ہاجرہ مسرور کی یاد میں


ترقی پسندی کے معاملے میں رعایت انہوں نے صرف ممتاز شیریں کو دی۔ ممتاز شیریں نے ان کی کتاب ”تیسری منزل“ پر مضمون لکھا، وہ ان کو پسند آیا بلکہ جب ان کے تمام افسانوں کا مجموعہ چھپ رہا تھا تو بہت ڈھونڈ ڈھانڈ کے وہ مضمون اس میں شامل کیا۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ ان کو ممتاز شیریں سے اس بات کی توقع نہیں تھی کہ ان کے بارے میں لکھیں گی، اس لیے کہ ”وہ تو ادھر والی تھیں۔ “ اس کے باوجود انہوں نے مضمون لکھا اور خوب لکھا۔

شاید افسانہ نگاری کا رشتہ بھی کسی تحریک کے رشتے سے کم نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ممتاز شیریں سے ان کی کوئی خاص ملاقات نہیں تھی۔ اپنے دوستوں اور ساتھیوں میں وہ سب سے بڑھ کر قرۃ العین حیدر اور پھر نثار عزیز بٹ کا ذکر بھی لکھا لیکن یہ کتاب کسی وجہ سے شائع نہیں ہوسکی۔ اور ہاجرہ آپا کو اس بات کا بہت افسوس تھا لیکن خطوط دوبارہ جمع کرنے کی ہمّت نہ رہی تھی۔ اپنے کاغذات کو ترتیب دینے اور محفوظ رکھنے کے لیے وہ اس بات پر تیار ہوگئی تھیں کہ کوئی ریسرچ اسکالر آئے اور ان کی نگرانی میں کام کرے۔ ایک آدھ نام میں نے بھی تجویز کیا مگر وہ ہاجرہ آپا کے معیار پر پورا نہ اترسکا۔ اور وہ کاغذات یوں ہی بکھرے رہ گئے۔

افسانوں پر رائے زنی کے ساتھ وہ مجھے اپنے مخصوص بزرگانہ انداز میں نصیحت کرتی تھیں کہ افسانے لکھنے کیوں کم کر دیے۔ اور چیزوں میں توجّہ کیوں ہٹ گئی۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ افسانے لکھے جانے چاہئیں۔ وہ برابر اس بات پر زور دیے جاتیں۔ صحت کی خرابی کی وجہ سے آہستہ آہستہ وہ تقریباً گوشہ نشین ہوگئیں۔ اس کے باوجود وہ بات کرتی تھیں تو ان کا بارعب انداز اور طنطنہ قائم تھا۔ وہ اپنے کاغذات کو سمیٹنا چاہتی تھیں۔ خان صاحب کے انتقال کی وجہ سے ان کی خودنوشت ادھوری رہ گئی تھی۔ اس کتاب میں شامل کرنے کے لیے خان صاحب سے ملاقات اور شادی کا احوال انہوں نے رکارڈ کروایا اور جب وہ تحریری شکل میں دیکھا تو پسند کیا۔ اسی طرح وہ اپنے خاندان اور ابتدائی زندگی کے بارے میں بعض تفصیلات ریکارڈ کروانا چاہتی تھیں۔

ہاجرہ مسرور – احمد علی خان

اسی زمانے میں میری والدہ نے اکادمی ادبیات پاکستان کے لیے خدیجہ مستور کے بارے میں ایک چھوٹی سی کتاب لکھنے پر حامی بھری۔ سوانحی مواد کے حصول کے لیے میں نے کئی بار ہاجرہ آپا سے باتیں پوچھیں اور وہ خوش دلی کے ساتھ بتاتی رہیں۔ وہ اپنی والدہ اور سوتیلے والد کا ذکر بڑے عقیدت و احترام کے ساتھ کرتی تھیں اور اپنی بہن کے لیے ان کی محبّت ان کے لہجے سے ظاہر ہوجاتی تھی۔

ایک مرتبہ میں پی ایچ ڈی کے ایک اسکالر کے ساتھ ان کی خدمت میں حاضر ہوا جو ان کے بارے میں مقالہ لکھ رہے تھے۔ ہاجرہ آپا نے بیماری کے باوجود ان کو بہت سی چیزیں فراہم کیں۔ ان کو اس بات کا قلق تھا کہ ان کے کاغذات خصوصاً خطوط محفوظ نہ رہ سکے۔ خاص طور پر ان کو قرۃالعین حیدر کے خطوط گم ہو جانے کا بہت افسوس تھا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے ناول لکھنا شروع کیا تھا اور دو، ڈھائی سو صفحے لکھ کر چھوڑ دیا۔ میں نے اس ادھورے ناول کو دیکھنے کا اشتیاق ظاہر کیا تو انہوں نے ہتّھے پر ٹوک دیا کہ ”جب کوئی لکھنے والا یہ فیصلہ کر لیتا ہے کہ فلاں چیز کی اشاعت نہیں ہوگی تو اس کی وجہ وہ خود جانتا ہے! “ ان کے خیال میں یہ ناول اس طرح نہ بن سکا تھا جیسا وہ چاہتی تھیں۔

سوانحی حالات رکارڈ کرانے کا منصوبہ بھی رہ گیا کہ ان کی صحت زیادہ خراب رہنے لگی۔ انہوں نے بتایا کہ بعض دن ایسا لگتا ہے کہ جیسے ذہن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ ان کی گوشہ نشینی کی وجہ بڑی حد تک یہی تھی، مردم بے زاری نہیں۔ یہ ضرور ہے کہ وہ اس بات کو بالکل پسند نہیں کرتی تھیں کہ نجی معاملات کُریدے جائیں۔ ڈاکٹر مصطفی کریم لندن سے آئے تو ہاجرہ آپا سے ملنے بھی گئے اور اپنے تاثر کو ”دنیا زاد“ کے لیے ایک مضمون کی شکل میں لکھ دیا۔

ہاجرہ آپا نے مجھے اس مضمون کی اشاعت سے روک دیا کہ اپنی زندگی کے بارے میں تفصیلات خود بتائیں گی۔ ایک موقع پر میں نے انہیں آزردہ سے زیادہ برافرختہ پایا۔ کسی صاحب نے یہ لکھ دیا تھا کہ نوجوانی میں بمبئی کے ایک سفر کے دوران ان کی منگنی طے ہوگئی تھی۔ انہوں نے بڑے دو ٹوک الفاظ میں سختی سے ممانعت کی کہ ایسا نہیں ہوا تھا۔ لیکن اس بارے میں قیاس آرائی کا سلسلہ چلنے لگا تو میں نے ان کو اور ان کی بیٹی کو اس بات پر رنجیدہ پایا۔

ان دنوں میں اردو افسانے کے ایک انتخابی سلسلے کے لیے ہاجرہ آپا کے افسانوں کا ترتیب سے مطالعہ کررہا تھا۔ اس انتخاب میں وہ مدد نہ کرسکیں کیوں کہ وہ اپنے افسانے بھولنے لگی تھیں۔ اور پھر ان کا کہنا تھا کہ لکھنے والے کے لیے اپنا انتخاب مشکل ہوتا ہے، اس لیے کہ وہ ذاتی پسند پر مبنی ہوتا ہے۔ ان سے جو ملاقات آخری ثابت ہوئی، اس میں انہوں نے افسانوں کے بجائے لوگوں کی قیاس آرائی کے معاملے کا ذکر بہت ناپسندیدگی کے ساتھ کیا۔ اس سے پہلے کسی نے یہ بات خدیجہ مستور کے حوالے سے کہہ دی تھی۔

وہاں سے میں بوجھل دل لیے واپس آیا اور یہ سوچتا رہا کہ ان کے ماضی میں سے ایک اسکینڈل نکال لیا گیا ہے اور اس بارے میں انٹرنیٹ پر اور دو ایک رسالوں میں قیاس آرائی ہورہی ہے۔ لیکن اصل اسکینڈل شاید یہ ہے کہ اتنی بڑی افسانہ نگار اس شہر میں زندہ موجود ہیں اور لوگ انہیں جیتے جی بھول گئے ہیں، آج ڈھونڈنے نکلیں تو بازار میں ان کی ایک آدھ کتاب بھی دستیاب نہیں۔ ان کو یاد رکھنے کا یہ کون سا طریقہ ہے!

اس کے بعد ان کی طبیعت اتنی بگڑ گئی کہ بات کرنا اور ملنا چلنا بھی محال ہوگیا۔ تھوڑے دن بعد ان کی سناؤنی آگئی۔ افسانہ بنتے بنتے وہ خبر بن گئیں۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2