انسانی حقوق کی بات چھوڑیں، ریاستوں کے مفادات بالادست ہیں
سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے چین کے دورہ کے دوران 46 ارب ڈالرسرمایہ کاری کے معاہدے کئے ہیں اور گزشتہ روز چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ ملاقات میں ایغور مسلمانوں کے خلاف چین کی سرکاری پالیسی کی تائید کی ہے۔ چینی خبررساں ایجنسی کی اطلاع کے مطابق شہزادہ محمد نے چینی صدر کو بتایا دہشت گردی کے خطرے کے خلاف اقدامات کرنا چینی حکومت کا حق ہے۔ وہ اپنے ملک کے انتہا پسندوں کے ساتھ جو چاہے سلوک کر سکتا ہے۔
ایک طرف دنیا میں انسانی حقوق کے حوالے سے بدترین ریکارڈ رکھنے والے دو ملکوں کے لیڈر بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ایک دوسرے کی تائید کرتے ہوئے اسے قومی خود مختاری کا معاملہ قرار دے رہے ہیں تو دوسری طرف انسانی حقوق کے چیمپین مغربی ممالک اس تگ و دو میں مصروف ہیں کہ وہ داعش کے ساتھ مل کر اسلامی خلافت قائم کرنے کی خواہش رکھنے والے اپنے ہی ملکوں کے شہریوں کو کس طرح اپنے ہی وطن واپس آنے سے روک سکتے ہیں۔ خاص طور سے امریکہ ، برطانیہ اور جرمنی اس حوالے سے سخت پالیسی اختیار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں کہ وہ ان نوجوانوں کی ذمہ داری سے دست بردار ہو جائیں جو داعش کے پروپیگنڈا کا شکار ہو کر مغربی ممالک سے شام اور عراق چلے گئے تھے۔ ان میں بہت بڑی تعداد نوجوان لڑکیوں کی بھی ہے جنہیں عرف عام میں ’جہادی دلہنیں‘ کہا جاتا ہے۔ اگرچہ ان لڑکیوں میں سے اکثر اپنے وطن سے فرار کے وقت کم سن اور نابالغ تھیں۔
شہزادہ محمد نے صدر شی کو بتایا کہ سعودی عرب سمجھتا ہے کہ انتہاپسندی اور دہشت گردی کی روک تھام اور ملکی سلامتی کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لئے اقدامات کرنا چینی حکومت کا حق ہے۔ سعودی عرب چین کے اس حق کو تسلیم کرتا ہے اور اس مقصد کے لئے چین کے ساتھ تعاون کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ چینی صدر نے سعودی ولی عہد کو بتایا کہ انتہا پسندانہ سوچ اور نظریات کو پھیلنے سے روکنے کے لئے دونوں ملکوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے۔
واضح رہے شہزادہ محمد کا تبصرہ چین میں ایغور مسلمانوں کے ساتھ کئے جانے والے سلوک کے حوالے سے بےحد اہمیت رکھتا ہے۔ چین نے دس لاکھ سے زائد ایغور مسلمانوں کو تربیتی کیمپوں میں رکھا ہؤا ہے جہاں چینی حکام کی اطلاعات کے مطابق انہیں مذہبی انتہا پسندی سے محفوظ رکھنے کی تعلیم دی جا رہی ہے۔ لیکن انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیموں اور عالمی سطح پر ایغور حقوق کے لئے متحرک لوگوں کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کو کیمپوں میں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور ان پر ظلم کیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنے عقائد سے دست بردار ہوجائیں۔
چین پاکستانی سرحد کے ساتھ ملنے والے صوبے چنگ جیانگ میں آباد یغور مسلمانوں کو انتہا پسندی کا سبب سمجھتا ہے اور ان کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے لئے گزشتہ برس کے دوران کثیر تعداد میں ایغور مسلمانوں کو نگرانی کیمپوں میں رکھا گیا ہے۔ اقوام متحدہ اور ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ سیٹلائٹ تصویروں سے پتہ چلتا ہے کہ ان کیمپوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ دسمبر 2018 تک اس قسم کے 39 کیمپ رجسٹر کئے گئے تھے۔ اگرچہ ایغور نمائیندے اس جبر کے خلاف عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں لیکن چین کے معاشی اثر و رسوخ اور اس کے ساتھ وابستہ تجارتی مفادات کی وجہ سے دنیا میں اس بارے میں کوئی خاص شنوائی نہیں ہوتی۔ حتیٰ کہ مسلمان ممالک بھی اس معاملہ پر مہر بلب ہیں اور کسی بھی صورت میں چین کی مسلمان آبادی کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کو تیار نہیں ہیں۔ اب دنیا بھر میں مسلمانوں کے حقوق کا کسٹوڈین کہلانے والے سعودی عرب کے ولی عہد نے ایغور مسلمانوں کے خلاف چین کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے۔
چینی پالیسی کی حمایت میں سعودی ولی عہد کا یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شہزادہ محمد اکتوبر میں استنبول کے سعودی قونصل خانے میں سعودی صحافی جمال خشوگی کے المناک قتل کے بعد دنیا میں اپنی ساکھ بحال کرنے کے لئے ہاتھ پاؤں ماررہے ہیں۔ امریکہ کے اخبار واشنگٹن پوسٹ کے لئے کام کرنے والے صحافی گزشتہ برس 2 اکتوبر کو دوسری شادی کے لئے ضروری کاغذات لینے استنبول کے سعودی قونصل خانے گئے تھے جہاں سعودی عرب سے آئی ہوئی ایک خصوصی ٹیم نے بہیمانہ طریقے سے انہیں قتل کر کے، لاش کے ٹکڑے کر کے اسے تلف کرنے کا اہتمام کیا تھا۔
ترکی نے اس سانحہ کے شواہد فراہم کئے اور دنیا بھر سے سامنے آنے والے احتجاج اور سفارتی دباؤ کی وجہ سے سعودی عرب کو بالآخر اس قتل کو تسلیم کرنا پڑا۔ لیکن وہ ابھی تک مناسب شواہد دینے اور مجرموں کو ترکی کے حوالے کرنےکے لئے تیار نہیں ہے۔ امریکی سینیٹرز کے علاوہ انٹیلی جنس رپورٹس میں اس جرم کے درپردہ طاقتور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا ہاتھ بتایا جاتا ہے۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ وابستہ مالی مفادات کی وجہ سے معاملہ کو اچھالنے سے گریز کر رہے ہیں۔
چین کے دورہ کے دوران صدر شی جن پنگ یا کسی دوسرے چینی عہدیدار نے سعودی عرب کے ولی عہد کے ساتھ اس معاملہ پر بات کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی کیوں کہ سعودی عرب کی طرح انسانی حقوق اور اپنے شہریوں کی بہبود کی ضمانت چین کا بھی مسئلہ نہیں ہے۔ اس کے جواب میں سعودی شہزادے نے چینی صدر کو یقین دلایا کہ سعودی عرب کو ایغور مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے سلوک پر کوئی اعتراض نہیں ہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ چین کا یہ حق ہے کہ وہ قومی سلامتی کے لئے انتہا پسندی کی روک تھام کرے ۔ اس بارے میں ضروری اقدامات کرنا اس کا خودمختارانہ حق ہے۔ سعودی ولی عہد نے چین جانے سے پہلے پاکستان اور بھارت کا دورہ کیا تھا۔
مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

