خورشید محمود قصوری بنام چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ


حال ہی میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک بہت معروف اور سینئر قانون دان نے مجھے یہ بات بتا کر حیرت زدہ کردیا کہ ایک مقدمے کی سماعت کے دوران جب چیف جسٹس ثاقب نثار کو متعلقہ وکیل نے فیصلے سے کچھ دیر پہلے بتایا کہ چیف جسٹس جس رائے کا اظہار کر رہے ہیں وہ قانون کے مطابق نہیں ہے۔ اس پر چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ ”قانون وہ ہے جو ہم کہتے ہیں! ! ’‘

ہم امریکہ کی آئینی تاریخ سے بھی کچھ قیمتی سبق سیکھ سکتے ہیں۔ امریکہ کے مشہور مقدمے Marbury v Madison( 1803 ) میں جسٹس جان مارشل (John Marshall) نے وہ مشہور فیصلہ دیا تھا جس سے امریکہ میں پہلی مرتبہ عدالتوں کو نظرثانی کے اختیارات حاصل ہوئے تھے۔ امریکہ میں سپریم کورٹ نے اس اختیار کا استعمال بہت کم کیا ہے اوراس حوالے سے خود ہی اپنے اوپر ایک خودساختہ سی پابندی لگا رکھی ہے۔

توہین عدالت کا قانون

حالیہ دنوں میں ہم نے توہین عدالت کے نوٹسز کا سیلاب بھی دیکھا۔ کبھی توہین عدالت کے نوٹسز دیے جانے کی دھمکیاں سنی گئیں اور کبھی سچ مچ یہ نوٹسز ملتے دیکھے گئے۔ ججوں کو اپنے اختیارات کی طاقت کی مثالوں سے نہیں پہچانا جاتا بلکہ ان کا احترام ان کے فیصلوں کے اعلیٰ معیار اور عمدگی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ہمارے کئی عظیم ججوں نے توہین عدالت کے قانون کے ضمن میں بہت احتیاط دکھائی ہے۔ مثال کے طورپر ہم میں سے بہت سے لوگوں نے قائداعظم (جوکہ ان دنوں مسٹرجناح کے طورپرجانے جاتے تھے )کا وہ واقعہ تو سنا ہوگا جس کے مطابق ایک مرتبہ جناح صاحب عدالت سے مخاطب تھے۔ قائداعظم جب بھی کوئی دلیل دیتے تو جج صاحب اس دلیل کے جواب میں کہتے ”کچرا“ (Rubbish)۔ کچھ دیر یہ سلسلہ چلتا رہا پھر قائداعظم نے جج صاحب کی طرف دیکھا اور کہا : ”جناب والا! آج عزت مآب کے ساتھ کیا مسئلہ ہے۔ کیا آپ کی طبیعت ناساز تو نہیں ہے؟ آج آپ کے منہ سے صرف“ کچرا ”(Rubbish) ہی نکل رہا ہے۔ “ مجھے ایک اور واقعہ یاد آرہا ہے جب میرے والد میاں محمود علی قصوری ایک دفعہ پاکستان کے ایک سینئر سیاستدان اصغرخان (جوکہ صوبہ سرحد سے تعلق رکھتے تھے ) کے ایک مقدمے میں سپریم کورٹ میں پیش ہوئے تھے۔ میرے والد سپریم کورٹ کے بینچ میں تمام پنجابی ججوں کی شمولیت پرخوش نہ تھے۔ انہوں نے عدالت سے مخاطب ہوکرکہا: ”جناب والا! کیا میں سپریم کورٹ کے بینچ سے مخاطب ہوں یا پنجاب کورٹ کے بنچ سے؟ “ یہاں یہ کہہ دینا ہی کافی ہوگا کہ ان دونوں مقدمات میں ججز نے کافی صبر کا مظاہرہ کیا اور نہ قائداعظم کو اور نہ ہی میرے والد کو توہین عدالت کے نوٹسز ملے۔

عزت مآب! آپ کی میراث

جناب چیف جسٹس!

پاکستانی عدلیہ کی ایک شاندار میراث آپ کی منتظرہے۔ آپ کی تعلیمی قابلیت اور عدلیہ میں آپ کے ٹریک ریکارڈ کے پیش نظر مجھے پورے اعتماد کے ساتھ یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ آپ آخرکار عدلیہ کے وقار کی بحالی کے لیے ایسی عدالتی اصلاحات ضرور کریں گے جو انصاف کی تیزترین فراہمی کو یقینی بنائیں اور آپ کیسز کے غیرمعمولی التوا ء کے مسئلے پر بھی توجہ دیں گے تاکہ کیسز کے فیصلے جلد ہوسکیں اور عام آدمی کو ریلیف مل سکے۔

اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ آپ پوری احتیاط سے اپنے عدالتی اور صوابدیدی اختیارات کواستعمال کریں گے اور عدلیہ میں درستگی کا عمل یقینی بناتے ہوئے ایک اچھی مثال قائم کریں گے۔ آخر میں میں آپ کی کامیابی کے لیے دعاگو ہوں۔ اللہ کرے کہ آپ پاکستانی عدلیہ میں ایک ایسی میراث چھوڑ کر جائیں جس میں وکلاء اور ججوں کی آنے والی نسلیں آپ کے فیصلوں پر فخر کرسکیں۔

یاد رہے۔

وقت کی آزمائش میں صرف مضبوط فیصلے ہی باقی رہتے ہیں۔

والسلام

خورشید محمود قصوری

سابق وزیرخارجہ پاکستان

(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4