ملک کی ترقی کے لئے صحت ضروری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ملک کی ترقی کہ لئے صحت بہت ضروری ہوتی ہے۔ ایک صحتمند معاشرہ ہی ایک اچھی قوم بناتا ہے۔ ایک صحتمند دماغ ملک کی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں معیاری صحت اور تعلیم کی کمی پائی جاتی ہے اور عوام کو ہسپتالوں میں علاج کے دوران قافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سرکاری ہسپتالوں کی خراب حالت کسی سے پوشیدہ نہیں جہاں پر عملہ کا لوگوں کے ساتھ رویہ بہت برا ہوتا ہے۔

اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں ہسپتالوں کے شعبہ حادثات میں عام طور پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ ڈاکٹر مریضوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتے۔ اور ایک عجیب سی صورت ہوتی ہے کئی بار، ہسپتال کے عملے فون پر گھنٹوں تک بات کرتے رہتے ہیں جبکہ مریض اپنا بلڈ پریشر چیک کروانے کا منتظر ہوتا ہے۔ معمولی چیزوں کے بارے میں مریض کے رشتہ داروں سے لڑنے کے واقعات بہت سے ہسپتالوں میں ایک معمول بن گئے ہیں۔ پچھلی حکومت نے صحت کے شعبے میں کوئی قابل ذکر تبدیلی نہیں کی، لیکن اب، ایسا لگتا ہے کہ تحریک انصاف اس شعبہ میں تبدیلیاں لانے جا رہی ہے۔

اس شعبے میں طویل مدتی اصلاحات لانے کے لئے صحت کے شعبے کا بجٹ بھی بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ابھی حال ہی میں، پنجاب فوڈ اتھارٹی نے ہزاروں لیٹر خراب دودھ کو ضایع کر دیا ہے۔ یہ بلا شبہ ایک اچھا قدم ہے، اور ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ حکومت اب ملک کی مجموعی صحت کو بہتر بنانے کے لئے کام شروع کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ، ایسی خبریں بھی سامنے آئی ہیں کہ مشہور ریستوران میں کھانوں کا معیار اچھا نہیں ہوتا۔ تحقیق کی ضرورت ہے کہ ملک میں ایسے ریستوران کیوں چل رہے ہیں۔

سرکاری ہسپتالوں کو بہتر بنانے کے اقدامات کرتے ہوئے، حکومت کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ کچھ نجی ہسپتالوں کی حالت بھی اتنی خاص بہتر نہیں ہوتی۔ یہ ہسپتال مریضوں سے ایک بھاری فیس لیتے ہیں لیکن ان کا عملہ بھی تربیت یافتہ نہیں ہوتا۔ اکثر، ڈاکٹر طبی سازوسامان کی کمی کی وجہ سے مریض کو دوسرے ہسپتال بھیج دیتے ہیں۔ تمام چھوٹے اور بڑے ہسپتالوں کے انتہائی نگہداشت یونٹس میں وینٹلیلٹر، سی ٹی اسکین، ایم آر آئی، اور دیگر ایسی سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

دل کے مریضوں کی خاص دیکھ بھال کا نظام ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ، پاکستان کے تمام سرکاری اور نجی ہسپتالوں کے ڈاکٹروں کو تربیت دینے کے لئے ایک میکانزم بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ ہم نے بہت مرتبہ دیکھا ہے کہ مریضوں کے رشتہ دار کبھی کبھی ڈاکٹروں پر غلط انجکشن لگانے کا الزام لگا دیتے ہیں۔ کچھ ڈاکٹر آپریشن کرنے کے بعد مریضوں کے جسم کے اندر اشیاء جیسے تولیے اور کینچی بھی بھول جاتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات نے لوگوں کی زندگی خطرے میں ڈال دی ہے اور ڈاکٹروں کو مناسب تربیت فراہم کر کے ہی اس صورتحال کو روکا جا سکتا ہے۔

بہت سے کاموں کے ساتھ ساتھ مریضوں اور ان کے رشتہ داروں کی سہولیات کے لئے ہسپتالوں میں پناہ گاہیں بنانے کی ضرورت ہے۔ مزید برآں، مریضوں کو تجویز کردہ ادویات بھی بہت سی فارمیسیوں پر آسانی سے دستیاب نہیں ہوتیں۔ کئی بار، جب ایک مریض ڈاکٹر سے دوائیوں کا نسخہ حاصل کرنے کے بعد گھر پہنچ جاتا ہے، تو پتہ چلتا ہے کہ مقررہ دوا اسٹاک سے باہر ہے یا صرف ہسپتال کی اپنی فارمیسی پر ہی مل سکتی ہے۔ اکثر، ڈاکٹر اس طرح کی اینٹی بائیوٹک لکھ دیتے ہیں کہ اسٹور مریض کو فراہم نہیں کر پاتا۔

بہت سی تحقیقات کے مطابق، اینٹی بائیوٹکس کو صرف اس وقت مقرر کیا ج اسکتا ہے جب عام دوا مریض کا علاج نہ کرسکے۔ لیکن پاکستان میں، بہت سے ڈاکٹر عام طور پرسردی یا انفلوئنزا کے علاج کے لئے بھی مریضوں کو اس طرح کی ادویات لکھ دیتے ہیں۔ کچھ ڈاکٹر ایسے بھی ہیں جو کمپنیوں کے ساتھ ایک معاہدہ کر لیتے ہیں کہ وہ اپنے مریضوں کو صرف ایک خاص کمپنی کی گولی خریدنے کے لئے کہیں گے۔ اس طرح، وہ دواساز کمپنیوں سے پیسے کماتے ہیں۔

اس طرح کے کاموں کی روک تھام کے لئے ایک پروگرام بنانے کی ضرورت ہے اگر حکومت واقعی صحت کے شعبے میں تبدیلی لانے میں سنجیدہ ہے۔ جب ہم پاکستان میں صحت کی سہولیات کے بارے میں بات کرتے ہیں تو ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ملک کے چھوٹے اور بڑے شہروں میں غیر قانونی طور پر بہت سے چھوٹے نجی ہسپتال موجود ہیں۔ یہ ہسپتال رجسٹرڈ نہیں ہیں، ان ہسپتالوں میں جعلی ڈاکٹر ہوتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں، میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ لاہور اور کراچی میں پولیس کی مدد سے کچھ غیر قانونی کلینک کام کررہے ہیں۔

ان کلینکس میں، غریب لوگ اپنے اعضاء فروخت کردیتے ہیں۔ مافیا پھر بیرون ملک اداروں کو لاکھوں روپے میں یہ اعضاء فروخت کرتا ہے۔ حکومت کو اس طرح کے کلینکس پر پابندی لگانے کے لئے تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ابھی حال ہی میں، صدر ڈاکٹر عارف علوی نے اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ صحت اور تعلیم ملک کی ترقی میں کردار ادا کرسکتے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت اس پروگرام کو کیسے لاگو کرے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
مہمیز علی کی دیگر تحریریں