فہمیدہ ریاض: وجود کرب سے آگے
فہمیدہ ریاض نظریاتی، سیاسی اور سماجی نقطہ نظر رکھتی تھیں، انھیں اپنے منصب اور مرتبے کا احساس تھا۔ اپنے چوتھے مجموعہ کلام ”کیا تم پورا چاند نہ دیکھو گے“ میں کہتی ہیں
میرے معبود یہ کس گناہ کی سزا ہے
تو نے یہ کیا قہر کیا
میرے ہاتھ میں قلم تھما دیا
فہمیدہ ریاض نے بھی عقل سے زیادہ عشق اور یقین پر بھروسا کیا اور ذات کے ایقان نے انھیں نرم و نازک جذبات کے تجربات کے اظہار کا اعتماد بخشا
بے بسی کے پنجے میں
ہنستی غصیلی رات
پنکھ پھڑپھڑاتی ہے
میری کوکھ میں ہر آن
پل رہا ہے سناٹا
اور میری تنہائی
چوستی ہے سینے سے
گرم دودھ کا دھارا
(رات تلملاتی ہے۔ دھوپ)
یہ غیر معمولی اور غیر روایتی اظہاریہ چونکا دینے والا تو ہے ہی مگر اپنے ہونے کا اقرار اوروجودی تحریک کے اثرات سے مبرا نہیں۔ فہمیدہ ریاض عورت کو مکمل وجود تسلیم کرتے ہوئے عورت کی جسمانی اور روحانی آسودگیوں کے پیچ و خم بے باکی سے تحریرکرتی ہیں گویا عورت بھی ایک انسان ہے بالکل ویسے ہی جیسے کہ ایک مرد۔ وہ بھی ذہن و دل رکھتی ہے اور احساس و جذبات ہونے کے ناطے جسمانی اور روحانی ضرویات کے مکمل اظہاریہ کا حق۔ جبکہ اس سے پہلے اس حق پر صرف مرد قابض تھے، فہمیدہ ریاض نے اس حقیقت کو قبول عام کرنے میں پہل کی کہ مرد کی طرح عورت بھی داخلی کیفیات کے اظہار میں آزاد اور بے باک ہے۔ انھوں نے مشرقی معاشرے میں عشق جیسے شجر ممنوعہ کے پھل کو نہ صرف چکھا بلکہ اس کے ذائقے سے دنیا کو آگاہ بھی کیا
گرج گرج جی بھر کر برسے
بجلی چمک چمک کر برسے
میں سمٹوں اس کی چھاتی میں
جیسے بجلی گھٹا میں سمٹے
جس کی کایا میں مٹ جانا جنم کا سب سے میٹھا سکھ تھا
سکھ میں کام کا سارا رس ہے
اس کی بوند بوند میں امرت
تالو سے پاتال تلک سب کچھ جل تھل کر دیتا ہے
سب شیتل کر دیتا ہے
سب سپھل کر دیتا ہے
(بہاؤ۔ دھوپ)
ان کے دوسرے مجموعہ کلام ”بدن دریدہ“ کی نظم ”آج شب“ میں اظہاریہ دیکھیے
آج میں لیٹوں گی تیرے بازوؤں میں
یہ اجازت دے کہ دل کی بات کہہ دوں
یہ اجازت دے کہ میں خود کو کروں تیرے حوالے
عورت کے جنسی تجربات کو شعریت میں ڈھالنا وجودی فکر کی ایک کڑی ہے جس کی بہتریں مثالیں فہمیدہ ریاض کے دوسرے مجموعہ کلام ”بدن دریدہ“ کی نظمیں ”ابد“ اور ”زبانوں کا بوسہ“ ہیں
یہ کیسی لذت سے جسم شل ہو رہا ہے میرا
یہ کیا مزا ہے کہ جس سے ہے عضو عضو بوجھل
یہ کیف کیا ہے کہ سانس رک رک کے آ رہا ہے
یہ میری آنکھوں میں کیسے شہوت بھرے اندھیرے اتر رہے ہیں
لہو کے گنبد میں کوئی در ہے کہ وا ہوا ہے
یہ چھوٹتی نبض، رکتی دھڑکن، یہ ہچکیاں سی
گلاب و کافور کی لپٹ تیز ہو گئی ہے
یہ آبنوسی بدن، یہ بازو، کشادہ سینہ
مرے لہو میں سمٹتا سیال ایک نکتے پہ آ گیا ہے
مری نسیں آنے والے لمحے کے دھیان سے کھنچ کے رہ گئی ہیں
بس اب تو سرکا دو رخ پہ چادر
دیے بجھا دو
(ابد۔ بدن دریدہ)
زبانوں کے رس میں یہ کیسی مہک ہے
یہ بوسہ کہ جس سے محبت کی صہبا کی اڑتی ہے خوشبو
یہ بد مست خوشبو جو گہرا غنودہ نشہ لا رہی ہے
یہ کیسا نشہ ہے
مرے ذہن کے ریزے ریزے میں ایک آنکھ سی کھل گئی ہے
تم اپنی زباں میرے منہ میں رکھے جیسے پاتال سے میری جاں کھینچتے ہو
یہ بھیگا ہوا گرم و تاریک بوسہ
اماوس کی کالی برستی ہوئی رات جیسے امڈتی چلی آ رہی ہے
کہیں کوئی ساعت ازل سے رمیدہ
مری روح کے دشت میں اڑ رہی تھی
وہ ساعت قریں تر چلی آ رہی ہے
مجھے ایسا لگتا ہے
تاریکیوں کے
لرزتے ہوئے پل کو
میں پار کرتی چلی جا رہی ہوں
یہ پل ختم ہونے کو ہے
اور اب
اس کے آگے
کہیں روشنی ہے
(زبانوں کا بوسہ۔ بدن دریدہ)
نسائی خود شناشی دراصل وجودی فکر کا پرتو ہے، یہ ذہنی جبر کا درعمل ہے
نہ کوئی یار نہ میت نہ اس کا ساجن ہے
شہروں میں وہ رہے مگر بیرا گن ہے
خوشی کے موتی پائے بھی تو کب ساتھ لیے
یونہی چل دی اپنے خالی ہاتھ لیے
جینے کا کوئی ڈھنگ نہ پایا خاک ہوئی
اپنی آگ میں جل کر پگلی راکھ ہوئی
(کندن۔ بدن دریدہ)
فہمیدہ ریاض نے چادر کشائی کی روایت کو رد نہیں کیا تو مکمل طور پر قبول بھی نہیں کیا، انھوں نے نہ صرف اپنی نظموں میں خدا، مذہب اور اور معاشرے کے جبر مسلسل کے خلاف احتجاج کیا بلکہ فرسودہ معاشرتی اور مذہبی روایات کے خلاف بغاوت کا علم بھی بلند کیے رکھا
کیچڑ میں ڈوب کر
میں پھر سے سانس لینے لگی
جب میں شکست خوردہ تھی
حالات کے پنجے میں بے بسی سے اشک بار
تب تم میری داد دیتے نہ تھکتے تھے
لیکن اب
جب میں نے جھٹک دیا ہے نا طاقتی کو
اپنے بازوؤں سے
اور موڑ دیا ہے حالات کا پنجہ
اپنی نہتی کلائی کے بل
جب میری جنم جنم کی حسرت نے
اپنی دھرتی کی محرومیوں کی جانب دیکھا
اور روتی ہوئی یوں اس کے گلے جا لگی
جیسے بیٹی بچھڑی ماں سے لپٹ جائے
تب تم اتنے خوف ذدہ ہو گئے ہو
اور تم نے میرے پیچھے پولیس لگا دی ہے
(کیا تم پورا چاند نہ دیکھو گے۔ دوسرا باب)
فہمیدہ ریاض نے حقیقتوں کے چہروں سے استعاروں کی نقابیں نوچ کر ان کے خدوخال کو عریاں کد ڈالا، یہ سچ اتنا تلخ اور تند تھا کہ عالمی ادب بلبلا اٹھا۔ فہمیدہ ریاض وجودی فکر کا پرچار باغیانہ انداز میں آزاد سوچ اور روایت کے خلاف بھر پور آواز اٹھا کر کرتی رہیں۔ وجودی نقطہ نظر آزادی اظہار اور آزادی رائے کا پروانہ ہے جس میں وجود کے اعتبار کے ساتھ ساتھ انسان کو اپنے آپ کو دریافت کرنے کا عمل جاری و ساری رہتا ہے
فہمیدہ ریاض کی شاعری ایک خطے کی آب و ہوا کے حصار کی اسیر نہیں بلکہ جہاں جہاں فرد اور خاص طور پر عورت کی آزادی اور اس کا امکان موجود ہے یہ اپنے ہونے کا احساس جگاتی رہے گی
فلسفہ وجودیت کے تناظر میں ایک نظم
وجود کرب سے آگے
میں جوہر پر مقدم ہوں
مرے پاؤں کی بیڑی یہ زمانے بن نہیں سکتے
نہ ہی محدود ہوں اور ناگہانی بھی نہیں ہوں میں
مقدر تھا مرا مرضی
مگر میں حال، مستقبل کا سودا سر میں رکھتی ہوں
میں ہی تو مرکزی کردار ہوں
اپنی کہانی کا
اساسی کچھ نہیں ہے
منطقی نہ جوہری کچھ ہے
میں خود میں ڈوب کر تشکیل نو کرتی ہوں خود اپنی
میں خود تخلیق کرتی ہوں
مکاں کے معنی و مفہوم
سچائی مجھ سے پھوٹی ہے
میں سچی ہوں مگر دنیا یہ جھوٹی ہے


