جے آئی ٹی رپورٹ کی بنیاد پر سزا کے سیاسی مقاصد کیا ہیں؟
فیک اکاؤنٹ اور منی لانڈرنگ کیس میں حکومت کے نمائندوں کی گفتگو اور لب و لہجہ بھی مداخلت کرنے اور اداروں پر اثرانداز ہونے کی خواہش کا ہی آئینہ دار ہے۔ آج کابینہ نے اسی معاملہ میں سپریم کورٹ کی قائم کردہ جے آئی ٹی رپورٹ کو بنیاد بنا کر کسی عدالتی حکم یا فیصلہ سے پہلے ہی ملک کی اہم پارٹی کے معاون چئیرمین، ملک کے سابق صدر اور قومی اسمبلی کے رکن آصف زرداری، سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ اور دیگر لوگوں کا نام جس عجلت میں ای سی ایل پر ڈالنے کا اعلان کیا ہے، اس سے بھی حکومت کی بدنیتی اور سیاسی مقاصد عیاں ہیں۔
عمران خان خود دو روز قبل ٹویٹ پیغامات میں نواز شریف کے خلاف احتساب عدالت کے فیصلہ اور جے آئی ٹی رپورٹ کو کیس اسٹڈی قرار دیتے ہوئے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے قائدین کی بدعنوانیوں کو ملکی اقتصادی مسائل اور عوام کی غربت کی وجہ قرار دے چکے ہیں۔ اب جے آئی ٹی رپورٹ کی بنیاد پر 172 افراد کے نام ای سی ایل پر شامل کرنے کے اعلان اور فواد چوہدری کے اس پیغام کے بعد کہ ’انشاللہ‘ آصف زرداری یہ سال ختم ہونے تک گرفتار ہوجائیں گے، سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ حکومت کو انصاف اور احتساب کی جلدی نہیں ہے بلکہ اس بات کی عجلت ہے کہ جلد از جلد اس کے مخالفین سیاسی منظر نامہ سے غائب ہوجائیں۔
جے آئی ٹی کی بنیاد پر پونے دو سو افراد کی شخصی آزادی پر حملہ حکومت کے ان ارادوں کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ وہ عدالتی اور قانون کے تقاضوں کو پورا کرنے اور ماننے کو وقت کا ضیاع سمجھتی ہے۔ اب سرکاری افسروں پر مبنی جے آئی ٹی کی رپورٹیں ہی ’سزا‘ دینے کے لئے کافی سمجھی جائیں گی۔ اس طریقہ پر عمل جاری رہا تو وہ دن دور نہیں، جب کسی تھانے میں درج ہونے والی ایف آئی آر کی بنیاد پر کسی کے خلاف الزام کو جرم قرار دیتے ہوئے حکومت اسے قید کرنے اور قصور وار سمجھنے کا اعلان کر دے۔
ملک کے نظام کو مستحکم اور شفاف کرنے کے وعدے کرنے والا وزیر اعظم جب اپنے اختیارات کو اس بے دردی سے سیاسی انتقام یا درپردہ سیاسی ایجنڈے کے لئے استعمال کرے گا تو اس سے نہ احتساب ہو سکے گا اور نہ ہی انصاف میسر آئے گا بلکہ نا انصافی اور جبر کی ایک نئی روایت جنم لے گی۔ عمران خان کو خبر ہو کہ اس قسم کی افسوسناک روایت کا اگلا شکار وہ خود ہوں گے۔ جس ایجنڈا کی تکمیل کے لئے وہ اقتدار میں ہیں، اس کی تکمیل نہ ہوئی تو بھی عمران خان کی ضرورت نہیں رہے گی اور اگر وہ ایجنڈا پایہ تکمیل تک پہنچ گیا پھر تو عمران خان غیر ضروری ہو ہی جائیں گے۔
اس ایجنڈے کی طرف ایک اشارہ پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے آج گڑھی خدا بخش میں بے نظیر بھٹو کی گیارہویں برسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت پیپلز پارٹی پر اٹھارویں ترمیم کے خاتمہ کے لئے دباؤ ڈال رہی ہے۔ اس طرح ون یونٹ کی طرز پر ایسا نظام استوار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جہاں صوبوں کے اختیارات محدود کردیے جائیں گے اور آمریت یا ایک پارٹی کی حکمرانی ہو گی۔ بلاول بھٹو زرداری ایک اہم پارٹی کے چئیرمین ہیں جو سندھ میں بر سر اقتدار ہے۔ وہ خود بھی قومی اسمبلی کے رکن ہیں۔ پیپلز پارٹی کی طرف سے اٹھارویں ترمیم کے خلاف سازشوں کا ذکر پہلے بھی کیا جاتا رہا ہے۔ اس تناظر میں بلاول کا یہ بیان انتہائی تشویش کا سبب ہونا چاہیے۔
نواز شریف کو قید کر کے اور ان کی پارٹی کے دوسرے قائدین کو ہراساں کرکے حکومت، پنجاب میں بے چینی میں اضافہ کا سبب بنی ہے۔ اب اگر قومی اسمبلی میں سیاسی قوتوں کو بلیک میل یا دباؤ کے ذریعے ایسی آئینی ترامیم پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو فوج کی خواہش کے مطابق اختیارات کو وفاق میں مرتکز کر کے کمزور صوبوں کی راہ ہموار کرے گی تو یہ حکمت عملی پاکستان کو مزید کمزور کرنے اور تمام صوبوں میں بے چینی پیدا کرنے کا سبب بنے گی۔
اداروں کو مضبوط اور خود مختار کرنے کے عمل کا آغاز پارلیمنٹ کو مضبوط کرنے سے ہونا چاہیے تھا۔ تاکہ ایک ایسی باحوصلہ پارلیمنٹ سامنے آتی جو اداروں کی مداخلت کو روکنے کا اقدام کرنے کے قابل ہوتی۔ فوج یا سپریم کورٹ کی طرف سے حکومت کے معاملات میں مداخلت کو ’ایک پیج‘ پر ہونا یا ہم آہنگی قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ اس سے ملک کے اہم ترین ادارے پارلیمنٹ اور حکومت کی بے بسی اور کمزوری ظاہر ہوتی ہے۔
طاقت کا اصل منبع پارلیمنٹ کی بجائے دوسرے اداروں کو تسلیم کرکے احتساب، ترقی یا نیا پاکستان بنانے کا دعویٰ کرنے والی پارٹی اگر خود فریبی کا شکار نہیں تو وہ کسی سازش کا حصہ ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کی تقریر اسی طرف اشارہ کر رہی ہے۔


