انسانی حقوق کی بات چھوڑیں، ریاستوں کے مفادات بالادست ہیں


پاکستان میں ایم بی ایس کا فقید المثال استقبال کیا گیا تھا۔ وزیر اعظم عمران خان نے اس دورہ کی وجہ سے پلوامہ سانحہ میں بھارتی ریزرو فورس کے جوانوں کی ہلاکت اور اس کے نتیجہ میں بھارت کی دھمکیوں کا جواب دینا بھی ضروری نہیں سمجھا تھا۔ اس جوش و خروش میں انسانی حقوق کا معاملہ غیر ضروری اور بے مقصد ہوجاتا ہے۔ پاکستان جمال خشوگی کے قتل پر کبھی بھی عالمی احتجاج کا حصہ نہیں بنا۔ اسی طرح سعودی ولی عہد جب نئی دہلی پہنچے تو انسانیت کے دعویدار نریندر مودی اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والے بھارت کے لیڈروں نے بھی جمال خشوگی تو کیا، سعودی عرب میں مقیم اپنے ملکوں کے لوگوں کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک پر بھی بات کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ البتہ پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم نے سعودی جیلوں میں قید اپنے شہریوں کے لئے ’رحم‘ کی اپیل کی اور کمال فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہزادہ محمد بن سلمان نے ہزاروں قیدیوں کی رہائی کا فوری حکم بھی جاری کر دیا۔

سعودی عرب کے علاوہ پاکستان اور بھارت میں اس اعلان کو سیاسی فائدے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ سعودی عرب رحم دل اور انسان دوست ولی عہد کا امیج نکھارنے کی کوشش کررہا ہے اور پاکستان میں اسے وزیر اعظم کی کامیابی قرار دے کر اور سعودی شاہی خاندان میں عمران خان کے ذاتی اثر و رسوخ کے طور پر پیش کرکے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔

شہزادہ محمد بن سلمان کے ایشیائی ملکوں کے دورے کو اگرچہ ان ملکوں میں اور خاص طور سے پاکستان میں ایک عظیم کامیابی کے طور پر پیش کیا گیا ہے لیکن یہ دورہ دراصل سعودی ولی عہد کی طرف سے جمال خشوگی قتل کے بعد سامنے آنے والی سفارتی تنہائی سے باہر نکلنے کا ذریعہ تھا۔ ان تینوں ملکوں میں ہونے والی پذیرائی سے این بی ایس بخوبی یہ مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں ۔ جبکہ پاکستان جیسے ملک اس بات پر خوش ہیں کہ سعودی عرب دس سے بیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پر آمادہ دکھائی دیتا ہے۔ ایسے میں انسانی حقوق اور عام لوگوں کے تحفظ اور بھلائی کا معاملہ نہ مہمان کا مقصد تھا اور نہ میزبان حکومتوں کو اس سے غرض تھی۔

چین جیسا بڑا ملک بھی اس بات پر مطمئن اور شاد ہے کہ مسلمانوں کے مقدس ترین مقامات حرمین شریفین کے خادم سعودی شاہی خاندان کے سب سے طاقتور نمائیندے نے چینی مسلمانوں کی حالت زار پر بات کرنے کی بجائے چینی حکومت کی پالیسی کی تائید کرکے اسے ایک مؤثر سفارتی ہتھیار فراہم کیا ہے۔

دوسری طرف دنیا بھر میں انسانی حقوق پر اصرار کرنے والے ممالک اپنے ہی شہریوں کے انسانی حق کو تسلیم کرنے سے گریز کرنے کی حتی الامکان کوشش کررہے ہیں۔ برطانیہ کے وزیر داخلہ ساجد جاوید شام اور عراق میں داعش کے ساتھ مل کر لڑنے والے یا جہادی دلہنوں کے طور پر جانے والی نوجوان لڑکیوں کی ملک میں واپسی روکنے کے لئے ہر حد تک جانے کا اعلان کر رہے ہیں۔ ایک اطلاع کے مطابق ساجد جاوید 566 برس پرانے ریاست سے بغاوت کے بارے میں ایک قانون کو مؤثر کرنے کی کوشش بھی کررہے ہیں تاکہ ان لوگوں کو ریاست سے باغی قرار دے کر ان کا برطانیہ میں داخلے کا راستہ روکا جاسکے۔

 اس وقت یورپ میں جہادی دلہنوں کے حوالے سے بحث عروج پر ہے۔ ان میں سے ایک برطانوی شہری انیس سالہ شمیم بیگم ہیں جنہوں نے گزشتہ دنوں ایک بیٹے کو جنم دیا ہے۔ وہ چار برس پہلے پندرہ برس کی عمر میں اپنی دو سہیلیوں کے ساتھ ترکی کے راستے شام گئی تھی اور وہاں ہالینڈ کے ایک جہادی سے شادی کرلی تھی۔ اب وہ اپنے وطن واپس آنا چاہتی ہے تاکہ اس کا بیٹا محفوظ زندگی گزار سکے لیکن برطانوی حکومت نے اس کی شہریت منسوخ کرد ی ہے۔ ایسا ہی ایک معاملہ امریکی شہری ہدیٰ متہنہ کا ہے۔ وہ اور اس کا خاندان کہتا ہے کہ وہ امریکہ میں پیدا ہوئی اور وہیں پلی بڑھی ۔ اسے امریکی شہری کے طور پر واپس آنے کا موقع دیا جائے لیکن امریکی وزیر خارجہ مائیک پومیو اسے امریکی شہری ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

اگرچہ ان دنوں مباحث کا مرکز یہی دو ’جہادی دلہنیں‘ ہیں لیکن دنیا کے 80 ملکوں سے چالیس ہزار کے لگ بھگ نوجوان لڑکے لڑکیاں انٹرنیٹ پروپیگنڈا سے متاثر ہو کر عراق اور شام گئے تھے۔ ان میں بہت سے مارے جا چکے ہیں جبکہ اب شام سے داعش کا صفایا ہونے کے بعد ان کی بڑی تعداد امریکہ کے زیر نگرانی کیمپوں میں مبحوس ہے اور ان کے اپنے ہی ملک انہیں واپس لینے سے انکار کر رہے ہیں۔ اس وقت تک صرف ناروے، روس، انڈونیشیا، لبنان اور سوڈان نے داعش کے حمایت میں جانے والے اپنے شہری واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔ فرانس کے صدر نے بھی اس حوالے سے مثبت پیش رفت کا اشارہ دیا ہے۔ لیکن برطانیہ اور جرمنی کے علاوہ امریکہ بھی ان لوگوں کو واپس لینے پر آمادہ نہیں ہے۔ حالانکہ ان بے گھر اور مفلوک الحال لوگوں میں 730 بچے بھی شامل ہیں جو زیادہ تر امریکہ اور یورپ کے ملکوں سے جانے والی لڑکیوں کے ہاں پیدا ہوئے تھے۔

قومی سلامتی ایک اہم معاملہ ہے اور ہر حکومت کو اپنے شہریوں کی حفاظت کے لئے اقدامات کرنے کا حق بھی حاصل ہے لیکن حفاظت کے نام پر اپنے شہریوں کو نگران کیمپوں میں تشدد کا نشانہ بنانا یا اپنے گمراہ ہوجانے والے شہریوں کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کرنا ،کسی طرح بھی انسانی حقوق کے حوالے سے مناسب اور قابل قبول رویہ نہیں ہے۔ لیکن دنیا کا چلن دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ انسانی حقوق ایک غیر متعلقہ اصطلاح بن چکی ہے۔ ہر ملک اور حکومت صرف اپنا مفاد دیکھ کر فیصلے کرنا ہی ضروری سمجھتا ہے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali