احسان فراموش: پیٹر پین کے مصنّف جیمز میتھیو بیری کی ایک کہانی

میں بیس سال سے اشرافیہ کے اس رئیسانہ اور منفرد کلب کا ممبر ہوں۔ باقی ممبران کی طرح مجھے بھی کبھی اس بات میں دلچسپی نہیں رہی کہ نچلے طبقے کے لوگ کیسے رہتے ہیں۔ یہ بیرے اور خانسامے کس طرح اپنی زندگی بسر کرتے ہیں۔ ولیم ایک طویل مدت سے ہمارے کلب میں بیرا گیری کر رہا تھا۔ مجھے تو یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ وہ نیچے باورچی خانے میں سوتا ہے یا رات کو گھر اپنے بیوی

Read more

نائب صدارت کے نامزد امیدوار امریکی "ہاتو” کا نوحہ

ہاتو کی اصطلاح عام طور پر کشمیر کے پہاڑوں میں بسنے والے ایسے لوگوں کے بارے میں استعمال ہوتی ہے جو انتہائی غربت میں پیدا ہوئے ہوں۔ جن کو بچپن ہی سے احساس ہوتا ہے کہ سوائے بار برداری کے ان کی قسمت میں کچھ اور نہیں لکھا۔ وہ روزگار کمانے کا اور کوئی ہنر نہیں جانتے۔ ہر سال گرمیوں کے شروع میں میدانوں کی طرف روانہ ہوتے ہیں اور پیٹھ پر دنیا کا بوجھ اٹھا کر ، محنت مزدوری

Read more

ہابیل اور قابیل: جیک لنڈن کی ایک کہانی

وہ اسے دروازے پر کھڑی ملی۔ ”تم کچھ جلدی نہیں آ گئے جارج؟“ ”جلدی کہاں؟ ساڑھے آٹھ تو ہو گئے ہیں۔ اور ٹرین سوا نو بجے چل پڑتی ہے۔ اگر اگلی ٹرام نہ پکڑی تو ٹرین نکل جائے گی۔ کہاں ہے الیگزینڈر؟“ ”میں ابھی بلاتی ہوں۔ “ لیکن وہ اپنی آنکھوں کی نمی کو چھپا نہ سکی۔ جارج نے نرم لہجے میں کہا۔ ” فکر نہ کر و، شارلٹ۔ ڈاکٹر فرینکلن اپنے شعبے میں اونچا نام رکھتا ہے۔ الیگزینڈر ٹھیک

Read more

موپاساں کا افسانہ: نابینا

آسمان کی نیلاہٹ، سبزے کی ہریالی ہمیں خوش و خرم کر دیتی ہیں۔ دھوپ میں چمکتی منڈیریں اور گرم چھتیں ہماری آنکھوں کو کس قدر طراوت اور تازگی بخشتی ہیں۔ فطرت کی یہ رعنائیاں اور دنیا کی یہ خوبصورتی دیکھ کر ہمارا دل فرط جذبات سے امڈنے، ناچنے، گانے اور مسکرانے کو چاہتا ہے۔ ہم زندگی کو اپنی بانہوں میں لپیٹ کر اسے پیار کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن اپنے گھر کی دہلیز کے باہر بیٹھا نابینا آدمی اندھی آنکھیں کھولے

Read more

چیخوف کا افسانہ: اداکار کی موت

  شیانوف ایک لحیم شحیم اداکار تھا۔ اداکاری کے فن میں نہ سہی اپنی جناتی ضخامت کی وجہ سے تھیٹر میں خاصا کامیاب بھی تھا اور سادہ لوح طبیعت کے باعث مقبول بھی۔ دوسرے اداکار اس سے چھیڑ چھاڑ کرتے رہتے۔ کوئی اس کو گینڈا کہتا۔ کوئی سرکاری سانڈ۔ لیکن سب اسے پیار کرتے تھے۔ وہ ڈراموں میں رستم، ہرکولیس اور سیمسن جیسے کردار ادا کرتا اور تماشائیوں سے خوب داد لیتا۔ کبھی کبھی تو تماشائی اس کی اداکاری سے

Read more

دیوانے کا خواب

  لوگ میرا مذاق اڑاتے ہیں۔ میرے منہ پر مجھے دیوانہ، پاگل اور مضحکہ خیز کہتے ہیں۔ مجھے قابل تضحیک سمجھتے ہیں۔ ہر ایک مجھ پر ہنستا ہے۔ لیکن ان بے وقوفوں کو یہ معلوم نہیں کہ اس میں مذاق کی تو کوئی بات ہی نہیں۔ میں تو ہمیشہ اس حقیقت سے آگاہ رہا ہوں کہ مجھ سے زیادہ دیوانہ اور قابل تمسخر کوئی اور نہیں ہے۔ پیدائش کے وقت سے نہ سہی لیکن کم از کم سات سال کی

Read more

پنٹاگون پیپرز اور ڈینیل الزبرگ: اخلاقی جرات کی درخشاں مثال

پاناما پیپرز سے پاکستان میں کون واقف نہیں۔ جب یہ قراطیس خفیہ منظر شہود پر نمایاں ہوئے تو ان میں داور حشر میرا نامہ اعمال نہ دیکھ اس میں کچھ پردہ نیشنوں کے بھی نام آتے ہیں کے مصداق دنیا بھرکے لیڈران کرام کے ساتھ پاکستانی وزیر اعظم کا نام بھی شامل تھا۔ پاناما پیپرز آؤٹ ہونے کے غیر مقصود نتائج میں ایک نتیجہ نواز شریف کی وزارت عظمی سے دستبرداری تھی۔ لیکن شاید یہ بات بہت کم لوگوں کے

Read more

آرٹیفیشل انٹیلیجنس: انسانیت تباہی کے دہانے پر ؟

چیٹ جی پی ٹی۔ 4 کے ممکنہ خطرات مشینی اور مصنوعی ذہانت آہستہ آہستہ اپنے ارتقا کی طرف رواں تھی کہ اچانک پچھلے چند مہینوں میں اس نے ایک زقند بھری اور پوری دنیا میں ایک ہلچل مچا دی۔ قارئین نے یقیناً چیٹ جی پی ٹی۔ 4 کا نام سنا ہو گا جس نے بنی نوع انسان کو ایک ایسا ہتھیار دے دیا ہے جو اس سے پہلے صرف اربوں کھربوں کی سرمایہ دار آئی ٹی کمپنیوں کے مالکان کو

Read more

کیا یہ ایک خواب تھا؟ (موپاساں کی ایک کہانی)

میں اسے دیوانگی کی حد تک پیار کرتا تھا۔ آدمی کیوں پیار کرتا ہے؟ کتنی عجیب بات ہے کہ پیار میں آدمی کی آنکھوں میں صرف ایک ہی تصویر ہوتی ہے۔ اس کے ذہن میں صرف ایک ہی خیال ہوتا ہے۔ اس کے دل میں صرف ایک ہی خواہش ہوتی ہے۔ اس کے ہونٹوں پر صرف ایک ہی نام ہوتا ہے۔ ایک ایسا نام جو مسلسل ٹھنڈے چشمے کے پانی کی طرح روح کی گہرائیوں سے اٹھ کر ہونٹوں تک

Read more

قلی بابا اور سات چور: الیگزنڈر کوپرن کا ایک افسانہ

(اس کہانی کا پاکستان کے حالات حاضرہ یا سیاست دانوں اور حکمرانوں کے کردار سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اگر قارئین اس کے باوجود کوئی تعلق محسوس کریں تو یہ فقط ایک اتفاقی اور حادثاتی امر ہو گا۔ ) جولائی کی ایک شدید گرم سہ پہر میں لو کے تھپیڑے چل رہے تھے۔ سفیدی کیے مکانوں کی چمک سے آنکھیں چندھیا رہی تھیں۔ پتھریلی عمارتیں آگ اگل رہی تھیں۔ اڑیسہ کے اس قصبے کی سنسان سڑکوں پر کولتار موم کی

Read more

سمرسٹ ماہم کی ایک کہانی : Mr. Know-All

ترجمہ: شاہد اختر پتہ نہیں کیوں مجھے کچھ لوگوں کو دیکھتے ہی ان سے نفرت ہو جاتی ہے۔ بلکہ کچھ سے تو بغیر دیکھے ہی۔ جب مجھے معلوم ہوا کہ میرے کیبن کا شریک کوئی میکس کلاڈا نام کا شخص ہے تو یہ سن کر ہی مجھے گھن سی آئی۔ اگر کوئی مسٹر سمتھ یا مسٹر براؤن ہوتا تو الگ بات تھی۔ لیکن کلاڈا؟ یہ تو نام ہی سے کوئی چھٹا ہوا بدمعاش لگتا تھا۔ کہیں کا بھی ہو، انگریز

Read more

فیدور دوستوئیوسکی کی ایک کہانی: رشوت

”آگے آگے آ جائیں سب لوگ۔ تاکہ سب کو آواز ٹھیک سے پہنچے۔“ میں اس شخص کو بھر پور تجسس سے دیکھ رہا تھا۔ اس کے خد و خال عجیب سے تھے۔ پرکشش بھی لیکن مضحکہ خیز بھی۔ اس کی بٹن جیسی حساس آنکھیں بتا رہی تھیں کہ اسے معلوم ہے کہ وہ بہت سی نگاہوں کا مرکز ہے۔ وہ ایک جھٹکے سے باری باری سامعین کی طرف مڑتا۔ یوں لگتا جیسے کوئی پتلی ناچ رہی ہے۔ کھاتے پیتے گھرانوں

Read more

خط: میکسیم گورکی کی ایک کہانی

میں نیا نیا ماسکو یونیورسٹی میں پہلے سال میں داخل ہوا تھا۔ اتنے بڑے شہر میں رہائش ڈھونڈنے میں خاصی دقت پیش آ رہی تھی۔ بہت تگ و دو کے بعد ایک کمرے والا اپارٹمنٹ ملا جہاں سے میں دس منٹ میں پیدل چل کر یونیورسٹی پہنچ سکتا تھا۔ ساتھ والا کمرہ ایک عورت کا تھا۔ ہمسایوں میں اس کے چال چلن کے بارے میں افواہیں اڑاتیں۔ کھسر پھسر ہوتی۔ وہ پچیس، چھبیس سال کی ہو گی۔ رنگ خاصا سانولا

Read more

نکولائی شیڈرین کی ایک کہانی: موژیک

اشتراکی انقلاب آنے سے پہلےروس میں ایک طبقہ ہوتا تھا جو غلام، نوکر، اجڈ ، گنوار، گھامڑ اور کام چور، غرض ہر حقارت آمیز وصف اور خاصیت کا امتزاج سمجھا جاتا تھا۔ اس طبقے کے افراد کو موژیک کہتے تھے۔  انیسویں صدی کے اواخر کا ذکر ہے ماسکو میں دو سول سرونٹس تھے ۔ دونوں کے سروں میں دماغ نام کی کوئی شے نہیں تھی۔ ایک دن انہوں نے اپنے آپ کوایک ویران، سنسان جزیرے پرپایا جہاں نہ آدم نہ

Read more

ہربرٹ جارج ویلز کی ایک کہانی: جادو گھر

لندن کی ریجنٹ سٹریٹ کے اس حصے سے میں نہ جانے میں کتنی مرتبہ گزرا ہوں گا لیکن کبھی اس معمولی سی دکان کی طرف توجہ نہیں دی تھی۔ اس دن بھی میں جمی کو ٹہلانے نکلا تھا۔ وہ میری انگلی پکڑے چل رہا تھا۔ اچانک میری انگلی پر اس کے ننھے ہاتھ کی گرفت کچھ مضبوط ہو گئی۔ اس نے دکان کی طرف اشارہ کیا۔ اب میرے پاس سوائے دکان کی جانب مڑنے کے اور کوئی چارہ نہیں تھا۔

Read more

حکم کی ملکہ (الیگزینڈر پشکن کی ایک کہانی)

ماسکو کی سرد طویل رات تاش کی بازیاں کھیلتے پلک جھپکنے میں گزر گئی۔ رات کا کھانا صبح پانچ بجے لگا۔ جیتنے والوں نے ڈٹ کر کھایا۔ ہارنے والے اداسی سے خالی پلیٹوں کو گھورتے رہے۔ لیکن جب شیمپین کا دور چلا تو گفتگو میں خوب گرما گرمی آ گئی۔ ”بھئی میں تو مان گیا اس ہرمن کو۔ ساری رات تاش کے کھلاڑیوں کے ساتھ گزاری لیکن ایک پتے کو ہاتھ نہیں لگایا۔“ میزبان نے کہا، جو فوج کا ایک

Read more

ندی کنارے: چیخوف کی ایک کہانی

جن دنوں میں قصبے میں رہتا تھا اپنا زیادہ تر فارغ وقت کیاریوں کے چوکیدار، ساوک، کے ساتھ گزارنا میرا معمول تھا۔ قصبے سے ذرا باہر، ندی کے کنارے یہ کیاریاں کھاتے پیتے گھرانوں کو الاٹ ہوئی تھیں۔ ان میں وہ اپنے گھر کے استعمال کے لئے سبزیاں پھل وغیرہ اگاتے تھے۔

یہ میری پسندیدہ جگہ تھی۔ یہاں میں مچھلی کے شکار کے بہانے جاتا اور ڈور میں کانٹا لگا کر آرام سے ساوک سے باتیں کرتا رہتا۔ مجھ میں اور ساوک میں کوئی بات مشترک نہیں تھی۔ وہ پچیس سال کا خوش شکل، ٹھوس بدن نوجوان تھا۔

قصبے میں اس کی شہرت بری نہیں تھی۔ لیکن وہ پرلے درجے کا کاہل تھا۔ کام کاج کے بارے میں بالکل نکھٹو۔ اسے کسی کی نوکری سے دلچسپی نہیں تھی۔ ذہین بھی تھا اور تھوڑا بہت پڑھ لکھ بھی لیتا۔ لیکن نہ ہی ذہانت نے اور نہ پڑھائی لکھائی نے اس کا کچھ بگاڑا۔ اس کی ماں بھیک مانگ کر گزارا کرتی اور جب اسے بیکار رہنے پر لعن طعن سننی پڑتی تو وہ چند دن کے لئے کوئی نوکری کر لیتا لیکن اس پر ٹکتا نہیں تھا۔

Read more

آسکر وائلڈ کی شہرہ آفاق کہانی: رحم دل شہزادہ

شہر کے مرکز میں بنے سنگ مر مر کے ایک اونچے لمبے ستون کی چوٹی پر ایک نوجوان شہزادے کا سنہری بت کھڑا تھا۔ شاہی وردی میں ملبوس، بت کی کمر میں بندھی تلوار کے دستے میں ایک بڑا سا یاقوت اور آنکھوں میں دو نیلم جڑے ہوئے تھے۔ ستون کے ارد گرد بہت چہل پہل رہتی۔ شہزادے کے ہونٹ ہمیشہ دلفریب انداز میں مسکراتے۔ ہر کوئی اپنے اپنے ڈھب سے شہزادے کی خوبصورتی کو سراہتا۔ ایک رات ایسا ہوا

Read more

ماں: سمرسٹ ماہم کی ایک کہانی

اپنے فلیٹ کی کھڑکیوں سے جھانک کر دو تین لوگوں نے دیکھنے کی کوشش کی کہ لڑائی کی آوازیں کہاں سے آ رہی تھیں۔ ”یہ نئی کرایہ دار ہے اور مزدور سے جھگڑا کر ہی ہے“ ایک عورت نے اپنی ہمسائی کو بتایا۔ یہ واقعہ سپین کے شہر سیویل میں ظہور پذیر ہو رہا تھا۔ دائرے میں بنے اس بلاک میں بیس فلیٹس اور کچھ کمرے کرائے پر چڑھے ہوئے تھے۔ ان میں کم آمدنی والے ملازمین، ڈاکیے، ٹرام کے

Read more

امریکی تبلیغی جماعت

ہم پاکستان میں ملاؤں کے اثر و رسوخ کا رونا تو روتے ہی ہیں، لیکن امریکی تبلیغیوں نے، جو عرف عام میں ”ایونجلسٹ“ کہلاتے ہیں، جیسا ضرر امریکا ہی کو نہیں، ساری دنیا کو پہنچایا ہے، اس کی نظیر مذہبی انتہا پسندی کی جدید تاریخ میں نہیں ملتی۔ نومبر دو ہزار سولہ کی آٹھویں شب کو صدارتی انتخاب کے نتائج کے کروڑوں ناظرین کو یوں لگا، جیسے وہ ٹیلی ویژن نہیں، کوئی ڈراؤنا خواب دیکھ رہے ہیں۔ ایک بے یقینی کے عالم میں انہوں نے دیکھا کہ ہلیری کلنٹن کی پر یقین فتح کے بجائے، الیکٹورل کالج کی پیچیدگیوں کی برکت سے، ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کا صدر بن گیا۔ یہ سب کیوں ہوا؟ کیسے ہوا؟ کیوں کر ہوا؟ اہل دانش کا تو:

خامہ انگشت بدنداں کہ اسے کیا لکھیے
ناطقہ سر بہ گریباں کہ اسے کیا کہیے

Read more

سویٹی : ٹونی ماریسن کی ایک کہانی

میں نے ایسا کیا قصور کیا ہے؟ مجھ پر تم لوگ کیوں الزام دھر رہے ہو؟ میں نے کچھ بھی نہیں کیا۔ مجھے پتہ نہیں یہ کیسے ہو گیا؟ کیوں ہو گیا؟ بس اتنا معلوم ہے کہ اس کی پیدائش کے آدھ گھنٹے کے اندر اندر ہی مجھے احساس ہو گیا تھا کہ کوئی بہت بڑی گڑ بڑ ہو گئی ہے۔ بڑا غضب ہو گیا ہے۔ بچی کا رنگ اتنا کالا تھا کہ میں بری طرح سے ڈر گئی تھی۔

Read more

ٹالسٹائی کی کہانی: آخری رقص

”میرے دوست، یہ تم کیا کہہ رہے ہو کہ انسان اچھے برے میں تمیز نہیں کر سکتا۔ یہ کیا دلیل ہوئی کہ ماحول ہی اس بات کا تعین کرتا ہے کہ اچھا کیا ہے، برا کیا۔ میں یہ تسلیم نہیں کرتا۔ در اصل انسان کی زندگی حادثات سے متعین ہوتی ہے۔ یہ صرف حسن اتفاق ہے جو انسان کی پوری زندگی کو کسی ایک خاص ڈگر پر ڈال دیتا ہے۔ اب میرا ہی قصہ لے لو۔“ حقیقت یہ ہے کہ

Read more

آئیون ترگینیف کی ایک کہانی: انوچکا

میں دو دہائی اور پانچ سال کا ہو گیا تھا۔ اتنی مدت گزارنے کا مطلب یہ ہوا کہ میں وثوق سے کہہ سکتا تھا کہ یقیناً میں ایک ماضی کا اکلوتا مالک ہوں۔ بالکل آزاد پنچھی تھا۔ اپنی مرضی کا مالک۔ کوئی پابندی نہ قید۔ سوچا زندگی میں کوئی ہنگامہ ہونا چاہیے۔ سفر سے اچھا اور کیا کارنامہ ہو سکتا ہے؟ ابھرتی جوانی تھی۔ صحت اچھی تھی، دل میں جذبہ اور جوش تھا، گھر بار کا کوئی بوجھ نہ تھا۔

Read more

بڑھاپا… چیخوف کی عالمی شہرت یافتہ کہانی

ازلکوف ایک کامیاب آرکیٹکٹ تھا۔ ماسکو میں رہتے ہوئے اسے تیس سال ہو چکے تھے۔ اس کے آبائی شہر کے مئیر نے اسے شہر کے سب سے بڑے چرچ کی پرانی شان و شوکت کو بحال کر نے کی دعوت دی۔ ازلکوف نے یہ دعوت خوشی سے قبول کر لی۔ وہ اسی شہر میں پلا بڑھا تھا، یہیں ابتدائی تعلیم حاصل کی اور یہیں اس کی شادی بھی ہوئی۔ ٹرین سے اترتے ہی ازلکوف کو اندازہ ہوا کہ شہر بالکل

Read more

میری بہن صدیقہ انور مسعود

اپریل کی ستائیس تاریخ کو طویل عرصے پرمشتمل ایک بے لوث محبت اور پیار کا رشتہ ٹوٹ گیا۔ میری بڑی بہن، صدیقہ انور مسعود، وفات پا گئیں۔ جیسے ہی میرے بھانجے نے مجھے اسلام آباد سے اس سانحے کی اطلاع دی ایک بے یقینی کے عالم میں پوری زندگی ایک فاسٹ فارورڈ پر لگی ہوئی فلم کی طرح تخیل کے پردے پر نظروں کے سامنے سے گزر گئی۔ ہمارے لئے وہ ہمیشہ سے آپا ہی تھیں۔ اگرچہ ان کا نام

Read more

انتون چیخوف کا افسانہ: "دکھ”

پہاڑوں سے گھرے اس گاؤں سے جہاں باکو رہتا تھا بڑے شہر کا فاصلہ پچاس کلو میٹر تھا۔ باکو ایک ترکھان تھا، خراد کی مشین اس کی زندگی کا محور تھی، اسے اپنی خراد اور اپنے ہنر پر بڑا فخر تھا۔ وہ اس خراد پر لکڑی کی خوبصورت چیزیں ایسی مہارت سے بناتا کہ دور دور سے لوگ دیکھنے آتے ۔ لیکن اسے عرصے سے شراب کی لت پڑی ہویٔ تھی۔ خراد سے جتنے پیسے کماتا، آس پاس کے علاقوں

Read more

دوغلی – جیک لندن کی کہانی

یہ کہانی اس وقت کی ہے جب انیسویں صدی بیسویں صدی سے گلے مل رہی تھی۔ امریکہ روس کا ایک علاقہ جو رقبے میں مغربی یورپ سے بڑا تھا صرف سات ملین ڈالر میں خرید چکا تھا۔ برفیلے الاسکا میں سونا نیا نیا دریافت ہوا تھا۔ راتوں رات دولتمند ہونے کے لالچ میں امریکہ اور یورپ سے ہزاروں لوگ اس دوڑ میں شامل ہو گئے تھے۔ یہ ایسے ہی چند مہم جو لوگوں کی کہانی ہے۔ ”کاش میں مرد ہوتی“

Read more

بھکاری: انتون چیخوف کی ایک کہانی

مجھے اپنی یاد داشت پر زور دینے کی بالکل ضرورت نہیں۔ برسات کی وہ دوپہر مجھے ابھی تک ایسے یاد ہے جیسے کل کا واقعہ ہو۔ میں آٹھ سال کا تھا اور اپنے باپ کی انگلی تھامے ماسکو کی ایک مصروف سڑک پر کھڑا تھا۔ مجھے لگ رہا تھا جیسے کوئی انجانی سی بیماری آہستہ آہستہ میرے جسم میں سرایت کر رہی ہے۔ حالانکہ درد بالکل نہیں ہو رہا تھا مگر میری ٹانگوں میں جان نہیں تھی۔ گھٹنے جیسے ربڑ

Read more

دھڑکتا دل

(ایڈگر ایلن پو کی کہانی کا ترجمہ) مانتا ہوں بابا مانتا ہوں کہ میں خاصہ نروس ہوں۔ اضطراب کا شکار ہو جاتا ہوں۔ آج سے نہیں، ہمیشہ سے۔ مگر تم لوگ مجھے پاگل کیوں سمجھتے ہو۔ میری بیماری نے تو میری حسوں کو اور تیز کر دیا ہے۔ خاص طور پر میری سننے کی حس کو۔ میں وہ آوازیں سن سکتا ہوں جن کا عام آدمی تصور بھی نہیں کر سکتا۔ مجھے کائنات کی، زمین آسمان کی، جنت دوزخ کی

Read more

فیڈور دوستویووسکی کی ایک کہانی – تخمینہ

کافی عرصے کی بات ہے مجھے اپنے قصبے سے کاروبار کے سلسلے میں صوبے کے دارالحکومت جانا پڑا جہاں میری ملاقات ایک بڑے دولت مند تاجر سے ہوئی جس نے مجھے بچوں کی کرسمس پارٹی میں مدعو کیا۔ اگرچہ میرا جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا لیکن یہ چھٹیوں کا موسم تھا اور اس دن میرا اور کوئی پروگرام بھی نہیں تھا۔ میں نے سوچا گھر بیٹھ کر بور ہونے کی بجائے اس پارٹی ہی میں ہو آتا ہوں۔ حالانکہ

Read more

بد قسمت – ڈی ایچ لارنس کی کہانی کا ترجمہ۔

ڈی ایچ لارنس کی کہانی کا ترجمہ۔
وہ جتنی حسین تھی اتنی ہی بدقسمت بھی۔ کم از کم اپنی نظروں میں۔

اس کا شوہر اچھے عہدے پر فائز تھا۔ وہ ایک بیٹے اور دو بیٹیوں کی ماں تھی۔ بظاہر کسی چیز کی کمی نہ تھی۔ لیکن اسے ہمیشہ اپنی کم مائگی کا احساس رہتا۔ یہی سوچتی کہ اگر تھوڑا سا پیسہ اور آ جائے تو زندگی بن جائے۔ اس کے سر پر بس یہی ایک دھن سوار ہتی۔ ”پیسہ کہاں سے آئے۔ پیسہ کہاں سے آئے“

Read more

لیو ٹالسٹائی کی کہانی: دو گز زمین

پیام ایک غریب مزارع تھا جو تین ایکڑ زمین کے ایک ٹکڑے کو کاشت کرکے اپنے خاندان کو پال رہا تھا۔ ایک دن ماسکو سے اس کی بیوی کی بڑی بہن اس کے گاؤں آئی۔ دُپہر کا کھانا کھانے کے بعد دونوں بہنیں باتوں میں مصروف ہو گئیں۔ ان کی باتیں ِختم ہوتے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں۔ بڑی بہن کہ رہی تھی، ”خدا جانے تم اس دیہات میں کیسے رہ لیتی ہو؟ یہاں ہر طرف گندگی کے ڈھیر

Read more

نازعات کو ختم کرنے کے متبادل طریقے

اے۔ ڈی۔ آر۔ اور آپ کا اختیار کثرت استعمال سے اختیار کا یہ اظہار اپنی اہمیت اور اپنے صحیح معانی سے خاصی حد تک محروم ہو چکا ہے۔ تیسری قسط میں ہم نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ اصل اے۔ ڈی۔ آر۔ کیا ہے۔ اور یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ اگلی قسط میں اس بارے میں بات کریں گے کہ اپنی زندگی کے مسائل کے حوالے سے آپ کے اختیار میں کیا کچھ ہے۔ حقیقت یہ ہے اکثر ہم

Read more

شرط – انتون چیخوف کی ایک کہانی

ماسکو کی اونچی سوسائٹی کی پارٹی عروج پر تھی۔ میزبان ایک بینک کا مالک تھا۔ مہمانوں میں جرنیلوں، سیاست دانوں اور اعلی افسروں کے علاوہ ایک نوجوان وکیل بھی شامل تھا۔ شراب کا دور چل رہا تھا۔ گفتگو نہ جانے کیسے سزائے موت اور عمر قید کی قانونی باریکیوں پر پہنچ گئی۔

کچھ کا خیال تھا کہ سزائے موت بھیانک سزا ہے جس کا روس جیسے تہذیب یافتہ ملک میں کوئی جواز نہیں۔ کچھ کا کہنا تھا کہ سزائے موت میں تو ملزم صرف ایک دفعہ مرتا ہے لیکن عمر قید میں ہر دن ایک بتدریج موت کا دن ہوتا ہے۔

Read more

ہیروں کی مالا۔ گائی ڈی موپاساں کی ایک کہانی

شارلٹ اتنی خوبصورت تھی کہ ہر کوئی کہتا اس کو تو کسی محل میں پیدا ہونا چاہیے تھا۔ لیکن وہ ایک سبزی فروش کے گھر پیدا ہوئی جہاں اس کی قسمت پر غربت کی مہر لگ چکی تھی۔

بڑھتی جوانی نے شارلٹ کو اپنی خوبصورتی اورغربت کا شدید ا حساس دلایا۔ وہ کتنی کتنی دیر آئینے کے سامنے کھڑی اپنے حسن کو سراہتی۔ پھر اپنی بد قسمتی پراس کی آنکھیں آنسووں سے نم ہو جاتیں۔ وہ تصور میں اس شہزادے کا انتظار کرتی جس کے بارے میں اس نے کہانیوں میں پڑھا تھا۔ لیکن یہ سب خواب دھرے رہ گئے جب اس کی شادی محکمہ تعلیم کے ایک کلرک سے ہو گئی۔

الگزینڈر چاہتا تھا کہ شارلٹ کو ہر آسائش ملے۔ اس نے ایک لڑکی ملازم رکھ لی تھی جو ہر روز آ کر برتن دھوتی، کھانا پکاتی، اور باہر کے کام کاج کر تی۔

Read more

آپ کے ذاتی تنازعات۔ چند سوال

تنازعات کے اصل متبادل حل پر مضامین کی سیریز کی دوسری قسط میں ہم نے ایسے طریق کار کے بارے میں گفتگو کرنے کا وعدہ کیا تھا جس کا اطلاق آپ اپنے ان تنازعات پر کر سکیں جن کا آپ کو سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ آج کی اس تیسری قسط میں ہم آپ سے چند سوالات کریں گے۔ بغیر کسی تکلف اور لحاظ کے۔ اور آپ کو بھی ان کا جواب بھی بغیر لگی لپٹی کے دینا ہوگا۔ یہ آپ کے لئے اچھی خبر بھی ہے اور بری بھی۔ پہلے اچھی خبر۔ وہ یہ ہے کہ یہ سب معاملہ صیغہ راز میں رہے گا۔ اگر آپ خود نہ چاہیں تو آپ کے علاوہ کسی اور کو پتہ نہیں چلے گا کہ آپ کا جواب کیا ہے۔ آپ کسی ندامت کے شکار نہیں ہوں گے۔ بری خبر یہ کہ صحیح جواب آپ کوخود اپنی نظروں میں قصور وار بھی ٹھہرا سکتا ہے۔

Read more

تنازعات کے متبادل حل (اے۔ ڈی۔ آر)

پہلی قسط میں ہم نے سات عنوان گنوائے تھے جن کی تفصیل اگلی قسطوں میں بتانے کا وعدہ کیا تھا۔ کچھ احباب نے شکوہ تو نہیں لیکن اس بات کی نشان دہی ضرور کروائی کہ اگرچہ میری تحریروں میں جہاں اردوکے متبادل الفاظ مل سکیں وہاں میں انگریزی کے الفاظ استعمال نہیں کرتا۔ لیکن اس مضمون کے آخری حصے میں تواتر سے انگریزی کے سات الفاظ استعمال ہوئے جن کا بدل آسانی سے اردو میں مل سکتا تھا۔ بر سبیل

Read more

مسئلہ کیا ہے؟

آپ سے ایک سیدھا سادہ سوال ہے۔ کیا آپ کا کبھی گھر میں، یا دفتر میں، یا کسی ہمسائے یا بزنس پارٹنر کے ساتھ کوئی جھگڑا ہوا ہے؟ اگر آپ فرشتہ نہیں ہیں اور باقی لوگوں کی طرح گوشت پوست کے جیتے جاگتے انسان ہیں تو میں وثوق سے کہ سکتا ہوں کہ آپ کا یک لفظی جواب صرف ”ہاں“ پر مشتمل ہو گا۔ لوگ کہتے ہیں فرشتہ ہیں جناب واعظ ہم بھی کہتے تو یہی ہیں کہ وہ انسان

Read more

خدا کی لاٹھی – لیو ٹالسٹائی کی کہانی

ساشا ایک کھاتا پیتا خوبرو نوجوان تھا۔ اس کا شمار ولاڈیمار کے ممتاز تاجروں میں ہوتا تھا۔ ایک دن اس نے ماسکو کے روشنیوں کے میلے میں جانے کا ارادہ کیا جہاں دوسرے شہروں سے اس کے اور تاجر دوست بھی آ رہے تھے۔ میلے کی صبح اس کی بیوی کیتھرین کچھ پریشان سی تھی۔ ساشا نے وجہ پوچھی تو اس نے کہا ”ساشا میں نے کل رات ایک برے شگون والے خواب میں دیکھا کہ تم میلے سے لوٹے ہو اور تمھارے سر کے سب بال سفید ہو چکے ہیں۔ تم آج نہ جاؤ ساشا“۔

ساشا نے اس کی بات ہنسی میں ٹال دی۔ ”تو بہت بھولی ہے کیتھرین، یہ تو اچھا شگون ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ میری عمرلمبی ہے“۔ ساشا گھوڑاگاڑی میں بیٹھا اور سفر پر روانہ ہو گیا۔ راستے میں اسے ولاڈیمارکا ایک اور سوداگر ملا۔ جو اسی سمت جا رہا تھا۔ رات گئے دونوں نے ایک سرائے میں اکٹھے ٹھہرنے کا فیصلہ کیا۔ سرائے کے مالک نے انہیں دو کمرے ساتھ ساتھ دے دیے۔ ساشا نے اندھیرے منہ اٹھ کر کمرے کا بل ادا کیا اور میلے کی جانب روانہ ہو گیا۔

Read more

بدیسی ادب: ماچس والی لڑکی

بلا کی سردی تھی۔ برف تھی کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ شام اندھیری ہونی شروع ہو گ ئی تھی۔ بالآخر رات پڑ گیٔ۔ سال کی آخری رات۔ ایک چھوٹی سی غریب بچی، ننگے سر، ننگے پاؤں گلیوں میں پھر رہی تھی۔ جب وہ گھر سے نکلی تھی تو اس کے پاؤں میں اس کے اپنے نہیں بلکہ ماں کے چپل تھے۔ لیکن وہ کس کام کے؟ وہ تو اس کے ننھے ننھے پاؤں کے لئے بہت

Read more

عدالتوں پر مقدمات کا بھاری بوجھ اور تنازعات کا متبادل حل

پاکستان میں نیا عدالتی سال حال ہی میں شروع ہوا ہے۔ لاء اینڈ جسٹس کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ملک کی عدالتوں میں تقریباً بیس لاکھ کیسز زیر التوا ہیں۔ ان کیسز کے حل نہ ہونے کی بہت سی وجوہات ہیں۔ کرپشن، بد انتظامی اور نا اہلی تو اظہر من الشمس ہیں ہی لیکن بنیادی سبب عدالتوں پر مقدمات کا ناقابل برداشت بھاری بوجھ ہے۔ ظاہر ہے کسی بھی معاشرے میں تنازعات سے تو مفر نہیں۔

Read more

بدیسی ادب: چیخوف کا وانکا

بیچارہ وانکا صرف نو سال کا تھا جب وہ یتیم ہو گیا تھا۔ ماں باپ کے مرنے پر اس کے دادا نے کچھ عرصہ تو اسے اپنے ساتھ رکھا لیکن بعد میں اس کو ماسکو بھیج دیا جہاں وہ ایک موچی کے پاس شاگردی کر رہا تھا۔ اگرچہ پیسے تونہیں ملتے تھے لیکن موچی اور اس کی بیوی نے اسے رہنے کے لیے جگہ دے دی تھی اور کھانے کی ذمہ داری بھی لے لی تھی۔ اسے موچی کے گھر

Read more

بدیسی ادب: کیٹ شوپن کا معصوم

دن خوشگوار تھا۔ مادام نے کوچوان کو بگھی تیار کرنے کا حکم دیا تاکہ وہ روشیل سے مل لیں مادام یہ سوچ کر مسکرا رہی تھیں کہ روشیل جو کل تک خود ایک ننھی سی بچی تھی آج ایک بیٹے کی ماں ہے۔ مادام کو وہ دن یاد آیا جب صاحب کی بگھی حویلی میں داخل ہوئی تھی جہاں ڈیوڑھی کے ستون کے ساتھ لگی تقریباٌ ڈیڑھ سال کی ایک بچی غافل سو رہی تھی۔ مادام اور گھر کے ملازمین

Read more

ڈاکیہ: انتون چیخوف کی کہانی

رات بہت بیت چکی تھی۔ تین بج رہے تھے۔ ڈاکیہ اپنی علی الصبح ڈیوٹی پر جانے کی تیاری تقریباٌ مکمل کر چکا تھا۔ اپنی وردی کے اوپر گرم اوور کوٹ چڑھایا ہوا تھا۔ سر پر ڈاکخانے کی مہر لگی ٹوپی پہنےوہ منتظر تھا کہ ڈرائیور ڈاک کے سب تھیلے تین گھوڑوں والی گاڑی میں لاد دے جو ابھی دروازے پر آ کر کھڑی ہوئی تھی۔ غنودگی کا مارا پوسٹ ماسڑ اپنی کرسی پر بیٹھا اونگھ  رہا تھا۔ اسکی میز کرسی

Read more

کانٹے والا

چارلس ڈکنز 7 فروری 1812ء کو لینڈ پورٹ برطانیہ میں پیدا ہوا۔ بچپن میں نامساعد حالات سے گزرا۔ جس کی جھلک اس کے ناول اولیور ٹوسٹ اور ڈیوڈ کاپر فیلڈ میں ملتی ہے۔ عملی زندگی کا آغاز ایک وکیل کے منشی کی حیثیت سے کیا۔ بعد ازاں شارٹ ہینڈ سیکھ لی اور ایک اخبار کا رپورٹر ہو گیا۔ ان دونوں ملازمتوں میں ڈکنز کو وہ سب مواد دستیاب ہوا جو بعد میں اس نے اپنے ناولوں میں استعمال کیا۔ 1836ء

Read more

پاکستان میں خواتین کی جنسی ہراسانی کا خاتمہ۔  خواب یا حقیقت؟

کیا پاکستان سےخواتین کی جنسی ہراسانی ختم ہو سکتی ہے؟ ایک لفظ میں اس کا جواب ہے ”نہیں“۔ یہ ایک لفظ کا جواب اس لئے کہ پاکستان ہی میں نہیں دنیا کے کسی بھی ملک میں، ہہت سنجیدہ کوششوں کے باجود، جنسی ہراسانی کا مکمل سد باب نہیں ہو سکا۔ اس کی ایک سیدھی سادھی اور ناقابل تسلیم وضاحت یہ بھی دی جاتی ہے کہ جب تک انسان میں جنسی جبلت موجود ہے، اس کا اظہار انسانی روئے اور سلوک

Read more

کیا اردگان پاکستان کے لیے ماڈل بن سکتے ہیں؟

ترکی کے حالیہ انتخابات میں رجب طیب اردگان کی غیر متوقعہ اکثریت سے کامیابی پر پاکستان کے بہہت سے سیاسی، مذہبی اور صحافتی حلقوں میں خوشی کے شادیانے بج رہے ہیں۔ ان کی فتح کو عالم اسلام اور جمہوریت کی فتح قرارا دیا جا رہا ہے۔ اور ان کی شخصیت کو ایک مثالی مسلمان حکمران کے طور عوام کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔ ترکی کے ان انتخابات سے پاکستان بہت کچھ سیکھ سکتا ہے لیکن، شاعر سے معذرت

Read more

ملانیہ ٹرمپ کو کسی کی پروا نہیں، آخر کیوں؟

پاکستان کے کسی بھی ٹیلیوژن چینل کے سیاسی پروگرام کو دیکھیں تو پینلز کے ممبران میں، جن کو اگر عقل کل ہونے کا دعوی نہ بھی ہو غلط فہمی ضرور ہوتی ہے، بہت کم اتفاق رائے دیکھنے یا سننے میں آتا ہے۔ لیکن ایک فقرہ جس کے بغیر کوئی پروگرام مکمل نہیں ہوتا اور جسے ہر کوئی بار بار ایسے دہراتا ہے جیسے صرف انہیں اندر کی کوی خاص خبر معلوم ہے۔ وہ فقرہ ہے کہ ’دیکھیں جی، در اصل

Read more