پاکستان میں جمہوریت پر پہلا شب خون

تئیس اکتوبر سن انیس سو چون کا وہ پر آشوب دن مجھے ابھی تک یاد ہے جب اُس زمانہ کے نئے وزیر اعظم محمد علی بوگرا امریکا کا دورہ اچانک ادھورا چھوڑ کر لندن کے راستہ کراچی واپس آئے تو ہوائی اڈہ سے انہیں پولیس کے سخت پہرے میں عملی طور پر ایک قیدی کی طرح سیدھے گورنر جنرل ہاؤس لےجایا گیا، جہاں گورنر جنرل ملک غلام محمد، فوج کے کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان اور اُس زمانہ کے مشرقی

Read more

راجہ صاحب محمود آباد، قاید اعظم اور سر ظفراللہ خان

راجہ صاحب محمود آباد 1931 سے آل انڈیا مسلم لیگ کے پرچم تلے پاکستان کی تحریک کے ممتاز رہنما تھے۔ یہی نہیں ان کے خاندان کے قاید اعظم محمد علی جناح سے بے حد قریبی تعلقات تھے۔ قاید اعظم کی شادی پر ان کی دلہن رتی بائی کو راجہ صاحب کے والد مہاراجہ سر محمد علی محمد خان نے قیمتی انگوٹھی کا تحفہ دیا تھا۔ راجہ صاحب محمود آباد نے ،قیام پاکستان سے پہلے 1945 میں ترک وطن کر کے

Read more

یورپ سے آزادی یا اس صدی کا بڑا جوا

برطانیہ نے آخر کار یورپ سے ”آزادی“ حاصل کر لی ہے۔ اکتیس جنوری کو رات گیارہ بجے یورپی یونین سے برطانیہ کی رکنیت 47 سال بعد ختم ہوگئی، بورس جانسن نے اس رات کو ایک نئے دور کی صبح قرار دیا۔ اس موقع پر پارلیمنٹ کو روشنیوں سے جگمگایا گیا۔ ٹرافلگر اسکویر میں اجتماع ہوا اور یورپ سے آزادی کی خوشی کے اظہار کے کے لئے پچاس پینس کانیا سکہ جاری کیا گیا۔ غرض دھوم دھڑکے کے ساتھ آزادی کا

Read more

پاکستان ٹوٹنے کی پیش گوئی مشرقی پاکستان کے سیاستدان نے کب کی؟

یہ ان دنوں کی بات ہے جب اکتوبر 1954میں گورنر جنرل غلام محمد نے دستور ساز اسمبلی توڑ دی تھی اور اس اقدام کو دستور ساز اسمبلی کے اسپیکر مولوی تمیز الدین خان نے سند ھ چیف کورٹ میں للکارا تھا۔ اس دوران جب چیف جسٹس کانسٹنٹائین کی عدالت میں مولوی تمیزالدین خان کا مقدمہ چل رہا تھا ۔ ہم چند صحافی، میں، ڈان کے رپورٹر مشیر حسن، اے پی پی کے مظفر احمد منصوری اور جنگ کے اطہر علی

Read more

محنت کشوں کا مجاہد: حسن ناصر شہید

سرو کی طرح دراز قد، گورا چٹا چہرہ اس پر مناسب مونچھیں نمایاں جو دایمی مسکراہٹ کی وجہ سے پورے چہرہ پر غالب آجاتی تھیں۔ ملاقات اور گفتگو سے تہذیب اور نفاست عیاں تھی۔ ویسے بھی وہ آل انڈیا مسلم لیگ کے بانیوں میں سے ایک ممتاز شخصیت اور حیدر آباد دکن کے نواب محسن الملک کے نواسے تھے۔ حسن ناصر سے پہلی ملاقات 1954 میں روزنامہ امروز کراچی کے دفتر میں ہوئی جہاں سے میں نے صحافت کا سفر

Read more

میں نے سنہ 65 کی پاک بھارت جنگ تہاڑ جیل، دہلی سے دیکھی

گو 54 سال گزر گئے لیکن وہ دن اب بھی ایسے یاد ہیں جیسے کل کی بات ہو کہ کس تیزی سے ہندوستان اور پاکستان، یکے بعد دیگرے واقعات اور ان سے جڑے اثرات کے نتیجہ میں، سنگین مضمرات اور نتائج سے بے خبر، زمین سخت آسمان دور کے مصداق بھر پور جنگ کی مہلک دلدل میں دھنستے جارہے تھے۔ میں اس زمانہ میں سرحد کےاس پار دلی میں جنگ گروپ کے اخبارات کے نامہ نگار کی حیثیت سے تعینات تھا۔

Read more

کچھ ذکر فیض صاحب کا

میں اپنے آپ کو بے حد خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ میں نے اپنی صحافتی زندگی کا سفر روز نامہ امروز کراچی سے شروع کیا جس کے چیف ایڈیٹر فیض احمد فیض تھے۔ جنوری 1953 میں جب میں نے امروز میں کام شروع کیا تو اس زمانہ میں فیض صاحب راولپنڈی سازش کیس میں حیدر آباد سندھ کی جیل میں قید تھے۔ انہیں 1951 کے اوائل میں پاکستان کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ سجاد ظہیر، محمد حسین عطا، جنرل اکبر خان،

Read more

پاکستانی جمہوریت پر پہلا وار

تئیس اکتوبر سن انیس سو چون کا وہ پر آشوب دن مجھے ابھی تک یاد ہے جب اُس زمانہ کے نئے وزیر اعظم محمد علی بوگرا امریکا کا دورہ اچانک ادھورا چھوڑ کر لندن کے راستہ کراچی واپس آئے تو ہوائی اڈہ سے انہیں پولیس کے سخت پہرے میں عملی طور پر ایک قیدی کی طرح سیدھے گورنر جنرل ہاؤس لےجایا گیا، جہاں گورنر جنرل ملک غلام محمد، فوج کے کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان اور اُس زمانہ کے مشرقی

Read more

آغا ناصر: میرا پرانا یار

  آغا ناصر کو زندگی مہلت دیتی تو آج نو فروری کو 82 برس کے ہو جاتے۔ آغا ناصر سے میری یاری 67 سال پہلے اس زمانہ میں شروع ہوئی جب ہم دونوں سندہ مسلم کالج کراچی میں طالب علم تھے۔ آغا کی تخلیقی اور انتظامی صلاحیتوں کو ان کے ساتھیوں نے اسی زمانہ میں پہچان لیا تھا۔ اس زمانہ میں سندھ مسلم کالج کے ایک تکونی سرے پر بنے سیمنٹ کے تالاب کو ہم خیال طلباء کی سنگت کے

Read more

کیا ریفرینڈم حقیقی جمہوری عمل ہے؟

  برطانیہ آج بریگزٹ کے جس عذاب میں مبتلا ہے اس کی بنیادی وجہ ریفرینڈم ہے جو جون 2016 میں ہوا تھا اور جس میں 51.9 فیصد ووٹروں نے یورپ سے علحدگی کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔ اب ڈھائی سال کے بعد بھی عوام کے اس فیصلہ کو عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکا ہے، نتیجہ یہ کہ ایک طرف حکمران ٹوری پارٹی شدید پھوٹ سے دوچار ہے اور حزب مخالف لیبر پارٹی میں بھی اندرونی بغاوت بھڑک رہی

Read more

گاندھی جی کی ناکامیاں ہنوز ہندوستان پر طاری ہیں

آج 30 جنوری ہے. ۔گاندھی جی کو قتل ہوئے 71 سال ہو گئے۔ اس قتل سے پہلے دلی میں مسلم کُش فسادات اور قتل و غارت گری کی ایسی آگ بھڑکی ہوئی تھی کہ ختم ہونے کا نام نہ لیتی تھی۔ جنوری کے اوایل میں گاندھی جی ، سہروردی صاحب کے ساتھ کلکتہ اور نواکھالی کے فساد زدہ علاقوں کے دورے کے بعد دلی پہنچے تو سیدھے مسلم قوم پرست تعلیمی ادارہ جامعہ ملیہ اسلامیہ آئے۔ اس زمانے میں میں

Read more

کیا نہرو نے کشمیر کے مشترکہ الحاق کی تجویز کی حمایت کی تھی؟

برطانیہ کی خفیہ دستاویزات سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ 1948 میں جب کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ میں زیر بحث تھا، کشمیر کے ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ مشترکہ الحاق کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ یہ تجویز کس نے پیش کی تھی اور کس کے ایما پر پیش کی گئی تھی۔ اس کا انکشاف برطانیہ کے دولت مشترکہ کے تعلقات کے وزیر گورڈن واکر کے اس خفیہ تار سے ہوتا ہے جو انہوں نے 20 فروری 1948 کو

