خودکشی کا نوحہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلم گزشتہ چار سالوں سے کینیڈا میں مقیم ہے کراچی کی این ای ڈی یونیورسٹی سے انجینئرنگ مکمل کرنے کے بعد کینیڈا کے لئے اپلائے کیا اور وہاں چلا گیا۔ والدین کا یہ اکلوتا بیٹا ماں باپ کی آنکھوں کا تارا بھی ہے۔ والدین کی اہم ترین ذمہ داریوں میں بچوں کی اچھی جگہ شادی کروانا بھی شامل ہے۔ اسی غرض سے اسلم کی والدہ نے کراچی میں ایک رشتہ بیورو سے رابطہ کیا اور اپنے بیٹے کی پروفائل اور تصویر وہاں فراہم کردی۔ رشتے کا تو کوئی مسئلہ ویسے بھی نہ تھا پڑھا لکھا شریف النفس خاندان اور جائیداد بھی اتنی کے ہر ماہ زکوۃ کی مد میں لاکھوں روپے غریبوں میں باٹتے۔

رشتہ بیورو والی خاتون نے اسلم کی والدہ کو کال کر کے ایک لڑکی کے گھر جانے کو کہا ماں اور باپ فوراً چلے گئے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے کے باوجود خاندان کو سادہ اور شریف پا کر والدین نے لڑکی کو اسی وقت پسند کرلیا اور بیٹے کی جانب سے رضامندی کے لئے کچھ وقت مانگا۔ اسلم چونکہ والدین کا فرماں بردار بیٹا تھا اس نے کچھ پوچھا ہی نہیں یہاں تک کے لڑکی کی تصویر بھی نہ دیکھی، بس اتنا کہا امی جان آپ نے پسند کر لیا ہے اب کسی اور پسند کی ضرورت نہیں۔

اسلم مارچ 2018 میں کراچی پہنچا اکلوتا بیٹا ہونے کی وجہ سے شادی کی بھرپور انداز میں تیاری کی گئی۔ طے یہ ہوا تھا کہ شادی کے بعد ہنی مون کے لئے دونوں ورلڈ ٹور پر جائیں گے۔ لڑکی کے گھر والے بھی بہت خوش تھے۔ اللہ اللہ کر کے شادی کی تقریب ہوگئی لڑکی اپنے نئے گھر آگئی۔ اسلم نے رخصتی کے بعد گھر آکر دو رکعت شکرانے کی نماز بھی پڑھی اور اللہ کے حضور سجدہ شکر ادا کیا کہ اس نے شادی جیسے فریضے کو نبھا لیا تھا۔ اس کے بعد وہ کمرے میں داخل ہوا لڑکی کے پاس گیا اور سلام کیا۔ دلہن نے جواب سلام نہیں دیا جس پر دولہا نے یہ ہی گمان کیا کہ ابھی رخصت ہو کر آئی ہے شاید والدین کی یاد میں افسردہ ہوگی۔ کچھ دیر انتظار کے بعد اسلم پھر گویا ہوا آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے؟

دلہن نے اسلم کی طرف غصے سے دیکھا اور کہا دور ہوجاؤ اور میرے قریب مت آنا یہ سن کر اسلم کے اوسان خطا ہوگئے اس نے کہا، کیا ہوا آپ کو کسی کی کوئی بات بُری لگی ہے تو میں معافی مانگتا ہوں بتائیں کیا ہو گیا؟ لڑکی نے کہا دور ہوجاؤ اور خبردار اگر مجھے ہاتھ بھی لگایا! یہ دیکھ کر اسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اس نے اٹھ کر کمرے کا دروازہ کھولنا چاہا شاید وہ اپنے گھر والوں کو نئے نویلی دلہن کا یہ رویہ بتانا چاہتا تھا لیکن لڑکی نے کہا آپ مجھ پر رحم کریں اور یہیں بیٹھ جائیں۔

اسلم شدید قرب کے عالم میں ایک طرف جا کر بیٹھ گیا۔ اذان فجر ہوتے ہی دلہن نے کہا مجھے کچھ ضروری کام سے امی کے کہاں جانا ہے آپ مجھے چھوڑ دیں گے یا میں کریم اوبر سے چلی جاوں؟ اسلم نے کہا آپ خدا کے لئے کچھ بتائیں تو ہوا کیا ہے؟ جس پر لڑکی نے کہا مجھے ضروری کام ہے دن میں واپس آکر بتادوں گی اسلم اب بھی سمجھنے سے قاصر تھا کہ ماجرا کیا ہے۔

اس نے گاڑی نکالی اور لڑکی کو اس کی والدہ کہاں چھوڑ کر آگیا۔ اسلم کے گھر میں ابھی سب سو ہی رہے تھے کہ لڑکی کے والد کی اسلام کے والد کے پاس کالیں آنا شروع ہوئیں! کال اٹھانے پر وہ چیخنے لگے ننگی ننگی گالیوں کے ساتھ کہنے لگے : تو نے میری بیٹی کی شادی نامرد کے ساتھ کر دی، میں تجھے چھوڑوں گا نہیں!

اسلم کے والد نے کال کاٹی اور فوراً بیٹے کے کمرے میں گئے دروازہ کھولتے ہی دیکھا کے اسلم افسردہ حالت میں کرسی پر بیٹھا ہے۔
باپ نے کہا، بیٹا کیا ہوگیا؟

دلہن کے والد کی کال آئی تھی وہ یہ سب کہہ رہے تھے جس کے بعد اسلم نے کہا یا اللہ! یہ کیا عذاب ہے! اس نے اپنے والد سے موبائل لیا اور اب اس لڑکی کے موبائل پر کال کی جسے پھر اس لڑکی کے بھائی نے اٹھایا اور کہا تم لوگوں نے ہمارے ساتھ اچھا نہیں کیا! ہم جہیز کا سامان واپس لینے آرہے ہیں اور تم لوگوں کو چھوڑیں گے نہیں۔

کچھ دیر میں لڑکی کے والد بھائی اور دو ماموں آگئے جن کی زبان پر سوائے گالیوں کے اور کچھ نہ تھا۔

اسلم اور اس کے والد نے ہاتھ جوڑ کر روتے ہوئے کہا کہ اللہ اس کے نبیﷺ اور قرآن پاک کی قسم ایسا کچھ نہیں ہے آپ کی بیٹی غلط بول رہی ہے۔ جس پر لڑکی کے گھر والے مزید آگ بگولہ ہوگئے اور ان سب نے مل کر اسلم کو مارنا شروع کر دیا۔

اسلم کے والد نے بیچ بچاؤ کروانے کے بعد ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا کہ آج ولیمے کی تقریب ہے آپ لوگ خدارا ایسا نہ کریں ہماری عزت خاک میں مل جائے گی مگر انہوں نے ایک نہ سنی اور جہیز کا سامان لے کر چلے گئے۔

اس گھرانے پر تو جیسے قیامت ٹوٹ پڑی تھی! شادی کا گھرانہ قبرستان کا سا منظر پیش کر رہا تھا۔ اسلم مرہم پٹی کی غرض نے نکلا کے گھر سے کچھ دور کھڑی ہائی روف میں سے تین لڑکوں نے اس کے منہ پر کپڑا ڈالا اور نہ معلوم مقام پر لے گئے۔ وہاں پہنچنے پر زخمی اسلم پر مزید تشدد کے بعد ایک شکل سے بدمعاش لگنے والے جوان نے کچھ کاغذات نکالے اور کہا یہ طلاق کا کاغذ ہے اس پر ابھی کے ابھی دستخط کرو۔

اسلام نے کہا آخر تم ہو کون، جس پر اس لڑکے نے کہا کہ میں اس سے زیادہ پیار کرتا ہوں جسے تم نے اپنی شادی کے بندھن میں باندھ لیا تھا۔

اسلم چونکہ سارا ماجرا سمجھ چکا تھا اس نے فوراً دستخط کر دیے۔ گھر واپس آیا سارا ماجرا گھر والوں کو سنایا، جس کے بعد اگلے ہفتے کی فلائٹ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے کینیڈا واپس چلا گیا۔

دو سال ہوگئے اسلم کا اب کسی کو کچھ بھی نہیں پتہ کے وہ کہاں ہے! والدین بھی اس صدمے کے بعد خاموش ہوگئے ہیں اس خاموشی سے مراد ایک ایسی چپکی ہے جو ان کی روح کو خاموش کر چکی ہے۔

اسلم اور اس کے اہلخانہ کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ایک خاندان اور اس کے جذبات کی موت نہیں بلکہ اس پورے گھرانے کی خودکشی کی ہے۔ جس نے نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی خوشی اور ارمانوں کو ذلت کی آگ میں ڈال دیا۔

اس لڑکی نے تو ایک جھوٹ کی بنیاد پر اپنے محبوب سے شادی کر لی تاہم اس خاندان کے شیرازے کو جس طرح بکھیرا گیا، کیا کوئی کرے گا اس کا مداوا؟
یہ ایک اصلی واقعہ ہے!
تحریر کرنے کا مقصد صرف ان عوامل کو جاننا ہے جس نے معاشرے کا یہ حال کر دیا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سید عون عباس جعفری کی دیگر تحریریں
سید عون عباس جعفری کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں