مسلم لیگ کے 112 سال – نامرادیوں سے عبارت
مسلم لیگ کی قیادت نے نہایت عجلت میں بغیر کسی گہرے سوچ بچار اورمنصوبہ بندی کے آخر الذکرراستہ اختیار کیا۔ ذہنی افراتفری کا عالم یہ تھا کہ 23 مارچ 1940 کو لاہور کے منٹو پارک میں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں جب وہ قرار داد پیش کی گئی جسے قرار داد پاکستان کا نام دیا جاتا ہے تو اس میں پاکستان کا نام تک رقم نہ تھا۔
اس قرار داد میں محض یہ کہا گیا تھا کہ ان علاقوں میں جہاں مسلمانوں کی عددی اکثریت ہے جیسے کہ ہندوستان کے شمال مغربی اور شمال مشرقی علاقے ان میں آزاد مملکتیں قایم کی جائیں جنہیں خود مختاری اور حاکمیت حاصل ہو۔ اس قرار داد میں ان علاقوں کی قطعی کوئی نشاندہی نہیں کی گئی تھی اور نہ ایک مملکت کی تجویز پیش کی گئی تھی۔
اس قرارداد کا اصل مسودہ پنجاب کے یوننیسٹ وزیر اعلی سر سکند حیات خان نے تیار کیا تھا۔ اس زمانہ میں یونینسٹ پارٹی مسلم لیگ میں ضم ہوگئی تھی اور سر سکندر پنجاب مسلم لیگ کے صدر تھے۔ سر سکندر کے مسودے میں بر صغیر میں ایک مرکزی حکومت کی بنیاد پر عملی طور پر کنفڈریشن کی تجویز پیش کی گئی تھی لیکن جب اس مسودہ پر مسلم لیگ کی سبجیکٹ کمیٹی میں غور کیا گیا تو جناح صاحب نے مسود ہ سے واحد مرکزی حکومت کا ذکر حذف کر دیا تھا۔
لاہور کے اس اجلاس میں قاید اعظم نے پہلی بار دو قومی نظریہ پیش کیا تھا اور یہ اعلان کیا تھا کہ مسلم لیگ کے نزدیک ہندوستان میں مسئلہ فرقہ وارانہ عصبیت کا نہیں ہے بلکہ دو قوموں کامسئلہ ہے۔
لیکن تعجب کی بات ہے کہ قرارداد لاہور میں اس امر کا قطعی کوئی ذکر نہیں تھا کہ مسلم لیگ بر صغیر کے مسلم اکثریت والے علاقوں میں جو مملکتیں قایم کرنا چاہتی ہے ان میں کس طرز کا نظام ہوگا، صدارتی یا پارلیمانی، ان کے آئین کی نوعیت کیا ہوگی۔ کیا یہ اسلامی شریعت پر مبنی ہوں گے یا سیکولر طرز کے ہوں گے۔ ان کی خارجہ پالیسی کے بنیادی نظریات کیا ہوں گے اوراس کی سمت کیا ہوگی؟ معاشی پالیسی کی بنیاد کیا ہوگی؟ اسلامی، سوشلسٹ یا آزاد تجارت پر مبنی سرمایہ دارانہ۔ پھر قیام پاکستان تک سات سال کے عرصہ میں بھی ان مسائل پر غور نہیں کیا گیا، نہ ان پر کوئی بحث ہوئی اور نہ ان کی سمت کی جانب کوئی اشارہ کیا گیا۔
اسے بہت سے سیاسی تجزیہ کار اور تاریخ داں، آل انڈیا مسلم لیگ کی ایک ایسی عظیم غلطی قرار دیتے ہیں جو پاکستان کے سیاسی مستقبل کے لئے نہایت تباہ کن ثابت ہوئی۔ غالبا یہ دنیا کی واحد منفرد مملکت تھی جس نے اپنے قیام کے بعد اپنے بنیادی اصولوں پر غور کرنا شروع کیا۔ پانچ سال تک دستور ساز اسمبلی ان اصولوں پر بحث کرتی رہی اور نتیجہ یہ کہ ملک کا آئین نو سال تک نہ تو مرتب ہو سکا اور نہ منظور ہو سکا اور جب منظور ہوا تو اس کو ابھی دو سال بھی نہیں گزرے تھے کہ فوج نے اسے منسوخ کر کے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور حکمرانی کی تقدیر اپنے نام لکھ لی۔ یہ کیسی ستم ظریفی تھی کہ ایک ملک جو جمہوریت کی بنیاد پر انتخابات کے نتیجہ میں معرض وجود میں آیا دہاں دس سال بعد ہی جمہوریت قتل کردی گئی۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان میں اقتدار پر فوج کے تسلط کے دروازے بھی دراصل مسلم لیگ کی قیات نے بصیرت کے فقدان اور باہمی کشمکش کی بنا پر کھولے۔ مسلم لیگ نے اس زعم میں کہ پاکستان اس نے حاصل کیا ہے نہایت غیر جمہوری مزاج بنا لیا اور یہ کہہ کر کسی مخالفت کو برداشت نہیں کیا کہ مسلم لیگ کی مخالفت پاکستان کی مخالفت کے مترادف ہے۔ اس کے مقابلہ پر جب حسین شہید سہروردی کی قیادت میں عوامی مسلم لیگ قایم ہوئی اور میاں افتخار الدین کی سربراہی میں آزاد پاکستان پارٹی منظم ہوئی تو ان پر پاکستان کا دشمن ہونے کا الزام لگایا گیا۔ مسلم لیگ کے اس غیر جمہوری استبدادی رویہ اور بد عہدی کا نتیجہ یہ ہوا کہ مشرقی پاکستان میں 1955 کے انتخابات میں مسلم لیگ کو شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ آغاز تھا مسلم لیگ کے بکھرنے اور مسمار ہونے کے عمل کا، جو صف صدی گزرنے کے بعد اب بھی جاری ہے۔
1958 میں اقتدار پر فوج کے قبضہ کے بعد جب ملک پر اپنے نظام کی حکمرانی کی تسلط کے لئے سیاسی جماعت کی ضرورت محسوس کی گئی تو قرعہ مسلم لیگ کے نام نکلا اور اس مقصد کے لیے مسلم لیگ میں اپنا دھڑا قایم کیا گیا۔ ایوب خان کے زمانے میں نام اس کا کنونشن مسلم لیگ دیا گیا۔ مخالف دھڑا کاونسل مسلم لیگ کے نام سے جانا گیا۔
1970 کے انتخابات میں مغربی پاکستان میں پیپلز پارٹی اور مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ نے ان دونوں مسلم لیگوں کا ایسا تیا پانچا کیا کہ یہ چھوٹی چھوٹی لیگوں میں بکھر کر رہ گئیں۔ جنرل ضیا کے دور میں فوجی حکومت نے ان ہی دھڑوں میں سے ایک، جونیجو دھڑے کو سیاسی بیساکھی کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی لیکن اس میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
1988 میں جنرل ضیا کی ہلاکت کے بعد جب ملک میں عام انتخابات ہوئے تو فوج اور قایم مقام صدر غلام اسحاق خان نے بے نظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی کے سیلاب کے خلاف بند باندھنے کے لئے فوج کی مدد سے نواز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ کے احیاء کے جتن کیے۔ پنجاب میں اس سلسلہ میں خاطر خواہ کامیابی تو ہوئی، لیکن فوج کی پروردہ اس مسلم لیگ کو جب 1997 کے انتخابات میں فوج کی اعانت سے کامیابی حاصل ہوئی تو اقتدار کے نشہ میں نواز شریف کی مسلم لیگ نے فوج ہی کی قیادت سے معرکہ آرائی کا سلسلہ شروع کردیا نتیجہ جس کا 1999 میں اقتدار پر دوبارہ فوج کے قبضہ کی صورت میں سامنے آیا جس کے بعد پھر فوج نے سیاسی حمایت کے لئے اسی مسلم لیگ کا سہارا لیا اور اسے دو ٹکروں میں تقسیم کردیا۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں





