سیکولرز کو سپیس دیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ریاست کی ابتداء بارے سب سے مستند نظریہ یہ ہے کہ یہ عمرانی معاہدے کے نتیجے میں وجود میں آئی۔

روسو، تھامس ہوبس وغیرہ نے قبل از ریاست کے زمانے کو فطری حالت (state of nature) کہا ہیں۔ ان کے مطابق لاقانونیت، انارکی سے تنگ باشندوں نے باہمی مشورے سے اپنے اپنے حقوق و فرائض متعین کیے جن کو ممکن بنانے کے لئے ریاست، حکومت، حاکم اور شہری کا نظام ترتیب دیا۔ اور سٹیٹ۔ آف۔ نیچر کا خاتمہ کردیا۔

اس معاہدے میں افراد کو ریاست کے تابع کرکے ان کے انفرادی حقوق کو ریاست کے حوالے کیا گیا۔ ان کو توقع تھی کہ ریاست تمام شہریوں سے کسی تفریق کے بغیر ایک جیسا سلوک کرے گی۔ یوں اپنے انفرادی حقوق ریاست کو دے کر انہوں نے ریاست کو ضامن بنایا۔

آج بھی ریاست کا بنیادی کردار شہریوں کے حقوق کے محافظ کی ہے۔ ریاست سے توقع کی جاتی ہے کہ اس کی نوعیت غیر جانب دار ضامن کی ہوں گی۔ اس میں تمام شہریوں کو برابر حقوق حاصل ہوں گے۔ ریاست میں مختف طبقات اور کلاسز کا وجود ممکن ہیں لیکن کسی ایک طبقہ کو محض فکری اور نظریاتی طور پر مختلف ہونے کی وجہ سے شہری حقوق سے محروم نہیں کیا جاتا۔ سب کو حق حاصل ہیں کہ وہ اس ریاست میں رہے اور وہ تمام مراعات حاصل کریں جو ان سے مختلف نظریہ رکھنے والوں کو حاصل ہیں۔ ریاست کا فرض ہے کہ وہ ان طبقات کا نہ صرف تحفظ یقینی بنائے بلکہ ان کی ترقی اور آگے بڑھنے کے عمل میں سہولت کار کا کردار ادا کریں۔

پاکستان بنیادی طور پر ایک plural ریاست ہے۔ اقوام کی تقسیم کے ساتھ ساتھ نظریاتی اختلاف بھی یہاں نمایاں ہے۔ یہ رجحان سیاست میں زیادہ واضح ہے۔ یہاں ایک ”قلیل“ طبقہ سیکولر نظریات رکھتا ہے۔ یہ طبقہ چاہتا ہے کہ ملکی سیاست اور ریاست کی اساس سیکولر ہو۔ ملکی اساس اور ریاستی پالیسی سے متصادم ہونے کی وجہ سے اس طبقے کو پھلنے پھولنے اور اپنی بات منوانے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سیکولرازم کبھی یہاں پاپولر بیانیہ رہا ہی نہیں ہے۔

مختلف قوموں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے اور ریاست کو جوڑے رکھنے کے لئے شروع سے ہی مذہب کے استعمال کو ترجیح دی گئی۔ اس وجہ سے سیکولر طبقہ ہمیشہ اقلیت میں رہا۔ ان کو سنا گیا، نہ ان کو اپنا بیانیہ پھیلانے کا موقع دیا گیا۔ پارلیمانی سیاست میں ان کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس ملک کے سیکولرز نظریاتی طور پر مختلف ہی سہی لیکن ہیں تو اس ملک کے شہری۔ ریاست جتنی اکثریت کی ہے اتنی ہی ان کی بھی ہے۔ اور اقلیت میں ہونے کی وجہ سے ریاست کے خصوصی توجہ کے مستحق ہیں۔ اب ان کو بھی موقع دیا جائے۔ ان کو سپیس دی جائے۔

ملک کی اکثریت سے نظریاتی طور پر مختلف ہونے کی وجہ سے سیکولرز کو مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ان کے بارے میں عمومی رویہ مثبت نہیں ہے۔ بے خبری کا یہ عالم ہے کہ عوام کی اکثریت ان کو ملحد مانتی ہے۔ اس سلسے میں کام کرنا وقت کا تقضا ہے۔ رائے عامہ کو ان کے حق میں ہموار کرنا چاہیے۔ عوام کو بتانا چاہیے کہ یہ لا دینیت نہیں ہے۔ ان کو سیکولرازم کے ثمرات بتانے چاہیے۔ سیکولر ملکوں کی مثالیں سامنے ہین۔ لندن میں صادق خان کا میئر بننا، مسلمانوں کا امریکی کانگرس کا ممبر بننا سیکولرازم کے مرہون منت ہے۔ یہاں محض عقیدے کی بنیاد پر ایک پروفیشنل کی خدمات حاصل نہیں کی گئی۔ جس سے بہرحال ملک کا نقصان ہوا۔

پاکستان میں ان کی پوزیشن یہ ہے کہ یہ یہاں اقلیت میں ہیں۔ پہلے ان کو اقلیت کے حقوق دیے جائے۔ پالیمنٹ میں نمائندگی حاصل کرنا ان کا بنیادی حق ہے۔ قانون سازی کے وقت ان کی نمائندگی نہ ہونے سے ان کی کے حقوق متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ ملک میں موجود محض نام کی سیکولر جماعتیں ووٹ بینک کے متاثر ہونے کے خدشے کے پیش نظر ان کے حقوق پر بات کرنے سے کتراتی ہیں۔ لہذا ان کو جماعت بنانے، الیکشن لڑنے، پارلمینٹ میں جانے اور وہاں قانون سازی پر بات کرنے کی اجازت کے ساتھ ساتھ ان کے اس عمل میں معاونت کی جائے۔ موجودہ انتخابی طریقہ کار میں ان کے پارلیمنٹ میں جانے کے چانسز بہت کم ہیں۔ لہذا ملک میں پروپورشنل ریپریزینٹیشن سسٹم نافذ کیا جائے جس سے ان سمیت سب طبقات کو برابر مواقع ملیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •