قومیت پرستی، برصغیر اور پاکستان
قومیت پرستی کا تصور زیادہ پرانا نہیں بلکہ اٹھارویں صدی کی پیداوار ہے۔ سرمایہ دارای نظام کے آغاز میں جب ایک گاؤں یا علاقے نے اپنی ضرورت سے زائد پیداوار شروع کی تو اس کے نتیجے میں پہلی پہلی تجارتی منڈیاں وجود میں آئیں اور اس تجارتی سرگرمیوں کے نتیجے میں بنبے والی برادریوں سے قومیت پرستی کے تصور نے جنم لیا۔ جس کی پانچ بنیادی خصوصیات تھیں۔
1۔ مستقل تصفیہ رکھنے والے لوگ (خانہ بدوش نہ ہوں ) ۔
2۔ مشترک زبان
3۔ مشترک علاقہ
4۔ مشترک ثقافت
5۔ مشترک معیشت
ان پانچ خصوصیات پر مبنی برادریوں نے اپنے آپ کو قوم کہنا شروع کیا۔ جیسا کہ ہم انگلش ہیں یا ہم فرنچ ہیں۔ ظاہر ہے اپنی اپنی زبان میں۔
We are English۔
Nous sommes Francais۔
یہ قومیں جب دولتمند ہویئں تو انہوں نے اس وقت کے جاگیرداری بادشاہت کے خلاف بغاوت کی۔ جس کی نتیجے میں قومی ریاستوں کو قیام عمل میں آیا۔ انگلینڈ اور فرانس اسی کی مثال ہیں جہاں سرمایہ دارانہ نظام نیچے سے اوپر داخل ہوا اور جاگیرداری نظام کو نکال باہر کیا۔
اس کے برعکس باقی ریاستوں یا بادشاہتوں نے اپنے دفاع اور افواج کو جدید اسلحہ سے لیس کرنے کے لیے یا متوقع بغاوت کو روکنے کے لیے اصلحہ کی صنعت کی صورت میں سرمایہ داری نظام خود ہی متعارف کروا دیا۔ یعنی یہاں یہ نظام خود جاگیرداروں اور بادشاہوں نے متعارف کروایا اور اوپر سے نیچے بہتا چلا گیا۔ روس اور جرمن اس کی مثال ہیں۔ اس وقت یہ ایک قوم نہیں تھی بلکہ کثیر القومی ریاستیں تھی۔ اور پھر جوں جوں سرمایہ داری نظام پھیلا تو ان ریاستوں میں موجود سبھی قوموں نے بھی اپنی پہچان اور سیاسی وجود کا آغاز کیا۔
سرمایہ داری نظام کی کچھ ناہموار معاشی اثرات ہیں جن سے بچا نہیں جا سکتا۔ اس میں سے ایک امیر اور غریب کے فرق کا بڑھنا ہے۔ یہ صرف انفرادی فرد تک محدود نہیں رہتا بلکہ قوموں اور ریاستوں کا فرق بھی بڑھتا چلا جاتا ہے۔ امیر ریاست امیر سے امیر تر اور غریب ریاست غریب سے غریب تر۔ اور پھر شروع ہوتا ہے امیر ریاستوں کے ہاتھوں غریب ریاستوں کا استحصال اور اسی ظلم کو منظم طریقے سے سر انجام دینے کے لیے نو آبادیاتی نظام (colonialism) وجود میں آتا ہے۔ تا کہ غریب قوموں کے وصائل اور انسانوں کا استحصال کیا جا سکے۔
سرمایہ داری نظام کی ناہموار ترقی، وصائل اور منڈیوں کے راج کی جنگ میں بہت سی قوم پرستی کی تحریکوں نے جنم لیا۔ یہ وسائل اور اختیار کی جنگ جہاں دو قومی ریاستوں کے درمیان جاری ہوتی ہے وہیں کثیر القومی ریاستوں کے اندر آباد مختلف اقوام کے مابین بھی جاری ہوتی ہے۔ جس کی مزید کئی شکلیں ہیں جس کا تعلق ایک قوم (حاکم یا طاقتور) کی طرف سے دوسری قوم (محکوم یا کمزور) پر لگائی جانے والی پابندی کی نوعیت پر ہوتا ہے۔
اگر ایک خاص قوم کی نقل و حرکت پر پابندی ہے تو تحریک کا بنیادی مرکز یہی بات ہو گی۔ ایک ہی ریاست میں حاکم قوم اور محکوم قوم کا تصور جنم لے لیتا ہے اور اس کے ساتھ ہی ہر قوم کے لیے نمائیدگی، زبان اور ثقافت کے مٹ جانے کا خطرہ سامنے آ جاتا ہے۔ اس کی بہت سی مثالیں ہیں لیکن پاکستان سے دینا بہتر ہو گی۔ جب اردو کو قومی زبان کا درجہ دیا گیا تو بنگال قوم بنگالی زبان کے لیے بھی یہی درجہ چاہتے تھے جو کہ ایک جائز مطالبہ تھا اور ایک قوم پرستی کی تحریک بن کر سامنے آیا۔
کسی بھی قوم کی زبان یا تعلیمی اداروں کو کم وسائل دینے سے اس قوم کے ذہنی ارتقاء کو خطرہ ہوتا ہے۔ پنجاب میں پنجابی زبان کے لیے بھی تحریک وجود رکھتی ہے مگر اتنی معروف نہیں۔ اسی تحریک کو عمل میں نکلنے والے ایک پنجابی اخبار کو ایک مالی پڑھ کر بہت خوش ہوا جو کہ سکول میں اردو سے کوفت کھا کر بھاگ نکلا ہوا تھا۔ نمائیندگی کے لیے بھی سب قومیں چاہتی ہیں کہ ان کو حکومت، فوج، عدلیہ اور افسر شاہی میں برابر کا حصہ ملے۔
تمام قومیت پرستی کی تحریکوں کا کردار اسی بنیاد پر منحصر ہے کہ دوسری یا حاکم قوم کے لوگ ان پر کس قسم کی پابندیاں لگاتے ہیں۔ جس قسم کی پابندیاں یا محرومیاں ہوں گی اسی قسم کی تحریک جنم لیتی ہے۔ جیسا کہ بلوچستان سے گیس کے وسائل حاصل کر کے جب آپ اسی علاقے کو محروم رکھیں گے تو اپنے حق کا مطالبہ آے گا۔ اس کے علاوہ ہل جل پر پابندی، کسی زبان پر پابندی یا اسے سرکاری درجہ سے محروم رکھنا وغیرہ ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ بنگالی زبان کو سرکاری درجہ یا اردو کے برابر تسلیم نہ کرنا ہی بنگال تحریک کی بنیادی وجہ بنا۔ حاکم قوم دوسری قوموں پر جب اپنی یا کوئی اور زبان میں تعلیم مسلط کرتی ہے تو اس قوم کا ذہنی ارتقاء رک جاتا ہے۔ ہر قوم کو اسی کی قومی زبان میں بنیادی تعلیم و تدریس کا حق حاصل ہے اور ریاست کو یہ ذمہ داری پوری کرنا چاہیے۔
قومیت پرستی کے تصور کا برصغیر پر کیا اثر ہوا؟
برصغیر پاک و ہند کے لوگوں نے بہت بار برطانوی راج کے خلاف بغاوتیں کیں۔ جس میں سب سے بڑی 1857 کی جنگ آزادی ہے جسے برطانیہ والے انڈین میوٹنی کہتے ہیں۔ اس واقعہ کے بعد برطانیہ نے برصغیر کے لوگوں کو برطانیہ میں تعلیم حاصل کرنے کی دعوت دی کہ بھائی صاحب لڑائی اور بغاوت میں کیا رکھا ہے آپ آئیں اور تعلیم کا زیور اپنائیں۔ جن لوگوں نے اس سے استفادہ حاصل کیا ان میں جناح، گاندھی اور نہرو جیسے بڑے نام شامل ہیں۔ برطانیہ میں تعلیم کے دوران یہ لیڈران لبرل تصورات سے بہت متاثر ہوے۔ جناح بنیادی طور پر جان لوک اور جان سٹیورٹ مل جیسے انگریز لبرل سیاسی فلسفے سے متاثر تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ آج کل پاکستان میں لبرل ہونا بہت برا سمجھا جاتا یے۔
برطانیہ سے تعلیم حاصل کرنے والا یہ طبقہ نہ صرف یورپ سے متاثر تھا بلکہ وہاں کے حالات و واقعات سے بھی بخوبی واقف تھا۔ یورپ میں لوگوں کی سوچ تبدیل کرنے والی ایک بڑی لڑائی ہوئی جسے عالمی جنگ کہا جاتا ہے۔ اس میں 16 ملین انسانی جانوں کا نقصان ہوا اور یہ 1914 سے 1918 تک قائم رہی۔ اس کی بہت سی وجوہات تھیں لیکن ایک بنیادی اور سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ یورپ میں جنم لینے والی قوم پرستی کی تحریکیں بڑی بڑی سلطنتوں سے ٹکرا رہی تھیں۔ اسی تصادم کی وجہ سے عالمی جنگ کا آغاز ہوا۔ خاص طور پر ’بیلکنز اسٹیٹس‘ کے اندر سیریبین قوم پرستی کی تحریک جب ’آسٹرو ہنگیرین سلطنت‘ سے ٹکرائی تو اس کے بعد یکے بعد دیگر ایسے واقعات ہوے کہ بہت سی قومیں، ریاستیں اور سلطنتیں اس جنگ کی لپیٹ میں آ گئیں۔
جب جنگ ختم ہوئی تو ایک تو ’آسٹرو ہنگیرین سلطنت‘ کا خاتمہ ہوا۔ آسٹریا اور ہنگری الگ الگ ہو گے۔ بہت سی بیلکنز اسٹیٹس علیحدہ ہو گئی۔ اس کے علاوہ سلطنت عثمانیہ ٹوٹی، جرمن کالونیاں آزاد ہوئیں۔ اس جنگ کے فاتحیں یعنی برطانیہ اور فرانس سارے علاقہ کی آباد کاری اپنی خواہشات کے مطابق کرنا چاہتے تھے۔ اس وقت کے امریکی صدر ووڈرو ولسن نے یہ تصور پیش کیا کہ جب ملکوں کی حدود اس بنیاد پر رکھی جاے گی کہ ایک زبان کے لوگ ایک ریاست میں رہیں گے یعنی قومی ریاستیں قائم کی جائیں گی تو آئندہ قوم پرستی کی ایسی تحریکیں جنم نہیں لیں گی اور نہ ہی عالمی جنگ کی نوبت آے گی۔ امریکی صدر نے اس تصور کا بھرپور اور کامیاب پرچار کیا اور یہی تصور ”لیگ آف نیشنز“ کی بنیاد بنا۔ لہذا لیگ آف نیشنز نے اسی سوچ کے تحت بڑی سلطنتوں کے ٹوٹنے اور چھوٹی قوموں کی آزادی سے تبدیل ہونے والے دنیا کے نقشے پر قوموں کی بنیاد پر الگ الگ ریاستیں قائم کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔
1920 سے یہ تصور کہ اگر آپ ایک قوم ہیں تو آپ اپنی الگ ریاست قائم کرنے کا حق رکھتے ہیں، پوری دنیا میں پھیلنے لگا۔ جب برصغیر کے قائدین نے یہ ماجرا برطانیہ میں تعلیم کے دوران دیکھا تو انہوں نے بھی اسی تصور کے تحت اپنی آزادی کا مطالبہ رکھنے کا فیصلہ کیا۔ جو کہ ایک اچھا فیصلہ تھا کیونکہ جس تصور کا برطانیہ بین الاقوامی طور پر پرچار کر رہا تھا اس سے اپنی کالونی کے لیے انکاری ہونا ممکن نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ جیسا کہ آپ مانتے ہیں کہ انگریز ایک قوم ہیں اسی طرح ہم مانتے ہیں کہ انڈیا بھی ایک قوم ہے اور ایک الگ ریاست بنانے کا حق رکھتی ہے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


