خدارا، ایدھی صاحب کو تو بخش دو


رات کا وقت تھا ایک بوڑھا کہیں جارہا تھا کہ اسے کچھ ڈاکوؤں نے روک لیا جب اس بوڑھے کو لوٹ کر جانے لگے تو ایک ڈاکو اچانک اپنے ساتھیوں سے بولا

"رکو ان کا سب کچھ واپس کر دو "

ساتھیوں نے تجسس سے پوچھا "

کیوں کیا ہوا؟

"تو پہلے نے جواب دیا

"بدبختو جب کسی پولیس مقابلے میں مارے جاؤ گے، جب تمہارے سگے رشتے دار بھی تمہیں پہچاننے اور لاش لینے سے انکار کر دیں گے، جب کوئی تمہیں چھونے کو بھی تیار نہ ہو گا تو تب یہی شخص انسانیت کی خاطر آگے بڑھے گا اور تمہاری تدفین وغیرہ کریگا۔ ۔ ۔ اوے یہ عبدالستارایدھی ہیں۔

یہ وہ شخص ہے جس نے کھدّر کے دو جوڑوں میں زندگی بسر کردی ایک دھوتا تھا دوسرا پہنتا تھا اپنی دن رات کی محنت سے جمع کئے  3200 روپے سے ڈسپنسری کھولی سڑکوں پر بھیک مانگ مانگ کر پہلی ایمبولینس خریدی ہزاروں لاشیں خود اپنے ہاتھوں سے اٹھاییں اور وہ لاشیں جن کے قریب تک جانا اور دیکھنا تک کوئی گنوارہ نہ کرتا انھیں خود اپنے ہاتھ سے غسل دیتا اور کفن دفن کرتا تھا۔ یہ وہ شخص تھا جس نے دھتکارے اور یتیم بچوں کو گلے سے لگایا اور جب پوچھا گیا کہ بچوں میں ولدیت کے خانے میں کیا لکھا جائے تو کہا "ایدھی” لکھ دو۔ جس نے بے سہارا عورتوں کے سر پر ہاتھ رکھا، بوڑھوں کا سہارا بنا۔ نشیوں اور دماغی معذور لوگوں کو سنبھالا یہاں تک کہ جانوروں کے لئے بھی علاج اور رزق کا انتظام کیا۔ جب کسی مسیحی بچے نے کہا کہ میں مسلمان نہیں کیا میں امداد لے سکتا ہو تو جواب دیا کے "انسانیت کا کوئی مذہب نہیں ہوتا”۔

یہ وہ شخص ہے جس کے انتقال فرماتے ہی ہماری نظریہ بریگیڈ سوشل میڈیا پر حرکت میں آگئی اور جہاں شدّت پسندوں نے اس کی آنکھیں عطیہ کرنے کو حرام قرار دیا وہیں سیکولر ایدھی کو سیکولر ثابت کرنے کی کوششوں میں لگے ہیں اور سرخے بھی کیونکر پیچھے رہیں وہ بھی بار بار ایدھی صاحب کا جملہ کہ "میں پڑھا لکھا تو نہیں ہوں مگر میں نے مارکس اور لینن کی کتابیں پڑھی ہیں ” مختلف طریقوں سے بار بار دہرا کر انھیں سوشلسٹ ثابت کرنے کی کوششوں میں لگے ہیں۔ او اللہ کے بندوں کم ازکم مرے ہوے کو معاف کردو کچھ نہیں تو ان کے ایدھی ہونے کا خیال کرکے ان پر اپنے اپنے نظریوں کا ٹیگ لگانا بند کردو۔۔۔

کم ازکم ایدھی کا نام استعمال کرکے اپنے منجن بیچنا بند کردو۔۔۔

ایدھی کا مذہب اور نظریہ صرف انسانیت تھا بلکہ ایدھی تو خود ایک نظریہ ہے۔ ایدھی کو تمہارے کسی نظریاتی ٹیگ یا کسی نوبل انعام کی ضرورت کبھی نہیں تھی اور نہ اس نے تمہارے فتوؤں اور الزامات کا کبھی جواب دیا نہ برا مانا نہ کبھی کوئی شکوہ کیا سو اب ان کے جانے کے بعد بھی ان کے اوپر اپنے کسی بھی نظریے کا ٹیگ لگا دو کافر، مولوی یا سیکولر یا ملحد بنا دو، ایدھی ایدھی ہی رہے گا اور مرو گے تو ایدھی کی ایمبولینس میں ہی ایدھی کے سرد خانے لے جائے جاؤ گے سو اگر خدا کا خوف نہیں تو اپنی موت سے ہی ڈرو۔

اور خدارا ایدھی کو بخش دو۔۔۔

Facebook Comments HS