اداروں کی قومی کانفرنس: مسئلہ کا حل یا ایک نیا پنڈورا باکس


نامزد چیف جسٹس نے ملک کو درپیش مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں غور کرنا چاہیے کہ کس طرح انتظامی ادارے اور محکمے سیاسی قیادت کی پالیسیوں پر عمل کرتے ہوئے انتظامی لحاظ سے خود مختار ہوسکتے ہیں تاکہ اچھا نظم حکومت سامنے آسکے۔ ہمیں کسی تردد اور پریشانی کے بغیر حکومت کے معاملات میں مسلح افواج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے کردار کے بارے میں بھی بات کرنی چاہیے‘ ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے تسلیم کیا کہ سویلین قیادت کے اختیار کو حاصل برتری اور سول قیادت کے احتساب کا معاملہ جمہوری نظام کا لازمی حصہ ہے۔ اس لئے ایسا طریقہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے جمہوریت کو نقصان نہ پہنچے۔ اگر ہم ایک ترقی پذیر جمہوریت کے طور پر آگے بڑھنا چاہتے ہیں جہاں آئین کی حکمرانی ہو تو ہمیں ان معاملات پر بات کرنے سے گھبرانا نہیں چاہیے بلکہ حوصلہ مندی سے ان کا سامنا کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس مقصد کے لئے مختلف اداروں کے درمیان مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔ اور کہا کہ ’اب ملک اس مقام تک پہنچ چکا ہے کہ ماضی کی غلطیوں کا جائزہ لیتے ہوئے‘ چارٹر آف گورننس ’بنانا چاہیے تاکہ ماضی کی غلطیاں نہ دہرائی جائیں‘ ۔

یہ منظر نامہ پیش کرتے ہوئے جسٹس کھوسہ اس کا یہ حل بتاتے ہیں کہ ’صدر عارف علوی ایک ایسا اجلاس بلائیں جس میں پارلیمنٹ، عدالت، حکومت کے علاوہ فوج اور انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان شریک ہوں۔ اداروں کا یہ سربراہی اجلاس ایک ایسا عملی پالیسی فریم ورک بنا سکتا ہے جس کے تحت ریاست کے تمام ادارے اور شعبے آئین کی متعین حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنے اختیارات کا استعمال کریں۔ اس اجلاس میں اس بات پر بھی غور کیاجائے کہ ماضی میں عدلیہ، حکومت یا پارلیمنٹ نے کیا غلطیاں کی ہیں۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ‘ ہمیں یہ بات کرنی چاہیے کہ ماضی میں کہاں اور کیسے ایک دوسرے کے اختیار کو سلب کیا گیا تاکہ مستقبل کے لئے واضح لائحہ عمل بنا لیا جائے ’۔ انہوں نے انتظامی پالیسی معاملات میں عدلیہ کی مبینہ مداخلت کے سوال پر بات کرنے کی دعوت بھی دی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے تجویز دی کہ مقننہ کو قانون سازی کے کام تک محدود رکھا جائے اور اسے ترقیاتی فنڈز کی تقسیم، نوکریوں کی تقسیم اورسرکاری ملازموں کے تبادلوں او رترقی کے لئے استعمال کرتے ہوئے انتظامیہ کے معاملات میں مداخلت کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔ اسی طرح اختیار کے غلط استعمال اور بدعنوانی کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ جو نظم حکومت میں خرابیاں پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے۔

نئے چیف جسٹس کی طرف سے مسائل کی نشاندہی کے لئے کی گئی باتیں درست ہونے کے باوجود ان کے حل کے لئے پیش کی جانے والی تجویز نامناسب اور ناقابل عمل ہے۔ اس پر عمل کرنے سے تنازعات اور اختلافات کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ اگر ملک کے آئینی مسائل کو حل کرنے کے لئے پارلیمنٹ کی بجائے ایک ایسی کانفرنس میں معاملات طے کیے جائیں گے جہاں فوج، ایجنسیوں اور عدلیہ کے نمائیندے بھی موجود ہوں گے تو کل کو کسی طرف سے یہ مطالبہ بھی سامنے آسکتا ہے کہ قومی اہمیت کے قانونی معاملات کو عدالت کی بجائے کسی قومی کانفرنس میں حل کیاجائے جہاں مدعی اور مدعا علیہ دونوں موجود ہوں اور مل جل کر متنازعہ امور کا حل تلاش کرلیں۔ سوچنا چاہیے کہ اس طرح کیوں کر انصاف کے تقاضے پورے ہوسکتے ہیں۔

نامزد چیف جسٹس کی یہ بات درست ہے کہ ماضی کی غلطیوں کا جائزہ لیا جائے اور مستقبل میں ان کے تدارک کے لئے کام کیا جائے۔ لیکن یہ کام اسی وقت ہو سکتا ہے جب ملک کے آئین کے تحت جس ادارے کو جو اختیار حاصل ہے، اس پر قدغن عائد کرنے کا کوئی انتظام قبول کرنے سے انکار کیا جائے۔ ماضی کا جائزہ لینے کے لئے بطور چیف جسٹس جناب آصف سعید کھوسہ کو یہ موقع مل رہا ہے کہ وہ باقاعدہ سماعت کے ذریعے ماضی میں آئین شکنی کو نظریہ ضرورت کے تحت جائز قرار دینے والے فیصلوں پر نظر ثانی کرتے ہوئے انہیں مسترد کردیں اور ایسے تمام ججوں کو آئین شکن قرار دیں جنہوں نے آئینی حلف کے باوجود مختلف ادوار میں فوجی حکمرانوں کے پی سی او پر حلف لینا قبول کرلیا تھا۔

اسی طرح ان کے پاس آئین کی بالادستی اور اداروں کی حدود مقرر کرنے کا ایک نادر موقع سابق فوجی آمر پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کے الزام کا مقدمہ بھی ہے۔ اس معاملہ پر سرعت سے غور اور فیصلہ کرتے ہوئے جسٹس کھوسہ بلاشبہ ملک کو ایسا ’قانونی فریم ورک‘ دے سکتے ہیں جس کی روشنی میں نہ تو مستقبل کا کوئی جرنیل کبھی آئین شکنی کا حوصلہ کرے اور نہ ہی کوئی جج اس آئین شکنی کو جائز قرار دینے کا اقدام کرسکے۔ اداروں کے درمیان اختیار کا جو توازن آئین نے قائم کیا ہے اسے یقینی بنانے کے لئے جسٹس کھوسہ کے پاس ایک مقدمہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے کے فیصلہ پر نظر ثانی سے متعلق بھی موجود ہے۔ ملک کی پارلیمنٹ متفقہ طور سے بھٹو کی پھانسی کو عدالتی قتل قرار دے چکی ہے۔ پارلیمنٹ کی یہ قرار داد ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے ماتھے پر کلنک کی حیثیت رکھتی ہے۔ نئے چیف جسٹس یہ داغ دھو سکیں تو وہ ملک کی عدالتی تاریخ میں امر ہو سکتے ہیں۔

پاکستان کے مسائل کی بنیاد افہام و تفہیم کی کمی نہیں بلکہ غیر منتخب ادارو ں کا یہ اصرار ہے کہ وہ قومی معاملات طے کرنے میں پارلیمنٹ اور اس کی منتخب کردہ حکومت سے زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی قومی کانفرنس کی تجویز اس مزاج کی توثیق کا سبب بنے گی۔ اسی لئے یہ غلط بھی ہے اور اسے مسترد کرنا بھی ضروری ہے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali