پانی بچائیے: مستقبل بچائیے
آب و حیات کے ربط کا فلسفہ توانتہائی سادہ لیکن مضبوط اور مر بوط بنیادوں پر استوار اور ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہے۔ حیات کے تمام رنگ آب سے ہی نکھرتے اور سنورتے ہیں۔ تاریخ بھی اس فلسفے کی تائید کرتی ہے کہ دنیا کی تمام بڑی تہذیبوں نے پانی کے ہی کنارے جنم لیا اور یہیں ارتقاء کے مراحل طے کیے۔
مجھے ہمیشہ سے ہی پانی کی خاصیت بہت بھلی لگتی ہے کہ یہ ہر میلی اور گندی چیز کو صاف اور پاک کر دیتاہے۔ قدرت نے اس میں یہ صلاحیت بھی ر کھی ہے کہ اسے جس رنگ میں ملایا جائے وہ اسی میں رنگ جاتا ہے۔ اس میں کوئی انا نہیں کوئی تکبر نہیں ہوتا۔ لیکن حضرت انسان اسے بھی اپنے اختیار میں رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ پانی جیسی اہم نعمت پر قبضے کی کہانی بہت پرانی ہے۔ جو لوگ دنیا کے تمام وسائل اپنے قبضے میں رکھنے کے خواہش مند ہوتے ہیں وہ اس بات سے ضرور آگاہ ہیں کہ پانی انسان کی بنیادی ضروریات میں شامل ہے۔
اگر اسلامی تاریخ پر طائرانا نگاہ ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ اوائل اسلام کے زمانے میں بھی مسلمان و دیگر قبائل کے لوگ کس طرح پانی کے حصول میں سر گرداں رہتے تھے۔ اور حضرت عثمان کی ایک روایت تو بے حد مشہور ہے کہ جس میں انہوں نے مکہ کا سب سے بڑا (آبی ذخیرہ) کنواں ایک یہودی سے منہ مانگے داموں خرید کر اسے بلا تفریق مذہب تمام مکہ والوں کے لئے وقف کر دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے با برکت شہر مکہ کو آب زم زم کا معجزہ عطا فرمایا جس کے شفاء بخش پانی سے سینکڑوں انسان تا قیامت مستفید ہوتے رہیں گے۔
پاکستان کو قدرت نے دیگر قدرتی وسائل کی طرح آبی وسائل سے بھی محروم نہیں رکھا۔ پاکستان کو قدرت نے ایک دو نہیں سات دریا عطا کیے۔ جو قدرت کی فیاضی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اسی لئے یہ سات دریاؤں کی سرزمین بھی کہلاتا ہے۔ یہ دریا، دریائے سندھ، راوی، چناب، ستلج، بیاس، جہلم اور دریائے سر سوتی ہیں۔ دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں کا نظام بھی قدرت کی صناعی کا بہترین نمونہ ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ہم وسائل کو صحیح طور پر بروئے کار نہیں لارہے اور ان وسائل سے اتنا فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا جتنا اٹھایا جا سکتا ہے۔
جس کی وجہ سے پانی کی کثیر مقدار اس ملک اور اس کے شہریوں کو کوئی فائدہ پہنچائے بغیر ضائع ہو رہی ہے۔ لیکن آبی وسائل کا غیر دانشمندانہ استعمال، ناقص آبی انتظاماور بدلتے موسموں نے ہمارے آبی وسائل کو مستقل خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ہر سال جتنا پانی کسی بھی طرح استعمال کیے بغیر سمندر میں ضائع ہو رہا ہے اس سے اربوں ڈالر کمائے جا سکتے ہیں۔ ضرورت صرف معاملات کو پوری طرح سمجھنے اور قومی تقاضوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے حب الاوطنی کے ساتھ ٹھوس اور جرئا ت مندانہ فیصلے کی ہے۔
زمین پر زندگی کی ضمانت اور فطرت کے نظام میں توازن کی بنیاد پانی یہ ہے۔ دنیا کی چھ ارب سے زائد آبادی کے لئے پانی کی طلب روز بروز بڑھ رہی ہے اور یہ آبادی کرۂ عرض پر موجود میٹھے پانی کا 54 فیصد استعمال کرتی ہے۔ جس میں 70 فیصد زراعت 22 فیصد صنعتوں اور 8 فیصد گھریلو ضروریات کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ دور حاضر میں پانی کے استعمال کے حوالے سے یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ یہ استعمال 2025 تک ترقی یافتہ ممالک میں 18 فیصد بڑھے گا۔
1.4 ارب لوگ دریاؤَ کے بیسن میں رہتے ہیں جہاں پانی کا استعمال اتنا زیادہ ہے کہ زیر زمین پانی کی سطح انتہائی کم ہو گئی ہے۔ 22 دسمبر 1992 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعے ہر سال 22 مارچ کو دنیا بھر میں پانی کا عالمی دن منانے کا فیصؒہ کیا گیا۔ اضلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ پانی کی اہمیت کے پیش نظر ہر سال لٹریچر، دستاویزی فلموں، کانفرنسوں اور سیمینارز کے ذریعے لوگوں کو شعور اور آگاہی دی جائے گی۔
اس دن پانی کے حوالے سے درپیش مسائل کے حل کے لئے ورلڈ فورم کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ دنیا کو صاف پانی مہیاکرنے کا خواب دیکھنے والوں کا سب سے بڑا اجتماع ”ورلڈ واٹر فورم“ کا اجلاس ہر تین سال بعد ہوتا ہے۔ اس فورم کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں 180 ممالک کے بیس ہزار افراد حصہ لیتے ہیں۔ جن میں 90 وزراء، 250 ارکان پارلیمنٹ، سائینسدان اور پانی فروخت کرنے والے پیشہ ور شامل ہوتے ہیں۔ آبی ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے وقتوں میں جنگیں آبی وسائل کے حصول کے لئے ہوں گی۔
اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہہ یہ کس قدر سنگین مسئلہ ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک جہاں کروڑوں لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہوں، جہاں خون پانی سے بھی ارزاں ہو گیا ہو وہاں عوام مستقبل کی منصوبہ بندی پر کس طرح نظر رکھ سکتے ہیں۔ بیشتر ترقی یافتہ ممالک آنے والے دنوں کی جامع حکمت عملی میں مصروف عمل ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ دوسرے ترقی پذیر ممالک کے آبی ذخائر پر قبضے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
جس طرح اسرائیل نے فلسطین اور اردن کا پانی روک رکھا ہے۔ اسی طرح ہر سال بھارت پاکستان کے آبی ذخائر پر ڈاکا ڈالتا رہا ہے۔ دنیا میں 145 ممالک ایسے ہیں جن کی سرحد سے دریا نکل کر دوسرے ملک میں داخل ہوتے ہیں۔ پاکستان اور بھارت بھی ان ہی ممالک میں شامل ہے۔ جب کہ ان 263 دریاؤں کا ایک تہائی حصہ دو سے زائد ممالک کے درمیان رہتا ہے۔ ان ممالک کے درمیان پانی کی تقسیم پر آئے دن کوئی نہ کوئی تنازعات جنم لیتے رہتے ہیں۔
جن کا کوئی مستقل حل نہیں۔ اقوام متحدہ کی واڑت ڈیویلپمنٹ رپورٹ کے مطابق دنیا میں پانی پر سات جنگیں ہو چکی ہیں جب کہ آبی وسائل پر 507 تنازعات چھوٹے بڑے مسلح تصادم تک پہنچ چکے ہیں۔ پانی کا بے دریغ اور ضرورت سے زیادہ استعمال انسان کو پانی کے زیر زمین ذخائر پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔ ایسے وقت جب تیل اور تیل کے ذخٓائر پر اجارہ داری قائم کرنے کی جنگ جاری ہے، اقوام متحدہ نے یوم آب منا کر نئے تنازع کا ٓغاز کر دی ہے۔
بڑے اور ترقی یافتہ ممالک اقوام متحدہ کے کنٹرول میں نہیں۔ یوم آب منانے کا ان پر کیا اثر ہو گا۔ رہ غریب اور ترقی پذیر ممالک تو ان کی سمجھ میں یوم آب کا مطلب یہی آئے گا کہ آئندہ جنگیں اب پانی کی اجارہ داری پر ہوا کریں گی۔ ترقی پذیر ممالک کو اب ان جنگوں کے لئے تیار رہنا چاہیے۔ پانی کامسئلہ سیاسی نہیں معاشی ہے۔ اگر ہمیں آئندہ بوند بوند پانی کے لئے ترسنے سے بچنا ہے تو موثر حکمت عملی وقت کی اہم ضرورت ہے۔


