ابو الحسن علی ندوی رح اور انکی تین فاضلانہ کتابیں

کسی بھی علمی و عبقری شخصیت کے یوم وفات پر ان کا سب سے بہترین انداز میں تذکرہ یہ ہوگا کہ اس کے ان علمی مآثر سے نسل نو کو متعارف کرایا جاۓ جو اسکی علمی و تحقیقی زندگی کا نچوڑ اور خلاصہ ہیں.
آج مفکر اسلام مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ کی تاریخ وفات ( 31 دسمبر 1999ء) ھے. انہوں نے جو گرانقدر علمی تصنیفات ورثے میں چھوڑے، ” قدر زر زر گر بداند” کے پیش نظر ان پر ایک جامع تبصرہ بھی ایک ایسی ہی شخصیت کا پیش خدمت ہے، جو اپنے دور کی نابغہ روزگار شخصیت ہیں.یعنی شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مد ظلہم کا تبصرہ ۔
چنانچہ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مولانا ندوی رحمہ اللہ کی تصنیفات کے بارے میں اپنے فاضلانہ تبصرے میں فرماتے ہیں کہ :
” آپ کی اردو اور عربی تصانیف اتنی ایمان افروز، فکر انگیز اور معلومات آفریں ہیں کہ وہ دل کو ایمان و یقین سے سرشار کرنے کے علاوہ دین کا صحیح مزاج و مذاق انسان پر واضح کرتی ہیں، اور اسے افراط و تفریط سے ہٹاکر اعتدال کے اس جادہ مستقیم پر لے آتی ہیں جو ہمارے دین کا طرہ امتیاز ھے۔ان کی تحریروں میں علم و فکر کی فراوانی کے ساتھ بلا کا سوز و گداز ھے جو انسان کو متأثر کئے بغیر نہیں رہتا۔ خاص طور پر مغربی افکار کی یورش نے ہمارے دور میں جو فکری گمراہیاں پیدا کی ہیں اور عالم اسلام کے مختلف حصوں میں جو فتنے جگاۓ ہیں، ان پر حضرت مولانا رح کی نظر بڑی وسیع و عمیق تھی اور انہوں نے اپنی تقریر و تحریر کے ﺫریعے ان فتنوں کی تشخیص اور ان کے علاج کی نشاندہی اتنی سلامت فکر کے ساتھ اتنے دلنشین انداز میں فرمائی ھے کہ عہد حاضر کے مؤلفین میں شاید ہی کوئی دوسرا ان کی ہمسری کرسکے.”
مزید فرماتے ہیں کہ:
” یوں تو حضرت مولانا رح کی تمام تصانیف ہمارے ادب کا بہترین سرمایہ ہیں لیکن "تاریخ دعوت و عزیمت” اور "دنیا پر مسلمانوں کے عروج و زوال کا اثر” اور "عالم اسلام میں اسلامیت اور مغربیت کی کشمکش” یہ تین کتابیں ایسی ہیں کہ راقم الحروف نے ان سے خاص طور پر بہت استفادہ کیا اور ان کے ﺫریعے بہت سی زندگیوں میں فکری اور عملی انقلاب رونما ہوا ".
عصر حاضر کے دیگر بعض مصنفین کے برعکس علامہ ندوی رحمہ اللہ کی ایک امتیازی خصوصیت کا ﺫکر کرتے ہوۓ استاد محترم شیخ الاسلام فرماتے ہیں:
"اس دور کا کوئی بھی حقیقت پسند انسان اس بات سے انکار نہیں کرسکتا کہ وہ امت مسلمہ کی عصری ضرویات کا مکمل احساس و ادراک رکھتے تھے۔ لیکن ان ضروریات کی تکمیل انہوں نے ہمیشہ جمہور امت کے مسلمہ عقائد و نظریات کے دائرے میں رہتے ہوۓ کی اور کسی قسم کی مرعوبیت اور معذرت خواہی کی پرچھائیں بھی ان کی تحریروں پر نہیں پڑ سکی.”
(نقوش رفتگاں/ 445.444.447)
بنا بریں کوئی بھی طالب علم مولانا ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ کی کسی بھی کتاب کا بلا ججھک مطالعہ کرسکتا ھے۔

