صرف بالغوں کے لئے: ”سکارلیٹ لیڈی“ سفر کے لئے تیار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

برطانوی ملٹی نیشنل کمپنی نے بالغ افراد کے لئے پر تعیش بجری جہاز تیار کر لیا ہے۔ جس میں بچوں اور کم عمر افراد کو سفر کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ اس جہاز کا عملہ بھی زیادہ تر خواتین پر مشتمل ہوگا۔

ڈان نیوز کے مطابق برطانوی کمپنی کی جانب سے تیار کئے گئے اس جہاز کو ”خوابوں کا تیرتا ہوا محل“ بھی کہا جا رہا ہے۔ کمپنی کی جانب سے اس تیرتے ہوئے محل کو سکارلیٹ لیڈی کا نام دیا گیا ہے جو دور سے ہی خوابوں کے محل جیسا دکھائی دیتا ہے۔ یہ دنیا کا پرتعیش ترین بحری جہاز بھی مانا جا رہا ہے جو آئندہ برس اپنے سفر کا آغاز کرے گا۔

بحری جہاز کی اہم بات یہ ہے کہ اس میں صرف بالغ افراد کو ہی سفر کی اجازت ہو گی۔ اس میں بچوں اور نابالغ افراد کو سفر کی اجازت نہیں ہو گی۔ کمپنی نے سفر کرنے والے بالغ افراد کو عمر کی قید میں نہیں رکھا، اس پرتعیش بحری جہاز میں ہر بالغ مرد و خاتون سفر کی اہل ہوگی۔

اس پر تعیش بحری جہاز کی 15 منزلیں ہیں، جب کہ اس میں 1430 کیبنز یا کمرے بنائے گئے ہیں، اس کا وزن دس ہزار ٹن ہے ،سکارلیٹ لیڈی میں 78 پرتعیش اور دیدہ زیب ہالز بھی موجود ہیں۔ تیرتے محل کی چوڑائی 38 میٹر جب کہ اونچائی 278 میٹر ہے جہاں مسافر زندگی کے خوبصورت لمحات کو سکون سے گزار سکیں گے۔

دنیا بھر میں شہرت رکھنے والے ہوٹلز اور کھانوں سے سجے اس بحری محل میں بیک وقت 2770 مسافر سفر کر سکیں گے، مسافروں کی خدمت کے لیے 1160 افراد پر مشتمل انتہائی قابل عملہ بھی موجود ہوگا۔

بحری جہاز میں پرتعیش کمرے، باتھ رومز اور نہانے کے لیے ایسے کمرے بھی موجود ہیں، جہاں سے سمندر کا نظارہ کیا جا سکتا ہے۔ بحری جہاز 2020 میں اپنا سفر شروع کرے گا، تاہم اس میں سفر کرنے کی بکنگ کا آغاز آئندہ ماہ سے محبت کے عالمی دن سے شروع ہو گی۔ کمپنی نے اس میں سفر کرنے کی فیس کا اعلان نہیں کیا، تاہم پر تعیش بحری جہاز میں سفر کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہو گی۔

سکارلیٹ لیڈی امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر میامی سے سفر کا آغاز کرے گا اور یہ بحری جہاز 7 ہزار جزائر پر مشتمل علاقے کیریبین تک سفر کرے گا ، کمپنی ایسے مزید دو جہاز بنا رہی ہے جن کو آئندہ تین سال میں پیش کر دیا جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •