کیا پاکستان گھیرے میں آ رہا ہے؟


اس صورت حال سے نمٹنے کے لئے ایک تو یہ ضروری ہے کہ حکومت ہر قسم کی غیر متوقع صورت حال کے لئے خود کو تیار کرے۔ دوسرے عوام کو تمام حقائق کے بارے میں اعتماد میں لیا جائے۔ عمران خان نے وزیر اعظم بننے کے بعد قوم سے خطاب کرتے ہوئے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ کبھی جھوٹ نہیں بولیں گے اور عوام کو تمام حالات سے آگاہ کرتے رہیں گے۔ انہیں خبر ہونی چاہیے کہ اس وعدہ کا اطلاق صرف مخالف سیاسی لیڈروں کی پگڑیاں اچھالنے یا وزیر اعظم ہاؤس میں بھینسوں اور گاڑیوں کی تعداد بتانے تک محدود نہیں ہو سکتا۔ بلکہ موجودہ معاشی بحران میں حکومت جو معاہدے کررہی ہے اور جن شرائط پر مالی سہولتیں حاصل کی جارہی ہیں، انہیں کھول کر عوام کے سامنے پیش کرنا بھی اس وعدہ کی روشنی میں اہم ہے۔

عمران خان سمیت ملک کے سب قائدین نے عوام سے ’حال دل‘ کہنے کے معاملات کو قوم سے خطاب تک محدود رکھنے کی کوشش کی ہے۔ حالانکہ پارلیمانی نظام میں اس قسم کے خطابات کو صرف رسمی معاملات تک محدود رہنا چاہیے اور حقائق و واقعات سے آگاہ کرنے کے لئے پارلیمنٹ کو ہونا چاہیے۔ عمران خان پارلیمنٹ کو طاقت کا مرکز بنانے کا وعدہ بھی فراموش کرچکے ہیں۔ انہوں نے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے اب تک کسی اہم معاملہ پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی ہے۔

 پارلیمانی اکثریت کی بنیاد پر اقتدار سنبھالنے والے وزیر اعظم کے لئے اس سے زیادہ اہم بات کیا ہوسکتی ہے کہ وہ دو دوست ملکوں سے کثیر مالیاتی پیکیج کی تفصیلات بتانے کے لئے پارلیمنٹ سے رجوع کرے اور اس سے معاونت اور رہنمائی کی درخواست کرے۔ اگر منتخب وزیر اعظم بھی ملک کی معیشت کے حوالے سے معاملات طے کرتے ہوئے پارلیمنٹ کے ذریعے عوام کو اعتماد میں لینے پر آمادہ نہیں ہے تو اس کی نیت کے علاوہ اس کی حکمت عملی کے بارے میں بھی سوال سامنے آئیں گے۔ واضح رہے یہی صورت حال اہل اقتدار کی بدعنوانی کے دروازے کھولتی ہے۔

دنیا کا کوئی مبصر یہ ماننے پر تیار نہیں کہ سعودی عرب یا متحدہ عرب امارات نے کسی سیاسی و سفارتی مفاد کے بغیر پاکستان کے لئے اپنے خزا انوں کے منہ کھول دیے ہیں۔ اس مالی تعاون کو خاص طور سے مشرق وسطیٰ میں ایران اور قطر کے خلاف سعودی عرب اور اس کے حلیف متحدہ عرب امارات کی حکمت عملی کی روشنی میں دیکھا جارہا ہے۔ پاکستان کو اپنی جغرافیائی موجودگی کے علاوہ اپنی فوجی حیثیت کی وجہ سے اسلامی ملکوں میں اہمیت دی جاتی ہے۔

پاکستان نے سعودی عرب کے تحفظ کے لئے ہر قسم کی سہولت دینے کا کئی بار بہت واضح اعلان بھی کیا ہے۔ گزشتہ چند برس کے دوران پاکستان اور خلیجی ممالک کے تعلقات میں پڑنے والی دراڑ کی بنیادی وجہ بھی یمن جنگ میں شرکت کے لئے پاکستانی پارلیمنٹ کا انکار تھا۔ اب عمران خان یمن کے سوال پر ایران اور سعودی عرب کے درمیان مصالحت کروانے کی بات کرتے ہیں۔ لیکن جب کوئی ملک ایک فریق کا ممنون احسان ہو تو دوسرا فریق اسے کیوں کر غیر جانبدار سمجھتے ہوئے اس پر اعتبار کرے گا۔

گزشتہ برس اکتوبر میں استنبول کے سعودی قونصل خانے میں حکومت مخالف صحافی جمال خشوگی کے قتل کے بعد سعودی عرب کو جس سفارتی تنہائی اور سیاسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس کی وجہ سے بھی سعودی عرب کے لئے پاکستان اہم ہو چکا ہے۔ سعودی عرب کے شاہی ہاؤس آف سعود کو اس قتل کے بعد عالمی سطح پر مشکلات کے علاوہ داخلی طور سے بھی چیلنجز کا سامنا ہے۔ کیا پاکستان کو معاشی امداد کے نام پر سعود خاندان کے تحفظ کے لئے آمادہ کیا گیا ہے یا اس کی توقع کی جارہی ہے؟

پاکستان نے سعودی عرب کے دفاع میں اس کا ساتھ دینے کا ذکر کرتے ہوئے ہمیشہ اپنے عوام کو حرمین شریفین کی حفاظت کا نعرہ بیچا ہے۔ لیکن موجودہ حالات میں یہ سوال پیدا ہو گا کہ کیا کسی ملک کے مطلق العنان حکمران خاندان کی حفاظت کو اس ملک یا وہاں پر موجود مقدس مقامات کے دفاع کا نام دیا جاسکتا ہے۔ کیا پاکستانی حکومت اپنے عوام کو اس قسم کا دھوکہ دینے کی تیاری کررہی ہے؟

ملک کی گھٹن زدہ فضا میں بعض ’جاں باز مبصر‘ عمران خان کے دورہ ترکی کے بعد یہ دور کی کوڑی لانے کی کوشش کرچکے ہیں کہ پاکستان کا دیانتدار وزیر اعظم بین الاسلامی اتحاد کے لئے اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ وہ ترکی اور سعودی عرب کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے ہوئے سب اسلامی ملکوں کو اقتصادی اور عسکری لحاظ سے ایک لڑی میں پرونے کے عظیم مشن کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس قسم کے فرسودہ نعرے ماضی میں بھی متعدد لیڈروں کو گمراہ اور خوار کرچکے ہیں۔

عمران خان کو ان سے ہوشیار رہتے ہوئے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان جب تک اپنے معاشی مسائل سے نجات اور سیکورٹی معاملات کو حل کرتے ہوئے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے میں ناکام رہے گا، اس وقت تک ریجن، اسلامی ممالک یا دنیا میں وہ کوئی قابل ذکر سفارتی کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہو گا۔ خود پر انحصار کرنے والا طاقت ور ملک ہی ثالث بھی بن سکتا ہے، اور اعتبار کے قابل بھی ہوتا ہے۔ اس کے عوام کے علاوہ دوسرے ملک بھی تب ہی اس پر بھروسہ کریں گے۔

آج امارات کے شاہی مہمان کی آمد کے موقع پر اسلام آباد کو جس طرح استقبالیہ بینر ز سے مزین کیا گیا تھا اور عمران خان نے جس طرح آؤٹ آف پروٹوکول شہزادہ محمد بن زید النیہان کو عزت و وقار دیا ہے، وہ مالی مشکلات میں گھرے مجبور وزیر اعظم کا خوشامدانہ چہرہ سامنے لاتا ہے۔ اس طریقے میں نئے اور باقار پاکستان کی کوئی جھلک دیکھنے کو نہیں ملی۔

عمران خان کو چاہیے کہ وہ عوام کو اپنی اور ملک کی مجبوریوں کے بارے میں اعتماد میں لیں۔ عوام کو اپنی قوت کی بجائے مجبوری سمجھنے والا کوئی لیڈر سرخرو نہیں ہو سکتا۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali