اپنی ہی ماں کا لگایا گہرا زخم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کارلا کے دادا پہلی جنگ عظیم کے زمانے میں اٹلی سے نیویارک آئے تھے۔ نیویارک میں اٹالین لوگوں نے اپنی ایک ایک دنیا بسائی ہوئی ہے۔ امریکہ میں رہتے ہوئے بھی وہ اٹلی میں رہتے ہیں۔ وہ زمانہ خراب تھا بڑی محنت کی تھی ان لوگوں نے پھر آہستہ آہستہ نیویارک کے باسی بن کر خوب پھلے پھولے تھے۔ کارلا کے باپ اوڈانی گنوچی کا بڑا کاروبار تھا۔ کارلا کے رکھ رکھاؤ میں خاندان کی امارت صاف نظر آتی تھی۔

وہ مجھے ڈاکٹرز لاؤنج میں ملی تھی۔ گہرے سیاہ لانبے بال، خوبصورت ترشے ہوئے، ناک کے دونوں جانب کالی سیاہ آنکھیں اور کتابی چہرے پر خوبصورت پیشانی جس سے وہ بار بار بالوں کی لٹ کو جھٹکے سے ہٹاتی تھی۔ یہ اس کا اسٹائل نہیں تھا بلکہ اس کی شخصیت کا جزو سا بن کر رہ گیا تھا۔

میں نے اسے دیکھا پھر دیکھتا ہی رہ گیا۔ ہم دونوں ہی بیس بال کا فائنل مقابلہ دیکھ رہے تھے۔ دونوں ہی ڈیوٹی پر تھے اور وہ ہفتے کی شام تھی، وہ کھیل میں مکمل طور پر شامل تھی۔ بار بار اس کے چہرے پر لالی کے قمقمے جلتے تھے اور بار بار میرا دل دھڑک دھڑک جاتا تھا۔ اس وقت ہی میں نے طے کرلیا کہ امی کی بھیجی ہوئی ساری پاکستانی لڑکیوں کی تصویریں واپس بھیج دوں گا۔ کارلا کی بائیں ہاتھ کی منگنی والی انگلی خالی تھی۔ میں نے سوچا کہ کہیں اس کا بوائے فرینڈ ہو گا، پتہ نہیں کتنی پرانی دوستی ہوگی اور نہ جانے میری قسمت میں کیا ہو۔

میں نے کھیل کے ختم ہوتے ہی اسے ڈنر کے لیے مدعو کرلیا۔ ہسپتال کے بالکل ہی قریب ایک مشہوراٹالین ریسٹورانٹ میں ہم دونوں نے کھانا کھایا۔ لزانیا کے ساتھ مچھلی، لہسن کے ساتھ ڈبل روٹی، جھینگے خاص اٹالین کری میں اور ساتھ ہی سرخ اٹالین وائن۔ اسی دن مجھے پتہ چل گیا کہ اس کا کوئی بھی بوائے فرینڈ نہیں ہے۔ پھر ہم دونوں کی دوستی بڑھی اور بڑھتی ہی چلی گئی۔ آہستہ آہستہ سب کچھ ساتھ ہی ہونے لگا تھا۔ ساتھ ہی کھانا کبھی اس کے اپارٹمنٹ میں کبھی میرے گھر پر، ساتھ سینما دیکھنا، ساتھ ہی گھومنا، کئی دفعہ میں اس کے ساتھ نیویارک گیا اس کے باپ سے ملا پھر ہم دونوں کو احساس ہوا کہ ہم دور تک چلے آئے ہیں۔ میں تو اس کی محبت میں گرفتار ہوہی گیا تھا وہ بھی مجھے چاہنے لگی تھی۔ پھر ایک دن میں نے اسے منگنی کی انگوٹھی پیش کردی تھی۔ اس نے مجھے گلے سے لگایا، چوما پھر انگوٹھی پہن لی تھی۔

فیلو شپ کے فوراً بعد ہی ہم دونوں نیوجرسی چلے گئے اور ساتھ ہی کام کا آغاز کردیا تھا۔ ہم دونوں کو ہی ایک اچھے ہسپتال میں بہت اچھی نوکری مل گئی تھی۔ میرے پاس دولت کی فراوانی تھی، مجھے قرض لوٹانا تھا نہ ہی پیسے گھر بھیجنے تھے۔ میں نے کارلا کے لیے ایک خوبصورت سا گھر خرید لیا تھا۔ ہماری شادی بھی ایک یادگار شادی تھی، مسجد میں نکاح، چرچ میں تقریب اور ہوٹل میں ضیافت۔ ڈیڈی، امی اور میرے بھائی بہنوں نے شادی میں شرکت کی تھی۔

اٹالین لوگ بھی پاکستانیوں کی طرح بہت بولتے ہیں، ویسے ہی زور زور سے اور ویسے ہی گرمجوشی سے۔ کارلا کے باپ نے چرچ میں اسے میرے حوالے کیا، میں اسے چوم کر اور ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر باہر نکلا تھا اور ضیافت میں شرکت کی تھی۔ کارلا کا خاندان، دوست اور میرے گھر والوں کے ساتھ چند پاکستانی دوست بھی موجود تھے۔ وہ دن، شام اور رات خوب تھی، مجھے آج بھی سب کچھ ایک خواب کی طرح یاد ہے۔

میں نے نہ جانے کیوں خودبخود شروع دن سے ہی یہ سمجھ لیا تھا کہ کارلا کی ماں نہیں ہے اور پھر ایسا ہوا کہ کبھی بھی اس موضوع پر بات نہیں کی ہم لوگوں نے۔ اس دن گھر میں کارلا کی ماں کو دیکھ کر میں چونک گیا اور خاص طور پر جس طرح سے کارلا نے اس سے بات کی تھی وہ بھی میرے لیے بہت حیران کن تھا۔

جاتے جاتے اس کی ایک خاص نگاہ میں بھول نہیں سکا ہوں جب اس نے مڑ کر دیکھا تھا اور مجھ پر ایک بھرپور نظر ڈالی تھی اور گاڑی نکلتی چلی گئی تھی۔ میں واپس آیا تو دیکھا کارلا صوفے پر خاموش بیٹھی کھڑکی سے دور درختوں کے جھنڈ میں کچھ تلاش کررہی ہے۔

مجھے دیکھ کر وہ دھیرے سے مسکرائی، ایک اُداس سی مسکراہٹ، آہستہ سے بولی، ”یہ میری ماں تھی، پاؤلا۔ ایک زمانہ تھا میں اسے تلاش کرتی رہی نہ جانے کہاں کہاں مگر نہیں پاسکی اسے۔ نہ جانے کتنے سالوں تک اس کے خواب بُنتی رہی، اپنے دماغ میں اس امید کے ساتھ ایک دن میری ماں جہاں بھی گئی ہے یکایک واپس آجائے گی مگر ایسا نہیں ہوا۔ “ اس کی آنکھوں میں آنسو جھلملارہے تھے۔

میں خاموشی سے صوفے پر کارلا کے برابر میں بیٹھ گیا، اس کے ماتھے کو چوما، اس کے گالوں کو چھوا، اپنے ہاتھ میں اس کا ہاتھ پکڑ کر آہستہ سے بولا، ”مگر کارلا اب اگر پاؤلا واپس آئی ہے تو اسے خوش آمدید کہنا چاہیے۔ تمہیں اس کی ضرورت ہے، میرے ماں باپ کبھی پاکستان سے نہیں آئیں گے، بچوں کو گرانڈ پیرنٹس کی ضرورت ہوتی ہے اور تمہاری ماں کو تمہاری ضرورت ہے۔ “

”نہیں“ سختی سے کہا تھا اس نے۔ ”میں چھوٹی سی تھی چار سال کی صرف، کوئی نہیں تھا میرا۔ اس عمر میں کوئی بھی نہیں ہوتا ہے صرف ماں ہوتی ہے۔ وہی سمجھتی ہے اتنے چھوٹے بچّے کی زبان، اس کی ضرورت پوری کرتی ہے، اس کے مسائل کو سمجھتی ہے، اس کے جذبات کا خیال رکھتی ہے اور وہی عمر ہوتی ہے جب اس بچّی کے پیار میں صرف پیار ہوتا ہے۔ کوئی غرض نہیں۔ مجھے یاد ہے اس مہربان ماں کا پیار بھرا چہرا۔ جھکی جھکی نگاہیں، بار بار چومنا، گلے لگانا، پھر ایک صبح یہ سب کچھ نہیں تھا۔

”کچھ بھی نہیں۔ مجھے تو یاد نہیں ہے کہ میرے باپ پر کیا گزری، مجھے صرف یہ یاد ہے کہ میری ماں میرے پاس نہیں تھی۔ اٹھارہ سال کی عمر تک میرا باپ میری پرورش کرتا رہا، کبھی ماں بن کر کبھی باپ بن کر، کبھی بھائی بن کر کبھی بہن بن کر۔ مجھے سب یاد ہے اسکول سے کالج تک ایک ایک دن، ایک ایک لمحہ، ہر جگہ جہاں مجھے ضرورت پڑی کہ کسی کی انگلی پکڑلوں، کسی کا ہاتھ تھام لوں، کسی کے کندھے پر سر رکھ دوں، کسی کی چھاتی میں مُنھ چھپا کر سو جاؤں، مجھے میرا باپ موجود ملا۔ “

”ہر ہر طرح سے ہر وقت میرے ساتھ، میرے پاس۔ ان اٹھارہ سالوں میں میرے باپ نے کبھی بھی مجھ سے میری ماں کے بارے میں کوئی بُری بات نہیں کی۔ مجھے یاد ہیں ان کے جواب۔ نہیں نہیں وہ زندہ ہے۔ وہ ضرور تمہیں یاد کرتی ہوگی، ہاں کسی جگہ مجبوری میں پھنس گئی ہوگی۔ بہت اچھی تھی، وہ تم سے بہت پیار کرتی تھی۔ ضرور آئے گی ایک دن تم سے ملنے تمہارے پاس۔ کیسے دور رہ سکتی ہے تم سے۔ بہت اچھی تھی وہ۔ “ یہ کہہ کر وہ خاموش ہوگئی۔ کھڑکی سے باہر ہلتے ہوئے پتوں کو دیکھتی رہی پھر آہستہ سے بولی۔

”وہ سب جھوٹ تھا۔ میری اٹھارویں سالگرہ کے دوسرے دن پاپا نے مجھے بتایاکہ وہ سب کچھ چھپاتے رہے تھے مجھ سے کیونکہ وہ میرے ذہن میں، میرے دماغ میں کوئی نیگیٹو بات نہیں ڈالنا چاہتے تھے، جب تک کہ میں خود اچھا بُرا نہ سمجھوں۔ اب ایسی عمر تھی کہ وہ مجھے بتادیں اور انہوں نے سالوں بعد بھی بڑے کرب سے بتایا تھا کہ پاؤلا یکایک چھوڑگئی تھی انہیں کسی دوسرے آدمی کے لیے۔ کسی دوسری ریاست کے کسی اور شہر میں جا کر آباد ہوگئی تھی اس کے ساتھ اور وہاں سے ہی طلاق لے لی تھی ان سے۔ “

”کوئی ماں ایسا نہیں کرتی ہے کہ بچّی کو چھوڑجائے اس طرح سے کہ واپس آکر دیکھے بھی نہیں، چومے بھی نہیں، چھوئے بھی نہیں مگر اس نے ایسا ہی کیا۔ پاپا نے کہا تھا کوئی مجبوری ہوگی کوئی مسئلہ ہوگا مگر بیٹی میں تمہیں یہ سب کچھ نہیں بتاسکتا تھا، تم بچّی تھیں، چھوٹی تھیں، زخمی ہوجاتیں تو شاید یہ زخم کبھی بھی نہیں بھرتا۔ اٹھارہ سال کی عمر میں میری ماں مجھ سے چھن گئی، مرگئی، میرے لیے۔ مجھے یاد تھا کہ یہی کہا تھا اس نے مجھ سے جب میں نے اس سے اس کی ماں کے بارے میں پوچھا تھا۔ “

”اس دن سارا کچھ بھاپ بن کر اُڑ گیا، میں نے تصورات کا ایک محل بنایا ہوا تھا جس میں میری ماں ایک شہزادی کی طرح بیٹھی اوپر بادلوں سے مجھے دیکھ رہی تھی، مجھے یاد کررہی تھی، میری حفاظت کررہی تھی، میرے لیے راہیں بنارہی تھی مگر سب کچھ جھوٹ نکلا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ محض ایک جھوٹ وہ ایک چھوٹی سی ننھی سی کمزور سی بچّی کو چھوڑ کر اپنے کسی بوائے فرینڈ کے ساتھ بھاگ گئی تھی۔ میرے باپ کو چھوڑنے کا حق تھا اسے، کیونکہ وہ تو ایک کاغذی بندھن تھا، ایک مذہبی رشتے کے تحت شوہر اور بیوی بن گئے تھے وہ لوگ۔ اور شوہر اور بیوی میں تو محبت ختم ہوسکتی ہے۔ مجھے چھوڑنے کا کوئی حق نہیں تھا انہی میں ان کی بیٹی تھی ان کے خون کا ایک حصہ، ان کے وجود کا دوسرا روپ۔ اور اب میرا حق ہے کہ میں اسے کبھی بھی اپنی زندگی میں داخل نہ ہونے دوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •