لال لال ”لہروانے“ والے ”سفید“ ہاتھی
یاسر پیر زادہ کا شمار اس ناچیز کے پسندیدہ کالم نگاروں میں ہوتا ہے، وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے کالم کا مستقل عنوان ”ذرا ہٹ کے“ پسند کیا ہے تو اس عنوان کا پاس کرتے ہوئے وہ ہمیشہ لکھتے بھی ذرا ہٹ کے ہیں، ورنہ یہاں تو حالت یہ ہے کہ لوگ اپنے کالم کا لوگو ”چوراہا“ لکھتے ہیں جبکہ عملا چرواہا بنتے ہوئے پوری قوم کو بھیڑ بکریوں کی ریوڑ سمجھ کر ہانکنے کے خبط میں مبتلا
Read more


