دہشت گردی کا کوئی عذر قابل قبول نہیں: نیوزی لینڈ سے سیکھنے کا سبق


پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان، ترکی کے صدر طیب اردوان اور ایرانی صدر حسن روحانی سمیت متعدد مسلمان لیڈروں نے اس موقع پر یہ پیغام عام کرنے کی کوشش کی ہے کہ ’دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا‘ ۔ یہ لیڈر نیوزی لینڈ میں ایک سفید فام نسل پرست اور فسطائی کی حرکت کو اپنے دعوے کی دلیل کے طور پر پیش کررہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مسلمان لیڈر یہ مطالبہ بھی کررہے ہیں کہ مغربی ملکو ں میں اسلامو فوبیا یا مسلمانوں کے خلاف نفرت کے خلاف کام کیا جائے۔ یہ پیغام معاشروں میں مساوی حقوق کے لئے کام کرنے والے سیاسی کارکن اور انسانی اقدار کے لئے سرگرم تنظیمیں ہمیشہ سے عام کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔ تاہم کرائسٹ چرچ کی دہشت گردی کے بعد صرف مغربی ممالک کے خلاف پوائینٹ اسکورنگ یا انہیں شرمندہ کرنے کی کوشش سے افہام و تفہیم اور مساوات کا بنیادی مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔

اس کے لئے مسلمانوں کو اپنے رویوں اور اپنے معاشروں میں اقلیتوں کے ساتھ برتے جانے والے سلوک پر بھی غور کرنا ہو گا۔ محبت اور باہمی احترام کا پیغام کبھی یک طرفہ نہیں ہو سکتا۔ مسلمان ایک خاص واقعہ کے بعد ’مظلوم‘ ہونے کا دعویٰ کرکے سارا الزام مغرب اور سفید فام نسل پرستوں کو نہیں دے سکتے۔ انہیں یہ بھی سمجھنا ہو گا کہ کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں کے خلاف نعرے مقبول ہوتے ہیں جس کی وجہ سے سیاست دان انہیں برتنے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ ان عوامل میں مسلمان ممالک کے علاوہ مغربی ممالک میں آباد مسلمان آبادیوں کو بھی اپنے کردار پر بھی غور کرتے ہوئے اسے تبدیل کرنے کے لئے کام کرنا ہوگا۔

یہ درست ہے کہ نیوزی لینڈ میں مساجد پر حملہ میں نسل پرستانہ دہشت کی افسوسناک مثال قائم ہوئی ہے اور اس ذہنیت کے خلاف پوری قوت سے آواز بلند کرنا ہی وقت کی ضرورت ہے۔ مغربی رائے بنانے والوں اور سیاسی لیڈروں میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو آسٹریلین سینیٹر فریزر ایننگ کی طرح برنٹین ٹورینٹ کی دہشت گردی اور سفاکی کی دلیل تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی لوگ اور مزاج کسی ’مسلمان‘ کی دہشت گردی کو اسلام کا پیغام اور مسلمانوں کا طریقہ قرار دیتے دیر نہیں کرتے۔ اب یہ عناصر حملہ آور کو ذہنی طور سے ناقص یا ’تنہا فرد‘ قرار دے کر خود کو اس جرم سے بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کریں گے۔

مسلمانوں کو البتہ اس قسم کے انتہا پسند مزاج کے نمائیندوں کے طرز عمل کو مثال بنانے کی بجائے یہ دیکھنا ہو گا کہ کیا کسی مسلمان دہشت گرد کے خود کش حملہ یا قتل و غارتگری کے بعد تمام مسلمان اسی طرح اس رویہ کو مسترد کرتے ہیں جس طرح نیوزی لینڈ اور مغربی ممالک کے عوام کی بڑی اکثریت کرائسٹ چرچ سانحہ کے بعد اس کی مذمت کے لئے سامنے آئی ہے؟ مسلمانوں میں اب تک دہشت گرد گروہوں کے بارے میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ ایسے مسلمانوں کی کمی نہیں ہے جو دہشت گردی کو مغربی ممالک کی بالادستی کے خلاف مجبور وں کی آواز سمجھتے ہیں اور حملہ آوروں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ نیوزی لینڈ کے نوجوان لڑکوں، لڑکیوں، خواتین، مردوں اور اسکول کے بچوں نے پھولوں، خطوں اور مسلمانوں کے ساتھ ملاقاتوں میں اظہار ہمدردی کرکے انہیں گلے لگایا ہے اور کہا ہے کہ ’آپ اور ہم ایک ہیں‘ ۔ سوچنا چاہیے کہ اقلیتوں پر ہونے والے حملوں کے بعد کیا مسلمان ملکوں میں بھی ایسے مناظر دیکھنے میں آتے ہیں؟

دہشت گردی انسانیت کی دشمن ہے۔ یہ بے گناہ لوگوں کی جان لیتی ہے۔ کسی بھی عقیدہ یا نظریہ کی بنیاد پر یہ راستہ اختیار کرنے والا انسانوں کا دشمن ہے۔ اس کے فعل کو ’سمجھنے‘ کی ہرکوشش ناقابل قبول ہونی چاہیے۔ نیوزی لینڈ کی حکومت اور لوگ اس حوالے سے سرخرو ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کو ایسی سرخروئی کے لئے سخت محنت کی ضرورت ہوگی۔

جس طرح ایک مسلمان دہشت گرد کے بھیانک کردار کی وجہ سے تمام مسلمانوں کو مجرم قرار دینے کی ذہنیت کو قبول نہیں کیا جا سکتا، اسی طرح اب بعض مسلمانوں کا یہ مؤقف درست نہیں ہوسکتا کہ تمام عیسائی دہشت گرد ہیں یا تمام سفید فام انسانیت دشمن ہیں۔ اور مغربی ممالک مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی سازش میں مصروف ہیں۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali