ہنی مون پیریڈ کا خاتمہ اور غریبوں کے لئے بے چین عمران خان


 خالص سیاسی و جمہوری بنیاد پر فیصلوں کی وجہ سے ایسی تبدیلی جمہوری روایت کے عین مطابق بھی ہوسکتی ہے۔ لیکن پاکستان میں اس قسم کی تبدیلی کے لئے غیر منتخب طاقتوں کی اشیر واد پر تکیہ کیا جاتا ہے اور ان ہی کے تعاون کسی حکومت کا تختہ الٹنے کی خواہش و امید کی جاتی ہے۔ ایسا عمل کبھی بھی جمہوریت کے استحکام کا سبب نہیں بن سکتا جس میں غیر جمہوری قوتوں کے کردار کو تسلیم کیا جارہا ہو۔

اس پس منظر میں موجودہ سیاسی صورت حال پر غور سے پہلے یہ بات بھی ذہن نشین کرنا ہوگی کہ ملک کے سیاست دانوں کی خود پسندی، کرپشن، بد انتظامی اور سیاسی غلطیوں پر تو دفتر سیاہکیے جاتے ہیں لیکن ملک میں کسی آئینی اختیارکے بغیر حکومت کرنے والی عسکری قوت کی غلطیوں اور سیاست میں مداخلت کے بارے میں سرسری بات کرکے اور اس کا ملبہ بھی سیاست دانوں کے سر ڈال کر آگے بڑھنے کا چلن عام رہا ہے۔ ملک کی سیاسی تاریخ کا جائزہ لیتے ہوئے اس طرز عمل کو منصفانہ نہیں کہا جاسکتا۔

 خاص طور سے مخالف سیاست دانو ں کی کردار کشی کی بنیاد پر سیاست کرنے والے عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو اس پہلو پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ملک میں تیس پینتیس برس لولے لنگڑے جمہوری انتظام کے تحت حکومت کرنے والے سیاست دان اگر قومی دولت لوٹ کر ذاتی خزانے بھر چکے ہیں تو باقی ماندہ مدت میں ملک پر مطلق العان حکومت کرنے والے فوجی لیڈروں کی لوٹ مار کے بارے میں کوئی بات کرنے کی ضرورت کیوں محسوس نہیں کی جاتی۔

ملک کے قیام کے ساتھ ہی جمہوریت کے خلاف سازشوں کا حصہ بننے والے اور بعد میں آئین پامال کر کے فوجی حکمران کے طور پر دس برس تک حکمرانی کرنے والے ایوب خان کے دور حکومت کو تو عمران خان ’پاکستان کا سنہرا دور‘ قرار دینے میں حجاب محسوس نہیں کرتے۔ اسی مزاج کا شاخسانہ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کے 9 ماہ بھی پورے نہیں ہوئے کہ اس حکومت کی ناکامیوں اور غلطیوں کے قصے عامکیے جارہے ہیں۔ اس قسم کی رائے کو زبان خلق کا درجہ دلانے کی کوشش کرنے والے لوگ ’بدعنوان سیاسی لیڈروں‘ کے تنخواہ دار نہیں ہیں۔ بلکہ ان کی زبانوں کے نشتر کسی دوسرے سان پر تیز ہوتے ہیں۔

یہ بنیادی نکتہ سمجھ لیا جائے تو جمہوری مباحث میں توازن قائم کیا جا سکتا ہے اور سیاسی قوتیں اور مبصر سیاست دانوں کو تختہ مشق بنانے کے علاوہ، اصل خطرات سے آگاہ ہو سکتے ہیں۔ اس وقت اپوزیشن تحریک انصاف کے خلاف کسی سیاسی مہم جوئی کے لئے تیار نہیں ہے۔ ملکی سیاست میں خفیہ قوتوں کو حرف آخر سمجھنے کے مزاج کے تحت یہ قیاس کیا جاتا ہے کہ کوئی سیاسی جماعت اسٹبلشمنٹ کی مرضی کے بغیر حکومت مخالف مہم نہیں چلا سکتی۔

 میاں نواز شریف کی ضمانت پر رہائی کے بعد اب یہ چہ میگوئیاں عام ہو رہی ہیں کہ سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ کیوں کیا اور اس کے ملکی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ کڑی سے کڑی ملاتے ہوئے بعض پرجوش اس سال کے آخر تک عمران خان کی جگہ شہباز شریف کو وزیر اعظم بنوانا چاہتے ہیں اور ’مصلحت پسند‘ عمران خان کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کرکے سول ملٹری تعاون کے ہنی مون کو جاری رکھنے کا اہتمام کریں۔ اس طرح تحریک انصاف کے اقتدار کا سورج بھی آب و تاب کے ساتھ جگمگاتا رہے گا۔

البتہ ملک کے سیاسی منظر نامہ کو سمجھنے کے لئے صرف خفیہ ہاتھوں اور اشاروں کو حتمی قرار دینے کے علاوہ دیگر عوامل پر غور کرنے کی بھی ضرورت ہوگی۔ ان میں ملک کے انتہا پسندوں کے خلاف حکومت کی کارروائی کا عالمی سطح پر اعتبار، معیشت میں ہیجان کی کیفیت کا خاتمہ اور سیاسی مکالمے میں الزام تراشی کی بجائے افہام و تفہیم کی ضرورت، قابل ذکر پہلو ہیں۔ وزیر اعظم بدستور ان پہلوؤں سے اجتناب کرتے ہوئے صرف دو باتوں پر توجہ مبذولکیے ہوئے ہیں۔ ایک یہ کہ سیاسی مخالفین کی کردار کشی جاری رہے تاکہ تحریک انصاف کا نئے پاکستان کا مقبول نعرہ بکتا رہے۔ دوسرے ایسے منصوبوں کا اعلان کیا جائے جنہیں عمران خان کو ’غریبوں کا ہمدرد لیڈر‘ ثابت کرنے کے لئے استعمال کیا جاسکے تاکہ ان کی مقبولیت کا گراف بدستور اونچا رہے۔

گزشتہ روز وزیر اعظم نے غربت کے خلاف ’احساس‘ کے نام سے جس مالی اور انتظامی منصوبہ کا اعلان کیا ہے، وہ بھی انہی سیاسی کوششوں کا حصہ ہے۔ عمران خان کو سمجھنا ہوگا کہ غربت کا خاتمہ خیرات بانٹنے سے ممکن نہیں ہے بلکہ ایسے انتظام کو تو غریبوں کو غریب رکھنے کا منصوبہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔ ملک میں غربت، سماجی علتوں کو ختم کرنے، معاشی چیلنجز سے نمٹنے اور قومی پیداوار میں اضافہ کے ذریعے ہی ختم ہوسکتی ہے۔ مالی امداد یا گھر بنا کر دینے کے منصوبوں کی بجائے نوجوانوں کو روزگار اور خاندانوں کی آمدنی میں اضافہ کے معاشی پروگرام شروع کرنا اہم ہوگا۔

پاکستان کی پیداواری صلاحیتیں، آبادی میں اضافے، غیر پیداواری اخراجات اور سماجی بے یقینی کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہیں۔ ان مشکلوں پر قابو پائے بغیر ’احساس‘ کی کوئی قوت عام شہریوں کو ’تحفظ‘ فراہم نہیں کر سکتی۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali