غدر کی آندھی اور کرتار پور


شام کے دھندلکے اپنے آسیب میں اضافہ کر رہے تھے ڈیوا سنگھ کے کھوہ کو جانے والے راستہ پر کالی ہانپتا ہوا حویلی کی طرف جا رہا تھا۔ حویلی کے باہر ڈیواسنگھ اپنے ہاتھوں سے کمر کو یوں پکڑے کھڑا تھا جیسے کسی گرتی ہوئی دیوار کو سہارے کی غرض سے ٹیک لگا دی جائے اور مسلسل آسمان کو دیکھے جا رہا تھا کالی نے دور سے ہی آواز دی سردار جی! سردار جی! کالی کی اس آواز نے شام کے سارے سکوت توڑ دیے مگر ڈیوا سنگھ کی چپ اس سے بڑی تھی کیوں کہ وہ اپنے اندر کی حویلی کو زمیں بوس ہوتے ہوئے خود دیکھ رہا تھا۔

اس نے لمبا سانس لیا اور سر جھٹکتے ہوئے اپنی گرجدار آواز میں کالی سے پوچھا ”خیر اے پتر؟ “ کالی بولا! غلام محمد نے پیغام بھیجا ہے سردار جی کو کہو کچھ دن کے لئے اپنے اہل وعیال کے ہمراہ ہمارے گھر آجائے خطرہ ہے کہیں آپ کے گھر پر حملہ نہ ہو جائے۔ غدر کی اس لال آندھی نے نہ جانے کتنے گھروں کے چراغ بجھا دیے تھے۔ اوراسی آندھی کی گرد ڈیوا سنگھ کی آنکھوں کی سرخی بڑھا رہی تھی۔ اس کا چھوٹا بیٹا اندرجیت اپنی راوی نسل کی بھینس کو ہانکتا ہوا حویلی سے باہرآیا تو ڈیواسنگھ کی آنکھیں اپنے نوعمر بیٹے کو دیکھ کر بھر آئیں۔ اور اس نے کالی کو بغیر کچھ بولے ہاتھ سے جانے کا اشارہ کیا۔

ڈیوا سنگھ نے رات کے اندھیرے میں اپنے بیوی بچوں کو ساتھ لیا اور حویلی کے صدر دروازے کو آہنی ارل لگا کر غلام محمد کے ڈیرہ پر پہنچا تو غلام محمد ڈیوا سنگھ کی تیاری دیکھ کر پریشان ہو گیا اور ڈیوا سنگھ کو گلے سے لگا لیا۔ اور دونوں یوں رونے لگے جیسے انہیں یقین تھا کہ اب وہ دوبارہ نہیں مل سکیں گے۔ لیکن پھر بھی اک دوسرے کے آنسو پونچھتے ہوئے جھوٹی تسلیاں دے رہے تھے کہ کچھ دن میں یہ خون خرابہ ختم ہو جائے گا۔ ان کے رونے کی آواز سن کر غلام محمد کا کم سن بیٹا بشیر باہر آگیا اور ڈیوا سنگھ کو دیکھتے ہی اس سے لپٹ گیا اور کہنے لگا ”چاچا میری گھوڑی نئیں لے کے آیا“ ڈیوا سنگھ نے بشیر کو گود میں اٹھا لیا اور اپنے آنسو صاف کر تے ہوئے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا اور کہا ”پتر ہن حویلی وی تیری تے گھوڑی وی تیری“

آسمان کے ماتھے پر سورج ٹیکا لگاتا ہوا ابھر رہا تھا۔ گنگا نگر کی ریت پر ڈیوا سنگھ نے کھڑے ہو کر اپنی حویلی کی طرف نظر ڈالی۔ اندرجیت اپنے باپ کا ہاتھ پکڑے کھڑا تھا اور رات سے ایک ہی سوال بار بار پوچھ رہا تھا ”اسیں کتھے چلے آں؟ “ ڈیوا سنگھ کی چپ نے اسے کئی بار رلا دیا تھا اور اس بار بھی ڈیوا سنگھ نے بغیر کوئی جواب دیے اندرجیت کا ہاتھ سختی سے پکڑا اور اپنے بیوی بچوں کے ساتھ ہریانہ کی طرف ایسا مڑا کہ پھر پیچھے مڑ کر کبھی نہ دیکھا۔

کرتار پور کی صبح دنیا بھر میں بسنے والے سکھوں کے لئے خوشی کی نوید تھی۔ اندرجیت اب ضعیف ہو چکا تھا اور ڈیوا سنگھ غدر کی لال آندھی اپنی آنکھوں میں لیے اس دنیا سے جا چکا تھا اور غلام محمد اپنے یار کی یادوں کے قصے سنا کر منوں مٹی تلے سو گیا ہے۔ اندرجیت اپنے بیٹوں اور پوتوں کے ساتھ کرتارپور جانے کے لیے گھر سے نکلا تو اس کے پوتے نہال سنگھ نے اس سے پوچھا ”اسیں کتھے چلے آں؟ “ یہ سنتے ہی اندر جیت کے بچپن کے تمام زخم ہرے ہو گئے اور وہ بلک بلک کر رونے لگا۔

دنیا بھر اور بھارت سے آئے ہوئے سکھ کرتارپور پہنچ رہے تھے جنہیں پاکستانی ”جی آیاں نوں“ کہہ رہے ہیں ہرطرف ایسی خوشی ہے کہ جیسے ماں کو کھویا ہوا بچہ مل گیا۔ اندرجیت بھی اپنے خاندان کے ساتھ کرتار پور پہنچ گیا۔ سبھی ایک دوسرے سے گلے مل رہے ہیں۔ ایک پاکستانی سکھ نے اندرجیت کو روتے ہوئے دیکھ کر پوچھا سردار جی آج تو خوشی کا دن ہے واہے گرو کی مہر ہوئی ہے آپ کیوں رو رہے ہیں۔ تو اندرجیت بولا ”پتر میری اکھا وچ غدر دی مٹی پے گئی اے“ اپنے پردھان منتری سے کہو کرتارپور تک آنے کی ہمیں اجازت دے ہی دی ہے تو ایک احسان مجھ پر اور کر دے میری حویلی مجھے واپس نہ کرے بس ایک دفعہ دکھا دے تو میری آنکھوں سے غدر کی لالی صاف ہو جائے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

شاہد حمید راؤ کی دیگر تحریریں
شاہد حمید راؤ کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں