قصہ ایک بھوکے کو کھانا کھلانے کا


آخرٹرک ڈرائیور نے اسے کہا کہ وہ اس سے کچھ روپے ادھار لے لے اور بعد میں اسے واپس لوٹا دے لیکن وہ عزیز کہنے لگا کہ مجھے پیسے کی ضرورت نہیں ہے، آپ کا بہت بہت شکریہ۔ اس ٹرک ڈرائیور نے کوہالہ کے قریب تک ہی جانا تھا، وہ عزیز اس کا شکریہ ادا کر کے ٹرک سے اتر گیاکہ اسے کوہالہ ہی جانا ہے۔ ٹرک ڈرائیور اسے اتار کر آگے کی طرف چلا گیا۔

اس عزیز نے سنایا کہ میں دکھ اور پریشانی میں پیدل چل پڑا، کچھ ہی آگے گیا تھا کہ گرد آلود راستے پہ پچاس روپے کا ایک نیا نوٹ مٹی پہ سڑک کے درمیان پڑے دیکھا۔ اس نے سوچا کہ اللہ نے دینا ہوتا تو کچھ زیادہ دیتا، اللہ نے اس کی بے بسی کی یہی قیمت لگائی ہے؟ اسی غصے میں وہ پچاس روپے کا نوٹ چھوڑ کر آگے بڑھ گیا، ایک فرلانگ آگے جا کر اسے خیال آیا کہ پیدل چل کر وہ کب راولپنڈی پہنچے گا، یہ سوچ کر واپس آیا تو دیکھا وہ پچاس کا نوٹ اسی جگہ پڑا ہوا تھا۔ اس وقت مظفر آباد سے راولپنڈی تک بس کا کرایہ پچیس روپے تھا۔ اس عزیز کو آج بھی یقین ہے کہ پچاس روپے کا نوٹ اسی ٹرک ڈرائیور نے سڑک پہ پھینکا تھا، اس ٹرک کے بعد کوئی گزرا بھی نہیں تھا کہ پچاس کا نیا نوٹ مٹی میں دور سے صاف نظر آرہا تھا۔

اتنے میں راولپنڈی جانے والی بس آ گئی اور وہ بس میں سوار ہو گیا۔ مری سے آگے چھتر کا مقام آیا تو اس نے سوچا کہ اگر پیدل آ رہا ہوتا تو ابھی کوہالہ سے کچھ ہی آگے پہنچا ہوتا، یہ سوچ کر وہ بس سے اتر گیا اور پیدل ہی چلنا شروع کر دیا کہ جہاں تھک گیا وہاں سے کسی آتی ہوئی بس میں بیٹھ جاؤں گا۔ شام کا وقت تھا، اندھیرا چھا رہا تھا، اتنے میں اسے ایک غریب سا بوڑھا ملا جو اپنی بکر یوں کولئے جا رہاتھا۔

اس بوڑھے نے اس سے پوچھا کہ آپ کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے؟ آپ کیوں پیدل جا رہے ہیں؟ یہ جگہ ویران ہے اور خطر ناک بھی ہے، میرا جھونپڑا قریب ہی ہے، جو کچھ بھی ہوا مل کر کھا لیں گے، تم رات گزار کر صبح روانہ ہو جانا۔ وہ بوڑھا چرہاوا اصرار کرتا رہا کہ مجھے بتاؤ کہ آپ کو کیا پریشانی ہے۔ اتنے میں بس آ گئی اور وہ اس بوڑھے کا تہہ دل سے شکریہ ادا کر کے بس میں سوار ہو گیا۔

اس عزیز کا کہنا ہے کہ میں آج بھی اس ٹرک ڈرائیور اور اس بوڑھے چرہاوے کا شکر گزار ہوں جنہوں نے انسانیت کی پاسداری کی اور یہ سبق دیا کہ پریشانی، مصیبت میں پھنسے انسان کے کام آنا انسان کا فرض ہے، اس کے لئے اسباب کی نہیں خلوص اور ہمدردی کی ضرورت ہوتی ہے۔ عظیم انسان ہیں وہ لوگ جو خود غریب، سفید پوش ہوتے ہیں لیکن کسی کو بھی پریشانی میں دیکھ کر خود اس کا احساس کرتے ہیں۔ با اختیار، دولت مند لوگ، بھوکے، غریب، ضرورت مند کی مصیبت سے لا پرواہ ہوتے ہیں، وہ ان کی تکلیف دور کرنے کے لئے اپنی معمولی سی چیز دینے کے بھی روا دار نہیں ہوتے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2