امریکی جنگ، پاکستانی فوج اور عمران خان کا نیا پاکستان


عمران خان کی اس بات میں دو تضاد واضح ہیں۔ ایک تو یہ کہ اگر اسامہ امریکہ کے خلاف برسر پیکار تھا اور اسی نے اسے ہلاک کر دیا تو اس میں پاکستانی قوم کو ہتک کیوں محسوس ہوئی؟ پاکستانی فوج تو عمران خان کے بقول ڈالر لے کر خدمات سرانجام دے رہی تھی۔ ایسی صورت میں کرائے پر خدمات انجام دینے والی حکومت یا قوم کو توہین محسوس کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہو سکتی۔ وہ تو وہی کام اسی مقدار میں کریں گے جتنے کام کا اسے معاوضہ ادا کیا جائے گا۔ اس بیان میں دوسرا تضاد ان کی حکومت میں وزارت خارجہ کی سیکریٹری تہمینہ جنجوعہ کا وہ بیان ہے جو انہوں نے ٹرمپ کی اس ٹویٹ کے بعد دیا تھا کہ ’پاکستان ہمارا دھیلے کاکام نہیں کرتا‘ ۔ اس بیان میں سیکریٹری خارجہ امور نے یہ اعتراف کیا تھا کہ پاکستانی حکومت اسامہ کو تلاش کرنے میں امریکہ سے تعاون کرتی رہی تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ امریکہ اسامہ کے حوالے سے پاکستان کو مطلع کرتا رہا تھا۔ اب عمران خان کا فرض ہے کہ وہ اس حوالے سے تمام حقائق سامنے لائیں ورنہ ان کے انٹرویو کو یا تو یوٹرن سمجھا جائے گا یا وہ اس سے انحراف کرنے کے لئے نیا یو ٹرن لینے پر مجبور ہوں گے۔

اس سوال جواب سے بھی یہ واضح ہوتا ہے کہ عمران خان دہشت گردی کے خلاف پاکستانی فوج کی کارروائیوں کو امریکہ کا ساتھ دینے کی غلط حکمت عملی کے ساتھ جوڑ کر پیش کرتے ہیں۔ اس لئے بطور وزیر اعظم کیا ان پر یہ ذمہ داری عائد نہیں ہوتی کہ وہ پاک امریکہ اشتراک کے تمام پہلوؤں پر قوم کو اعتماد میں لیں اور یہ واضح کیا جائے کہ عمران خان کے بقول پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو 80 ہزار ہلاکتیں ہوئی ہیں اور 150 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہؤا ہے، اس کا سبب امریکہ کی نادانی تھی یا یہ پاکستانی حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ تھا۔

عمران خان بدعنوانی کے خلاف جہاد کا علم اٹھا کر چند ملین ڈالر کے معاملات میں ملک کے اہم ترین سیاست دانوں کو شدید سزائیں دلوانے کے عزم کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ تو وہ ان عناصر سے نمٹنے کے لئے کیا کررہے ہیں جن کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک کو نہ صرف ڈیڑھ سو ارب ڈالر کا نقصان ہؤا بلکہ اسّی ہزار افراد بھی لقمہ اجل بن گئے۔ کیا ضروری نہیں ہے کہ وزیراعظم اپنی کابینہ اور پارٹی کو اعتماد میں لے کر یہ معاملہ پارلیمنٹ میں لے کر آئیں تاکہ اس ملک کے عوام بالآخر پہچان سکیں کہ کون ان کا دوست ہے اور کس نے ان کی پیٹھ میں خنجر بھونکا تھا۔

پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس کے واقعات و حالات ہتھیلی پر چسپاں ہونے کے باوجود انہیں پیش کرنے والے سیاسی ضرورتوں کے مطابق ان میں اپنے وقتی مفاد کی ملاوٹ کرتے ہوئے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ کل پاک فوج کے ترجمان نے بھی المیہ مشرقی پاکستان کا اسی طرح ذکر کیا لیکن اس سے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے ان حقائق کو عوام کے سامنے لانے کا حوصلہ نہیں دکھایا جو سقوط ڈھاکہ کا سبب بنے تھے۔ اسی طرح عمران خان نے امریکی صحافی کو لاجواب کرنے کے لئے تو دلائل کے انبار لگائے ہیں لیکن عملی طور سے وہ یہ ذمہ داری قبول کرنے پر آمادہ نہیں کہ امریکہ کے ساتھ تعلق اگر ’مزدور اور آجر‘ کی بنیاد پر استوار تھا اور پاکستان میں ہلاکت خیزی اور تباہ کاری کا اصل سبب امریکی جنگ میں ساتھ دینے کا غلط فیصلہ تھا تو ان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی دورہ واشنگٹن کے دوران ’کولیشن سپورٹ فنڈ‘ میں سے کی جانے والی ادائیگیاں روکنے کے امریکی فیصلہ کو معاہدہ کی خلاف ورزی کس خوشی میں قرار دے رہے تھے۔ کیا عمران خان کی حکومت بھی ماضی کے غلط فیصلوں کو تسلیم کرتے ہوئے امریکہ سے ان خدمات کی قیمت وصول کرنا چاہتی ہے جسے اب وزیر اعظم کرائے کی خدمات قرار دے کر مسترد کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

عمران خان کو یہ بات بھی سمجھنے اور سمجھانے کی ضرورت ہے کہ تالی کبھی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی۔ امریکہ نے اگر معاوضہ ادا کرکے پاکستان سے فوجی خدمات حاصل کی تھیں تو اس کی اصل ذمہ داری تو اس وقت کے حکمران پرویز مشرف پر عائد ہوتی ہے، جس نے یہ خدمات بجا لانے کی ہامی بھری تھی۔ یہ حیران کن حقیقت ہے کہ پرویز مشرف کا ساتھ دینے والے متعدد لوگ اب تحریک انصاف کی صفوں میں نیا پاکستان بنانے کی جد و جہد میں شریک ہو چکے ہیں۔ پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کا مقدمہ متعدد وجوہ کی بنا پر تعطل کا شکار ہے۔ عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف کی حکومت اس مقدمہ میں نئے الزامات کا اضافہ کرتے ہوئے پرویز مشرف کو متحدہ عرب امارات سے واپس لاکر عبرت کا نشان بنانا چاہیے۔ اب ان پر یہ الزام بھی عائد کیا جائے کہ انہوں نے بش انتظامیہ کا کہا مان کر غلط طور سے پاکستانی فوج کو ’کرائے کی فوج‘ بنا کر قومی مفاد سے غداری کی تھی۔

پاکستان نے اگر یہ فیصلہ کر ہی لیا ہے کہ آئندہ وہ کسی بھی ملک کے مفادات کی جنگ میں حصہ دار نہیں بنے گا تو تصویر کو مکمل کرنے کی ذمہ داری بھی منتخب وزیر اعظم پر ہی عائد ہوتی ہے۔ وہ قوم سے خطاب کرنے کے شوقین بھی ہیں۔ ایک خطاب میں یہ بھی فرما دیں کہ فوج کے ماضی قریب کے فیصلے غلط تھے۔ ان غلط فیصلوں کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ کرنے کے لئے پاکستان فوری طور سے دہشت گردی کے خلاف جنگ بند کر رہا ہے۔

ایسا دوٹوک اعلان ہی عمران خان کی سچائی پرمہر تصدیق ثبت کرسکتا ہے۔ اگر انہوں نے اس انٹرویو کے بعد کوئی عملی اقدام کیے بغیر آگے بڑھنے کی کوشش کی تو تاریخ انہیں کیسے اور کیوں کر معاف کرے گی۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali