ہوشیار! عمران خان اصلاحات کے نام پر چھری پھیرنے والے ہیں
کیوں کہ یہ ادارہ دوسرے ملکوں کے سرمایہ کو تقسیم کرتا ہے اور اسے کسی بھی ملک کو قرض دیتے ہوئے اس بات کو یقینی بنانا ہوتا ہے کہ اس معیشت سے یہ رقم واپس وصول ہوجائے گی۔ حکومتیں عام طور سے مشکل اقتصادی فیصلوں کو اپنی سیاسی مقبولیت کے لئے خطرہ سمجھتی ہیں، اس لئے معاشی اصلاح کے لئے کیے جانے والے منفی پہلوؤں کا سارا بوجھ آئی ایم ایف جیسے اداروں پر ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایک پاپولسٹ جماعت کے طور پر تحریک انصاف کو بھی یہی مجبوری لاحق ہے۔
گزشتہ آٹھ نو ماہ سے پاکستان کے سارے معیشت دان یہ جانتے تھے کہ پاکستان کو آئی ایم ایف سے امدادی پیکیج لینا پڑے گا لیکن تحریک انصاف نے برسر اقتدار آنے کے بعد چھے ماہ تک قوم کو اس دھوکہ میں مبتلا رکھا ہے کہ عمران خان کی سحر انگیز شخصیت کی وجہ سے دوست ملک دھڑا دھڑ امداد دے رہے ہیں اور سرمایہ کار قطاریں بنا کر پاکستان میں دولت کے انبار لگانے کے لئے بے چین ہیں۔ اس لئے حکومت آئی ایم ایف جیسے ادارے سے اس وقت تک قرض لینا گوارا نہیں کرے گی جب تک وہ پاکستان کی شرائط پر یہ معاہدہ کرنے پر آمادہ نہ ہو۔ اگرچہ یہ بیان بازی اس بنیادی منطق کے ہی خلاف تھی کہ عملی طور پر قرض دینے والا شرائط عائد کرتا اور لینے والا ملک ہو یا فرد اسے ان شرائط کو ماننا پڑتا ہے۔
اس کے باوجود پاکستانی حکومت نے عوام کے مفاد کے نام پر اب تک ملکی معیشت کو بے یقینی اور اضطراری کیفیت سے دوچار رکھا ہے۔ اس لئے وزیر خزانہ اسد عمر اور وزیر اعظم عمران خان سے یہ پوچھنا ضروری ہے کہ ان چھے ماہ کے دوران ملکی معیشت کو جو نقصان پہنچا ہے اور حکومت کے لیت و لعل کی وجہ سے معاشی اشاریوں میں جو کمی واقع ہوئی ہے، اس کی قیمت مہنگے قرضوں اور بین الاقوامی لین دین میں سخت شرائط کی صورت میں بہر حال پاکستانی عوام کو ہی ادا کرنا پڑے گی۔ اس کا ذمہ دار کون ہو گا؟
عمران خان ہر قومی اور عالمی تقریب میں سابقہ حکومتوں کی نالائقی، بدعنوانی اور بد انتظامی کو اپنی حکومت کی مجبوری بتانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن گزشتہ چھے ماہ کے دوران وہ ملک کے وزیر اعظم ہیں اور تحریک انصاف کی حکومت تمام فیصلے کرنے کی مجاز ہے۔ تو اس نے فیصلے کرنے میں تاخیر کیوں کی؟ اگر حکومت اور وزیر خزانہ کی یہ بات درست ہے کہ اب آئی ایم ایف پاکستان کی شرائط ماننے پر مجبور ہوگیا ہے تو اس کا فرض ہے کہ وہ یہ ساری تفصیلات عام کرے کہ پہلے آئی ایم ایف کیا مطالبہ کر رہا تھا اور اب اس کے مؤقف میں کیا تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ عمران خان پاکستان میں بدعنوانی اور بیڈ گورننس کا رونا روتے ہوئے اپنی حکومت کو آئیڈیل اور عوام دوست قرار دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ لیکن ہر لحاظ سے کامل حکومت کے ہوتے ہوئے فیصلوں میں تاخیر سے ملکی معیشت کو جو نقصان پہنچا ہے، اسے کون پورا کرے گا؟
گزشتہ روز دوبئی میں حکومتوں کی عالمی کانفرنس ’بہتر معاشی تفہیم، ماحولیات دوست حکمت عملی اور نئی تخلیقات کی حوصلہ افزائی‘ کے موضوع پر تبادلہ خیال کے لئے منعقد ہوئی تھی۔ لیکن پاکستانی وزیر اعظم نے اس فورم سے خطاب کرتے ہوئے سابقہ حکومتوں کی نا اہلی بیان کرنے کے علاوہ پاکستان کے لئے سرمایہ کاری کی اپیل کی ہے۔ البتہ سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لئے جو معاشی ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے وہ عمران خان کی پر جوش اور شاہ محمود قریشی کی لچھے دار گفتگو کے علاوہ کہیں دکھائی نہیں دیتا۔
حکومت یہ بتانے سے قاصر ہے کہ اصلاحات کا وہ کون سا ایجنڈا ہے جسے نافذ کرکے وہ ملکی معیشت میں گزشتہ نصف صدی کے دوران پیداکیے گئے مسائل کو رفع کردیں گی۔ اس تقریر میں عمران خان نے ماضی میں ملک کی سوشلسٹ قیادت پر صنعتیں قومیانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح سرمایہ دار کو منافع کمانے سے محروم کرکے معاشی احیا کا راستہ روکا گیا۔ لیکن اگلے ہی سانس میں سرمایہ داری کے خلاف بات کرتے ہوئے یہ اعلان بھی کیا کہ ’میں دراصل نیو لبرل معیشت کا مخالف ہوں جس میں باسٹھ افراد دنیا کے تین ارب لوگوں کے مساوی دولت پر قابض ہوجاتے ہیں‘ ۔
عمران خان کو سمجھنا چاہیے کہ کوئی بھی عالمی اجلاس تحریک انصاف کے حامیوں کا جلسہ نہیں ہوتا۔ وہاں کی جانے والی باتیں دلیل، حقائق اور میرٹ کی کسوٹی پر پرکھی جاتی ہیں۔ اس طرح عالمی لیڈر اور ادارے اس لیڈر کے علاوہ اس ملک کے بارے میں بھی رائے قائم کرتے ہیں، وہ جس کی نمائندگی کر رہا ہوتا ہے۔

