جن دنوں میں قصبے میں رہتا تھا اپنا زیادہ تر فارغ وقت کیاریوں کے چوکیدار، ساوک، کے ساتھ گزارنا میرا معمول تھا۔ قصبے سے ذرا باہر، ندی کے کنارے یہ کیاریاں کھاتے پیتے گھرانوں کو الاٹ ہوئی تھیں۔ ان میں وہ اپنے گھر کے استعمال کے لئے سبزیاں پھل وغیرہ اگاتے تھے۔
یہ میری پسندیدہ جگہ تھی۔ یہاں میں مچھلی کے شکار کے بہانے جاتا اور ڈور میں کانٹا لگا کر آرام سے ساوک سے باتیں کرتا رہتا۔ مجھ میں اور ساوک میں کوئی بات مشترک نہیں تھی۔ وہ پچیس سال کا خوش شکل، ٹھوس بدن نوجوان تھا۔
قصبے میں اس کی شہرت بری نہیں تھی۔ لیکن وہ پرلے درجے کا کاہل تھا۔ کام کاج کے بارے میں بالکل نکھٹو۔ اسے کسی کی نوکری سے دلچسپی نہیں تھی۔ ذہین بھی تھا اور تھوڑا بہت پڑھ لکھ بھی لیتا۔ لیکن نہ ہی ذہانت نے اور نہ پڑھائی لکھائی نے اس کا کچھ بگاڑا۔ اس کی ماں بھیک مانگ کر گزارا کرتی اور جب اسے بیکار رہنے پر لعن طعن سننی پڑتی تو وہ چند دن کے لئے کوئی نوکری کر لیتا لیکن اس پر ٹکتا نہیں تھا۔
Read more