مجھے پتا ہے تمھارا موزہ کہاں ہے

انسانی حقوق پر جزوی اختلاف ہیں کہ انسان کے بنیادی حقوق کیا ہیں، لیکن اکثریت تسلیم کرتی ہے، کہ تمام انسانوں کے حقوق یک ساں ہیں؛ انسانی حقوق و شہری حقوق، مثلا؛ ان میں سے چند کو یوں بیان کیا جا سکتا ہے۔ آزادی، اظہار رائے کی آزادی، انسان کے جسمانی تحفظ کی یقین دہانی، معاشی خود مختاری، ووٹ کا حق، جنسی استحصال سے تحفظ، حکومتی اور سماجی اداروں میں برابری کی بنیاد پر ملازمتیں، برابری کی بنیاد پر معاوضہ، پسند کی شادی کا حق، اولاد پیدا کرنے کا حق، جائداد رکھنے کا حق، اور تعلیم کا حق، وغیرہ۔ انسانوں میں مرد عورت کی تخصیص نہیں؛ گویا انسانی حقوق ہی نسوانی حقوق ہیں، اس میں کچھ تخصیص ہے، تو ایسے ہی جیسے بچوں کے حقوق، مریضوں کے حقوق، بزرگوں کے حقوق۔عورت اور مرد کی تقسیم کرتے ہمارے یہاں دو انتہائیں ہیں۔ ایک طرف وہ انتہا پسند ہیں، جو عورت اور مرد کی تقسیم کرتے، عورتوں کو ان کے بنیادی انسانی حقوق سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے وہ مقدس کتابوں سے حوالے لے آتے ہیں، اور دوسری طرف وہ انتہا پسند ہیں جو مغرب سے مثالیں لاتے ہیں، اور اصرار کرتے ہیں کہ بس انھی کو حتمی تسلیم کیا جائے۔ ان دو انتہاوں کے بیچ میں پاکستانی معاشرہ ہے، جو نہ مذہبی معاشرے کی تعریف پر پورا اترتا ہے، نہ مغربی معاشرے کی طرح کا ہے (اگر مغرب کو مذہب اور پاکستان کے متضاد رکھ کے سمجھا جائے)۔

Read more

فلم اور ڈرامے میں زوال کا ذمہ دار کون؟

اُردو زبان میں نِت نئے موضوعات پر لکھنے والوں کی بہت کمی ہے۔ بعض موضوع عموماََ سائنسی معلومات و معاملات‘ جن کا ہماری زندگی سے لمحہ بہ لمحہ واسطہ ہے‘ اُن پر کچھ لکھا ہی نہیں جاتا؛ مثلا: حیاتیات‘ طبیعات‘ ارضیات وغیرہ؛ گو کہ شاعری‘ ادب‘ تنقید‘ افسانہ میں پھر کچھ موضوع چھیڑے گئے ہیں‘…

Read more

ہالی ووڈ کے مجاہدین اور ہندوستانی ٹماٹر

میڈیا کے طالب علم ہونے کے ناتے سے ہم نے یہ پڑھا تھا‘ کہ پروپگنڈا کیسے کیا جاتا ہے‘ کیسے ذرائع ابلاغ سے متعلق شخصیات کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایک کند ذہن طالب علم ہونے کی وجہ سے‘ بہت سی پڑھائی‘ ہمارے سر سے گزر گئی‘ لیکن آج جب ہم میڈیا کی وسیع…

Read more

شکیل عادل زادہ بازیگر کی آخری قسط لکھ رہے ہیں

شکیل عادل زادہ نے بتایا‘ کِہ اس زمانے میں ’’سب رنگ ڈائجسٹ‘‘ اپنے عروج پر تھا۔ یہ نہیں‘ کِہ اس زمانے میں انھوں نے صرف کام ہی کیا‘ رُپیا پیسا ہی کمایا‘ وہ سب رنگ دوستوں کے ساتھ چھٹیاں منانے کبھی کہیں‘ تو کبھی کہیں جاتے تھے۔ موپساں کی اس کہانی کو یاد دلانے پر فرمایا‘ ایک بار ریل کے سفر میں ایک لڑکی سے ملاقات ہوئی‘ جب اسے پتا چلا‘ کِہ ہمی ’’سب رنگ‘‘ کے مدیر شکیل عادل زادہ ہیں‘ تو وہ کہنے لگیں‘ پہلے ہمارے یہاں ’’سب رنگ‘‘ آتا تھا‘ لیکن اب نہیں آتا۔ مدیر کا وجہ معلوم کرنا فطری تھا۔ استفسار پر اس لڑکی نے موپساں کی اسی کہانی کا حوالہ دیتے کہا‘ کِہ میرے والد صاحب نے جب ڈائجسٹ میں یہ کہانی دیکھی‘ تو گھر میں ’’سب رنگ‘‘ کا داخلہ بند کرا دیا گیا۔ شکیل عادل زادہ نے کہا‘ کِہ وہ دِن اور آج کا دِن‘ ہم نے ’’سب رنگ ڈائجسٹ‘‘ چھاپتے اس بات کو مدِ نظر رکھا‘ کِہ کوئی ایسی شے نہ چھاپی جائے‘ جو چاہے کتنی اچھی ہو‘ لیکن کسی گھر میں ’’سب رنگ‘‘ کا داخلہ بند کرا دے۔

Read more

کیا پاکستان خدانخواستہ دوبارہ بھی ٹوٹ سکتا ہے؟

ریاست فقط زمین کے ٹکڑے کا نام نہیں ہوتا۔ ریاست کی جغرافیائی سرحدوں (ملک) کے اندر بسنے والی اقوام (شہریوں) کا آپس میں ایک معاہدہ ہوتا ہے‘ کِہ ہم ان سرحدوں کے بیچ میں ان شرائط کے ساتھ رہیں گے۔ جیسا کہ تمام شہریوں کے حقوق یک ساں ہوں گے۔ انھیں زندگی کی دوڑ میں آگے بڑھنے کے ایک سے مواقع مہیا کیے جائیں گے۔ انھیں ہر قسم کی آزادی حاصل ہو گی‘ جو آئین (معاہدہ) میں درج ہے؛ یعنی آزادی بھی مادر پدر آزاد نہیں ہوتی‘ اس کی حدود متعین کی جاتی ہیں۔ ریاست پاکستان ہی کو دیکھ لیں، تو اس معاہدے کے تحت ملک میں بسنے والی اقوام پنجابی کو بلوچ‘ بلوچ کو سندھی‘ سندھی کو پختون پر فوقیت حاصل نہیں ہے۔ ایک جغرافیائی سرحد کے اندر ان سب کو لے کے چلنے والا ڈھانچا‘ مقننہ یعنی پارلیمان‘ عدلیہ اور انتظامیہ کے مجموعے کو ریاست کہتے ہیں۔ آئین (معاہدہ) کے تحت پارلیمان ان میں سب سے سپریم ہے۔

Read more

میری نا قابل اشاعت اردو سیکس اسٹوری

میں اعتراف کرتا ہوں کہ سوشل میڈیا سے اس طرح فائدہ نہیں اٹھا سکا، جیسے بہت سے احباب اُٹھاتے ہیں۔ میں شاعری کے فورم میں اپنا وقت برباد کر رہا تھا، کہ ایک شاعر دوست نے بتایا، فیس بک پر ایسے ”پیجز“ ہیں، جن پر جا کے اردو زبان میں لکھی سیکسی کہانیاں پڑھی جا سکتی ہیں۔ بدقسمتی کہیے کہ میں جس گھرانے میں پلا بڑھا ہوں، وہاں کتابیں پڑھنے کا رواج تھا۔ گھر میں جتنی رسائل و کتب آتیں وہ سبھی اہل خانہ پڑھتے تھے۔ اس لیے کوئی کتاب چھپا کے پڑھنا فورا نظر میں آ جاتا۔ جب کتاب پڑھنا منع نہیں ہے تو چھپا کے کیوں‌ پڑھی جائے۔ یہی وجہ رہی کہ میں وہی وہانوی یا وحی وہانوی کے نام سے بھی بہت دیر میں جا کر واقف ہوا۔ (آپ اس سے میری بے گناہی کا اندازہ کریں، میں مصنف کے نام کی املا سے واقف نہیں) ان موصوف کو پڑھنے کا اتفاق آج تک نہیں ہوسکا۔ اپنی اس محرومی کا احساس اس وقت دو چند ہو گیا، جب دوست نے سوشل میڈیا پر کچھ ایسے پیجز کی بات کی جہاں اردو میں سیکس اسٹوری پڑھی جا سکتی ہیں۔

Read more

اردو کی مخالفت چھوڑیے، اپنا طرزِ فکر بدلیے

ایک شے ہے ’نظریہ‘؛ ایک شے ہے، ’تجربہ‘۔ ایک نظریہ ہے‘ کِہ افراد کو اُن کی مادری زبان میں تعلیم دینے سے قومیں ترقی کرتی ہیں۔ اِس نظریے کو پرکھنے کے لیے‘ تجربات کا مشاہدہ کرتے ہیں‘ کِہ دُنیا میں کون سی اقوام ہیں‘ جن کے حالات دیکھتے اِس نظریے کی صداقت پرکھی جائے۔ اگر…

Read more

مینوں نوٹ وخا میرا موڈ بنے

اکثر یہ سوال پوچھا جاتا ہے، کہ ہماری فلم انڈسٹری کی تنزلی کے کیا اسباب رہے ہیں۔ یا یہ کہ کیا وجہ ہے، ہمارے ٹیلے ویژن ڈرامے کا وہ معیار نہیں رہا، جو کبھی پاکستان ٹیلے ویژن کارپوریشن کے ڈراموں کا ہوا کرتا تھا۔ مجھے جب کبھی ایسے سوالات کا سامنا ہوا، یہ کہہ کر صاف…

Read more

یونان سے در آمد کی گئی ایک مثبت کہانی

دور دیس کی کہانی ہے وہاں مروج بیانیہ یہ تھا، کہ سوال کرنے کا حق ہر ایک کو نہیں دیا جا سکتا۔ سوال مقدس ہوتے ہیں اور دیوتا سوالوں سے ناراض ہو جاتے ہیں۔ دیوتا پتھر کی مورتیوں کو کہا جاتا تھا، جن کے کانوں میں نہ کوئی آواز پڑتی تھی، نہ یہ ہاتھ پاؤں…

Read more

آبا کی شاہ خرچیاں برباد کر گئیں

یہ ان دنوں کی بات ہے، جب میں انسٹی ٹیوٹ آف سرامکس گجرات میں پڑھا کرتا تھا، میری کفیل میری والدہ تھیں، جو اسکول میں پڑھایا کرتی تھیں۔ مجھے ایک محدود سا جیب خرچ ملا کرتا تھا۔ صبح انسٹی ٹیوٹ جاتا تھا اور شام کو وہیں کے انڈسٹریل ایریا میں ایک سرامکس فیکٹری میں ’مولڈ‘ بنا کر کچھ کما لیتا۔ یہاں میرا رابطہ مزدور طبقے سے ہوا، جن میں ایک کثیر تعداد کم سِن بچوں اور بالغ بچوں کی تھی۔ ان بچوں کی حیثیت ملازم کی سی نہیں، ایک غلام کی سی ہوتی تھی، شاید اب بھی ایسا ہی ہوتا ہو کہ بقول رحمان حفیظ:

اتنے یک ساں ہیں مری قوم کے سب معمولات
صرف تاریخ سے اخبار بدل جاتا ہے

Read more