موسیقی معجزہ ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ویسے واقعی یہ کمال کی بات ہے کہ دنیا کے اکثر مذاہب نے راگ اور موسیقی کو حرام یا ناپسندیدہ کام اور صنف قرار دیا ہے، مگر تمام مذاہب کا پیغام ہمیشہ سر، قرات، لے اور موسیقانہ انداز میں ہی پیش کیا جاتا ہے، تاکہ لوگوں کے دل اور روح میں گھر کر جائے۔ اس سے بڑھ کر خدائوں کو راضی کرنے کے لئے بھی راگ، موسیقی اور رقص کا سہارا لیا جاتا رہا ہے۔

وقت نے سمجھایا کہ دل پذیر اور دل آویز موسیقانہ مدھر آواز ماں، محبوب اور اولاد کی ہنسی اور ان کے پیار بھری باتوں کی ہے جبکہ دل کو پگھلا کر موم کرنے والی آواز بھی ماں، محبوب اور اولاد کے رونے کی آواز ہے۔

جنت میں جن بہترین چیزوں کے ہونے کی خوشخبری یا بشارت دی گئی ہے ان میں موسیقی اور راگ بھی شامل ہے۔

گذشتہ دنوں سندھ کے ممنامور کلاسیکی موسیقار اور گلوکار استاد مظہر حسین جب بہترین آلہ موسیقی “تمپورہ” کی تلاش میں حیدرآباد اور کراچی کی بازاروں سے ناامید ہو کہ واپس اپنے گھر پہنچے تو کسی نے ان کو “لاہور” کا رخ کرنے کا مشورہ دیا۔ دوسرے دن کے سورج نے جب اپنی پلکیں کھولیں تو استاد مظہر حسین کو انڈس ہائی وے پر پایا اور ان کی اگلی منزل تھی “لاہور” ۔

لاہور کی ہیرامنڈی میں بیسیوں دکانوں پر چکر لگانے کے بعد بالآخر ان کو اپنی پسند کا “تمپورہ” مل ہی گیا۔ شام کو وہ میرے مہمان بنے، اور موضوع تھا “موسیقی”۔

گوالیار گھرانے کے کلاسیکل موسیقی پر جو احسانات ہیں ان میں استاد، بیبو خان، استاد منظور علی خان، استاد نیاز حسین، استاد فدا حسین، استاد ذوالفقار علی اور یقیناً استاد مظہر حسین بھی شامل ہیں۔

استاد ذوالفقار علی خان اور مظہر حسین سندھ میں موسیقی کی سب سے بڑی درگاہ “گوالیار گھرانے” کے گدی نشین ہیں۔ عظیم خاندانی تاریخ کو چھوڑ کر موسیقی کی دنیا میں صرف ان دو بھائیوں کا ذکر کیا جائے تو بھی اک پوری کتاب لکھی جاسکتی ہے۔ استاد بیبا خان کے چشم و چراغ اور استاد نیاز حسین کے یہ فرزند ارجمند اس وقت سندھ میں اپنے پائے کے بہترین موسیقار اور گلوکار ہیں۔

ویسے تو موسیقی ان کی گھٹی، خون، خمیر، روح، اور تنتی سرشتے میں موجود ہے، پھر بھی جن کو استاد منظور علی خان، استاد نیاز حسین اور استاد فداحسین جیسے “استاد” گھر میں ملے ہوں ان کو اور کہیں جانے کی کیا ضرورت تھی۔ مگر علم اور جدت کی جستجو نے ان کو گھر اور شہر سے نکالا اور مسافر بنایا۔

استاد ذوالفقار علی خان نے خاص طور پر لاہور جا کر نیشنل کالیج آف آرٹس سے علم موسیقی یعنی “میوزکالوجی” مین گریجوئیشن کر کے سندھ کے پہلے ڈگری یافتہ موسیقار اور گلوکار بنے، علم کی پیاس ختم نہ ہوئی تو سندھ یونیورسٹی سے “ایوولیوشن آف وائی آف شاھ عبداللطیف بھٹائی اینڈ رول آف ماس میڈیا” پر پی ایچ ڈی کر ڈالی۔

استاد ذوالفقار علی خان کو شاھ عبداللطیف بھٹائی کی شاعرانہ صنف “وائی” پیش کرنے میں خاص ملکہ حاصل ہے، ان کے ساتھ “سنگت” کرنے کے لئے بھی جگر چاہیے۔

دونوں بھائیوں نے مل کر جو البم “Music Beyond the Boundaries” پیش کیا ہے، وہ موسیقی کے دلدادہ لوگوں کے لئے شاندار تحفہ ہے۔ اس میں خاص طور پر “صوفی خیال” کے نام سے شامل آئٹم کا تو کیا ہی کہنا۔ “صوفی خیال” میں سات زبانوں کے عظیم شعراء کے کلام کو نہایت خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ ان شعراء میں
شاہ عبداللطیف بھٹائی (سندھی)
بابا بلہے شاہ (پنجابی)
خواجہ غلام فرید (سرائیکی)
استاد فیاض (اردو)
مولانا رومی / شاہ شمس تبریز (فارسی)
بھگت کبیر (ہندی)
اور عربی کے اک شاعر کی شاعری پیش کی گئی ہے۔ کمال بات یہ کہ اک ہی موسیقی میں تمام شعراء کی اک ہی بات پیش کی گئی ہے، اور وہ ہے کہ “مجھ میں تو موجود” ۔ ۔ وحدت الوجود کا اک گلدستہ ۔ ۔ ۔ واہ کیا بات ہے۔

استاد ذوالفقار علی خان کا کہنا ہے کہ “موسیقی کو تو دنیا کے اکثر قدیمی مذاہب میں بذات خود عبادت کا درجہ حاصل رہا ہے، شاید فرائض کا بھی۔ موسیقی اک کومل احساس ہے جو صرف سماعتوں پر ہی نہیں دل، روح، اور مزاج پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔”

استاد کا ایمان ہے کہ “اسلام میں موسیقی کو صرف صوفیاء کرام ہی سمجھ سکے ہیں، وہ انسانی تاریخ میں موسیقی کا سب سے بہترین استعمال بھی صوفیوں نے کیا ہے۔ روم، ایران، تاجکستان، ازبکستان، ترکی، ہند، سندھ، افغان اور عرب ممالک تک موسیقی کا شاندار استعمال کیا جا رہا ہے۔” سندھ میں صوفی موسیقی کی بقا، ترقی اور ترویج کے لئے استاد ذوالفقار علی اور مظہر حسین کی محنتیں اک دن ضرور رنگ لائیں گیں۔

جبکہ استاد مظہر حسین انفرادی طور پر انتہائی فقیر منش اور دلبر شخصیت کے مالک ہیں، موسیقی کی دنیا میں آنے کا اجازت نامہ اپنے چچا استاد فدا حسین سے “دھاگا” بندھوا کر لیا اور پھر دنیا فتح کرتے رہے۔ جب بھارتی چینل زی ٹی وی نے اپنے پروگرام کے لئے سندھ میں 150 گلوکاروں کا آڈیشن کیا تو آپ دوسرے نمبر پر آئے اور آمریکا جاکر زی ٹی وی پر سونو نگھم اور انو کپور کے سامنے پرفارم کیا۔

اسی دوراں آمریکا میں شاھ عبداللطیف بھٹائی کا کچھ کلام انگریزی میں ترجمہ کر کے پیش کرتے رہے، اور 18 سال پہلے وہاں سے Vocal Music اور Music Technology میں ایسوسیئیٹ ڈگری حاصل کرلی۔

استاد مظہر حسین کا اس سے بڑا کام یہ ہے کہ انہوں نے “اسپیشل بچوں پر موسیقی کے اثرات” پر اک اسپیشل اسائنمنٹ مکمل کی۔ انہوں نے اسپیشل بچوں جن میں نابینا، گونگے، بہرے، جسمانی معذوروں اور خاص طور پر ذھنی معذور بچوں کے لئے موسیقی کا نصاب بھی ترتیب دیا۔

“میں اسپیشل بچوں پر موسیقی کے اثرات کے نتائج دیکھ حیران رہ گیا، خاص طور پر نابینا اور ذہنی پسماندہ بچوں کے مزاج اور کردار پر انتہائی مثبت اثرات پائے گئے۔ وہ ذھنی پسماندہ بچے جو ہر وقت مدد کرنے والے والدین اور رشتیداروں سے نہ صرف جھگڑا کرتے مگر ان کو کاٹتے اور مارتے رہتے تھے، وہ بچے نہ صرف موسیقی پر فدا ہو گئے پر خود بھی آلات موسیقی بجانے اور گانے میں دلچسپی لینے لگے، اب کے بار ان کے برتائو میں بھی کمال تبدیلی آنے لگی۔” استاد مظہر حسین اپنے تجربات سناتے کافی جذباتی ہوجاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ “ہم نے موسیقی کی ترویج کے لئے حیدرآباد میں “سر سوسائٹی” بنائی ہے جس کا تھیم ہے “سوشل اینڈ ایجوکیشنل ریفارمز ٹو پرسوئیسو سوسائٹی”۔ ہمارا ایمان ہے کہ بہتر موسیقی سے سماج میں شاندار تبدیلی لائی جا سکتی ہے اور ہم اس تبدیلی کے لئے عملی اقدامات کر رہے ہیں۔

“موسیقی اک معجزہ ہے” اور ہم نے یہ معجزہ بارہا دیکھا ہے۔” استاد مظہر حسین نے آخری بات کر دی۔

استاد ذوالفقار علی اور استاد مظہر حسین کو سرکاری سطح پر نہ کوئی خاص پذیرائی حاصل ہے نہ اس نیک کام میں کوئی مدد ہی حاصل ہے مگر ان کا ایمان کافی پختہ ہے۔

موسیقی کے یہ دو شہزادے گلوکار سندھ میں موسیقی کی جس سب سے بڑے موسیقار “استاد بیبا خان” کی گدی کے گدی نشیں ہیں اس کے لائق بھی ہیں اور اہل بھی۔

استاد مظہر حسین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں موسیقی کا مستقبل روشن ہے، یہ اس لئے بھی ہے کہ موسیقی اپنی جگہ خود بناتی ہے۔ پاکستان میں اگر ہم کو عدم برداشت اور شدت پسندی کو ختم کرنا ہے تو گولی سے زیادہ کارگر چیز موسیقی ہوگی اور یہ ہمارا تجربہ ہے۔

یہ بات قابل غور ہے کہ استاد ذوالفقار علی اور مظہر حسین سندھ میں موسیقی کی محافل میں کلاسیکل راگ گانے کے ساتھ ساتھ مساجد کے مشہور نعت خوان، امام بارگاہوں کے نوحہ خوان، مندروں اور گردواروں میں بھگت بن کر بابا گرو نانک کے بھجن گویے، کلیسائوں میں یسوع مسیح کی منقبت گانے والوں کے طور پر مقبول ہیں۔ یقیناً یہ سب سندھ میں ممکن ہے، کیونکہ موسیقی معجزہ ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں