پاکستان بھارت کشیدگی میں بین الاقوامی سنجیدگی کے آثار


اب چین نے بھی اسلام آباد کی خواہش کے برعکس مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دینے کی بات مان لی ہے۔ یہ وقوعہ رونما ہونے کے لئے اگرچہ واقعات کی ترتیب ذرا مختلف ہوگی اور اسے عالمی دارالحکومتوں میں پاکستان کی سفارتی تنہائی سے زیادہ اس کی ہوش مندی اور تصادم سے نکلنے کے لئے مفاہمانہ طرز عمل کی مثال کے طور پر قبول کیا جائے گا۔ اگر یہ معاملات اسی طرح ترتیب پاجائیں تو بر صغیر میں تصادم کی موجودہ فضا کو ختم کرنے کے لئے پاکستان کی یہ ’قربانی‘ کوئی زیادہ بڑی قیمت نہیں ہوگی۔

ان حالات میں البتہ یہ پوچھنا ضروری ہوگا کہ نئے پاکستان میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنے والی حکومت اور اسٹبلشمنٹ جستہ جستہ قدم اٹھانے پر کیوں یقین رکھتی ہے۔ کیا وجہ ہے کہ بعد از خرابی بسیار حافظ سعید کی تنظیموں پر پابندی لگانے کا اعلان سامنے آیا ہے اور جیش محمد کے بارے میں خاموشی سے کام لیا گیا ہے۔ لیکن حافظ سعید ہوں یا مولانا مسعود اظہر حکومت نے براہ راست ان کے خلاف کوئی قدم اٹھانے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔

کیا اس سے یہ مطلب اخذ کیا جائے کہ اس اقدم کو مقبوضہ کشمیر یا بھارت میں دہشت گردی کے کسی نئے واقعہ کے انتظار میں ’مؤخر‘ رکھنا ضروری سمجھا گیاہے۔ سب جانتے ہیں کہ تنظیموں کے ناموں میں کچھ نہیں رکھا بلکہ ان کے درپردہ عناصر ہی اصل اہمیت رکھتے ہیں۔ پراکسی وار ہو یا دہشت گردی میں ملوث گروہ، یہ ضرورت کے مطابق نام اور قیادت بدلنے کا ڈرامہ رچاتے رہتے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے یہ نوید تو دی ہے کہ نئے پاکستان میں دہشت گردی کی حمایت نہیں کی جائے گی تو ان سے پوچھنا چاہیے کہ حافظ سعید اور مولانا مسعود اظہر کو کٹہرے تک لانے کے لئے پاکستان کو کتنا ’نیا‘ ہونا پڑے گا؟

اس دوران قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی نیب کے ہاتھوں حراست پر شدید احتجاج کیا ہے لیکن حکومت ٹس سے مس ہونے کے لئے تیار نہیں۔ وفاقی کابینہ نے آج ہی نیب کی سفارش پر اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا نام ای سی ایل پر ڈالنے کا فیصلہ کرکے یہ اعلان کرنا ضروری خیال کیا ہے کہ حکومت اور نیب ’ایک ہی پیج‘ پر ہیں۔ اس ایک پیج حکمت عملی سے البتہ ملک میں سیاسی اور سماجی سطح پر انتشار اور تصادم کی صورت حال پیدا ہو رہی ہے۔

یہ کیفیت بھارت جیسے دشمن ملک کے ساتھ مقابلے کے لئے مناسب نہیں۔ یہ درست ہے کہ بھارت کی جنگ جوئی کے جواب میں سب سیاسی جماعتوں نے قومی مؤقف کی تائید کی ہے اور بھارتی اشتعال انگیزی کو مسترد کیا ہے لیکن منتخب حکومت اپوزیشن کے ساتھ کسی سیاسی مفاہمت اور قومی بیانیہ میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے کسی ایجنڈے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتی۔ یہ رویہ ایک قوم اور ایک آواز کے تاثر کو کمزور کرتا ہے۔ خاص طور سے جب آغا سراج درانی کی گرفتاری کے بعد اسے سندھ اسمبلی کے اختیار اور جمہوری وجود پر حملہ کے مترادف سمجھا جا رہا ہو۔

اس ماحول میں نئی دہلی سرکار کی پریشان خیالی اسلام آباد کے حکمرانوں سے سوا تر ہے۔ بھارتی لیڈر پلوامہ حملہ کے بعد ایک طرف اسے سرحد پار سے کی گئی ’دہشت گردی‘ قرار دے کر پاکستان سے انتقام کی فضا بنا رہے ہیں تو دوسری طرف بھارتی جنتا پارٹی کی سرپرستی میں سرگرم انتہا پسند ہندو گروہوں نے ملک بھر میں کشمیری باشندوں کا جینا حرام کر دیا ہے اور وہ دارالحکومت نئی دہلی جیسے شہر میں بھی اپنے گھر چھوڑ کر محفوظ پناہ گاہیں تلاش کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ ایسے میں بھارت کی حکومت اور سیاست دانوں کو یہ طے کرلینا چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر میں عسکری حملہ پاکستان کی کارستانی ہے یا اس میں کشمیری عوام کا ہاتھ ہے؟

اگر یہ کام پاکستانی علاقوں سے عسکری گروہ کر رہے ہیں تو بھارت میں کشمیری باشندوں کو کیوں انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور انہیں کشمیر واپس جانے کے طعنے کیوں دیے جا رہے ہیں۔ اور اگر کشمیری ہی بھارتی فوج کے خلاف ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہو چکے ہیں تو کیا بھارت امن پسند کشمیری شہریوں کو ٹارگٹ کر کے کشمیر میں آزادی کے لئے اٹھنے والی آواز کو دبانے میں کامیاب ہو جائے گا؟ نئی دہلی کو مان لینا چاہیے کہ اس کی فوج اور پیرا ملٹری فورسز مقبوضہ کشمیر میں اپنے ظلم اور پر تشدد ہتھکنڈوں سے کشمیری عوام میں نفرت اور بے چینی پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ یہ بے چینی بعض صورتوں میں برہان وانی یا عادل ڈار بن کر تباہی اور دہشت کاسبب بھی بنتی ہے۔

اس صورت حال سے نکلنے کا راستہ تو وہی ہے جو پاکستان تجویز کرتا ہے کہ پاکستان اور کشمیری قیادت سے مذاکرات کے ذریعے اس مسئلہ کا مستقل حل تلاش کرنے کے لئے اقدام کیا جائے۔ اسی طرح لہو لہان کشمیر میں امن قائم ہوسکتا ہے اور برصغیر کے لوگ سکھ کا سانس لے سکتے ہیں۔ ظلم کرنے اور نفرت پھیلانے کا رویہ تباہی کا راستہ ہے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali