کیا علم مابعد الطبعیات سے مراد ماوراء الطبعیات ہی ہوتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دوسرا سبب یہ ہے کہ عام طور پر مابعدالطبعیات کا موضوع علم کی اس برانچ کو سمجھا گیاہے جس میں صرف خدا کی وجود کوثابت کرنے سے متعلق دلائل دیے جاتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ الھیات، خدا کی ذات وصفات اور افعال کی اثبات کے معنی میں، مابعد الطبعیات کی موضوعات میں سے ایک موضوع ضرور ہے البتہ مابعد الطبعیات الھیات کی مترادف یا اسی مفہوم کو آدا کرنے والی اصطلاح ہرگز نہیں ہے۔ البتہ مسلم فلاسفہ کے ہاں ایک تقسیم ضرور پائی جاتی ہے جس میں مابعد الطبعیات کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جاتاہے، اس میں ”الہیات بمعنی اخص“ سے مراد صرف خدا کی ذات وصفات سے متعلق بحث ہی کی جاتی ہے جبکہ ”الہیات بمعنی اعم“ میں وجود کے وہ مباحث ہوتے ہیں جن کا اطلاق خدا سمیت تمام موجودات پر ہوتاہے۔ جب مابعد الطبعیات کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے تو اس سے مراد یہی موخر الذکر قسم ہی ہوتاہے۔

جبکہ اس غلط فہمی کا تیسرا سبب علم الکلام اور علم فلسفہ کی سرحدات کو ایک دوسرے کے ساتھ خلط ملط کرنے کا رجحان ہے۔ بلکہ مسلم علماء کے جانب سے تو اصول فقہ کو بھی منطق وفلسفہ کی زیور سے آراستہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ابن حاجب مالکی نے اس بنیاد پر ایک رسالہ لکھا تو ان کے بعد قاضی عضدالدین، علامہ تفتازانی، سید شریف جرجانی، محقق ہروی اور آخر میں مصر کے جامعہ ازہر کے شیخ محمد الجیزاوی نے آکر اس رسالہ کے مباحث کو ایک وسیع اور تفصیلی صورت دی۔

لیکن فلسفہ پر سب سے زیادہ اثرات بہرحال اسلامی علم الکلام کی ہی ہے۔ یہ متکلمین ہوتے ہیں جو ایک مدعا کے ساتھ کمیٹیڈ اور متعہد ہوتے ہیں انہوں نے کسی دعوے کے ثبوت یا رد پر براہین قائم کرنے ہوتے ہیں، اصولی لحاظ سے کسی چیز کو حتمی طور پر ثابت کرنا فلسفے کا مقام ہے ہی نہیں۔ لیکن علم کلام کا مقصد ظاہر ہے کہ اس سے مختلف ہے چونکہ عموما متکلمین فلسفیانہ اصطلاحات اور تصورات کو مستعار لیتے ہیں اس وجہ سے یہ جانچنے کے لیے توجہ کا کچھ دقت ضروری ہوتاہے کہ اسلوب اور مواد کے لحاظ سے نہیں، بلکہ موضوع کے اعتبار سے ایک بحث فلسفیانہ بنیادوں پر استوار ہے یا پھر کلامی اساس پر، کیونکہ متکلمین نے فلسفہ کو اتنا زیادہ برتاہے کہ بہت سے سوالات تو ایسے بھی ہیں جو متکلمین کے جانب سے ہی فلسفہ کے میدان میں وارد کردیے گیے ہیں۔

اسی طرح کچھ سوالات ایسے بھی ہیں جو بنیادی طور پر تصوف وعرفان کے راستے سے فلسفہ میں داخل ہوے ہیں۔ مثلا مسلم فلاسفہ کے ہاں ایک بحث ”اصالت وجود یا اصالت ماہیت“ کے عنوان سے پایا جاتاہے ( یہ سارتر کی وجودیت کی مغربی تصور سے ایک مختلف بحث ہے، کبھی موقع ملا تو یہ خادم ان دونوں تصورات کے درمیان موجود بنیادی فرق کی وجوہات کے بارے میں کچھ معروضات پیش کرنا چاہے گا ) اصالت وجود / اصالت ماہیت کا یہ سوال بہت بعد میں پیدا ہوگیاہے، یہاں تک کہ ابن سینا کے کتابوں میں بھی یہ سوال اس شکل میں موجود نہیں ہے کہ وجود اصل ہے یا ماہیت۔ یہ وہ سوال ہے جسے فلسفہ میں متکلمین اور صوفیا نے اپنے الگ الگ، مقاصد کے لیے فلسفہ میں داخل کرادیاتھا۔ تصوف اور کلام کی فلسفہ میں اس غیر محسوس آمیزش نے واقعی فلسفے کو ایک مشکل صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔

ظاہری اسلوب کے لحاظ سے غزالی کا ابوعلی ابن سینا کے ساتھ اور ابن رشد کا غزالی کے ساتھ مناقشہ تین مختلف فلسفیانہ مکاتب فکر کا باہمی مناقشہ نہیں ہے بلکہ یہ گویا کہ کلام، فلسفہ اور تصوف کی ایک دوسرے کے ساتھ تصادم ہے کیونکہ وہ تیقن اور اذعانیت جو غزالی کے موقف میں نظر آتا ہے وہ فلسفیانہ مزاج کے لیے ذرا مختلف انداز ہے بالکل اسی طرح جیسا کہ آج کل ہمارے مغربی فلسفہ سے شغف رکھنے والے احباب کے ہاں ایک خاص قسم کی ادعائیت یہ کہتے ہوے پایا جاتاہے کہ یہ سوال تو کانٹ نے حل کردیا، یہ مسئلہ تو ہیگل نے فارغ کردیا، اس بارے میں تو مارکس یہ کہہ چکا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جس سوال کا ایسا کافی وشافی جواب اور آخری وحتمی حل مہیا ہوگیا تو وہ سوال گویا کہ مزید فلسفہ کے دائرے سے بھی خارج ہوگیا، فلسفیانہ حل صرف وہ ہوتاہے جو صرف سوال کے مرحلے، ترتیب اور شکل کو تبدیل کردے، یقینی اور حتمی جوابات ساینس کا موضوع تو ہوسکتے ہیں فلسفہ کے نہیں۔

تقریبا ایک ہزار سال پہلے گزرنے والے مسلمان فلسفی ابوعلی سینا کو شاید کسی حد تک مابعد الطبعیات کی گمراہ کن اصطلاح کی وجہ سے بعد کے زمانوں میں علم کی اس برانچ کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا اندازہ تھا اس لیے کہ انہوں نے اپنے ضخیم کتاب ”الشفا“ کی الہیات سے متعلق حصے میں کہا ہے کہ اس علم کو ارسطو کی کتاب میں مضامین کی ترتیب کی وجہ سے مابعدالطبعیات کہنے کے بجاے علم کے فطری ترتیب کو مدنظر رکھتے ہوے ماقبل الطبعیات کا نام دینا چاہیے کیونکہ وجود کے مباحث بہرحال موجودات اور معروضات سے مقدم ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2