جنگ کے خلاف شعور پیدا کرنے کی ضرورت


پاکستان اور بھارت میں جوہری ہتھیاروں کی موجودگی کو دفاعی صلاحیت سمجھنے کی بجائے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ دونوں ملکوں کے لیڈر بھی اس معاملہ کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لئے استعمال کرتے ہیں اور عوام کی بڑی تعداد بھی اس بات پر فخر محسوس کرتی ہے کہ ان کے ایٹم بم دشمن کو ملیا میٹ کردیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ برصغیر میں جنگ کو تماشا بنا لیا گیا ہے۔ حالانکہ اگر جوہری ہتھیاروں کی تباہ کاری کے بارے میں بعض بنیادی معلومات بھی عام کی جائیں تو لوگوں کے جنگی جنون کو کم کیا جاسکتا ہے۔ تب ہی ان ملکوں کے لیڈر بھی یہ باور کرسکیں گے کہ وہ اپنی ایٹمی طاقت کا نام لے کر عوام کو تباہی اور کئی نسلوں تک جاری رہنے والی ممکنہ لاچارگی اور کسمپرسی کے راستے پر چلنے کا مشورہ نہ دیں۔

پاکستان اور بھارت کے علاوہ ایٹمی صلاحیت کے حامل تمام ملکوں کی رائے عامہ ہی جوہری ہتھیاروں میں تخفیف کے لئے متحرک ہوتی ہے۔ مختلف پریشر گروپس، مباحث اور رپورٹس کی صورت میں حکومتوں پر ایسے ہتھیاروں سے گریز کرنے پر زور دیا جاتا ہے جو کسی تصادم کی صورت میں کرہ زمین پر مکمل تباہی اور نسل بنی نوع انسان کے خاتمہ کا سبب بن سکتے ہیں۔ اسی لئے مغربی ممالک کی حکومتیں ہمیشہ جوہری ہتھیاروں میں کمی کے ایجنڈے پر کام کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اس بات کی کوشش بھی کی جاتی ہے کہ دوسرے ممالک بھی ان تباہ کن ہتھیاروں کی تیاری سے گریز کریں۔ ایٹمی ہتھیاروں میں تخفیف کا شعور ہی طاقت ور ملکوں کی حکومتوں کو اس بات پر آمادہ کرتا ہے کہ وہ دوسرے ملکوں کو یہ خطرناک صلاحیت حاصل کرنے سے روکیں۔

یہ علیحدہ بحث ہے کہ یہ مقصد کس حد تک حاصل کیا جاسکا ہے اور کون سے بڑی طاقت اس مقصد میں کس حد تک مخلص ہے۔ تاہم چھ بڑی طاقتوں نے مل کر ایران کو جوہری ہتھیار وں کے راستے سے روکنے کے لئے 2015 میں ایک معاہدہ کیا تھا جس کے تحت ایران یورونیم کی اس سطح تک افزودگی سے باز رہنے پر آمادہ ہوگیا تھا جو ایٹمی ہتھیار میں استعمال کی جاسکتی ہے۔ امریکہ میں صدر ٹرمپ نے عہدہ سنبھالنے کے بعد ایران جوہری معاہدہ کو امریکی مفاد کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس سے علیحدگی اختیار کی لیکن باقی پانچ ممالک اور یورپین یونین مل کر ایران پر امریکی پابندیوں کی مزاحمت کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

تاکہ ایران کو بدستور جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جاسکے۔ تاہم صدر ٹرمپ بھی جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے اپنے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔ شمالی کوریا کے ساتھ مفاہمت کی کوشش اور اسے جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کی خواہش میں ہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ ان سے دو بار مل چکے ہیں۔ اگرچہ یہ ملاقاتیں کسی باقاعدہ معاہدہ کی صورت اختیار نہیں کرسکیں لیکن امریکہ کی طرف سے اس بارے میں کوششیں بہر حال کی جارہی ہیں۔

یہ پس منظر بیان کرنے کا مقصد صرف اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے کہ جو قومیں جوہری ہتھیاروں کی تباہ کاری کی صلاحیت اور ان کے پھیلاؤ کے خطرناک امکانات سے آگاہ ہیں، وہاں پر اس کی روک تھام کی بات کی جاتی ہے۔ ان سب ممالک کے پاس اپنے اپنے طور پر دنیا میں ایٹمی اسلحہ کے بڑے ذخیرے بھی موجود ہیں۔ متعدد یورپی ممالک جن کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہیں، وہ بھی فنی اور مالی لحاظ سے اس قابل ضرور ہیں کہ وہ یہ ہتھیار حاصل کرلیں لیکن اس کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔

اس کے علاوہ امریکہ ہو یا روس و چین۔ ایک دوسرے سے اختلاف رکھنے اور ایک دوسرے کو اپنے قومی مفادات کے خلاف سمجھنے کے باوجود باہمی معاملات طے کرنے کے لئے ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی نہیں دیتے۔ کیوں کہ اگر ان ملکوں کے پاس یہ صلاحیت ہے تو ان کے ہاں اس صلاحیت کے بروئے کار لانے کے خوفناک نتائج کے بارے میں شعور بھی موجود ہے۔

یورپ اور امریکہ میں چلنے والی جنگ مخالف تحریکیں تو اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے جنگ سے گریز کی پالیسی کو رہنما اصول بنانے پر زور دیتی ہیں۔ عراق پر حملہ کے بعد برطانیہ اور امریکہ میں سامنے آنے والی تحریکوں نے عالمی امن کے لئے اہم کردار ادا کیا ہے۔ کیوں کہ وہاں کے نظام تعلیم اور شعوری تربیت نے عوام کی اکثریت میں یہ احساس پیدا کیا ہے کہ جنگ مسائل کا حل نہیں ہوسکتی اور ان سے پیدا ہونے والے مسائل میں سب سے پہلے انسانی جانیں جاتی ہیں اور اس کے نتیجے میں ملکوں کی معیشت تباہ ہوتی ہے اور لوگوں کی بہبود اور بہتری کا راستہ مسدود ہوتا ہے۔

پاکستان اور بھارت گزشتہ ستر برس سے ایک دوسرے کے ساتھ برسر پیکار ہیں۔ وہ تین جنگیں لڑنے کے باوجود اب بھی ایک نئی جنگ پر آمادہ ہیں۔ اب دونوں ممالک ایٹمی ہتھیار بھی حاصل کرچکے ہیں لیکن ان ہتھیاروں کے بعد ان ملکوں کے لیڈروں میں جو اعتماد، تحمل اور بردباری پیدا ہونا ضروری تھا، اس کا دور دور نشان تک نہیں ملتا۔ پاکستان میں ایٹمی دھماکے کرتے وقت اس بات پر اصرار کیا گیا تھا کہ یہ صلاحیت حاصل کرنے کے بعد اس کے پاس ایٹم بم کی صورت میں ’مزاحمتی قوت‘ موجود ہوگی جو دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کے امکانات کو ختم کردے گی۔

لیکن گزشتہ تیس برس کے دوران دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے ساتھ تصادم اور دشمنی کا رشتہ بھی استوار رکھا اور ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد اور معیار بہتر بنانے کے لئے بھی قومی وسائل صرف کیے جاتے رہے ہیں۔ خاص طور سے پاکستان نے بھارت کی کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرائن کا مقابلہ کرنے کے لئے مبینہ طور پر چھوٹے اور موبائل ایٹمی وار ہیڈ تیا رکئے ہیں۔ ان کا مقصد یہ بتایا جاتا ہے کہ بھارت نے اگر اپنی کولڈ سٹارٹ حکمت عملی کے تحت پاکستان پر اچانک اور شدید حملہ کرکے عسکری برتری حاصل کرنے کی کوشش کی تو پاکستان عددی اور حربی اعتبار سے تو شاید اس پیش قدمی کو نہ روک سکے لیکن اس کے خلاف محدود اثر رکھنے والے نیوکلئیر ہتھیار استعمال کرنے کی تیار کرلی گئی ہے۔

یہ مزاج دراصل ان دونوں ملکوں میں جنگ سے رومانیت اور دشمن ملک کو تباہ کرنے کا رویہ عام کرنے کے نتیجہ میں راسخ ہؤا ہے۔ کسی بھی تصادم کی صورت میں پاکستان اور بھارت کے شہروں میں ایک دوسرے کے لیڈروں کے پتلے جلاتے ہوئے جنگ میں دشمن کو نیست و نابود کردینے کے نعرے لگانے والوں کو ہرگز اس بات کا اندازہ نہیں ہوتا کہ آج جن ہتھیارں سے جنگیں لڑی جاتی ہیں، ان میں ہار جیت نہیں ہوتی بلکہ تباہی ہی انسانوں کا مقدر بنتی ہے۔

افغانستان اور عراق کی جنگیں اور اس کے بعد شام کا تنازعہ اس کی تازہ ترین مثالیں ہیں۔ اگرچہ ان جنگوں میں ملوث امریکہ اور اس کے حلیف ممالک کے اپنے علاقے ان جنگوں سے متاثر نہیں تھے، اس کے باوجود یہ طاقتیں ان جنگوں میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ اور مذاکرات اور مفاہمت کے ذریعے انہیں ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پاکستان اور بھارت میں یہ رویہ مفقود ہے۔

بھارت، پاکستان کے اصرار کے باوجود مذاکرات پر آمادہ نہیں ہے اور پاکستان تصادم اور تنازعہ کی کیفیت کا خمیازہ بھگتنے اور مقبوضہ کشمیر میں عسکریت پسندی کی بنیاد بننے والے گروہوں کی اعانت کا بھاری سفارتی اور سیاسی نقصان اٹھانے کے باوجود اس پالیسی کو مکمل طور سے ختم کرنے کا قدم اٹھانے سے گریز کرتا ہے۔ اس کی بجائے جنگ کی حالت پیدا ہوتے ہی قومی ترانوں اور پرجوش باتوں کے ذریعے جنگی جنون پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اب تو اس رویہ کو فروغ دینے میں سوشل میڈیا کو بنیادی اہمیت حاصل ہوچکی ہے لیکن مین اسٹریم میڈیا اور قومی دانشور و مفکر قسم کے لوگ بھی دونوں ملکوں میں جنگ کا ماحول پیدا کرنے میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ خاص طور سے نریندر مودی اور ان کے حواری جس طرح بھارت میں انتخابی کامیابی کے لئے جنگ جوئی اور نفرت کو بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں، وہ دونوں ملکوں کے درمیان کسی نئے تصادم کا سبب بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

نیویارک ٹائمز نے دو روز قبل اپنے اداریہ میں اسی صورت حال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ کشمیر کا مسئلہ حل کروانے میں کردار ادا کرے کیوں کہ کشمیری عوام کے ساتھ ہونے والی نا انصافی کے خاتمہ کے بغیر پاکستان اور بھارت مسلسل تصادم کی حالت میں رہیں گے جو جلد یا بدیر ایک نئی جنگ کی صورت اختیار کرسکتا ہے۔ اخبار کا خیال ہے کہ یہ جنگ کسی جوہری تصادم کی شکل بھی اختیا رکرسکتی ہے۔ نیویارک ٹائمز کا یہ تجزیہ دراصل دونوں ملکوں میں پائی جانے والی جذباتیت، غیر ذمہ دارانہ بیانات اور لیڈروں کی کم نگاہی کی روشنی میں حقیقی صورت حال کا عکاس ہے۔ اخبار نے اگر کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کا حوالہ دیا ہے تو اس کے ساتھ ہی عسکری گروپوں کے ساتھ پاکستانی انٹیلی ایجنسیوں کے راہ و رسم کا بھی ذکر کیا ہے۔

اسی حوالے سے امریکی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل جوزف ووٹل نے ایک کانگرس کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے انتہا پسند عناصر کو پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعہ و تصادم کی بنیاد قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کی سرزمین سے سرگرم عسکری گروہ اس علاقے میں جنگی حالات پیدا کرنے کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ اس لئے برصغیر میں امن کے لئے ان عناصر پر قابو پانا ہی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

جنگ کا خطرہ ٹلنے سے اگرچہ دونوں ملکوں کے عوام کی بڑی اکثریت نے سکھ کا سانس لیا ہے لیکن کسی بھی طرف جنگ جوئی کی ذہنیت میں کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ پاکستان میں عام طور سے یہ باتیں کی جاتی ہیں کہ جنگ ہتھیاروں سے نہیں جذبے اور جوش سے جیتی جاتی ہے اور افواج پاکستان وقت ایمانی سے سرشار ہوکر لڑنے کی وجہ سے کامیابی کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کو ختم کرنے کے امریکی اور اسرائیلی سازشی نظریوں کو پرجوش طریقے سے پھیلایا جارہا ہے جس سے لوگوں میں خوف و ہراس سے زیادہ یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ جنگ کرنا پاکستان کے لئے واحد آپشن ہے۔ حالانکہ جنگ سے بچنا پاکستان کا واحد مطمح نظر ہونا چاہیے۔ بھارت میں بھی اپنے طریقے سے جن سنگھی گروہ اور انتہا پسند سیاست دان جنگ کو قومی مقصد کے طور پر تسلیم کروانے کا کام کررہے ہیں۔

برصغیر میں امن کے لئے جنگ کے خلاف رائے تیار کرنا ضروری ہے۔ اس مقصد کے لئے سیاست دانوں اور میڈیا کو جنگ اور خاص طور سے جوہری تنازعہ کی تباہ کاری کے بارے میں عوام کو شعور دینا ہوگا۔ یہ بتانا ہوگا کہ ایٹم بم سے ہونے والی تباہی جغرافیائی حدود اور نظریاتی تخصیص سے ماورا ہوتی ہے۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali