خدا کی لاٹھی – لیو ٹالسٹائی کی کہانی


ساشا ہاتھوں میں سر دیے بیٹھا رہا۔ قیدیوں نے میکائیل سے مزید سوال کیے لیکن اس نے بھی خاموشی اختیار کیے رکھی۔ کچھ دیر صبر کرنے کے بعد ساشا سے رہا نہیں گیا اور اس نے پوچھ ہی لیا۔ ”کیا تم نے ولاڈیمار کے سوداگر کے قتل کے بارے میں سنا ہے“۔
”ہاں ہاں، سنا کیوں نہیں۔ اس کا تو بہت عرصے تک چرچا رہا تھا۔ ہمارے قصبے کی ہر محفل میں اس قتل کی بات ہوتی تھی“
”تمھارا کیا خیال ہے، قتل کس نے کیا“
”ظاہر ہے جس کے سامان سے چاقو بر آمد ہوا۔ اور کون کر سکتاتھا“ میکائیل نے ایک معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا

” ان الفاظ نے ساشا کے دل سے ہر شبہے کو دور کر دیا۔ اب اسے یقین ہو گیاتھا کہ میکائیل ہی اصل قاتل ہے۔ ساشا اٹھ کر اپنی قید گاہ میں واپس آ گیا۔ ساری رات جیسے اس نے کانٹوں پر بسر کی۔ اسے ایک لمحہ نیند نہیں آئی۔ اس کی نوجوان بیوی کی تصویر اس کی نگاہوں کے سامنے گھومتی رہی۔ اسے وہ دن یاد آیا جب وہ سرائے کی ڈیوڑھی میں بیٹھا گٹار بجا رہا تھا اور پھر پولیس نے اس کے سامان کی تلاشی لی تھی جس میں سے خون آلود چاقو نکلا تھا۔

اسے اپنی سزا یاد آئی جب اسے کوڑے پڑے تھے۔ اور پھر سائبیریا کا سفر۔ اور پھر زندگی کے قیمتی چھبیس سال۔ غصے سے ساشا کا بدن لرز رہا تھا۔ اسے لگ رہا تھا کہ انتقام کی آگ سے وہ جھلس جائے گا۔ وہ نتائج کی پرواہ کیے بغیر نہتے ہاتھوں سے میکائیل کا گلا گھونٹ دینا چاہتا تھا۔ اسی عذاب میں دو ہفتے گزر گئے۔ ایک رات وہ عبادت میں مصروف تھا کہ اسے لگا جیسے قید خانے کے شیلف کے نیچے سے مٹی نکل نکل کر باہر آ رہی ہے۔

تھوڑی دیر کے بعد زمین کے اندر سے ایک ہاتھ ایسے نکلا جیسے کسی قبر سے۔ پھر دوسرا ہاتھ۔ اور اس کے بعد میکائیل کا مٹی سے لبریز سر۔ کیچڑ سے بھری آنکھیں ساشا کو گھورتی لظر آئیں۔ ساشا نے دور ہٹنا چاہا لیکن میکائیل نے سامنے آکر اس کے ہاتھ پکڑ لئے۔ ”ساشامیری بات سنو۔ میں دو ہفتے سے روزانہ اپنے ہاتھوں سے زمین کھودتا رہا ہوں۔ اپنے بوٹوں میں مٹی بھر کر میں سڑک کوٹنے کے لئے جیل کی نفری کے ساتھ نکلتا تو مٹی کو سڑک پر پھینک دیتا تھا۔

آج اتنی مٹی نکل گئی کہ میں شیلف کے نیچے سے تمھارے کمرے میں آ سکوں۔ سنو، ہم دونوں یہاں سے فرار ہو سکتے ہیں۔ لیکن اگر تم نے جیل والوں کو بتایا کہ میں نے سوداگر کو قتل کیا ہے تو میں تمہیں جان سے مار دوں گا ”۔ ساشا غصے سے کانپ رہا تھا۔ اس نے ایک جھٹکے سے اپنے ہاتھ چھڑائے اور میکائیل سے مخاطب ہوا۔ “ میں اب کہیں فرار نہہیں ہونا چاہتا۔ اب اس دنیا میں میرا کوئی نہیں، میرے پاس جیل کے علاوہ اور کہیں جانے کے لئے جگہ نہیں۔ اور تم مجھے کیا مارو گے۔ تم نے تو مجھے چھبیس سال پہلے ہی مار دیا تھا۔ جہاں تک جیل کے حکام کو بتانے کی بات ہے تو مجھے نہیں معلوم میں کیا کروں گا۔ خدا کی مرضی ہوئی تو میں سب کچھ بتا دوں گا۔ نہیں تو خاموش رہوں گا۔ ”

اگلے دن جیل کے ایک گارڈ نے سڑک پر تازہ مٹی پائی تو اسے شبہ ہوا۔ حکام نے جیل کی تلاشی لی اور سرنگ کا پتہ چلا لیا۔ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے تمام قیدیوں کو پوچھ گچھ کے لئے جمع کیا لیکن ہر کسی نے لاعلمی کا اظہار کیا۔

جرح کے نتیجے سے مایوس ہو کر سپرنٹنڈنٹ ساشا سے مخاطب ہو۔ ”ساشا تم یہاں کے سب سے پرانے قیدی ہو، ایماندار ہو اور ہمیشہ سچ بولتے ہو۔ کیا تمہیں معلوم ہے سرنگ کس نے کھودی؟ “ ساشا کافی دیر تک خاموش رہا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ میں اس قاتل کی حفاظت کیوں کروں جس نے میر ی زندگی برباد کی ہے۔ اچھا ہے یہ بھی اسی عذاب سے گزرے جس سے میں گزرا ہوں۔ اسے اپنے کیے کی سزا ملے۔ لیکن اگر میں نے بتا دیا تو اس کو کوڑوں کی سخت سزا ملے گی۔ شاید یہ بچ ہی نہ سکے۔ اور پھر اس کا خون میری گردن پر ہو گا۔ سوداگر کو تو میں نے قتل نہیں کیا لیکن اس کی موت کا میں ذمہ دار ہوں گا۔ اور پھر اگر اسے سزا ہو بھی جائے تو اس میں میرا کیا بھلا ہو گا۔ میری زندگی تو جو تباہ ہونی تھی وہ ہو گئی۔ اور میرے پاس کیا ثبوت ہے کہ قتل اس نے ہی کیا ہے۔ سپرنٹنڈنٹ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا تھا۔ اب اس نے ڈانٹ کر ساشا سے پوچھا، ”بابا صاف صاف بتاؤ سرنگ کس نے کھودی تھی۔

” صاحب، میں مجرم کا نام نہیں بتا سکتا۔ خدا کی مرضی یہی ہے۔ میری جان آپ کے اختیار میں ہے۔ آپ جو چاہے سلوک کریں، میں مجبور ہوں“۔
اس رات حسب معمول ساشا دیر گئے عبادت میں مصروف تھا کہ میکائیل خاموشی سے اس کے کمرے میں داخل ہوا۔ ”اب کیا کثر رہ گئی ہے جس کو پورا کرنے تم پھر یہاں آئے ہو۔ اب تمہیں مجھ سے اورکیا چاہیے؟ “۔ میکائیل دیر تک خاموش رہا۔ پھر بہت آہستہ آواز میں بولا۔

”ساشا مجھے معاف کر دو۔ سوداگر کو میں نے ہی قتل کیا تھا۔ میں تمھیں بھی قتل کر نے والا تھا لیکن کچھ شور سن کر میں نے جلدی سے چاقو تمھارے سامان میں چھپادیا تھا۔ مجھے معاف کردو ساشا“۔ ساشا خاموش تھا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کہے۔ میکائیل اس کے قدموں میں پڑ گیا تھا۔ اس کی آنکھوں سے مسلسل آنسو ٹپک رہے تھے۔ ”ساشا میں جیل کے حکام کے سامنے اقبال جرم کر لوں گا۔ میں انہیں بتادوں گا کہ سوداگر کے قاتل تم نہیں ہو، میں ہوں۔ پھر وہ تمہیں آزاد کر دیں گے اور تم اپنے گھرواپس جا سکو گے۔ لیکن مجھے معاف کر دو۔ خدا کے لئے۔ “

” میں آزاد ہو کر کہاں جاوں گا۔ میری بیوی مر چکی ہے۔ بچے مجھے بھلا بیٹھے ہیں۔ اب میرا کوئی گھر نہیں۔ کوئی ٹھکانہ نہیں“۔ میکائیل زار و قطار روتے ہوئے ساشا سے کہ رہا تھا ”ساشا میرا دل پھٹا جا رہا ہے۔ میں اب زندہ نہیں رہنا چاہتا، لیکن مرنے سے پہلے صرف تم سے معافی چاہتا ہوں“۔

اب ساشا بھی اپنے آنسووں پر قابو نہ رکھ سکا۔ روتے روتے اس نے کہا ”خدا تمہیں معاف کرے گا۔ کیا معلوم میں تم سے ہزار گنا بدتر اور گناہ گار ہوں“۔ جیسے ہی اس نے یہ الفاظ کہے ساشا کو ایسا لگا جیسے اس کے سینے سے من بھر اینٹوں کا بوجھ اٹھ گیا ہے۔ اچانک اس کے دل کو ایسا اطمینان محسوس ہوا جیسا پچھلے چھبیس سال میں نہیں ہوا تھا۔ اب اس کے دل میں کوئی تلخی نہیں تھی۔ وہ واپس اپنے شہر نہیں جانا چاہتا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ جیل میں ہی آخری سانس لے۔

ساشا کی معافی کے باوجود میکائیل نے اگلے دن سپرنٹنڈنٹ کے پاس جا کر اپنے جرم کا اقبال کر لیا۔ جیسے ہی سپرنٹنڈنٹ نے اقبال جرم سنا اس نے فورا ساشا کو معصوم قرار دے کر اس کی رہائی کا حکم جاری کر دیا۔ جب ہرکارہ ساشا کی رہائی کا حکم لے کر اس کے قید کے کمرے میں پہنچا تو ساشا مر چکا تھا۔ اس کی آنکھیں بند تھیں۔ چہرے پر مکمل اطمینان کی کیفیت تھی اور اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ رقص کر رہی تھی۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2