سرکاری کھیت کی انتہا پسندی پر امریکی سنڈی کا چھڑکاؤ


جوں جوں بھارت کی طرف سے جارحیت اور پاکستانی سرحدوں کی خلاف ورزی کی کوششیں کی گئیں، پاکستانی حکومت نے بھی اسی رفتار سے انتہا پسندوں کے خلاف کارروائیاں تیز کردیں۔ یہ اقدامات کسی کے بھی حکم سے کیے جا رہے ہوں اور ان کی وجہ خواہ کوئی بھی ہو، اس بات میں تو شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ یہی راستہ پاکستان کی بھلائی اور بہبود کا راستہ ہے اور اسی طریقے سے پاکستان اقوام عالم میں کھویا ہؤا احترام و وقار حاصل کرسکے گا۔

ماضی میں بھی حکومتیں اپنے سر ایسے سہرے باندھنے کی شوقین رہی ہیں۔ ان کا حشر دیکھتے ہوئے یہ مشورہ ضرور دیا جا سکتا ہے کہ عمران خان ماضی کے چہیتوں کے خلاف حکم جاری کرتے ہوئے یہ ضمانت ضرور حاصل کرلیں کہ وقت گزرنے کے بعد یہ فیصلے انہیں بھاری نہیں پڑیں گے۔ ایسا ہی ایک مشورہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے بھارت کے کرکٹ کنٹرول بورڈ کو دیا ہے۔ کہ اگر وہ 2021 میں ٹی 20 اور 2023 میں ون ڈے کپ منعقد کروانا چاہتا ہے تو وہ اپنی حکومت سے تحریری ضمانت حاصل کرے کہ ان مقابلوں میں شرکت کے لئے پاکستانی کھلاڑیوں کو ویزے دیے جائیں گے۔ یہ مشورہ بھی حال ہی میں دو پاکستانی شوٹرز کو ویزا نہ دینے کے بھارتی حکومت کے فیصلہ کی روشنی میں دیا گیا ہے۔

عمران خان باور کر سکتے ہیں کہ ان کے فیصلے تو وہیں ہوتے ہیں جہاں سے اقتدار ان کے حوالے کرنے کا فیصلہ ہؤا تھا، اس لئے انہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ماضی میں ایسے گمان میں مبتلا لوگ اس کی بھاری قیمت ادا کر چکے ہیں۔ اس لئے ہر ذی ہوش کے لئے ماضی پر نگاہ رکھنے میں کوئی ہرج نہیں ہونا چاہیے۔ یہ تو بہر صورت عمران خان کی صوابدید پر ہے لیکن یہ کہنا وقت کی ضرورت ہے کہ کالعدم تنظیموں اور ماضی میں پراکسی جنگوں میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے حکومت اور ریاستی اداروں کو جنگی بنیادوں پر حکمت عملی بنانا ہوگی۔ یہ گروہ محض بعض افراد یا اداروں کا نام نہیں ہے۔ چند مدارس اور مساجد کو اوقاف کے حوالے کر کے اور چند ہسپتال یا ڈسپنسریاں بند کر کے انتہا پسندی کا عنصر معاشرہ سے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ یہ خاردار راستہ ہے اور بدقسمتی سے اپنے راستے میں یہ کانٹے ہم نے خود ہی بچھائے ہیں۔

امریکہ، شام میں داعش کے خاتمہ کا اعلان کر رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ چند ہی روز میں ان کے قبضے سے زمین کا آخری ٹکرا بھی چھین لیا جائے گا تو اسلامی خلافت عملی طور سے ختم ہوجائے گی۔ تاہم دہشت گردی اور انتہا پسندی پر کام کرنے والے متعدد محقق اور ماہر اس امریکی مؤقف سے متفق نہیں ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ دہشت گرد عناصر بدستور مشرق وسطیٰ میں موجود رہیں گے اور کسی نہ کسی صورت وہ اپنی قوت کا اظہار بھی کریں گے۔

انہیں مکمل طور سے ختم کرنے کے لئے اس مزاج اور سوچ کو بدلنا ہوگا جو انتہا پسندی کا سبب بنتی ہے۔ ایسے سیاسی اقدامات کرنے ہوں گے جن سے معاشروں میں شعور پیدا ہو اور نا انصافی کا خاتمہ ہو۔ انتہا پسندی لوگوں کی محرومیوں کا استحصال کرنے سے جنم لیتی ہے اور بعض عناصر اسے اپنے وسیع سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں جو بعد میں طالبان، القاعدہ یا داعش کا روپ دھار لیتے ہیں۔ انتہا پسند عناصر سے جان چھڑانے کی مہم میں پاکستان کو بھی ان تجزیوں اور اندزوں سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔

جماعت الدعوۃ یا جیش محمد کی قوت صرف حافظ سعید یا مسعود اظہر کی کرشماتی شخصیت کا سحر نہیں ہے کہ ان لوگوں کے مراکز ان سے چھین کر انہیں غیر مؤثر کردیا جائے گا۔ یہ لوگ اور ان کے حامی ایک مخصوص ریاستی بیانیہ کی وجہ سے پیدا ہوئے اور اسی سے انہیں قوت ملتی رہی ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ عسکری گروہوں کو قبول کرنے کی حکمت عملی کو تج دینے کے باوجود دو دہائی تک ان عناصر کو سرکاری اداروں کی سرپرستی میں پھلنے پھولنے اور طاقت پکڑنے کا موقع ملا ہے۔ ان کا بیانیہ اور مؤقف چند اداروں اور افراد تک محدود نہیں ہے۔ یہ معاشرے میں انتہا پسندی کے رجحان کا بنیادی نعرہ بنا ہؤا ہے۔

اس رجحان کو تبدیل کرنے کے لئے ریاست کو بعض بنیادی نوعیت کے اہم فیصلے کرنے ہوں گے۔ اسکولوں کے سلیبس اور مدارس کے طریقہ کار پر نظر ثانی کی ضرورت ہوگی۔ عام لوگوں کی زبان بندی کی پالیسی تبدیل کرنا پڑے گی اور انتہا پسندی کو ختم کرنے کے لئے آزادی اظہار کی قوت کو فروغ دینا ہوگا۔ تب ہی انتہا پسندی کا بیانیہ اپنے انجام کو پہنچے گا۔ حال ہی میں عوامی رائے کی قوت نے ہی پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کو اپنی انتہا پسندانہ اور نفرت انگیز گفتگو کی وجہ سے مستعفی ہونے پر مجبور کیا ہے۔ بھارت دشمنی اور کشمیر کی آزادی کے لئے ہتھیار اٹھانے کے رجحان کو بھی عوامی رائے کی طاقت ہی تبدیل کرسکتی ہے۔

پاکستانی ریاست اگر انتہا پسندی اور سماج دشمن عناصر کی بیخ کنی پر آمادہ ہو چکی ہے تو اسے یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا یہ کام گھٹن اور تعصب کے ماحول میں انجام نہیں دیاجاسکتا۔ باہمی احترام اور آزادی اظہار کو یقینی بنائے بغیر یہ جنگ جیتنا محال ہوگا۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali