مُلا کی محراب: مری ہیچ مایہ معیشت کے اظہارِ فن کا سہارا
یہاں کام کے دنوں میں قلاشی کے باوجود کئی نایاب عشرتیں ایک جگہ میسر تھیں۔ نیچے میلہ رام کی گلی میں شہرِ لاہور سے مخصوص ایک متین سی رونق تھی، گودام کی بل کھاتی سیڑھی چڑھ کے محرابی کھڑکی تک آتے آتے کابل و شیراز کی مہک دماغ تک آ جاتی۔ یہاں اوپر سب کام بِن کہے، اپنی مرضی کا تھا۔ کئی دن تو جھاڑ پھونک کرتا رہا، مخطوطوں کے پشتے از سرِ نو مرتب کیے، خالی کاغذ، لین دین کی یادداشتیں، طالبان عہد کے جنگجو کمانڈروں کے پراپیگنڈا اسٹیکر اور ب بندوق پ پستول کے قاعدے، انقلابِ ثور اور انقلابِ خمینی کے زمزمے اور پمفلٹ، حافظ و سعدی کی شاعری کے مصور پرنٹ، قمری و شمسی کیلنڈروں کے ٹکڑے، سیلف ہیلپ کتابچے، ادعیہ پنجسورے، چرمی گردپوش، سوئیاں دھاگے، کیل کانٹے، وزٹنگ کارڈ، کاروباری رقعے سب الگ الگ خانوں میں رکھے۔ اپنے کمبل سے ملحق الماری میں اپنے ذوق اور کام کی کتب اپنے ہاتھ کی دوری پر سجائیں۔
جھاڑو، پوچی، قرنوں کی دھول۔۔۔ نیچے دکان میں قرون وسطیٰ کے پیتل کے کُرّوں اور اصطرلابوں سے کھیلتے ہوئے گمان گزرتا کہ میں خود بھی انہی نوادر میں سے ایک ہوں۔ کبھی شام کو دربار کی دیوار سے لگ کے قوالی سن لی، کبھی راوی ٹاپ کر کامران کی بارہ دری والے کنارے بیٹھ کے رات گئے تک بلند آواز میں بے سُرے راگ الاپتا۔ رات کو بے سروسامان سی میز پہ شرحِ کریما کا مرمت ناپذیر مجروح نسخہ سامنے رکھ کے شیخ ابنِ مقلہ کے بریدہ ہاتھوں کو یاد کر کے نکوٹین آلود آہیں بھرتا۔
اگلے سال کی پہلی صبح آنکھ کھلی تو خود کو اسلام آباد کی سڑکوں پر بے دست و پا حالت میں مجہول سے خلاؤں کی طرف تاکتا ہوا پایا۔ شرحِ کریما کا نسخہ مرمت نہیں ہو سکا۔ نئے شہر میں پرانے دوستوں کو ڈھونڈیے۔ نہانے کو گرم پانی کی فکر کیجیے، ماں باپ نے اپنے حصے کا رو پیٹ لیا، اگر خان و خویش میں کوئی اور پوچھے کہ سال بھر کہاں گم رہے تو کیا کہیے۔
اگر جنون کو ایک عارضہ مان لیا جائے تو میں کہوں گا کہ یہ متعدی مرض ہے۔ ایک سرسری راہگیر اس چھوت کے اثر سے محفوظ ہے کہ اس کے لیے آوارہ پاگل محض متاعِ عبرت ہیں۔ دن دیہاڑے کربلا گامے شاہ کے صدر دروازے کے آگے ہگتی ہوئی بُڑھیا، کچہری روڈ کے فٹ پاتھ پر ننگ دھڑنگ لیٹ کے بدن کے خفیہ حصوں کو دھوپ لگواتا ادھیڑ عمر شخص، کَسی ہوئی لال پتلون پہنے شور مچانے اور دیواروں پہ فلائنگ کِکیں مارتے رہنے والا ٹوٹل کریزی لڑکا، جنہیں ان کی بوالعجبی کے باوجود کوئی راہگیر پلٹ کر نہیں دیکھتا، ان کے پاس جا کر ان سے بات کریں تو ان میں بیشتر موسم کی خنکی یا ٹریفک حادثوں کی ہولناکی وغیرہ جیسے کسی موضوع پر کسی بھی دوسرے شخص کی سی ہوشمندی سے بات کر سکتے ہیں۔ وہ ایک بے مہر اور غیر روادار سماج میں ایک ناقابل اعتبار سی سماجی قبولیت کو قربان کر کے اس کے عوض اپنی انفرادیت کے اظہار کا بسیط اجازہ حاصل کر چکنے والے چالاک ترین لوگ ہیں۔
میرے ایک متوسط زندگی کے خط سے نیچے چلے جانے کی ایک سادہ تر وجہ بے سروسامانی کا جبر ضرور تھی، لیکن ایک محرک ایک بزعم خود تخلیق کار کا خالی پن بھی تھا۔ میں ساز و سامان کی دیکھ بھال کرتے رہنے والی بودوباش کے آگے جتنا مزاحم ہوتا گیا، لاشعور میں رواں ایک ماجرائے خام کے آگے میری مزاحمت، خود سپردگی میں بدلتی چلی گئی۔ ان ایام میں حرف، رنگ، صوت، ساخت، روشنی، جنبش، ادا اور علامت کے وہ پارے میرے افعال اور حسیات کے ہمسفر تھے، جنہیں روزمرہ بامعنی ابلاغ کے لیے ہم کسی ذخیرے میں شمار نہیں کرتے۔
میں شہر کے در و دیوار، کوچہ و بازار اور ان میں متحرک زندگی سے مہینوں تک مسلسل خاموش مکالمے میں رہا۔ یہ مکمل خبط تھا، لیکن اس تسلسل میں گاہے کچھ ایسی پرماجرا واردات ضرور آ جاتی جس کی یاد مجھے اب بھی بضد رکھتی ہے کہ اس کی ممکنہ تاویل، ہوش و خرد کی سکہ بند دنیا میں مجھ پر سے دیوانگی کی تہمت کو دھو سکتی ہے۔ میں نے گذرگاہوں اور عمارتوں کی زبان سمجھنے کی سعی کی۔ میں نے صبح فٹ پاتھوں سے جاگ کر، اونچے گھڑیال کے اشارے پر رٹے رٹائے رستوں پہ خیراتی لنگروں تک پہنچتے انسانوں، راوی کے پل اور نہر والی سڑک پہ صدقے کا تیار شدہ گوشت اٹھانے کے لیے شہر بھر کے آسمان پر سیاروی دائروں میں اڑتی چیلوں، اور اپنے اپنے مدار کے گرد گھومنے والے آوارہ کتوں اور بلیوں کی الگ الگ گردشوں کے بیچ کے موہوم سے باہمی آہنگ کو ایک سنجیدہ مشاہدے کا موضوع سمجھا۔ اور میں نے زندگانِ شہر پر اعتماد کیا کہ میں اپنی دقیق اور نازک و شکستنی فنی مشقتیں عام رسائی کے کسی کونے کھدرے میں سجا دوں گا تو دستِ تخریب سے پہلے چشمِ بینا اس تک پہنچے گی۔
پنجاب پبلک لائبریری میں گزارے دنوں اور جیل روڈ، ٹکسالی اور یادگار چوک کے قرب و جوار میں گزاری گئی راتوں کے دوران کاغذوں کے کچھ ٹکڑے جو میں یہاں وہاں دابتا رہا تھا، ان میں سے جو کچھ سمیٹ سکا، مُلا کی محراب تک لے آیا۔ سال بھر بعد اب آ کر بچے کھچے پرزے وہاں سے سمیٹنے کی نوبت ہوئی ہے اور محراب پر یہ نشان چھوڑے جاتا ہوں۔ عمومی سماجی توقعات اور متوسط حضری معیار زندگی کے آگے سرِ تسلیم کو مقدور بھر خم کر چکنے کے بعد بھی، اپنے ظاہر کو تباہ و برباد کر لینے کے دنوں کی یاد کبھی کبھار پلٹ کے دیکھتے رہنے پر اکساتی ہے۔ ایسی کسی بھی ممکنہ بازدید کے لیے مُلا کی محراب میرے تئیں ایک حوالے کا نقطہ ہے۔
*** ***
محراب کا شعر:
فَوَقَف٘تُ أسئلُهَا وَ کَی٘فَ سَوالُنا
صُمّاً خَوَالِدَ ما یَبِی٘نُ کَلامُهَا
(لبید بن ربیعہ)
سبع المعلقات کا چوتھا قصیدہ: لبید کئی مدتوں کے بعد منیٰ کی بستی سے گزرتا ہے، اور غول اور رجام کے علاقے، جہاں کبھی اس کی محبوبہ آباد تھی، اب ویرانوں میں بدل چکے ہیں؛
"میں وہاں ٹھہر گیا کہ کچھ پتہ پوچھوں۔ پر ان اینٹ پتھروں سے کیا پوچھنا، جن کی بات کچھ پلے نہیں پڑتی۔”

