سامنے تھیں؛ ویسے ہی جیسے جمشید فرشوری کے سامنے محمد علی اور زیبا۔ کام تو کام ہوتا ہے؛ ایک بیٹس مین میدان میں اُترے تو یہ تھوڑی دیکھتا ہے، کہ مقابلے میں کون سا باولر ہے، اُس کی پوری توجہ گیند پر ہونی چاہیے؛ اگر وہ باولر کے سابق کارناموں سے متاثر ہو گیا، تو اس کو اعتماد سے کیسے کھیلے گا۔

پختہ عمر کے باوجود ان میں ایک کشش تھی۔ اسکرپٹ کے مطابق سچوایشن یہ ہے کہ ان کا شوہر نے ان کے منہ پر تھپڑ مارنا ہے، اور اپنے جملے ادا کر کے فریم آوٹ ہو جانا ہے۔ سانولی سلونی نے مقابل اداکار سے کہا، تھپڑ حقیقی لگنا چاہیے، تو ایسا کرو، سچ مچ کا مار دو۔ مقابل اداکار عمر میں تو انھی جیسا تھا، لیکن تجربے میں ان سے کہیں کم؛ اوپر سے یہ عورت ذات، تو مشکل یہ تھی کہ وہ تھپڑ کیوں کر مارے۔ فرسٹ ٹیک، سیکنڈ ٹیک، تھرڈ ٹیک، کئی ٹیکس؛ سین مکمل ہو کے نہیں دے رہا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ ماہ رُخ کا ردِ عمل وہ نہ تھا جو مطلوب تھا۔

Read more

خود پر لعن طعن کرتے صحافی صحافت چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟

’’اچھے کام جو نیوز آف دی ورلڈ کرتا ہے، انھیں ایسے طرز عمل سے داغ دار کر دیا گیا ہے، جو غلط تھا۔ اگر یہ حالیہ الزامات درست ہیں، تو یہ غیر انسانی عمل تھا، جس کے لیے ہماری کمپنی میں کوئی جگہ نہیں۔ دی نیوز آف دی ورلڈ کا کام دوسروں کا احتساب کرنا…

Read more

کیا مہنگے اسکول میں پڑھنے والے بچے بہتر ہوتے ہیں؟

ہر ماں باپ کی خواہش ہوتی ہے، کہ اُن کی اولاد پڑھ لکھ کر کسی اعلا مقام تک پہنچے۔ عمومی طور پر ”اعلا مقام“ سے مراد، سرکاری ادارے میں افسر ”لگ جانا“ لیا جاتا ہے۔ میری اہلیہ سرکاری ادارے میں افسر ہیں، دس برس پہلے ہم کراچی میں ایک سرکاری کالونی میں سکونت پذیر تھے،…

Read more

رات بھی، نیند بھی، کہانی بھی

وہ میری زندگی میں چھ ماہ لیٹ آئی تھی۔ ’’منڈیو، اکھ مٹکا کر لیا کرو۔ اے تسی ڈرامے دے منڈے ہوکے وی، شریف دے شریف ریہنڑا اے‘‘؟ ہمیں اس قسم کے طعنے دینا ندیم اکبر ڈار کا معمول تھا۔ اگر چہ میں کیمرا مین نہیں‌ ہوں، لیکن ندیم اکبر ڈار میرے اساتذہ کی طرح ہیں۔…

Read more

عابد علی کی چند یادیں چند باتیں

کوئی سنہری دُپہر تھی، اسٹیفن روڈ کے گیٹ سے داخل ہوتے راول پنڈی ریل ویز اسٹیشن کے پلیٹ فارم پرچڑھتے میں نے ایک طلسماتی منظر دیکھا۔ غالباً تب میں تیسری یا چوتھی جماعت میں تھا۔ پلیٹ فارم پر ادھر اُدھر رکھے بڑے فریم کی طرز کے تختے، ان پر منڈھی سگرٹ کی ڈبیا میں موجود پنی جیسی جھلمل کرتے ورق (بعد میں معلوم ہوا، انھیں ریفلیکٹر کہا جاتا ہے ) ۔ ایک طرف لکڑی کے اسٹینڈ (ٹرائی پاڈ) پر دھرا کیمرا، اور پلیٹ فارم پر متحرک چند لوگ۔ گلے میں مفلر ڈالے، ایک کھویا کھویا سا نوجوان، پلیٹ فارم کے ایک بنچ پر بیٹھا، فرش پر نظریں گاڑے ہوئے ہے۔

Read more

عید میں رنگ تو بچوں کی عیدی سے آتا ہے

’’ابو، بہت ساری عیدی چاہیے؛ بہت ساری‘‘۔ ’کتنی بہت ساری‘‘؟ ’’بہت ساری، ناں، ابو؛ بہت ساری‘‘۔ ’’پچاس روپے‘‘؟ ’’نہیں ناں، ابو‘‘۔ اُس نے ملتجی ہوتے اپنے ننھے بازوں کو پورے پھیلا کر کہا، ’’اتنی ساری‘‘۔ میری سات سالہ بیٹی ماہی مجھ سے عیدی کی طلب گار تھی، اور میں اُس سے دل لگی کر رہا…

Read more