بھکاری: انتون چیخوف کی ایک کہانی

مجھے اپنی یاد داشت پر زور دینے کی بالکل ضرورت نہیں۔ برسات کی وہ دوپہر مجھے ابھی تک ایسے یاد ہے جیسے کل کا واقعہ ہو۔ میں آٹھ سال کا تھا اور اپنے باپ کی انگلی تھامے ماسکو کی ایک مصروف سڑک پر کھڑا تھا۔ مجھے لگ رہا تھا جیسے کوئی انجانی سی بیماری آہستہ…

Read more

دھڑکتا دل

(ایڈگر ایلن پو کی کہانی کا ترجمہ) مانتا ہوں بابا مانتا ہوں کہ میں خاصہ نروس ہوں۔ اضطراب کا شکار ہو جاتا ہوں۔ آج سے نہیں، ہمیشہ سے۔ مگر تم لوگ مجھے پاگل کیوں سمجھتے ہو۔ میری بیماری نے تو میری حسوں کو اور تیز کر دیا ہے۔ خاص طور پر میری سننے کی حس…

Read more

فیڈور دوستویووسکی کی ایک کہانی – تخمینہ

کافی عرصے کی بات ہے مجھے اپنے قصبے سے کاروبار کے سلسلے میں صوبے کے دارالحکومت جانا پڑا جہاں میری ملاقات ایک بڑے دولت مند تاجر سے ہوئی جس نے مجھے بچوں کی کرسمس پارٹی میں مدعو کیا۔ اگرچہ میرا جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا لیکن یہ چھٹیوں کا موسم تھا اور اس دن…

Read more

بد قسمت – ڈی ایچ لارنس کی کہانی کا ترجمہ۔

ڈی ایچ لارنس کی کہانی کا ترجمہ۔
وہ جتنی حسین تھی اتنی ہی بدقسمت بھی۔ کم از کم اپنی نظروں میں۔

اس کا شوہر اچھے عہدے پر فائز تھا۔ وہ ایک بیٹے اور دو بیٹیوں کی ماں تھی۔ بظاہر کسی چیز کی کمی نہ تھی۔ لیکن اسے ہمیشہ اپنی کم مائگی کا احساس رہتا۔ یہی سوچتی کہ اگر تھوڑا سا پیسہ اور آ جائے تو زندگی بن جائے۔ اس کے سر پر بس یہی ایک دھن سوار ہتی۔ ”پیسہ کہاں سے آئے۔ پیسہ کہاں سے آئے“

Read more

لیو ٹالسٹائی کی کہانی: دو گز زمین

پیام ایک غریب مزارع تھا جو تین ایکڑ زمین کے ایک ٹکڑے کو کاشت کرکے اپنے خاندان کو پال رہا تھا۔ ایک دن ماسکو سے اس کی بیوی کی بڑی بہن اس کے گاؤں آئی۔ دُپہر کا کھانا کھانے کے بعد دونوں بہنیں باتوں میں مصروف ہو گئیں۔ ان کی باتیں ِختم ہوتے کا نام…

Read more

نازعات کو ختم کرنے کے متبادل طریقے

اے۔ ڈی۔ آر۔ اور آپ کا اختیار کثرت استعمال سے اختیار کا یہ اظہار اپنی اہمیت اور اپنے صحیح معانی سے خاصی حد تک محروم ہو چکا ہے۔ تیسری قسط میں ہم نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ اصل اے۔ ڈی۔ آر۔ کیا ہے۔ اور یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ اگلی قسط میں اس…

Read more

شرط – انتون چیخوف کی ایک کہانی

ماسکو کی اونچی سوسائٹی کی پارٹی عروج پر تھی۔ میزبان ایک بینک کا مالک تھا۔ مہمانوں میں جرنیلوں، سیاست دانوں اور اعلی افسروں کے علاوہ ایک نوجوان وکیل بھی شامل تھا۔ شراب کا دور چل رہا تھا۔ گفتگو نہ جانے کیسے سزائے موت اور عمر قید کی قانونی باریکیوں پر پہنچ گئی۔

کچھ کا خیال تھا کہ سزائے موت بھیانک سزا ہے جس کا روس جیسے تہذیب یافتہ ملک میں کوئی جواز نہیں۔ کچھ کا کہنا تھا کہ سزائے موت میں تو ملزم صرف ایک دفعہ مرتا ہے لیکن عمر قید میں ہر دن ایک بتدریج موت کا دن ہوتا ہے۔

Read more

ہیروں کی مالا۔ گائی ڈی موپاساں کی ایک کہانی

شارلٹ اتنی خوبصورت تھی کہ ہر کوئی کہتا اس کو تو کسی محل میں پیدا ہونا چاہیے تھا۔ لیکن وہ ایک سبزی فروش کے گھر پیدا ہوئی جہاں اس کی قسمت پر غربت کی مہر لگ چکی تھی۔

بڑھتی جوانی نے شارلٹ کو اپنی خوبصورتی اورغربت کا شدید ا حساس دلایا۔ وہ کتنی کتنی دیر آئینے کے سامنے کھڑی اپنے حسن کو سراہتی۔ پھر اپنی بد قسمتی پراس کی آنکھیں آنسووں سے نم ہو جاتیں۔ وہ تصور میں اس شہزادے کا انتظار کرتی جس کے بارے میں اس نے کہانیوں میں پڑھا تھا۔ لیکن یہ سب خواب دھرے رہ گئے جب اس کی شادی محکمہ تعلیم کے ایک کلرک سے ہو گئی۔

الگزینڈر چاہتا تھا کہ شارلٹ کو ہر آسائش ملے۔ اس نے ایک لڑکی ملازم رکھ لی تھی جو ہر روز آ کر برتن دھوتی، کھانا پکاتی، اور باہر کے کام کاج کر تی۔

Read more

آپ کے ذاتی تنازعات۔ چند سوال

تنازعات کے اصل متبادل حل پر مضامین کی سیریز کی دوسری قسط میں ہم نے ایسے طریق کار کے بارے میں گفتگو کرنے کا وعدہ کیا تھا جس کا اطلاق آپ اپنے ان تنازعات پر کر سکیں جن کا آپ کو سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ آج کی اس تیسری قسط میں ہم آپ سے چند سوالات کریں گے۔ بغیر کسی تکلف اور لحاظ کے۔ اور آپ کو بھی ان کا جواب بھی بغیر لگی لپٹی کے دینا ہوگا۔ یہ آپ کے لئے اچھی خبر بھی ہے اور بری بھی۔ پہلے اچھی خبر۔ وہ یہ ہے کہ یہ سب معاملہ صیغہ راز میں رہے گا۔ اگر آپ خود نہ چاہیں تو آپ کے علاوہ کسی اور کو پتہ نہیں چلے گا کہ آپ کا جواب کیا ہے۔ آپ کسی ندامت کے شکار نہیں ہوں گے۔ بری خبر یہ کہ صحیح جواب آپ کوخود اپنی نظروں میں قصور وار بھی ٹھہرا سکتا ہے۔

Read more

تنازعات کے متبادل حل (اے۔ ڈی۔ آر)

پہلی قسط میں ہم نے سات عنوان گنوائے تھے جن کی تفصیل اگلی قسطوں میں بتانے کا وعدہ کیا تھا۔ کچھ احباب نے شکوہ تو نہیں لیکن اس بات کی نشان دہی ضرور کروائی کہ اگرچہ میری تحریروں میں جہاں اردوکے متبادل الفاظ مل سکیں وہاں میں انگریزی کے الفاظ استعمال نہیں کرتا۔ لیکن اس…

Read more