قومیت پرستی، برصغیر اور پاکستان


1929 میں لاہور کے کنونشن میں انڈین نیشنل کانگریس نے یہ قرارداد منظور کی آج سے ہم انڈیا کی مکمل آزادی کے لیے کام کریں گے کیونکہ انڈیا ایک قوم ہے۔ جب یہ تھیوری پھیلی تو اس کے چند برس بعد ہی ایک دوسرا تصور جنم لینے لگا کہ انڈیا میں ایک قوم نہیں بلکہ دو قومیں رہتی ہیں، ایک ہندو اور ایک مسلمان۔ مذہب کی بنیاد پر قوم کا تصور اس سے پہلے کہیں نہیں تھا بلکہ یہ کہنا درست ہو گا کہ یہ قوم کی بنیادی تعریف کے بھی منافی تھا۔

بہر حال یہ تصور پھیلا جس میں علامہ اقبال کی 1930 کے بعد کی شاعری اور تحریروں کا بہت بڑا کردار ہے۔ اس کے علاوہ کسی بھی قوم کو مذہب کے نام پر کچھ بھی بیچا جا سکتا ہے۔ اسی تصور کو بنیاد بنا کر آل انڈیا مسلم لیگ نے 1940 میں لاہور میں ہی یہ قرارداد منظور کی اب سے ہم ایک نہیں دو قوموں کی آزادی کے لیے جدوجہد کریں گے۔ اسی قرارداد کو بعد میں مسخ کر کے نصاب میں قرارداد پاکستان کے نام سے پڑھایا جاتا ہے۔

لیکن برصغیر میں ایک تیسری تھیوری بھی تو جو کہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا نے پیش کی کہ نہ تو انڈیا ایک قوم ہے نہ دو اور نہ ہی قوموں کی تعریف مذہب کی بنیاد پر کرنی چاہیے بلکہ اگر انڈیا کا جائزہ قوموں کی اصل تعریف کے مطابق لیا جاے تو انڈیا میں کم و بیش 17 قومیں بستی ہیں جن کو زبان، حدود، ثقافت اور معاشی اعتبار سے الگ الگ دیکھا جا سکتا ہے۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا نے مزید یہ بھی کہا کہ کانگریس کی تھیوری کہ انڈیا ایک قوم ہے بالکل غلط ہے، اور نہ ہی کانگریس ایسی پالیسیاں بنا رہی ہے کہ انڈیا کی 17 قومیں ایک قوم بن کر اکٹھی رہ سکیں۔

اور اس کے علاوہ مسلم لیگ کی بھی جائز مطالبات کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے لہذا اگر کانگریس یہ تسلیم کر لے کہ انڈیا ایک نہیں بلکہ کثیر القومی ریاست ہے اور ہر قوم کو برابر حقوق دیے جائیں گے تب ہی ہم سب مل کر ایک آزاد ریاست کے لیے جدوجہد کر سکتے ہیں اور اکٹھے رہ سکتے ہیں۔ اسی برابری کے سلوک سے ہو سکتا ہے کہ مسلم لیگ کا الگ ریاست کا مطالبہ بھی ختم ہو جاے۔ ہر قوم کو مکمل حق خود ارادیت ہونا چاہیے کہ چاہے وہ انڈیا میں شامل ہو، پاکستان میں یا آزاد۔

لیکن ظاہر ہے کہ یہ تھیوری کامیاب نہیں ہوئی اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ برٹش انڈیا میں تمام کمیونسٹ پارٹیوں پر پابندیاں لگتی رہیں اور غداری کے مقدمات کا سامنا بھی رہا لہذا یہ پورے انڈیا میں یکجاں نہیں ہو سکے۔ لیکن اگر آج آپ بھارت اور پاکستان میں علیحدگی پسند تحریکیں دیکھیں تو آپ کو یہ تھیوری درست معلوم ہو گی۔

موجودہ بھارت میں کشمیر، اسام، ناگالینڈ، تریپورہ اور تمل علیحدگی پسند تحریکیں چل رہی ہیں۔ اسی طرح پاکستان میں آپ نے بنگالی قوم کو تحریک کے بعد الگ ریاست بنتے تو دیکھ ہی لیا۔ اس کے علاوہ گلگت بلدستان، بلوچستان، ایم کیو ایم (ایک چھوٹی شہری قوم پرستی کی تحریک) ، عوامی نیشنل پارٹی (بنیادی طور پر قوم پرست تحریک تھی، بعد میں اس میں پشتون سرمایہ دار شامل ہو گے ) ، اور بالکل تازہ ترین پی ٹی ایم کی تحریک شامل ہے جنہوں نے علیحدگی کا مطالبہ کھل عام تو نہیں کیا لیکن اسی ریاست میں ایک برابر شہری کے حقوق مانگے ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے بٹوارے کے بعد دونوں ملکوں میں حاکم جماعتوں نے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے خلاف خوب پراپیگنڈا کیا۔ پاکستان میں ان کو بھارت دوست بتایا گیا اور بھارت میں پاکستان دوست جبکہ یہ برصغیر کی واحد پارٹی تھی جس کے بنیادی تصورات بالکل درست تھے جو کہ کانگریس اور مسلم لیگ کی سطحی سمجھ بوجھ سے بہت بہتر تھے۔

یہاں سے آپ اندازہ لگا سکتے کہ بنیادی تصورات کی درست سمجھ بوجھ اور وضاحت کتنی اہم ہے اور ایک سطحی سمجھ بوجھ سے کتنا نقصان ہو سکتا ہے۔ جو ماضی میں ہوا اس کا تو اب کچھ نہیں ہو سکتا لیکن بھارت اور پاکستان کو اگر اپنی ریاستیں قائم رکھنی ہیں تو صرف ایک بات تسلیم کرنا ہو گی کہ ہم ایک کثیر القومی ریاست ہیں۔ صرف اس ایک بات کو تسلیم کرنے سے ایسی پالیسیاں بننا شروع ہوں گی جو تمام قوموں کو برابر حقوق کے ساتھ یکجا رکھ پائیں گی۔ اور دنیا میں بہت سے ملک کثیر القومی ریاستیں ہیں اور بڑی کامیاب ریاستیں ہیں۔ لیکن ہم نے آج تک قبلہ ہی درست نہیں کیا اور پچھلے سو سال کی غلطیوں کو صرف شاندار بنا کر پیش کیا ہے یعنی تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا بلکہ تاریخ ہی اپنی اپنی بن ڈالی۔

مسائل تو بہت ہو گئے اب ان کا حل کیا ہے؟

مسائل کی جڑ سرمایہ داری نظام ہے کیونکہ بنیادی طور پر یہ منڈی، زمینی ملکیت اور معاشی وصائل کی ہی لڑائی ہے جو ایک قوم دوسری قوم سے کر رہی ہے۔ سرمایہ داری نظام ختم ہو جاے تو ایک انسان کا دوسرے انسان کے ہاتھوں استحصال ختم ہو جاے جس سے نہ صرف قوموں کی آپس کی لڑائی ختم ہو جاے بلکہ جنگ کی نوبت بھی شاید کبھی نہیں آے۔ اسی لیے سوشلسٹ یہ چاہتے ہیں کہ قومی جبر کی ہر کارروائی کے خلاف جدوجہد جاری رہنی چاہیے جب تک کہ دنیا بھر کے محنت کش اکٹھے ہو کر سرمایہ دارانہ نظام کو ختم نہیں کر دیتے۔ سوشل ازم میں پاکستان کے حوالے سے مسائل کا حل بہت سادہ ہے۔

1۔ سب سے پہلے تو ریاست یہ تسلیم کرے کہ ہم ایک قوم نہیں بلکہ کثیر القومی مملکت ہیں۔ قوم کبھی بھی مذہب کی بنیاد پر نہیں ہوتی، اس کے لیے پہلی قسط میں بتاے گئے پانچ اجزاء کا ہونا ضروری یے۔

2۔ تمام قوموں کے مکمل طور پر برابر کے حقوق ہونے چاہیے۔ جس میں معاشی، سیاسی، ثقافتی و سماجی حقوق سر فہرست ہیں۔ اس کو اگر ہم مزید مخصوص انداز میں کہیں تو پاکستان میں موجود تمام قوموں کا ’ہیومن ڈیویلپمنٹ انڈکس‘ برابر ہونا چاہیے۔ جو کہ تین اجزاء پر مشتمل ہوتا ہے، برابر آمدن کی شرح، تعلیم کے مواقع اور یکساں صحت کی دیکھ بھال کی سہولیات۔ جب بلوچستان اور پنجاب کے ’ہیومن ڈیویلپمنٹ انڈکس‘ میں زمین آسمان کا فرق ہو گا تو ظاہر ہے کہ بلوچ قوم اپنے حق کے لیے آواز اٹھاے گی اور بجاے کہ ان مسائل کا حل کیا جاے، طاقت کے استعمال سے مزید قومی جبر کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچستان میں اب تک علیحدگی کی تحریک کے چھ بڑے ادوار گزر چکے ہیں۔

3۔ ایک سچی وفاقی ریاست کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بناے کہ ہر قوم یا صوبہ رضا کارانہ طور پر ریاست کا حصہ بنے اور اس میں کسی قسم کا جبر یا طاقت کا استعمال نہ ہو۔

4۔ چار بنیادی کاموں کے علاوہ وفاق کو صوبوں یا قوموں کو مکمل طور پر خود مختیاری دینی چاہیے۔ ان چار کاموں میں بنیادی قوانین کا نفاذ، دفاع و حفاظت، بین الاقوامی روابط، اور افواج کی افسری شامل ہے۔

5۔ ہر صوبے یا قوم کے پاس یہ اختیار ہونا چاہے کہ وہ اپنے وسائل سے سب سے پہلے خود مستفید ہوں۔ دوسرے صوبوں یا قوموں کو مستفید کرنے کے بارے میں فیصلے کا حق رکھتے ہوں۔ کسی بھی قوم یا صوبے کی حدود کو قوم کی مرضی کے بغیر تبدیل نہ کیا جاے۔

6۔ تمام زبانوں کو برابر کا درجہ دیا جاے۔ ہر قوم کی زبان کو پھلنے پھولنے کو مساوی وسائل فراہم کیے جائیں۔ کسی ایک قوم کی زبان کو دوسرے پر فوقیت نہ دی جاے۔ اول تو کوئی سرکاری زبان ہو نہ یا سب سرکاری زبان ہوں۔ جب مختلف قوموں کے لوگ اکٹھے ہوتے ہیں تو وہ اردو ہی بولیں گے اس کو سرکاری حکم کے طور پر نافذ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

جب وفاق برابری کی بنیاد پر ہر قوم کی ترقی کے لیے کام کرے گا تو سب قومیں کیوں نہیں اس ریاست کا حصہ رہنا چاہیں گی۔ اگر آج یہ قبلہ درست کر لیا جاے تو ہو سکتا ہے کہ ہم سو دو سو سال تک برابری کی سطح پر ساتھ رہنے کی وجہ سے کثیر القومی ریاست سے ایک قوم پاکستان بن جائیں لیکن اگر ہم ماضی کی غلطیوں پر فخر ہی کرتے رہے تو ایک قوم تو دور کی بات ایک ریاست کا تصور بھی دھندلا دکھائی دیتا ہے۔

اوپر بتاے گے اقدامات میں سے نمبر 1، 2 اور 6 بہت آسان اور جلدی سے کیے جا سکتے ہیں۔ اگر یہ سب نافظ کر دیا جاے تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آس پاس کی اور قومیں بھی سوچیں کہ ہم بھی پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں یہاں ہر قوم کی عزت اور برابر کے حقوق دیے جاتے ہیں۔ چین کے ایغور کہیں کہ ہم نے پاکستان میں شامل ہونا ہیں۔ ادھر سے بھارت کے سندھی، ایران کے بلوچ، افغانستان کے پشتون، بھارتی کشمیری اور ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو جاے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2