سانحہ ساہیوال: افسر معطل، اہلکار ملزم، حکومت اور وزیر اعلی سرخرو


جے آئی ٹی کی عبوری رپورٹ اور سی ٹی ڈی کے خلاف پنجاب حکومت کے اقدام کے باوجود اس سانحہ کے بارے میں سرکاری مؤقف اب بھی تقریباً وہی ہے جس کا اظہار سی ٹی ڈی کی ابتدائی متضاد رپورٹوں میں کیا گیا تھا اور جس پر وزیر قانون راجہ بشارت نے سوموار کو منعقد ہونے والی پریس کانفرنس میں اصرار کیا تھا۔ اس مؤقف کے مطابق سانحہ میں ملوث کار دہشت گردوں کے استعمال میں رہی تھی اور اس کا ڈرائیور ذیشان حیدر داعش کا سہولت کار تھا۔

وہ اس کار میں اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد اور خود کش جیکٹیں لے کر کسی گنجان آبادی میں دہشت گردی کی نیت سے جا رہا تھا۔ راجہ بشارت نے صراحت سے بتایا تھا کہ ذیشان کے گھر کی نگرانی کی جاتی رہی تھی اور دہشت گرد اس کے گھر پر قیام بھی کرتے رہے ہیں۔ حتی کہ ہفتہ کو رونما ہونے والے سانحہ کے بعد دو دہشت گرد اس کے گھر سے فرار ہو کر جا رہے تھے لیکن گوجرانوالہ میں جب سی ٹی ڈی نے انہیں روکنے کی کوشش کی تو انہوں نے خود کش دھماکہ میں خود کو ہلاک کر لیا۔

کل منعقد ہونے والی پریس کانفرنس میں سی ٹی ڈی کے اہلکاروں اور افسروں کے خلاف کارورائی کا اعلان کرتے ہوئے بھی اس بنیادی مؤقف کو برقرار رکھا گیا ہے۔ اب بھی یہی کہا جا رہا ہے کہ سی ٹی ڈی کا ایکشن درست تھا لیکن اس میں بچوں والے خاندان کو ملوث نہیں ہونا چاہیے تھا۔ سوموار کو بھی راجہ بشارت یہی کہہ رہے تھے کہ اگر یہ خاندان اس کار میں سوار نہ ہوتا تو صورت حال بالکل مختلف ہوتی۔ ان حقائق کی موجودگی میں پنجاب حکومت کیسے سی ٹی ڈی کو مکمل ذمہ دار قرار دیتے ہوئے انصاف فراہم کرنے کے وعدے سے عہدہ برآ ہونے کا اعلان کررہی ہے؟

کیا ایک مقبول مطالبے کی وجہ سے عجلت میں چند سرکاری افسروں کے خلاف کارورائی اور پانچ اہلکاروں کے خلاف مقدمہ قائم کرنے کا اعلان ہی انصاف کی فراہمی ہے؟ کیا انصاف صرف شور مچانے والوں ہی کو نصیب ہو سکتا ہے۔ اگر سی ٹی ڈی نے ایک دہشت گرد کے خلاف ٹھوس معلومات کی بنیاد پر کارروائی کی تھی تو اب اس ادارے کو کیونکر ہر غلطی کا ذمہ دار قرار دیا جا سکتا ہے۔

حیرت کی بات ہے کہ پنجاب حکومت معطلی اور تبادلوں کے ذریعے سرکاری افسروں کو تو ’سزا‘ دے رہی ہے لیکن اس واقعہ میں زیادتی کو قبول کرنے کے باوجود کسی سیاسی عہدیدار نے کوئی ذمہ داری قبول کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ بلکہ صوبے کے وزیر قانون نے ایک کے بعد دوسری پریس کانفرنس میں تضاد بیانی کے مرتکب ہوئے ہیں لیکن اخلاقی طور سے یہ مناسب نہیں سمجھا کہ وہ اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیں۔ وزیر اعلیٰ اور وزیر قانون جے آئی ٹی کی نامکمل رپورٹ پر نیم دلانہ اور روایتی فیصلوں کو اپنی حکومت اور پارٹی کی شاندار کامیابی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

افسوسناک انسانی المیہ پر منتج ہونے والے ایک سانحہ کی بنیاد پر سیاست کرنے کا رویہ افسوسناک ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی طرف سے شدید احتجاج ا ور پارلیمانی تحقیقات کا مطالبہ سامنے آرہا ہے جبکہ تحریک انصاف کی پنجاب اور مرکز میں حکومتیں جلد از جلد اس واقعہ کو پس پشت ڈال کر آگے نکلنا چاہتی ہیں۔ اسی لئے نئے پاکستان میں حکمرانی کی نئی روایت قائم کرنے کا اعلان کیا جا رہا ہے حالانکہ ارباب اختیار بھی جانتے ہیں کہ کچھ تبدیل نہیں ہؤا ہے اور نہ ہی اس طرف کوئی پیش قدمی دکھائی دیتی ہے۔

ساہیوال سانحہ کی روشنی میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرنے والے کسی ادارے یا یونٹ کو دہشت گردوں کی نقل و حرکت کی اطلاع ملنے پر مسلح ہو کر فائرنگ کرنے اور مشکوک لوگوں کو موقع پر ہی ہلاک کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ پنجاب حکومت کے نمائیندوں کے بیانات کی روشنی میں یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ حکومت کو اس میں کوئی اعتراض نہیں ہے البتہ اس میں بچوں والا خاندان ملوث نہ ہو۔ حکومت کو اس سوال کا جواب دینا اور اس ذمہ داری کا تعین کرنا ہوگا کہ سی ٹی ڈی یا کوئی بھی دوسرا مسلح محکمہ دہشت گردی سے نمٹنے کے نام پر برسر عام اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے اور شہریوں کو ہلاک کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ دہشت گردوں کو بھی دیگر ملزموں کی طرح متعلقہ عدالتیں مناسب قانونی کارروائی کے بعد ہی سزا دے سکتی ہیں۔

دہشت گردی سے نمٹنے کے نام پر پولیس مقابلوں میں لوگوں کو مارنے کے رویہ سے عسکری گروہوں کے علاوہ عسکری اداروں کی بھی دہشت طاری ہوتی ہے اور پاکستان کے عوام دونوں طرف سے بارود کی لپیٹ میں آتے ہیں۔ نئے پاکستان کے حکمران اگر اس طرز عمل کو تبدیل کرنے کے لئے اقدام کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے تو احتجاج اور میڈیا کے دباؤ کی وجہ سے چند اہلکاروں کے خلاف مقدمہ چلانے سے نظام تبدیل نہیں ہو سکتا۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali