آغا ناصر: میرا پرانا یار

  آغا ناصر کو زندگی مہلت دیتی تو آج نو فروری کو 82 برس کے ہو جاتے۔ آغا ناصر سے میری یاری 67 سال پہلے اس زمانہ میں شروع ہوئی جب ہم دونوں سندہ مسلم کالج کراچی میں طالب علم تھے۔ آغا کی تخلیقی اور انتظامی صلاحیتوں کو ان کے ساتھیوں نے اسی زمانہ میں…

Read more

کیا ریفرینڈم حقیقی جمہوری عمل ہے؟

  برطانیہ آج بریگزٹ کے جس عذاب میں مبتلا ہے اس کی بنیادی وجہ ریفرینڈم ہے جو جون 2016 میں ہوا تھا اور جس میں 51.9 فیصد ووٹروں نے یورپ سے علحدگی کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔ اب ڈھائی سال کے بعد بھی عوام کے اس فیصلہ کو عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکا…

Read more

گاندھی جی کی ناکامیاں ہنوز ہندوستان پر طاری ہیں

آج 30 جنوری ہے. ۔گاندھی جی کو قتل ہوئے 71 سال ہو گئے۔ اس قتل سے پہلے دلی میں مسلم کُش فسادات اور قتل و غارت گری کی ایسی آگ بھڑکی ہوئی تھی کہ ختم ہونے کا نام نہ لیتی تھی۔ جنوری کے اوایل میں گاندھی جی ، سہروردی صاحب کے ساتھ کلکتہ اور نواکھالی…

Read more

کیا نہرو نے کشمیر کے مشترکہ الحاق کی تجویز کی حمایت کی تھی؟

برطانیہ کی خفیہ دستاویزات سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ 1948 میں جب کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ میں زیر بحث تھا، کشمیر کے ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ مشترکہ الحاق کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ یہ تجویز کس نے پیش کی تھی اور کس کے ایما پر پیش کی گئی تھی۔ اس کا…

Read more

کس بیدردی سے اخبارات اردو کو مسخ کر رہے ہیں؟

اردو ادب اور صحافت کا اوائل ہی سے ایک دوسرے کے ساتھ بڑا گہرا رشتہ رہا ہے اور بلاشبہ اردو زبان کی ترقی اور فروغ میں اردو اخبارات کا بڑا اہم کردار رہا ہے۔ اسی زمانہ میں جب کہ اردو زبان کم سنی کے عہد سے نکل کر بلوغت کی شعوری منزلوں کو چھو رہی…

Read more

بر صغیر کی تباہی کا ایک اہم سبب: موروثی حکمرانی

1991 میں بے نظیر بھٹو اقتدار سے محروم تھیں۔ تب انہوں نے برصغیر کے حزب مخالف کے رہنماوں کی اسلام آباد میں ایک کانفرنس بلائی تھی جس میں ہندوستان کے وی پی سنگھ، بنگلہ دیش کی حسینہ واجد اور سری لنکا کی صدر چندریکا کمارتنگا کے حریف بھائی انورا بندارنایکے شریک ہوئے تھے۔ بے نظیر…

Read more

مسلم لیگ کے 112 سال – نامرادیوں سے عبارت

آل انڈیا مسلم لیگ پر اس کے نکتہ چینوں کی یہ نکتہ چینی بجا نظر آتی ہے کہ بنیادی طور پر یہ جماعت بر صغیر کے نوابین، تعلقہ داروں، جاگیر داروں، وڈیروں۔ خوانین، قبائیلی سرداروں اور ابھرتے ہوئے مسلم صنعت کاروں اور تاجروں کی جماعت تھی جو ٹاٹا، برلا اور ڈالمیا ایسے بڑے بڑے صنعت کاروں کا مقابلہ کرنے میں بے بس نظر آتے تھے، اور حقیقت یہ ہے کہ مسلم لیگ کی قیادت نے قیام پاکستان کے لئے ان ہی عناصر کی مدد اور اعانت حاصل کی کیونکہ انہیں صرف ایک علاحدہ مملکت ہی میں اپنے مفادات کے تحفظ اور فروغ کے امکانات نظر آتے تھے۔

Read more

گوادر کی حریف بندرگاہ چا بہار: ہندوستان کی تحویل میں

پیر 24 دسمبر کو ایران کی بندرگاہ چا بہار کا انتظام ہندوستان نے سنبھال لیا ہے۔ جنوبی ایران میں یہ بندرگاہ، صرف 80 کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع پاکستان کی بندرگاہ گوادر کی حریف بندرگاہ بن کر ابھری ہے۔ اگرچہ کہا یہ جاتا پے کہ چابہار بندرگاہ کا مقصد جنگ زدہ افغانستان کی معیشت کو…

Read more

قائد اعظم کس نوع کی مملکت قائم کرنا چاہتے تھے؟

یہ محض ایک مفروضہ ہے جو قیام پاکستان کے کافی عرصہ کے بعد سامنے آیا تھا کہ تحریک پاکستان کا یہ نعرہ تھا کہ ”پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ“۔ جو لوگ تحریک پاکستان کے دور سے مانوس ہیں انہوں نے کبھی یہ نعرہ نہیں سنا اورنہ کہیں پڑھا تھا۔ ویسے بھی آج…

Read more

پاکستان ٹوٹنے کی پیش گوئی مشرقی پاکستان کے سیاستدان نے کب کی؟

یہ ان دنوں کی بات ہے جب اکتوبر 1954میں گورنر جنرل غلام محمد نے دستور ساز اسمبلی توڑ دی تھی اور اس اقدام کو دستور ساز اسمبلی کے اسپیکر مولوی تمیز الدین خان نے سند ھ چیف کورٹ میں للکارا تھا۔ اس دوران جب چیف جسٹس کانسٹنٹائین کی عدالت میں مولوی تمیزالدین خان کا مقدمہ…

Read more