Read more

کس بیدردی سے اخبارات اردو کو مسخ کر رہے ہیں؟

اردو ادب اور صحافت کا اوائل ہی سے ایک دوسرے کے ساتھ بڑا گہرا رشتہ رہا ہے اور بلاشبہ اردو زبان کی ترقی اور فروغ میں اردو اخبارات کا بڑا اہم کردار رہا ہے۔ اسی زمانہ میں جب کہ اردو زبان کم سنی کے عہد سے نکل کر بلوغت کی شعوری منزلوں کو چھو رہی تھی اردو صحافت کا آغاز ہوا تھا۔ یہ انیسویں صدی کا اوائلی دور تھا۔ کلکتہ سے مارچ سن اٹھارہ سو بائیس میں شائع ہونے والا

Read more

بر صغیر کی تباہی کا ایک اہم سبب: موروثی حکمرانی

1991 میں بے نظیر بھٹو اقتدار سے محروم تھیں۔ تب انہوں نے برصغیر کے حزب مخالف کے رہنماوں کی اسلام آباد میں ایک کانفرنس بلائی تھی جس میں ہندوستان کے وی پی سنگھ، بنگلہ دیش کی حسینہ واجد اور سری لنکا کی صدر چندریکا کمارتنگا کے حریف بھائی انورا بندارنایکے شریک ہوئے تھے۔ بے نظیر بھٹو نے اس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کہا تھا کہ جنوبی ایشیاء کے موروثی حکمرانوں نے عظیم خدمات انجام دی ہیں اور اس

Read more

مسلم لیگ کے 112 سال – نامرادیوں سے عبارت

آل انڈیا مسلم لیگ پر اس کے نکتہ چینوں کی یہ نکتہ چینی بجا نظر آتی ہے کہ بنیادی طور پر یہ جماعت بر صغیر کے نوابین، تعلقہ داروں، جاگیر داروں، وڈیروں۔ خوانین، قبائیلی سرداروں اور ابھرتے ہوئے مسلم صنعت کاروں اور تاجروں کی جماعت تھی جو ٹاٹا، برلا اور ڈالمیا ایسے بڑے بڑے صنعت کاروں کا مقابلہ کرنے میں بے بس نظر آتے تھے، اور حقیقت یہ ہے کہ مسلم لیگ کی قیادت نے قیام پاکستان کے لئے ان ہی عناصر کی مدد اور اعانت حاصل کی کیونکہ انہیں صرف ایک علاحدہ مملکت ہی میں اپنے مفادات کے تحفظ اور فروغ کے امکانات نظر آتے تھے۔

Read more

گوادر کی حریف بندرگاہ چا بہار: ہندوستان کی تحویل میں

پیر 24 دسمبر کو ایران کی بندرگاہ چا بہار کا انتظام ہندوستان نے سنبھال لیا ہے۔ جنوبی ایران میں یہ بندرگاہ، صرف 80 کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع پاکستان کی بندرگاہ گوادر کی حریف بندرگاہ بن کر ابھری ہے۔ اگرچہ کہا یہ جاتا پے کہ چابہار بندرگاہ کا مقصد جنگ زدہ افغانستان کی معیشت کو سہارا دینا اور ہندوستان کے لئے وسط ایشیا تک تجارتی راہ داری فراہم کرنا ہے لیکن درحقیقت اس کا مقصد وسط ایشیا سے پاکستان کی

Read more

قائد اعظم کس نوع کی مملکت قائم کرنا چاہتے تھے؟

یہ محض ایک مفروضہ ہے جو قیام پاکستان کے کافی عرصہ کے بعد سامنے آیا تھا کہ تحریک پاکستان کا یہ نعرہ تھا کہ ”پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ“۔ جو لوگ تحریک پاکستان کے دور سے مانوس ہیں انہوں نے کبھی یہ نعرہ نہیں سنا اورنہ کہیں پڑھا تھا۔ ویسے بھی آج جو اس نعرہ کے داعی ہیں وہ اس زمانے میں قاید اعظم اور تحریک پاکستان کے مخالف تھے۔ بیشتر مذہبی پیشوا یہ دلیل پیش کرتے

Read more

خاکستر بابری مسجد: ہندوستان کے ضمیر پر بھاری پتھر

26  سال پہلے 6 دسمبر کو ایودھیا میں بھارتیا جنتا پارٹی اور اس کے پریوار کی تنظیموں کے جنونیوں نے بابر کے دور کی چار سو ترانوے سال قدیم بابری مسجد کو مسمار کر کے ہندوستان کے سیکولر آئین کے سینہ میں جو گھاؤ لگایا تھا، وہ گذشتہ چوتھائی صدی میں بڑھ کر ناسور بن گیا ہے۔ کس قدر تاسف اور شرم کی بات ہے کہ بھارتیا جنتا پارٹی کے اعلی رہنماؤں اور ان کے ہم نوارہنماؤں نے آٹھ سال

Read more

کرتار پور راہ داری یا خلفشار کی راہ داری

  ہندوستان کی سرحد پر ڈیرہ بابا نانک صاحب سے پاکستان میں گرودوارہ صاحب کرتار پور تک تین میل لمبی راہ داری کے منصوبہ نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں بہتری اور دونوں ملکوں کے درمیان با مقصد مذاکرات کی تجدید کی توقعات کو تقویت پہنچانے کے بجائے خلفشار کی راہداری کھول دی ہے۔ گذشتہ اگست میں وزیر اعظم عمران خان کی حلف برداری کی تقریب میں مدعو عمران خان کے دیرینہ دوست اور ہندوستان کے پنجاب کے

Read more

سکونِ قلب کے متلاشی ۔ مترجم  و مفسر قران عبداللہ یوسف علی

ایک اکیاسی سالہ، لاغر، مخبوط الحواس، مفلس شخص، جو کئی سال سے وسطی لندن کی سڑکوں پر بے مقصد گھومتا پھرتا نظر آتا تھا، 1953 کے دسمبر میں جب کہ کڑاکے کی سردی پڑ رہی تھی، ویسٹ منسٹر میں ایک عمارت کے دروازے کی سیڑھیوں پر، کس مپرسی کے عالم میں پڑا ہوا تھا۔ پولس نے اسے فوراً ویسٹ منسٹر ہسپتال داخل کردیا۔ دوسرے روز ہسپتال سے فارغ کرنے کے بعد اسے چیلسی میں بوڑھے لوگوں کی پناہ گاہ بھیج

Read more

بابری مسجد کے بعد دو تاریخی مساجد ہندوتوا کے نشانہ پر

26 سال قبل فیض آباد میں، جس کا نام بدل کر اب ایودھیا رکھ دیا گیا ہے، نہایت جنونی انداز سے بھارتیا جنتا پارٹی، وشو اہند و پریشد اور بجرنگ دل کے کار سیوکوں نے چار سو نوے سال پرانی بابری مسجد مسمار کی تھی۔ جواز یہ پیش کیا گیا تھا کہ یہ مسجد، رام چندر جی کی جائے پیدایش پر قایم رام مندر کو مسمار کرکے تعمیر کی گئی تھی۔ بابری مسجد کی مسماری کا مقصد ہندووتا کے جذبات

Read more

عجلت کے فیصلے جنہوں نے ہمیں راندہ زمانہ کیا۔

امریکا کے صدر ٹرمپ نے پچھلے دنوں فاکس نیوز پر ایک انٹرویو میں پاکستان کی امداد بند کرنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے شکایت کی کہ امریکا پاکستان کو ہر سال ایک ارب تیس کrوڑ ڈالر کی امداد دیتا رہا ہے لیکن پاکستان نے اس کے عوض کچھ نہیں دیا۔ اس کے جواب میں وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ 9/11 کے حملہ میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں تھا لیکن پھر بھی پاکستان نے دھشت گردی کے

Read more

یورپ سے علیحدگی: برطانوی سامراجی ذہنیت کی اختراع

برطانیہ کی یورپ سے علیحدگی کی بے تابی کے عذاب کی وجہ سے برطانوی وزیر اعظم ٹریسا مے اس وقت چومکھی بحران میں گرفتار ہیں۔ 2016 کے ریفرینڈم کو جس میں برطانوی عوام کی اکثریت نے یورپ سے علیحدگی کے حق میں فیصلہ دیا تھا ڈھائی سال ہو گئے ہیں. حکومت یورپ سے علیحدگی کے بارے میں سمجھوتہ طے کرنے میں ناکام ہے اور اب جب کہ علیحدگی کی تاریخ 29 مارچ 2019 سر پر آن پہنچی ہے ٹریسا مے

Read more

کلدیپ نئیرکو جیسا میں نے جانا

ہندوستان کے نامور صحافی اور دانشور کلدیپ نئیر 95 سال کی عمر میں انتقال کر گئے ۔ ان سے میری پہلی ملاقات دسمبر 1959 میں دلی میں حکومت ہند کے پریس انفارمیشن بیورو میں ہوئی تھی جب وہ لال بہادر شاستری کے انفارمیشن افسر تھے ۔ انہیں جب معلوم ہوا کہ میں پاکستانی صحافی ہوں تو مینار کی طرح قدآور کلدیپ نئیر نے مجھے گلے لگا لیا۔ کہنے لگے تم سے مل کر سیالکوٹ یاد آ گیا جہاں میں پیدا

Read more

راجہ مہندرا پرتاپ سنگھ: مارکسسٹ انقلابی جس نے ہندوستان کی آزادی کا بیڑہ اٹھایا

یہ 1959 کے اختتام کی بات ہے، جب میں دلی میں روزنامہ جنگ کے نامہ نگار کی حیثیت سے تعینات تھا۔ ایک ملاقات میں بنے بھائی، سجاد ظہیر نے پوچھا کہ تم پرانے مارکسسٹ انقلابی، راجہ مہندرا پرتاپ سنگھ سے نہیں ملے، جنہوں نے دو سال قبل عام انتخابات میں جن سنگھ کے رہنما اٹل بہاری واجپائی کو شکست دے کر زبردست کارنامہ انجام دیا ہے۔ میں دوسرے ہی دن وقت لے کر تین مورتی کے قریب ممبر پارلیمنٹ کے

Read more

جوہری سمجھوتہ سے امریکا کی علیحدگی کے بعد ایران کیا کر سکتا ہے؟

 ایران کے جوہری سمجھوتہ سے قطع تعلق کے بارے میں صدر ٹرمپ کے اعلان نے جہاں ایک طرف اسرائیل اور ایران مخالف عرب ممالک کو طمانیت سے سر شار کیا ہے وہاں ایران میں اعتدال پسند صدر حسن روحانی کے شدت پسند مخالفین کو بھی شادمانی بخشی ہے ۔ سخت گیر اراکین نے مجلس (ایرانی پارلیمنٹ) میں امریکا کے پرچم کے ساتھ جوہری سمجھوتہ کو بھی نذر آتش کر کے خوشی کا اظہار کیا ہے۔ اُدھر اسرائیل کے وزیر اعظم

Read more

کیا مارکسزم کا سورج غروب ہوگیا؟

View post 5 مئی کو کارل مارکس کا دو سو سالہ یوم پیدایش منایا گیا۔ ڈاس کیپیٹال تصنیف کرنے والے اور بین الاقوامی محنت کشوں کی تنظیم، فرسٹ انٹرنیشنل کے روحِ رواں نے پچھلی دو صدیوں میں دنیا کے عوام کو جو شعور بخشا ہے اس کی روشنی اب بھی تاریکی سے معرکہ آراء ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر مارکس نے دنیا کو بدلنے کا عزم نہ کیا ہوتا تو آج، ان کا نام لندن کے ہائی گیٹ

Read more

مغرب کی ہوس ناکیوں کا شکار ۔۔لیبیا

پانچ سال پہلے 15 فروری کو عرب بہار کی آڑ میں مغربی طاقتوں نے لیبیا کے سربراہ معمر قذافی کا تختہ الٹنے اور لیبیا کے تیل اور سونے کی دولت پر قبضہ کرنے کے لئے باغیوںکی شورش برپا کی تھی اور باغیوں کی مدد کے لئے ایسی تباہ کن بمباری کی تھی کہ لیبیا کے شہر کے شہر کھنڈر بن کر رہ گئے۔ کئی ہزار افراد ہلاک ہوگئے ، پانچ لاکھ سے زیادہ لیبیائی جو پورے افریقہ میں سب سے

Read more

اردو ادب اور صحافت

میں نہ تو ادیب ہوں اور نہ پوری طرح سے ادب شناسی کا دعوی کر سکتا ہوں۔ پھر اتنا بڑا صحافی بھی نہیں کہ اردو ادب اور صحافت کے بارے میں معتبر طور پرکوئی بات کر سکوں۔ ہاں میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں صحافت کی دنیا کے اندر کا بھیدی ضرور ہوں۔ آج کے دور میں خلط ملط کا جو رجحان حاوی ہے ، اس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کے نزدیک اردو ادب اور صحافت میں

Read more