افغان صدر کے بیان پر تشویش اور پشتون ہم وطنوں کے دکھ پر خاموشی


اشرف غنی نے بھی اسی اصول کے تحت پاکستان کے پشتون نوجوانوں کی تحریک اور ان کے خلاف کیے جانے والے سرکاری اقدامات پر تشویش ظاہر کی ہے۔ اس لحاظ سے پاکستانی حکومت اور سیاست دانوں کا افغان صدر کے بے ضرر ٹویٹ پیغامات پر شدید ردعمل بے مقصد اور غیر ضروری ہے۔ خاص طور سے پاکستانی حکومت خود اپنے ہی نوجوانوں کی تحریک اور مطالبات کو نظر انداز کرنے میں جس بے حسی کا مظاہرہ کرتی رہی ہے، اس کی روشنی میں یہ رد عمل افغان صدر کے کسی ’فاؤل پلے‘ پر ناراضی سے زیادہ اس حکمت عملی کا اعلان ہے کہ پی ٹی ایم کو بطور تنظیم اور نوجوانوں کی آواز کے قبول نہیں کیا جائے گا۔

تبصرہ نگاروں کی اس بات میں وزن ہو سکتا ہے کہ صدر اشرف غنی نے طالبان کی طرف سے دھتکارے جانے پر اپنے غم و غصہ کا اظہار کرنے کے لئے پی ٹی ایم کے احتجاج کی حمایت میں بیان جاری کیا ہو۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ سوال بھی کیا جانا چاہیے کہ آخر ان دو ٹویٹ پیغامات میں قابل اعتراض کیا بات ہے۔ ان میں تو پشتون تحفظ موومنٹ کا نام بھی نہیں لیا گیا بلکہ دہشت اور انتہا پسندی کے خلاف متحرک کارکنوں کی حمایت کی گئی ہے۔ پھر پاکستانی حکمرانوں کی وہ کون سے دکھتی رگ ہے جو افغان صدر کے ان عمومی ٹویٹ پیغامات پر پھڑک اٹھی ہے۔

اصولی طور پر تو ایک پر امن تحریک سے وابستہ کسی لیڈر کی غیر متوقع اور پولیس تشدد میں ہلاکت پر حکومت اور ملک کی سیاسی جماعتوں کو سامنے آکر بات کرنی چاہیے تھی اور اسے مسترد کرتے ہوئے اس کی تحقیقات کروانے اور وارثوں کو انصاف فراہم کرنے اور قصور واروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا اعلان کرنا چاہیے تھا۔ لیکن حکومت نے اس معاملہ پر یوں خاموشی اختیار کی ہے گویا بلوچستان میں رونما ہونے والا واقعہ خدا نخواستہ کسی دوسرے ملک سے تعلق رکھتا ہے اور پشتون تحفظ موومنٹ کا احتجاج پاکستانی باشندوں کا مطالبہ نہیں ہے۔ اس سانحہ کو نظر انداز کرنے کے علاوہ ایک جوان لیڈر کی موت پر ہونے والے احتجاج میں شامل مظاہرین کو گرفتار کرکے پاکستانی حکام نے خود ہی دوہرے معیار کا مظاہرہ کیا ہے۔ اگر کوئی حکومت اس قسم کے دو غلے پن کا مظاہرہ کرے گی تو دوسروں کو اس پر بات کرنے اور انگشت نمائی کا موقع بھی ضرور ملے گا۔

وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کابینہ اجلاس کے بعد آج ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہر معاملہ پر بات کی ہے لیکن ارمان لونی کی ہلاکت اور پشتون تحفظ موومنٹ کے احتجاج پر کوئی تبصرہ کرنے کا حوصلہ نہیں کیا۔ ملک کی کابینہ نے خرابی بسیار کے بعد قومی اسمبلی میں پبلک اکاؤنٹ کمیٹی کی سربراہی شہباز شریف کو دینے کا فیصلہ کیا تھا لیکن پنجاب میں ایک سینئر وزیر عبدالعلیم خان کی نیب کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد، وزیر اطلاعات نے اب کابینہ کی اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ شہباز شریف بھی ’اخلاقی بنیاد‘ پر اس عہدہ سے مستعفی ہو جائیں۔

حیرت انگیز طور پر وزیر اطلاعات نے بدھ کے روز فیض آباد دھرنا کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ پر رائے کا اظہار بھی ضروری نہیں سمجھا اور نہ ہی کابینہ نے اس فیصلہ میں تحریک انصاف کے کردار اور سول معاملات میں فوج کی مداخلت کے حوالے سے سامنے آنے والے امور پر کوئی مؤقف دینا ضروری خیال کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے 2014 کے دھرنا میں تحریک انصاف کی غیر ذمہ داری کا حوالہ دینے کے علاوہ فیض آباد دھرنا کی حوصلہ افزائی کرنے پر حکومت کے وزرا کی طرف اشارہ کیا ہے۔ عدالت کے مطابق یہ لوگ نفرت اور انتشار پھیلانے والے عناصر کا ساتھ دیتے رہے تھے۔ لیکن وفاقی کابینہ صرف اپوزیشن کی ’اخلاقی ذمہ داری‘ کی نشاندہی کرنا کافی سمجھتی ہے۔

افغان صدر پر نکتہ چینی سے پہلے حکومت کا فرض ہے کہ وہ خود اپنے ملک کے دو صوبوں میں ابھرنے والی پشتون نوجوانوں کی مؤثر اور طاقت ور تحریک کے بارے میں دوٹوک مؤقف اختیار کرے اور واضح کیا جائے کہ حکومت ان کے مطالبات کو پورا کرنے کے لئے کیا اقدام کررہی ہے۔ لاپتہ افراد کا معاملہ ہو، بارودی سرنگوں کو صاف کرنا ہو، فوجی چیک پوسٹوں پر شہریوں کے ساتھ برتاؤ کا اصول ہو یا راؤ انوار کے ہاتھوں نقیب اللہ محسود کا قتل ہو، ان میں سے کوئی بھی ایسا مطالبہ نہیں ہے جس پر حکومت ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کر سکتی ہو۔

اب وزیر خارجہ نے ایک ایسے معاملہ پر بیان دیا ہے جس سے حکومت ہر سطح پر لاتعلقی کا اظہار کرتی رہی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت اگر عسکری اداروں پر اپنی بالادستی ثابت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی تو اسے افغان صدر کے بیان پر بھی خاموش رہنا چاہیے تھا۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali