’’کون حسین نقی؟‘‘ کراچی پریس کلب سوال کے جواب سے گونج اٹھا


جب ہم پہنچے تو کراچی پریس کلب کا کانفرنس ہال علی احمد خان کی پاٹ دار آواز سے گونج رہا تھا، یہ معروف براڈ کاسٹر علی احمد خان ہیں جو دہائیوں بی بی سی وابستہ رہے، پاکستان میں صحافتی جدوجہد اور مشرقی پاکستان کی تاریخ ان کے سینے میں محفوظ ہے جسے یہ اپنی یادداشتوں پر مبنی کتاب’’جیون ایک کہانی‘‘ جمع کرچکے ہیں۔ علی احمد خان نے کئی دیرینہ یادیں تازہ کیں۔ آخر میں حسین نقی کو اپنے ہی انداز میں خراج تحسین پیش کیا۔ کہا کہ عالمگیر نے اپنے قاضی القضاٗ کو ، جن کا نام قوی تھا، سرمد کے پاس بھیجا۔ سرمد مجذوب تھا، مادرزاد رہتا تھا، کلمہ بھی پورا نہیں پڑھتا تھا۔ قاضی نے اسی کی حالت پر ٹوکا تو کہا ’’شیطان قوی است‘‘ قاضی غضب ناک ہوا اور عالمگیر تک شکایت پہنچی اور بالآخر سرمد کو پھانسی ہوگئی۔ پھر کہنے لگے کہ حسین نقی کا راستہ شہادت کا راستہ ہے، میں اپنے صحافی دوستوں کو یہی مشورہ دوں گا کہ اس جانب رخ نہ کریں۔

حسین نقی نے مختصر گفتگو کی جس میں ماضی کے کئی واقعات بھی دہرائے لیکن چیف جسٹس کی بدسلوکی کے واقعے کا بہت کم ہی تذکرہ کیا۔ اس واقعے پر صحافی برادی کے ردعمل کو انہوں نے حوصلہ افزا قرار دیا ۔ حسین نقی نے کہا کہ پاکستان میں مختلف پریس کلب اور دیگر مقامات پر جو منعقد ہونے والی تقریبات سے اس بات کو تقویت پہنچی کہ ہماری موجودہ اور آنے والی نسلیں ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی چاہتی ہیں، آزادی صحافت اور آزادی اظہار پر یقین رکھتی ہیں۔

کراچی یونیورسٹی سے بلوچ طلبہ کی بے دخلی کے خلاف احتجاج کی وجہ سے اپنے اخراج کو انہوں نے مسکراتے ہوئے ’’بارٹر ڈیل‘‘ کہا اور بتایا کہ ’’اشتیاق حسین قریشی پہلے ہی نہیں چاہتے تھے کہ میں منتخب ہوں اس لیے یہ ’’ڈیل‘‘ ہو گئی کہ وہ بلوچ لڑکوں کو بحال کردیں گے اور مجھے ریسٹی کیٹ کر دیا جائے گا میں نے کہا یہ تو بہت ہی سستا اور اچھا سودا ہے۔‘‘ اسلامیہ کالج سول لائنز سے اخراج کا دل چسپ واقعہ بھی سنایا ۔حمید احمد خان، جو بعد میں وائس چانسلر بھی ہوئے، وہ بہت عالم فاضل استاد تھے اس وقت اسلامیہ کالج کے پرنسپل تھے۔ نقی صاحب نے بتایا کہ حمید احمد خان اتنے حلیم الطبع تھے کہ انہوں نے حسین نقی سے پوچھا ’’آپ کیا سمجھتے ہیں کہ اس کالج میں ہیڈ کلرک زیادہ اہم ہے یا پرنسپل؟‘‘ یہ میرے لیے بہت تعجب کی بات تھی۔ میں نے جواب دیا ظاہر ہے کہ آپ ہی اہم ہے۔ تو انہوں نے جواب دیا’’فی الحال تو ایسا نہیں ہے‘‘ اور پھر کہا کہ ’’آپ بتائیں، میں آپ کو رسٹی کیٹ کردوں یا استعفی دے دوں۔‘‘ تو میں نے کہا کہ سر آپ مجھے فوراً رسٹی کیٹ کردیں کیوں کہ آپ جیسے استاد کی ضرورت ہمیشہ رہے گی۔

یہ انجمن حمایت اسلام کا کالج تھا اور یہ ہمارے ہاں تعلیم کی اہمیت رہی۔ پاکستان کی پس ماندگی جو جاری ہے اور بڑھ رہی ہے اس کا بنیادی سبب ہی تعلیم کا حق نہ ملنا ہے، ڈھائی کروڑ بچے ابھی تک اسکول نہیں جاتے۔ اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا ’’اگر آپ مجھے ملزم بھی مان لیں تو اس ملک میں قانون کی حکمرانی کیسے قائم ہوسکے گی جب عدالت عظمی ایک ملزم کو اپنا موقف بیان کرنے کا بھی حق نہ دے۔ پاکستان ہی نہیں ساری دنیا کی عدالت میں سنگین جرائم کے مرتکب افراد کا مؤقف سنا جاتا ہے۔

میرے ساتھ جو واقعہ ہوا اس میں میرے بار بار اصرار کے باوجود میرا موقف نہیں سنا گیا۔ وہاں موجود سینیئر وکلا اور صحافیوں کو بھی اس بات پر تعجب ہوا کہ مجھے اس حق سے محروم رکھا گیا۔‘‘ نقی صاحب نے وضاحت کی کہ چیف جسٹس نے ان سے معافی نہیں مانگی اور نہ جانے یہ بات کیسے پھیل گئی۔ انہوں نے کہا کہ کچھ باتوں کی وضاحت اس لیے بھی ضروری ہے کہ لوگوں نے تو یہ بھی کہا تھا کہ آپ نے بھٹو صاحب کو گالی دی، پھر ہنس کر کہا ’’میں گالی نہیں دے سکتا۔‘‘ پھر کہا کہ میں آخری وقت تک ان سے یہی کہتا رہا کہ آپ مجھے سن تو لیں، لیکن انہوں نے پولیس افسر سے کہا کہ ’’لے جاؤ اس کو باہر‘‘۔

اس واقعے کے بعد لاہور پریس کلب کے صحافی حضرات ان سے ملے اور کہا کہ آپ نے ہمارے استاد کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا جس کے جواب میں انہوں نے اتنا کہا تھا کہ اگر وہ آپ کے استاد ہیں تو میرے بھی استاد ہیں۔ اس کے بعد حسین نقی نے کہا کہ میں چاہتا بھی نہیں کہ وہ مجھ سے معافی مانگیں، انھیں عدالت سے معافی مانگنی چاہیے۔ اس لیے کہ انہوں نے اپنے ادارے کی بے حرمتی کی ہے۔ اگر وہ عدالت سے معافی مانگیں تو بہت اچھا رہے گا۔ اور آئندہ کے لیے بھی اچھی مثال قائم ہوگی کیوں کہ پاکستان میں عدلیہ کی تاریخ ’’بہت ہی ناقابل فخر‘‘ رہی ہے، مستثیات بہت کم ہیں۔

نقی صاحب نے کہا کہ یونیورسٹی سے نکالے جانے کا یہ فائدہ ہوا کہ وہ صحافت میں آگئے۔ پریس اینڈ پبلی کیشن آرڈیننس کے خلاف جب تحریک چلی تو وہ پی یو جے کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے سب سے کم عمر رکن تھے۔ حسین نقی نے سنسسر کے بارے میں ایک اور دلچسپ بات بھی کہی کہ میں یہ کہا کرتا تھا کہ آپ وہی کیوں پڑھنا چاہتے ہیں جو آپ چھاپنے کے لیے ہمیں دیتے ہیں۔ آپ کو کیسے پتا چلے گا کہ پاکستان میں کیا ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ  1971 میں حالات کے برعکس رپورٹنگ ہوئی، اس پر بھی ایک واقعہ سنایا۔ شفقت تنویر مرزا اور احمد بشیر مساوات میں کام کرتے تھے۔ احمد بشیر اپنے بہنوئی بریگیڈیئر عاطف کے بارے میں کہہ رہے تھے کہ وہ بڑی بہادری سے کُشتوں کے پُشتے لگا رہا ہے۔ پھر کہا کہ شفقت تنویر مرزا کی برداشت تو مجھ سے بھی کم تھی، وہ یہ بات برداشت نہیں کرسکے اور پیپر ویٹ اٹھا کر دے مارا، احمد بشیر کا سر بڑی مشکل سے بچا ورنہ ان کی شہادت واقع ہوجاتی۔

حسن نقی نے یہ بھی کہا کہ ایچ آر سی پی نے میرے لیے دو لفظ نہیں کہے۔ میں نے پچیس سال اس ادارے کے لیے کام کیا بہرحال مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد آنے والے ردعمل کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے کہ کوئی صحافی اگر زد پر آئے تو مل کر مزاحمت کی جائے۔ صحافیوں میں مزاحمت کرنے کی قوت ہے، ہاں جن کی تنخواہیں لاکھوں روپوں میں ہے ان میں نہیں ہوگی اور یوں بھی وہ صحافت سے تائب ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ آزادی اظہار رائے پر پابندی کی وجہ سے پاکستان دو لخت ہوا۔

پریس کلب کے صدر احمد ملک نے بجا طور پر چیف جسٹس کا شکریہ ادا کیا کیوں کہ انہی کی وجہ سے اہل صحافت کو اپنے اس لیجنڈ کی یاد آئی اور پوری کمیونٹی ان کے ساتھ کھڑی ہوگئی۔ کراچی میں اپنی زندگی کا سنہرا دور گزارنے والے حسین نقی کراچی پریس کلب میں موجود تھے ۔ وہاں ان کے دیرنہ ساتھی حبیب خان غوری، توصیف احمد خان، مقصود یوسفی، مہ ناز رحمن، محمد حنیف اور کئی سینیئر صحافی موجود تھے اور ہال شرکا سے بھر گیا تھا، ان سب نے کمرہ عدالت میں ہونے والے سوال ’’کون حسین نقی؟‘‘ کا ہم آواز ہوکر جواب دیا اور خوشی کی بات یہ ہے کہ اس میں رائٹ، لیفٹ سبھی کی آواز شامل تھی۔

تقریب کے بعد حسین نقی ایک سلیبرٹی کی طرح مداحوں میں گھر گئے، ان کے ساتھ کئی لوگ تصویریں اتروانے کے لیے آتے رہے۔ ہم اپنے درمیان ایک عہد کی تاریخ کو مسکراتے، بات کرتے اور چلتے پھرتے دیکھ رہے تھے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں