سی ٹی ڈی اور ”معصوم دہشت گرد“

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سانحہ ساہیوال ظلم، بربریت اور جہالت کا ایک ایسا باب ہے جس پر جتنا ماتم کیا جائے کم ہے۔ ذمہ داروں کو کڑی سے کڑی سزا دی جانی چاہیے اور ان کو نشان عبرت بنایا جائے تاکہ ایسی غفلت مجرمانہ کا کوئی سوچے بھی نہ۔ سی ٹی ڈی اپنی تمام ترکاوشوں کے باوجود اس سے دامن نہیں چھڑا سکتی۔

دہشت گرد کون ہوتا یے؟ عام زندگی گزارنے والا بھی کیا دہشت گرد ہوسکتا ہے؟ ہمارے ساتھ رہتا تھا نماز پڑھتا تھا کسی کو تنگ نہیں کرتا تھا کیا پھر بھی دہشت گرد ہوسکتا ہے؟ محنت کرکے ڈرائیو کرکے روزی روٹی کماتا تھا کیا پھر بھی دہشت گرد ہوگا؟

یہ وہ سوال ہیں جو مجھے اور آپ کو کنفیوز کردیتے ہیں۔ میں ذیشان کو معصوم سمجھتا اگر میرے علم میں ایسے بیسیوں واقعات نہ ہوتے تو شاید میں بھی یہی سوال کرتا۔ ان میں سے دو آپ کے گوش گزار کرتا ہوں تاکہ معاملہ سمجھنے میں آسانی ہو۔

سال 2014 میں آئی ایس آئی کے انسپکٹر عمر جیلانی ملتان میں اغوا ہوجاتے ہیں۔ ایجنسیاں کھوج میں لگ جاتی ہیں۔ ابوجرار نامی شخص گرفتار ہوجاتا ہے۔ یہ شخص اہل حدیث مکتبہ فکر سے تعلق رکھتا تھا اور لشکر طیبہ کے معسکر میں استاد رہا تھا اور اب ان سے جدا ہوکر ان کو داعشی سوچ کے مطابق حکومتی اداروں کو کافر اور مرتد قرار دیتے ہوئے ان کا اسپورٹر سمجھتا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب داعش کا منحوس وجود عراق و شام میں اپنے عروج پر تھا۔ ایسے میں اہل حدیث مکتبہ فکر کے وہ لوگ جو پہلے ٹی ٹی پی میں ”خلافت“ ڈھونڈتے تھے اب ” داعشی خلافت“ کو خلافت راشدہ سمجھنے لگے۔

اس وقت جو لوگ اس جانب گئے ان میں سے ایک مثال ”ابوجرار“ تھا۔ یہ بھی ڈرائیور تھا۔ اپنی کار چلاتا تھا۔ اس کی کار کے چکر میں بھی ایک عالم دین جنہوں نے خارجی و تکفیری فکر کے خلاف قابل قدر کام کیا تھا اس رگڑے میں آ گئے اور نو ماہ حراست میں گزار دیے۔ بعینہ ایسے جیسے ” خلیل شہید“ کی فیملی کے ساتھ ہوا کہ خود معصوم ہو کر بھی دہشت گرد سے تعلق کی وجہ سے نشانہ بن گئے۔ ابو جرار دو ہزار سولہ میں مارا گیا۔ اب ایسے میں اس کے گھروالے بھی اس کو معصوم ہی سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ وہ ڈرائیور تھا اور محنت مزدوری کرکے اپنی گزربسر کررہا تھا۔

ایک دوسرا واقعہ جو 2013 کے اوائل کا یے یونیورسٹی کا ایک کلاس فیلو جو ظاہری طور پر نہ کبھی نماز کے قریب گیا تھا اور نہ ہی کبھی مذہبی لگتا تھا۔ جب باتوں ہی باتوں میں بحث ہوئی تو اس نے حکومتی اداروں کو مرتد قرار دے دیا اور اس کے خلاف لڑنے والوں کو کلین چٹ دے دی۔ مجھے یاد ہے جب کچھ عرصے بعد اس کو اٹھایا گیا تو اکثردوست اس کو معصوم کہہ رہے ہوتے تھے۔ وہ تین چار ماہ بعد واپس آ گیا اور اس کی گرفتاری کے پیچھے وجہ اس کا دہشت گرد دوست تھا۔ یعنی کسی برے شخص کی دوستی انسان کے لیے بری ثابت ہوسکتی ہے چاہے اس کے علم میں ہو یا نہ ہو۔

اگر کوئی شخص تکفیری فکر کے لوگوں سے کبھی ملا ہی نہیں تو اس کے لیے ہر دہشت گرد معصوم ہوگا ورنہ پنجاب یونیورسٹی سے لے کر کنگ ایڈورڈ تک، فوج سے لے کر پولیس تک، مسجد کے مولوی سے لے کر مدرسوں کے مفتی، شیخ الحدیث تک ہزاروں لوگوں کو اس ”تکفیری و خارجی فکر“ نے اپنا دیوانہ بنا دیا تھا۔ اگر کوشش کروں تو سو نام مجھے اچھی طرح یاد ہیں 2008 سے 2013 کے درمیان یونیورسٹی دور میں جن سے پالا پڑا۔ جن کو دیکھ کر ایسے لگتا تھا کہ یہ یہاں سے باہر جا کر خود کش دھماکہ کردیں گے۔ ایسا ہوا بھی لوگ یونیورسٹیوں سے نکلے اور دھماکے کیے آرمی سے نکلے اور حملے کیے۔ مدارس سے نکلنے والوں کا تو پوچھیے ہی مت۔ یعنی اس وقت صورتحال ایسی تھی کہ سکیورٹی ایجنسیوں کو ہر داڑھی والا دہشتگرد نظر آتا تھا اس میں ان کا بھلا کیا قصور کیونکہ بھوکے کو ہر چیز ”گول“ ہی نظر آتی یے۔ ان کا کام ملک کو ناسوروں سے بچانا ہے تھے اور ناسور ہماری صفوں بلکہ نماز کی صفوں تک میں موجود ہوتے تھے۔

ایسے میں سی ٹی ڈی کا قیام ایک ایسا باب تھا جس نے پنجاب میں آئی ایس آئی، آئی بی سے ملکر دہشت گردی کا جن قابو کیا۔ سی ٹی ڈی نے سپاہ صحابہ سے نکلی لشکر جھنگوی جیسی تنظیم کا انفراسٹرکچر اس انداز میں تباہ کیا کہ آج کوئی لشکر جھنگوی کا نام لینے والا آپ نظر نہ آئے گا۔ جنوبی پنجاب میں دہشت گردی کے نیٹ ورک کا خاتمہ تاریخ کا ایک سنہری باب ہے۔ جس ٹاسک کو سر انجام دینے کے لیے رینجرز کی طلبی کے عندیے دیے گئے اس کو سی ٹی ڈی نے خاموشی سے سر انجام دے دیا۔ قرآن ”حرابہ و فساد“ کرنے والوں کے لیے سنگین سزا موت، ہاتھ پاؤں کاٹنے تک کا کہتا ہے تاکہ نشان عبرت بنادیا جائے۔ خوارج کے خلاف لڑنے والوں کے متعلق نبی محترم نے جنت کی خبر دی۔ سی ٹی ڈی نے یہ کام بخوبی سرانجام دیا۔ انسان ہی ہیں یہ لوگ ان سے زیادتیاں بھی ہوجاتی ییں لیکن ہمیں ان کی خدمات کو ایک واقعہ سے بھی نہیں بھول جانا چاہیے۔

سی ٹی ڈی پنجاب کی کارکردگی پر اگر نظر ڈالی جائے تو صرف 2018 میں ہی دہشت گردی کے واقعات میں پچھلے سال سے % 72 کمی آئی ہے جو پورے پاکستان میں سب سے نمایاں رہی۔ 2018 میں پورے پنجاب میں صرف 4 دہشت گردی کے واقعات ہوئے جن میں 20 افراد شہید ہوئے۔ یہ یقینا سی ٹی ڈی کی بہترین کارکردگی کی طرف اشارہ کرتی یے کہ کس طرح انہوں نے اپنی جارحانہ کارروائیوں سے دہشت گردی کے جن کو بند کردیا۔ صرف اس واقعے کی بنیاد پر اس اہم ادارے کے خاتمے کی بات کرنا سمجھ سے بالاتر ہے، سی ٹی ڈی کے خاتمہ کی تجاویز ہمارے مقتدر حلقوں میں چل رہی ہیں۔ دہشت گردی اب ایک عالمگیر مسئلہ بن چکی ہے اس کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے ختم نہیں، ایسے میں دہشتگردی کے کنٹرول کرنے والے اداروں کو ختم کرنا دہشت گردی کو فروغ دینا ہی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •