کچھ باکسنگ ڈے ٹیسٹ میچز کے بارے میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

برطانیہ اور تاجِ برطانیہ کے زیرتسلط رہ چکے کچھ ممالک، جیسے آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ وغیرہ، میں کرسمس کے اگلے دن (26 دسمبر) کو تاریخی طور پر باکسنگ ڈے سے موسوم کیا جاتا ہے۔ ان ممالک میں باکسنگ ڈے پر کرکٹ ٹیسٹ میچز کا انعقاد ایک روایت کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ اس سال بھی کل سے تین ٹیسٹ میچز شروع ہو رہے ہیں۔

آسٹریلیا میں 1980 سے باقاعدہ طور پر باکسنگ ڈے ٹیسٹ میچ منعقد کرنے کی روایت شروع ہوئی۔ یہ میچ میلبورن کرکٹ گراؤنڈ (MCG) میں کھیلا جاتا ہے۔ اس سال بھارتی ٹیم آسٹریلیا کا دورہ کر رہی ہے اور کل سے باکسنگ ڈے ٹیسٹ میچ میں حصہ لے گی۔ یہ موجودہ سیریز کا تیسرا میچ ہو گا۔ ابھی تک یہ سیریز 1-1 سے برابر ہے۔ آسٹریلوی ٹیم کی بیٹنگ لائن اپ اپنے چوٹی کے کھلاڑیوں اسمتھ اور وارنر پر ایک سالہ پابندی کی وجہ سے بہت کمزور ہے۔ دوسری طرف بھارت کو نئے غیر معمولی بیٹسمین پرتھوی شا اور اسپنر ایشون کے ان فٹ ہونے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے۔ پچلے دو میچوں میں اوپنرز وجے اور راہول کی ناکامی کے بعد بھارت نے اس میچ میں نئی اوپننگ جوڑی اگروال اور وِہاری کو آزمانے کا فیصلہ کیا ہے۔ میلبورن کی وکٹ زیادہ تر بیٹنگ کے لیے سازگار ہوتی ہے۔ گذشتہ سال انگلینڈ کے خلاف کھیلا جانے والا باکسنگ ڈے ٹیسٹ بورنگ ڈرا کی صورت میں اختتام پذیر ہوا تھا۔ اس سال میچ کو فیصلہ کن بنانے کے لیے پچ پر گھاس چھوڑے جانے کا امکان ہے۔ فاسٹ باؤلر مچل اسٹارک کو 200 ٹیسٹ وکٹوں کے ہدف تک پہنچنے کے لیے محض چار وکٹوں کی ضرورت ہے۔ بھارتی ٹیم MCG پر اپنی تیسری ٹیسٹ جیت کی تلاش میں اس میچ کا آغاز کرے گی۔

دوسری طرف سری لنکا کی ٹیم نیوزی لینڈ سے اس کی سرزمین پر ہی مدمقابل ہے۔ ولنگٹن میں کھیلا جانے والا پہلا ٹیسٹ میچ ڈرا رہا تھا۔ میتھیوز اور مینڈس کی دوسری اننگز میں زبردست سینچریوں کی بدولت سری لنکن ٹیم یہ میچ ڈرا کرنے میں کامیاب ہوئی۔ اب دوسرا میچ باکسنگ ڈے پر کرائسٹ چرچ میں شروع ہو رہا ہے جہاں ایک گرین اور سیمنگ پچ سری لنکا کی منتظر ہے۔ بارش اور سرد موسم سری لنکا کی مشکلات میں اضافہ کریں گے۔ امکان ہے کہ دونوں ٹیمیں کسی تبدیلی کے بغیر ہی میدان میں اتریں گی۔ اس میچ میں باؤلرز کے چھائے رہنے کا امکان ہے۔

تیسرا باکسنگ ڈے ٹیسٹ سنچورین میں کھیلا جائے گا جہاں پر کل سے پاکستان اور جنوبی افریقہ کے مابین ٹیسٹ سیریز کا آغاز ہو رہا ہے۔ دونوں ٹیمیں اپنے اہم کھلاڑیوں کے ان فٹ ہونے کی وجہ سے مسائل کا شکار ہیں۔ ایک طرف محمد عباس اور شاداب خان کی غیر موجودگی پاکستانی باؤلنگ اٹیک کو کمزور بنائے گی تو دوسری طرف لنگی اینگیڈی اور ورنن فلینڈر کے زخمی ہونے کی وجہ سے جنوبی افریقی پیس بیٹری کو مشکلات کا سامنا ہے۔ پاکستانی بیٹنگ لائن اپ بلاشبہ ٹیسٹ میچ کھیلنے والی ٹاپ کی ٹیموں میں سے کمزور ترین سمجھی جاتی ہے۔ جنوبی افریقہ کی بیٹنگ لائن اپ اچھی ہے لیکن اسے بھی ڈی ویلیئرز کی ریٹائرمنٹ اور ہاشم آملا کے آؤٹ آف فارم ہونے کی وجہ سے بہتر کارکردگی دکھانے میں دشواری ہو گی۔

سنچورین کی پچ روایتی طور پر باؤنسی اور فاسٹ باؤلنگ کے لیے سازگار ہوتی ہے لیکن حالیہ ڈومیسٹک میچوں کے دوران یہاں اسپنرز کافی کامیاب رہے ہیں جو یاسر شاہ کے لیے یقیناً اچھی خبر ہے۔ 35 سالہ ڈیل اسٹین کو شان پولاک کا 421 وکٹوں کا قومی ریکارڈ توڑنے کے لیے صرف ایک وکٹ درکار ہے۔ پاکستان کے لیے ایک اچھی خبر یہ ہے کہ اوپنر فخر زمان فٹ ہو گئے ہیں اور اس میچ میں حصہ لیں گے۔ عباس کی غیر موجودگی میں محمد عامر، حسن علی اور شاہین آفریدی پر مشتمل پیس بیٹری جنوبی افریقی بیٹسمینوں کی صلاحیتوں کا امتحان لے گی۔ لیکن بہرحال بہتر ICC ٹیسٹ رینکنگ (جنوبی افریقہ کا تیسرا اور پاکستان کا ساتواں نمبر ہے) اور ہوم کنڈیشنز میں کھیلنے کی وجہ سے جنوبی افریقہ بہرحال اس میچ کے لیے فیورٹ ہی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
شکیل مرزا کی دیگر تحریریں