کیا پاکستان گھیرے میں آ رہا ہے؟


 

ابوظہبی کے ولی عہد محمد بن زید النیہان چند گھنٹے کے دورے پر اسلام آباد آکر واپس چلے گئے ہیں تاہم اس دورے کو پاکستان میں بے حد اہمیت دی جارہی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے اگست میں عہدہ سنبھالنے کے بعد بدعنوان سابقہ لیڈروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا اعلان کرنے کے علاوہ صرف ایک کام کیا ہے۔ وہ سعودی عرب کے علاوہ چین، متحدہ عرب امارات، ملائیشیا اور ترکی کے دورے پر گئے ہیں۔ ان دوروں کا مقصد پاکستان کی دگرگوں معیشت کے لئے معاشی وسائل حاصل کرنا تھا۔ کسی حد تک یہ دورے بارآور ثابت ہوئے ہیں۔

سرکاری ذرائع کے مطابق سعودی عرب کے بعد اب متحدہ عرب امارات نے بھی پاکستان کو عبوری معاشی امدادی پیکیج دینے کی تصدیق کی ہے۔ ان میں سے لگ بھگ تین ارب ڈالر ادائیگیوں کے توازن کو بہتر بنانے کے لئے اسٹیٹ بینک میں جمع کروائے جائیں گے جبکہ باقی تین سوا تین ارب ڈالر کے عوض آئیندہ تین برس میں مؤخر ادائیگی پر خام تیل فراہم ہو گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مالی بوجھ میں دبے پاکستان کے لئے یہ ایک بڑی اور فوری سہولت ہے۔ اس طرح پاکستان خام تیل کی درآمد پر صرف ہونے والا ساٹھ فیصد زر مبادلہ بچا لے گا۔ پاکستان کو عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ معاشی پیکیج لینے میں جن مشکلات کا سامنا ہے، اس کی روشنی میں سعودی عرب کے بعد متحدہ عرب امارات کی طرف سے یہ فراخدلانہ امداد اسلام آباد کو فوری ریلیف فراہم کرنے کا سبب بنے گی۔

ان دو دوست ملکوں کی طرف سے ملنے والا یہ سرمایہ اور ادھار تیل کی سہولت خواہ کسی قدر فراخدلانہ ہو لیکن ایک تو اس سے ملک کو درپیش مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ حکومت کو صرف وقتی طور پر سانس لینے کا موقع مل سکے گا۔ دوسرے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے فکسڈ ڈپازٹ کی صورت میں جو وسائل فراہمکیے ہیں وہ ایک سال کی محدود مدت کے لئے ہوں گے۔ ایک سال بعد یہ رقم واپس کرنے ہوں گے جبکہ ادھار تیل کی سہولت بھی تین برس میں ختم ہو جائے گی۔ اگر یہ دونوں ملک ماضی کی طرح قرض کی یہ رقم معاف کرنے اور اسے گرانٹ میں تبدیل کرنے پر آمادہ نہ ہوئے تو پاکستان کو موجودہ وقت سے زیادہ بڑے معاشی بحران کا سامنا ہوگا۔

اس صورت حال سے نمٹنے کے لئے ضروری ہوگا کہ حکومت معیشت کی بحالی کے لئے ایسے ٹھوس اقدامات کرنے کے قابل ہو جس کے نتیجے میں ملک میں سرمایہ آسکے، کاروبار کو وسعت نصیب ہو اور برآمدات میں اضافہ ہو۔ تحریک انصاف کی حکومت کو اقتدار سنبھالتے ہی ایسی مشکل معاشی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا ہے کہ وہ طویل المدت معاشی منصوبوں پر توجہ دینے میں کامیاب نہیں ہوئی ہے۔ ابھی تک دوست ملکوں سے فوری قرض لینے اور تارکین وطن پاکستانیوں کی ترسیلات میں اضافہ کی خواہش کا اظہار کرنے کے علاوہ حکومت نے کوئی ایسے اقدامات نہیں کیے جو ملکی معیشت میں دور رس تبدیلی لانے کی خبر دیتے ہوں۔

 بلکہ معاشی بحالی اور ترقی کے امکانات پیدا کرنے کے لئے جس اعتماد اور استحکام کی ضرورت ہوتی ہے پاکستانی معیشت ابھی تک اس سے قاصر دکھائی دیتی ہے۔ اسی لئے نہ تو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے ترسیلات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور نہ ہی سرمایہ کاری کے نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ ملکی معیشت ابھی تک برآمدات میں اضافہ کرنے کے لئے بھی متحرک نہیں ہو سکی۔

اس حوالے سے یہ سمجھنے کی بھی اشد ضرورت ہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات یا چین کی طرف سے ملنے والے قرضے مفت نہیں ہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اپنے سرمایہ پر تین فیصد کے لگ بھگ سود وصول کریں گے جبکہ چین کی طرف سے دو ارب ڈالر کے مجوزہ امدادی پیکیج کے بارے میں کوئی واضح صورت حال موجود نہیں ہے۔ سرکاری طور پر اس امداد کے حجم کا بھی اعلان نہیں کیا گیا کیوں کہ عمران خان کے بقول دوست ممالک ان معاملات کو طشت از بام کرنا نہیں چاہتے۔ یہ دلیل بھی ناقابل فہم ہے کہ جب قرض لینے والے اور مدد مانگنے والے کو ’شرم‘ محسوس نہیں ہوتی تو مدد دینے والے معاہدوں کی تفصیلات کیوں خفیہ رکھنے پر مصر ہیں۔ اس لئے یہ قیاس ہے کہ یہ قرضے مالی تقاضوں کے علاوہ سیاسی طور سے بھی پاکستان کو بھاری پڑیں گے۔

پاکستان خواہ اس کا اعلان نہ کرے اور وزیر خارجہ یہ اصرار کرتے رہیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کسی شرط کے بغیر پاکستان کی اقتصادی امداد پر راضی ہوگئے ہیں لیکن اس میں شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ بین الملکی تعلقات میں کوئی بھی ملک اپنے مفادات کا خیالکیے بغیر کسی دوسرے ملک کو مالی یا سفارتی سہولت فراہم نہیں کرتا۔ اس کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ گزشتہ برس ایف اے ٹی ایف۔ فناشل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس میں سعودی عرب اور چین کی طرف سے پاکستان کا نام گرے لسٹ میں شامل نہ کرنے کی مخالفت نہیں کی تھی۔

 صرف ترکی نے پاکستان کی حمایت کرتے ہوئے امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کی اس تجویز کو مسترد کیا تھا۔ اس موقع پر اگر چین اور سعودی عرب بھی ترکی کی طرح پاکستان کا ساتھ دینے کا حوصلہ کرتے تو پاکستان کو اس معاشی مشکل اور سفارتی ہزیمت سے بچایا جاسکتا تھا۔ لیکن ان دونوں ملکوں نے پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات کے باوجود اس موقع پر امریکہ کے دباؤ کو قبول کرتے ہوئے، پاکستان کو نظر انداز کرنا اپنے مفاد میں ضروری سمجھا تھا۔

تاہم اب یہ دونوں ملک پاکستان کو معاشی گرداب سے نکالنے میں دوستی کا حق ادا کرنے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں تو پاکستانی قیادت کو بھی جان لینا چاہیے کہ اس میں بھی انہیں اپنا کوئی مفادات ضرور نظر آتا ہو گا۔ وزیر اعظم عمران خان اور ان کی حکومت اس حوالے سے بعض پہلوؤں سے آشنا ہے اور بعض مطالبے ماننے پر اتفاق کرچکی ہے۔ لیکن سعودی عرب اور اس کے قرب ترین حلیف متحدہ عرب امارات کی طرف سے مستقبل میں غیر متوقع اضافی مطالبے بھی سامنے آسکتے ہیں جن سے شاید حکومت بھی ابھی تک آگاہ نہ ہو۔ تاہم ایسا کوئی مطالبہ سامنے آنے کے بعد معاشی احسان کے سبب شاید پاکستان اس سے انکار کرنے کی پوزیشن میں نہ ہو۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1066 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali