عامر لیاقت کی دوسری شادی کا خاندانی تنازع ٹویٹر پر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


مشہور زمانہ عالم آن لائن سے شہرت حاصل کرنے والے رمضان ٹرانسمیشن کے پائنیر ڈاکٹر عامر لیاقت حسین جو اب ڈاکٹر نہیں رہے، ہمیشہ مختلف تنازعات میں گھرے رہتے ہیں۔ کبھی کسی بیان کے اوپر تو کبھی گیم شو کو لے کر، آج کسی تنظیم میں تو کل کسی چینل سے اختلافات آئے دن سامنے آتے رہتے ہیں۔ نفرت آمیز باتوں کے سبب پیمرا نے کئی بار ان کے پروگرام پہ پابندی بھی عائد کی۔ چنانچہ دوسری بار سہرا سجانے والے عامر لیاقت حسین آج کل پھر خبروں کی زینت بن گئے۔

عامر لیاقت کی دوسری شادی تو رواں سال ہوئی تھی جو اُس وقت سامنے آئی جب الیکشن کمیشن میں اِن کے خلاف کاغذات نامزدگی میں دوسری اہلیہ کا ذکر نہ کرنے پر درخواست دائر ہوئی۔ پہلے پہل وہ اِس شادی کی تردید کرتے رہے مگر بعد میں جب بھانڈا پھوٹ گیا تو اُنہوں نے اُس کا اعتراف یہ کہہ کر کیا کہ ابھی صرف نکاح ہوا ہے۔ جس کے بعد اُن کی پہلی بیوی بشریٰ عامر کی اچانک طبیعت خراب ہونے کی خبریں منظر عام پر آئیں اور اُن کی بیٹی دعا عامر نے دعا کی اپیل بھی کرائی۔

قصہ مختصر گزشتہ دنوں طوبیٰ انور کی رخصتی کی تصاویر سوشل میڈیا پر دیکھی گئیں۔ جس کے بعد سے ملا جلا ردعمل دیکھنے کو ملا۔ مگر زیادہ تر تنقید کا سامنا ہوا۔ جس کی خاص وجہ اُن کی پہلی زوجہ بشریٰ عامر اور دُختر دعا عامر کے چند متاسف (ٹوئٹس) پیغام تھے۔

جس کے عامر لیاقت نے بھی بذریعہ ٹوئیٹر بھرپور ذو معنی جوابات دیے۔ بعد ازاں حالیہ ایک ویڈیو پیغام بھی دیا جس میں انہوں نے کہا کہ شادی کی ہے زنا نہیں۔ میں نے سنت پہ چلتے ہوئے اِس کی پیروی کی ہے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ اور یہ میرا ذاتی فیصلہ اور معاملہ ہے ۔
اس میں تو کوئی دو رائے نہیں کہ وہ دو شادی کریں یا چار یہ ان کا معاملہ ان کی خوشی۔ (میرے مطابق معذرت کے ساتھ مردوں کو اکثر “خفیہ” دوسری شادی زنا کے بعد ہی کرنی پڑ جاتی ہے۔)
بحر حال اس ویڈیو اور ٹوئیٹس میں کہی اُن کی کچھ باتیں گراں گزری جیسے کہ “بچے آج بھی میری زیرِ کفالت ہیں وہ پڑھ رہے ہیں۔ بیرونِ ملک مقیم بیٹے کی فیس ادا کرتا ہوں۔ ٹوئیٹر چل رہا ہے، پیسے ہوں گے تو چل رہا ہے۔” وغیرہ۔

عامر لیاقت سے ایسی چھوٹی بات کی توقع نا تھی۔ معذرت کے ساتھ یہ ہلکی یا سبک بات لوگوں کو پسند نہیں آئی۔ کیوں کہ معروف مگر متنازع مذہبی اسکالر جو سنت کی بات کر رہے ہیں، وہ بچوں کی کفالت اور پہلی بیوی کے ٹوئیٹر کا خرچہ کیوں کر جتا رہے ہیں۔ یہ تو بحیثیت باپ اور شوہر خالصتاً اُن کا ہی فرض ہے۔

اسلام کا حوالہ، سنت کا راگ الاپنے والے مردوں کے لیے چار شادیاں بالکل جائز ہیں، مگر اِس حکم کے ساتھ کہ اگر تم عدل کر سکو۔ اگر انصاف نا کرسکو تو بہتر ہے پھر ایک ہی کو نبھاؤ۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی سے اجازت طلب کی گئ، جو کہ یقیناً نہیں لی گئ۔ پھر ٹوئیٹر پر دوسری بیوی کو فالو کرنے والے عامر لیاقت نے اپنی پہلی شریکِ سفر اور بچوں کو فالو کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ چلو یہ بات اتنی اہم نا سہی مگر دوسری بیگم کی شان میں قصیدے پڑھنے والے، ببانگِ دہل آن لائن اپنا رومان شیئر کرنے والے عامر لیاقت نے پہلی بیوی کو جس انداز میں ٹوئیٹس کے ذریعے مخاطب کیا اور جواب دیا، اُس سے بھی مساوات کا پہلو کہیں نظر نہیں آتا۔ چلو مانا کہ بشری عامر نے تکلیف یا آزردگی کی کیفیت میں آکر سوشل میڈیا کا سہارا لے لیا مگر ترکی بہ ترکی جواب دینا کم اس کم ایک مرد کو زیب نہیں دیتا۔

اپ اگر مردوں کی پسندیدہ “چار شادی” کی سنت کےحوالے سے کچھ بات کرلیں تو داڑھی بھی سنت کے عین مطابق، کم از کم ایک مٹھی تو ہونی ہی چاہیے۔ نیلم منیر ہو یا کوئی اور خوبرو اداکارہ اُن سے حد سے زیادہ بے تکلفی اور بیہودہ گفتگو سے بھی اجتناب کریں، کیونکہ اسلام میں اس کی بھی سخت ممانعت ہے۔ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کی خاص ساعتوں میں خفیف الحرکات گیم شوز اور دکان سجانا، بے ہنگم پروگرام پیش کرنے کا بھی اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلام میں تو عورت کے پردے کا بھی حکم ہے تو اپنی نئی نویلی دلہن کو بھی پردہ کروائیں اور سوشل میڈیا پر پبلک میں تصاویر اپلوڈ کرنے سے بھی منع فرمائیں کیونکہ جناب یہ بھی خلافِ سنت ہے۔ ویسے “غالب” یا رشی کپور کی فلم دیکھنا بھی اسلام میں جائز نہیں۔
مگرصد افسوس! ہمیں صرف دوسری شادی کے وقت سنت نبوی ‎ ﷺ یاد آجاتی ہے۔

اپنی تازہ ترین ویڈیو پیغام میں عامر لیاقت نے یہ بھی کہا کہ “ڈان اور جیو لوگوں کی ذاتی زندگی میں دخل نا دیں یہ بہت ظلم کر رہے ہیں، غلط کر رہے ہیں۔ آپ کیسے کسی کے گھر اور گھریلو معاملات میں مداخلت کر سکتے ہیں۔”
مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ ڈان اور جیو پہ تنقید کرنے والے عامر لیاقت جب خود دوسروں کی ذاتی زندگی کو مذاق کا نشانہ بناتے رہے، جو ہر دم نامعقول واہیات اور بعید العقل گفتگو کرتے دکھائی دیتے،تو کیا اُن کو اِس بات کی اجازت ہے، مگر چینلز کو کہتے ہیں کہ یہ کوئی اچھی بات نہیں۔ حتیٰ کہ مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی شادی کا پس منظر جس طرح انہوں نے افسانوی شکل دے کر سنایا گویا اُس وقت بذاتِ خود وہاں موجود رہے۔ مرحوم کلثوم نواز اور گلوکارہ طاہرہ سید کی رقابت اور مخاصمت کی روداد انہوں نے جس طرح مرچ مصالحہ لگاتے ہوئے مبالغہ آرائی سے کام لیا تو کیا یہ اُن کا ذاتی فعل گھریلو معاملہ نہیں تھا؟ وزیرِ اعظم عمران خان کی تیسری شادی پہ کڑی تنقید کرنے والےعامر لیاقت نے تو یہاں تک کہا کہ عدت میں نکاح ہی نہیں ہوتا۔ لیکن جب آج خود پہ وہ وقت آیا تو برا مان گئے۔ تو یہ جھوٹ، غیبت، تہمت اور عیب جوئی کرنا بھی خلافِ سنت ہے۔ حالانکہ اگر عمران خان کی شادی کی بات کی جائے تو انہوں نے ہمیشہ اس حوالے سے چپ سادھہ رکھی، سابقہ بیوی کی طرف سے اتنے الزامات کے باوجود کبھی لب کشائی نہیں کی، مگر لیاقت صاحب نے تو موجودہ بیوی پہ ٹوئیٹر پر لعن طعن شروع کردیا اور پھر کہہ گئے کہ یہ میرا ذاتی معاملہ ہے۔

جی ہاں یہ وہی عامر لیاقت ہیں جو اپنے پرگرامز میں چار عالمِ دین کو بٹھا کر کسی مسئلے پر گفتگو کم ٹاکرہ زیادہ کرواتے ہیں اور خوب محظوظ ہوتے ہیں۔ جس سے دنیا کو یہ پیغام جاتا ہے کہ دینِ اسلام میں کوئی بھی مسئلہ حل شُدہ نہیں۔ ہم سب آپس میں مسلکی اختلاف رکھتے ہیں اور کس قدر منتشر ہیں۔ تب کسی پہلو سے دین اور سنت کے علمبردار عامر لیاقت کو شریعت اور سنتِ رسولﷺ یاد نہیں آتی۔

یاد رہے کچھ وقت قبل جب عامر کی شادی کے چرچے ہو رہے تھے تب دعا عامر نے بذریعہ ٹوئیٹ طوبیٰ انور کو گندی، گھٹیا اور لالچی عورت قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ طوبیٰ انور اور اُن کے والد عامر لیاقت سے پیسے لیتے رہے، اور اس میں کوئی عزت وقار نام کی چیز نہیں۔

غالباً یہ وہی طوبیٰ انور ہیں جو گزشتہ کئی سالوں سے عامر کی ٹیم کا اہم حصہ رہیں اور تیزی سے ترقی کی منزل طے کرتے ہوئے آج کارپوریٹ افیئرز مینجر کی حیثیت سے بول چینل پر اپنی خدمات سر انجام دے رہیں ہیں۔
آخر میں غور طلب بات بس اتنی ہے ہے کہ بھلا چوبیس سالہ طوبیٰ کو کوئی چھبیس سالہ لڑکا کیوں نا ملا ؟ شاید تب اُن کو وہ سب راتوں رات نہیں ملتا جو اِس شارٹ کٹ سے حاصل ہوا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •