لیو ٹالسٹائی کی کہانی: دو گز زمین

پیام ایک غریب مزارع تھا جو تین ایکڑ زمین کے ایک ٹکڑے کو کاشت کرکے اپنے خاندان کو پال رہا تھا۔ ایک دن ماسکو سے اس کی بیوی کی بڑی بہن اس کے گاؤں آئی۔ دُپہر کا کھانا کھانے کے بعد دونوں بہنیں باتوں میں مصروف ہو گئیں۔ ان کی باتیں ِختم ہوتے کا نام…

Read more

نازعات کو ختم کرنے کے متبادل طریقے

اے۔ ڈی۔ آر۔ اور آپ کا اختیار کثرت استعمال سے اختیار کا یہ اظہار اپنی اہمیت اور اپنے صحیح معانی سے خاصی حد تک محروم ہو چکا ہے۔ تیسری قسط میں ہم نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ اصل اے۔ ڈی۔ آر۔ کیا ہے۔ اور یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ اگلی قسط میں اس…

Read more

شرط – انتون چیخوف کی ایک کہانی

ماسکو کی اونچی سوسائٹی کی پارٹی عروج پر تھی۔ میزبان ایک بینک کا مالک تھا۔ مہمانوں میں جرنیلوں، سیاست دانوں اور اعلی افسروں کے علاوہ ایک نوجوان وکیل بھی شامل تھا۔ شراب کا دور چل رہا تھا۔ گفتگو نہ جانے کیسے سزائے موت اور عمر قید کی قانونی باریکیوں پر پہنچ گئی۔

کچھ کا خیال تھا کہ سزائے موت بھیانک سزا ہے جس کا روس جیسے تہذیب یافتہ ملک میں کوئی جواز نہیں۔ کچھ کا کہنا تھا کہ سزائے موت میں تو ملزم صرف ایک دفعہ مرتا ہے لیکن عمر قید میں ہر دن ایک بتدریج موت کا دن ہوتا ہے۔

Read more

ہیروں کی مالا۔ گائی ڈی موپاساں کی ایک کہانی

شارلٹ اتنی خوبصورت تھی کہ ہر کوئی کہتا اس کو تو کسی محل میں پیدا ہونا چاہیے تھا۔ لیکن وہ ایک سبزی فروش کے گھر پیدا ہوئی جہاں اس کی قسمت پر غربت کی مہر لگ چکی تھی۔

بڑھتی جوانی نے شارلٹ کو اپنی خوبصورتی اورغربت کا شدید ا حساس دلایا۔ وہ کتنی کتنی دیر آئینے کے سامنے کھڑی اپنے حسن کو سراہتی۔ پھر اپنی بد قسمتی پراس کی آنکھیں آنسووں سے نم ہو جاتیں۔ وہ تصور میں اس شہزادے کا انتظار کرتی جس کے بارے میں اس نے کہانیوں میں پڑھا تھا۔ لیکن یہ سب خواب دھرے رہ گئے جب اس کی شادی محکمہ تعلیم کے ایک کلرک سے ہو گئی۔

الگزینڈر چاہتا تھا کہ شارلٹ کو ہر آسائش ملے۔ اس نے ایک لڑکی ملازم رکھ لی تھی جو ہر روز آ کر برتن دھوتی، کھانا پکاتی، اور باہر کے کام کاج کر تی۔

Read more

آپ کے ذاتی تنازعات۔ چند سوال

تنازعات کے اصل متبادل حل پر مضامین کی سیریز کی دوسری قسط میں ہم نے ایسے طریق کار کے بارے میں گفتگو کرنے کا وعدہ کیا تھا جس کا اطلاق آپ اپنے ان تنازعات پر کر سکیں جن کا آپ کو سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ آج کی اس تیسری قسط میں ہم آپ سے چند سوالات کریں گے۔ بغیر کسی تکلف اور لحاظ کے۔ اور آپ کو بھی ان کا جواب بھی بغیر لگی لپٹی کے دینا ہوگا۔ یہ آپ کے لئے اچھی خبر بھی ہے اور بری بھی۔ پہلے اچھی خبر۔ وہ یہ ہے کہ یہ سب معاملہ صیغہ راز میں رہے گا۔ اگر آپ خود نہ چاہیں تو آپ کے علاوہ کسی اور کو پتہ نہیں چلے گا کہ آپ کا جواب کیا ہے۔ آپ کسی ندامت کے شکار نہیں ہوں گے۔ بری خبر یہ کہ صحیح جواب آپ کوخود اپنی نظروں میں قصور وار بھی ٹھہرا سکتا ہے۔

Read more

تنازعات کے متبادل حل (اے۔ ڈی۔ آر)

پہلی قسط میں ہم نے سات عنوان گنوائے تھے جن کی تفصیل اگلی قسطوں میں بتانے کا وعدہ کیا تھا۔ کچھ احباب نے شکوہ تو نہیں لیکن اس بات کی نشان دہی ضرور کروائی کہ اگرچہ میری تحریروں میں جہاں اردوکے متبادل الفاظ مل سکیں وہاں میں انگریزی کے الفاظ استعمال نہیں کرتا۔ لیکن اس…

Read more

مسئلہ کیا ہے؟

آپ سے ایک سیدھا سادہ سوال ہے۔ کیا آپ کا کبھی گھر میں، یا دفتر میں، یا کسی ہمسائے یا بزنس پارٹنر کے ساتھ کوئی جھگڑا ہوا ہے؟ اگر آپ فرشتہ نہیں ہیں اور باقی لوگوں کی طرح گوشت پوست کے جیتے جاگتے انسان ہیں تو میں وثوق سے کہ سکتا ہوں کہ آپ کا…

Read more

خدا کی لاٹھی – لیو ٹالسٹائی کی کہانی

ساشا ایک کھاتا پیتا خوبرو نوجوان تھا۔ اس کا شمار ولاڈیمار کے ممتاز تاجروں میں ہوتا تھا۔ ایک دن اس نے ماسکو کے روشنیوں کے میلے میں جانے کا ارادہ کیا جہاں دوسرے شہروں سے اس کے اور تاجر دوست بھی آ رہے تھے۔ میلے کی صبح اس کی بیوی کیتھرین کچھ پریشان سی تھی۔ ساشا نے وجہ پوچھی تو اس نے کہا ”ساشا میں نے کل رات ایک برے شگون والے خواب میں دیکھا کہ تم میلے سے لوٹے ہو اور تمھارے سر کے سب بال سفید ہو چکے ہیں۔ تم آج نہ جاؤ ساشا“۔

ساشا نے اس کی بات ہنسی میں ٹال دی۔ ”تو بہت بھولی ہے کیتھرین، یہ تو اچھا شگون ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ میری عمرلمبی ہے“۔ ساشا گھوڑاگاڑی میں بیٹھا اور سفر پر روانہ ہو گیا۔ راستے میں اسے ولاڈیمارکا ایک اور سوداگر ملا۔ جو اسی سمت جا رہا تھا۔ رات گئے دونوں نے ایک سرائے میں اکٹھے ٹھہرنے کا فیصلہ کیا۔ سرائے کے مالک نے انہیں دو کمرے ساتھ ساتھ دے دیے۔ ساشا نے اندھیرے منہ اٹھ کر کمرے کا بل ادا کیا اور میلے کی جانب روانہ ہو گیا۔

Read more

انتون چیخوف کا افسانہ: “دکھ”

پہاڑوں سے گھرے اس گاؤں سے جہاں باکو رہتا تھا بڑے شہر کا فاصلہ پچاس کلو میٹر تھا۔ باکو ایک ترکھان تھا، خراد کی مشین اس کی زندگی کا محور تھی، اسے اپنی خراد اور اپنے ہنر پر بڑا فخر تھا۔ وہ اس خراد پر لکڑی کی خوبصورت چیزیں ایسی مہارت سے بناتا کہ دور…

Read more

بدیسی ادب: ماچس والی لڑکی

بلا کی سردی تھی۔ برف تھی کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ شام اندھیری ہونی شروع ہو گ ئی تھی۔ بالآخر رات پڑ گیٔ۔ سال کی آخری رات۔ ایک چھوٹی سی غریب بچی، ننگے سر، ننگے پاؤں گلیوں میں پھر رہی تھی۔ جب وہ گھر سے نکلی تھی تو اس کے پاؤں…

Read more