میری اماں کی سلائی مشینیں اور مرغیاں اور میرا پچھتاوا
یہ ساٹھ کی دہائی کا زمانہ تھا۔ وحدت کالونی لاہور کے سرکاری گھر کے کشادہ صحن میں کٹ کٹ کرتی دوڑتی پھرتی مرغیاں آج کل رہ رہ کر یاد آتی ہیں۔ ہمارے ساتھ والے گھر میں بہت ہی انٹلیکچوئل لوگ رہتے تھے۔ ارشاد حسین کاظمی اس وقت کے صحافی تھے۔ بڑی بہن پائلٹ اسکول کی پرنسپل تھیں اور چھوٹی بہن نرگس اماں کی گہری دوست ہوئیں۔ نرگس باجی نے ہی مجھے پہلی بار قلم پکڑنا اور لکھنا سکھایا۔ مگر جانے کیا سوچ کر وہ میری اماں کو مرغیوں کے کاروبار کی طرف لے آئیں۔
بہت ہی بڑا دڑبا بنوایا گیا، جس میں چار آدمی آرام سے ٹانگیں لمبی کرکے سو جائیں! آناً فاناً اس پنجرے میں مرغیاں بھی آباد ہوگئیں۔ نرگس باجی دیوار کے اُس طرف کھڑے ہوکر کسی ماہرِ مرغبان کی طرح مرغیوں کی پرورش کے لیے اماں کو ٹریننگ دیا کرتی تھیں۔ مرغیوں کا نان نفقہ طے کرتیں۔ انڈوں کی افزائش کا طریقہ سمجھاتیں۔ اماں ان کی ہدیات پر عمل کرتی جاتیں۔ تب مجھے پہلی بار پتہ چلا کہ مرغیوں کے لیے مرغا بھی چاہیے ہوتا ہے!
صحن بھر میں مرغیاں مرغے کے سنگ دوڑتی پھرتیں۔ مرغے کے آنے سے برکت بڑھی اور چھوٹے چھوٹے چوزوں کا بھی اضافہ ہونے لگا۔ چوزوں کی آمد والا وقت اماں اور نرگس باجی کے لیے بہت ہی اہم ہوتا تھا۔ اماں چوزوں کی آمد پر بطورِ خاص نگاہ رکھتیں۔ چوزے دنیا میں آجاتے تو اماں بڑے پیار سے ان ننھے ننھے سنہری رنگ چوزوں کو اپنے نفیس ہاتھوں میں اٹھاتیں۔ ان کے پروں کو پیار سے چھوتیں۔ دن بہ دن غور کرتیں کہ آج چوزے کتنے بڑے ہوئے ہیں! چوزوں کی معصومیت پر فدا ہوتیں۔
جذباتی ہوکر نرگس باجی کو بتاتی تھیں کہ یہ کس طرح ماں کے پروں تلے سمٹ کر بیٹھتے ہیں! کیسے ماں کو پہچانتے ہیں! اللہ کی قدرت کی تعریف کرتے نہ تھکتی تھیں۔ تخلیق کے اس نظام کو سراہتیں۔ اماں کو خدا سے براہِ راست باتیں کرنے کی عادت تھی۔ اس لیے یہ تعریف وہ براہِ راست آسمان کی طرف دیکھ کر کرتیں اور ایسے میں ان کی آنکھیں نم ہوجاتیں۔ مرغیوں اور ان کے چوزوں کی بلی سے حفاظت بھی ایک بڑا جوکھم تھا۔
ایک ملازم لڑکا اس پہرے پر مقرر تھا۔ مرغیاں دڑبے سے باہر چہل قدمی کے لیے بال بچوں سمیت نکلتیں تو پہریدار ان کے ساتھ ساتھ چل رہا ہوتا کہ کہیں بلی انہیں جھپٹ نہ لے۔ مگر میرا کند ذہن یہاں بھی نالائق ثابت ہوا! مجھے مرغیوں سے ڈر لگتا تھا۔ جونہی وہ دڑبے سے باہر آتیں، میں چیخنا شروع کردیتی۔ مجھے لگتا کہ یہ مجھے نوچ کھائیں گی۔ میری بھاگ دوڑ اور چیخ پکار سے صحن میں ایک افراتفری سی پھیل جاتی۔ مجھے لگتا کہ مرغیاں میرے پیچھے پڑی ہوئی ہیں اور مرغیوں کو لگتا کہ میں ان کے پیچھے پڑی ہوں۔
پہریدار الگ حواس باختہ ہوجاتا۔ یوں اس افراتفری میں، ایک دن ایک ننھا سا، سنہری رنگ چوزہ پہریدار لڑکے کے پیروں تلے آکر مرگیا۔ بہت ہی المناک منظر ہوا وہ! اماں کے آنسو کئی دن تک تھم نہ سکے۔ نرگس باجی بیچ کی دیوار پر کھڑے ہوکر اماں کی غمگساری کرتے ہوئے خود بھی آنسو بہاتیں۔ اس کے بعد بابا نے حکم دے دیا کہ اب اس گھر میں کوئی پرندہ نہیں آئے گا اور نہ پنجرہ بنے گا۔ میری بیٹی ڈرتی ہے ان سے۔ یوں مستقبل میں جو کاروبار میرے کام آتا، اس سے بھی میں محروم ہوئی۔
آج میڈیا کے ایک دفتر میں میڈیا پر فاتحہ پڑھتے ہوئے سوچا کرتی ہوں کہ کاش تھوڑی سی ہمت کرلیتی۔ آج والدین کی طرف سے مجھے سلائی مشینوں کے ساتھ مرغیوں کا کتنا بڑا کاروبار وراثت میں ملا ہوا ہوتا! ڈالرز میں آمدنی ہورہی ہوتی! نہ صرف حکومتِ وقت کو قرضہ دیتی بلکہ بڑی شان سے عدالتِ عالیہ میں پیش ہوکر میں بھی بتاتی کہ حضور! یہ کھربوں کا کاروبار مجھے والدین سے وراثت میں ملا ہے۔ یہ سلائی مشینیں، جن سے پورے ملک کا کاروبار چل رہا ہے اور یہ مرغیاں، جن سے پورے ملک کی بیروزگاری ختم ہونے جارہی ہے، میرا ہی تو ہے! مگر افسوس ایسا ہو نہ سکا! مجھے لکھنے کے علاوہ کوئی کام نہ آیا۔ اماں نے میری نالائقی دیکھ کر ضرور کچھ دعائیں کی ہوں گی، جو میرا زادِ سفر ہیں ابھی تک۔

