قوموں کی تقدیر تیل کے ذخائر سے نہیں، نظام کی تبدیلی سے بدلتی ہے
صرف ماضی کی حکومتوں پر الزام تراشی یا بچت کے دعوؤں سے قومی خسارہ کا جن قابو میں نہیں کیا جاسکتا۔ قومی اخراجات میں کمی کے لئے وزارتوں کے اخراجات اور اسمبلی ارکان کی مراعات کو پرانی شرح پر برقرار رکھ کر کوئی بڑا ہدف حاصل نہیں ہو سکتا۔ اس کے لئے قومی پیداوار میں اضافہ ہی واحد حل ہے۔ زیادہ لوگوں کو ٹیکس دینے پر آمادہ کرنا ضروری ہے اور غیر ضروری اخراجات کی نشاندہی کرکے انہیں ختم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس حوالے سے تحریک انصاف کی کارکردگی حکومت کے سات ماہ میں یکے بعد دیگرے نظر ثانی شدہ مالیاتی بل منظور کروانے سے ہی واضح ہوجاتی ہے۔
وزیر اعظم نے اس پریس ملاقات میں تین ہفتے میں قوم کو بڑی خوش خبری دینے کا وعدہ بھی کیا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اس خوش خبری کا پورا حلیہ بھی بیا ن کردیا۔ وزیر اعظم نے بتایا ہے کہ ایکسن موبل کنسورشیم پاکستانی سمندری حدود میں تیل و گیس کی تلاش کے لئے جو کوششیں کررہا ہے، اس کے بارآور ہونے کے امکانات ہیں۔ عمران خان نے بتایا کہ تین ہفتوں میں اس بارے میں ٹھوس معلومات سامنے آئیں گی اور اگر پاکستانی حدود میں تیل و گیس کے ممکنہ وسیع ذخائر دریافت ہوگئے تو ملک کی تقدیر بدل جائے گی۔ وزیر اعظم کی یہ خوش فہمی درست بھی ثابت ہوجائے تو بھی انہیں یہ بات ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہوگی کہ صرف تیل نکلنے سے کسی ملک کی تقدیر بدلنا یقینی نہیں ہوسکتا۔
سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں تیل کے متبادل تلاش کرنے کا کام زور شور سے جاری ہے تاکہ تیل پر معیشت کا انحصار کم کرکے معاشی استحکام بھی حاصل کیا جاسکے اور ماحولیات کو تیل کے استعمال سے پیدا ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مہلک اثرات سے بھی بچایا جاسکے۔ اسی لئے تیل پیدا کرنے والے اہم عرب ممالک بھی اب متبادل معاشی وسائل حاصل کرنے کے لئے ہاتھ پاؤں ماررہے ہیں۔ اس کے باوجود تیل انرجی کا اہم ذریعہ ہے اور ملک میں اگر اس قدر تیل بھی پیدا ہونے لگے کہ قومی ضرورتیں پوری ہوسکیں تو اس کا ملکی معیشت پر مثبت اثر مرتب ہوگا۔ اس طرح پاکستان تیل کی درآمدات پر صرف ہونے والا کثیر زر مبادلہ بچا سکے گا یا ادھار تیل کے بدلے عرب ملکوں کو سفارتی و سیاسی مراعات دینے پر مجبور نہیں ہوگا۔ لیکن یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ تیل دریافت ہونے اور اس کے فوائد حاصل کرنے میں ایک دہائی کی مدت بیت سکتی ہے۔
کسی ملک کے معاشی وسائل صرف اسی وقت سود مند ثابت ہوسکتے ہیں جب اس کا نظام مستحکم بنیادوں پر استوار ہو۔ بصورت دیگر نائیجیریا اور وینزویلا کے علاوہ عراق اور ایران جیسے ملکوں کی مثالیں بھی ہمارے سامنے ہیں جو داخلی بحران کی وجہ سے تیل سے حاصل ہونے والے کثیر وسائل کو بھی عوام کی ضرورتیں پوری کرنے اور انہیں سہولت فراہم کرنے کے لئے استعمال نہیں کرسکے۔ پاکستان یوں بھی 22 کروڑ آبادی کا بڑا ملک ہے۔ کسی بھی مقدار میں دستیاب ہونے والا تیل اور گیس اس کی معیشت میں صرف اسی وقت کوئی ڈرامائی کردار ادا کرسکے گا اگر ملک کے اندر انتشار اور بے یقینی کو ختم کیا جاسکے گا۔ ملک میں سیاسی لیڈروں کی کردار کشی، پارلیمانی نظام کے بارے میں پیدا کی جانے والی بے یقینی اور آزادی اظہار پر عائد پابندیوں کی وجہ سے، حالات بدستور دگرگوں ہیں اور ملک کے سیاسی استحکام اور نظام کے بارے میں نت نئے خدشات سامنے آرہے ہیں۔
ان خدشات میں سب سے بڑا اندیشہ ملک میں پھیلنے والی انتہا پسندی اور ایسے گروہوں کی موجودگی ہے جو قومی مفاد کے حصول کے لئے کھڑےکیے گئے تھے لیکن اب قومی سلامتی کے لئے سب سے بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔ وزیر اعظم نے بلاشبہ اپنی گفتگو میں قومی ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن صرف مولانا فضل الرحمان پر نکتہ چینی کرنے سے انتہا پسندی ختم کرنے اور مذہب کی مثبت اور روشن خیال تفہیم کا مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔
ملک کے موجودہ حالات کو ماضی کی غلطیوں کے ذریعے سمجھنے یا سمجھانے کی بجائے حکومت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان حالات کو تبدیل کرنے کے لئے حکمت عملی سامنے لائے۔ تاکہ انتہا پسندی کے خلاف موجودہ حکومت کی نیک نیتی پر پوری دنیا یقین کرسکے۔ تب ہی ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ہوگا اور معاشی احیا کے بنیادی کام کی طرف پر توجہ مبذول ہو سکے گی۔
حال ہی میں بھارت کے ساتھ تصادم کی صورت حال میں حکومت کو اندازہ ہو گیا ہوگا کہ قول و فعل کے تضادات ملکوں کو کس طرح بے توقیر کرتے ہیں اور ان کی مشکلات ختم ہونے میں نہیں آتیں۔ عمران خان بھی اگر بھارت کے ساتھ تعلقات کو صرف نریندر مودی کی انتخابی مہم کے تناظر میں دیکھنے پر اصرار کرنے کی بجائے بڑی تصویر کو سمجھنے کی کوشش کرسکیں، تب ہی وہ ملک کی پر امن مستقبل کی طرف رہنمائی کرسکتے ہیں۔

