ذوالفقار علی بھٹو کا 40 واں یوم شہادت


4 اپریل 1979 کو جب ایک آمر نے طاقت کے نشے میں قانون اور آئین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے پاکستان کی سب سے بڑی پارٹی کے سربراہ ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر لٹکا کر اپنی شیطانی طاقت کی ہوس اور اپنے بیرونی آقاؤں کو خوش کرنا چاہاتھا مگر وہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے اس قول کو بھول گیا تھا جو شہید بھٹو نے کہا تھا کہ

” ذوالفقار علی بھٹو ایک نہیں ہے“

شاید شہید بھٹو اور پیپلز پارٹی سے بغض رکھنے والے اس بات کوکبھی نہیں سمجھ سکتے کہ آج 4 اپریل کو اس عظیم قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کی 40 ویں یوم شہادت کے موقع پر پورے پاکستان سے لوگ گڑھی خدا بخش لاڑکانہ میں قائد عوام اور پاک وطن کی مٹی کے وفادار کو خراج عقیدت پیش کرنے آتے ہیں۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو شخصیت اور سیاست کے دیدہ ور تھے وہ اپنی طالب عمری سے ہی سیاست اور ملک سے بے پناہ محبت کرتے تھے انہوں نے طالب علمی کے دور میں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح ؒ کو بھی خط ارسال کیا جس کا جواب بھی بانی پاکستان نے دیا جو آج بھی تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہے۔

شہید بھٹو نے عملی سیاست کا آغاز 1958 میں سکندرمرزاکی کابینہ میں بطوروزیربرائے پانی و بجلی کیا اوراس کے بعد ایوب خان کے دور میں بطور وزیر خارجہ اپنا مشن جاری رکھا شہید بھٹو کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ ملک پاکستان کے سب سے کم عمر وزیر خارجہ رہے ہیں، ایوب خان کی کابینہ سے جلد ہی اپنے آپ کو الگ کر کے وہ پاکستان کی ترقی کا خواب لئے اپنے چند دوستوں کے ہمراہ نکل پڑے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹواپنے جوش وجذبے اور تقریر کی وجہ سے عوام میں خاصی مقبولیت رکھتے تھے اور وہ جانتے تھے کہ اس ملک میں جو لوگ سدا اپنی حکمرانی قائم کرنا چاہتے ہیں وہ عوام کی فلاح وبہبود کے لئے کام نہیں کررہے تھے، انہوں نے 30 نومبر 1967 کو لاہور میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے قیام سے لے کر آج تک پی پی پی نے کبھی جمہوری عمل کو سبوتاژ نہیں ہونے دیا اور ہمیشہ آئین اور جمہوریت کی لاج رکھی ہے۔

پارٹی کے چاربنیادی ستون طے کیے گئے جو پاکستان پیپلز پارٹی کے سیاسی فلسفے کا نچوڑ ہیں۔

ا: اسلام ہمارا دین ہے

2: جمہوریت ہماری سیاست ہے

3: سوشلزم ہماری معیشت ہے۔

4: طاقت کا سر چشمہ عوام ہیں۔ (بعد میں پانچواں اہم ستون کا اضافہ کیا گیا)

5: شہادت ہمارا عمل ہے۔

شہید ذوالفقار علی بھٹو کی انتھک محنت اوروطن عزیز کی لگن نے انہیں مزید طاقت بخشی اور وہ ملک کے کونے کونے میں بڑے بڑے جلسے منعقد کرنے لگے جس میں عوام کا ٹھاٹیں مارتا سمندر آج بھی تاریخ کی صفحوں میں درج ہے اور تقدیر نے انہیں ایسے منصب پر فائز کر دیا جہاں وہ عوام کی براہ راست مدد کر سکتے تھے۔ انہوں نے بطور وزیراعظم پاکستان ملک کے لئے تاریخی کام کیے۔ جس میں ایٹمی پاور پلانٹ کی بنیاد، زرعی اصلاحات، قانونی اصلاحات، معاشی اصلاحات، 1973 کا آئین پاکستان دیا، قائداعظم یونیورسٹی، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا قیام، اسلامی سربراہ کانفرنس کا انعقاد، عالمی سیرت کانفرنس کا انعقاد، اسلامی دنیا کے تمام ممالک کو متحد کرنے کی کوشش، دنیا کے غریب ممالک کو متحد کرنے کے لئے تیسری دنیا کا تصور، 93 ہزار جنگی قیدیوں کی رہائی، شملہ معاہدہ، لیبر پالیسی، نیشنل بک فاؤنڈیشن، چین کے تعاون سے ٹیکسلا ہیوی کمپلیکس کا قیام عمل میں آیا، پاکستان اسٹیل کی تعمیر شروع ہوئی، پورٹ قاسم کی تعمیر، کامراہ میں بیراج ری بلڈ فیکٹری کا قیام، سینڈک کے منصوبے پر کام، کراچی شپ یارڈ کی توسیع اور جہاز سازی کی ابتدا، کھاد کے مختلف کارخانوں کی تعمیر، تربیلا ڈیم کی توسیع اور تکمیل، چشمہ بیراج کی تعمیر، شاہراہ قراقرم کی تعمیر چین کے تعاون سے مکمل ہوئی، کراچی پہلی اراضی مواصلاتی اسٹیشن، بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں 150 کلو واٹ کا میڈیم ویوٹرانس میٹر کی تنصیب، لاہور میں ڈرائی پورٹ کا قیام، پورے ملک میں تیل اور گیس کی دریافت کے لئے بڑے پیمانے پر کام شروع ہوا اور بڑے ذخائر دریافت ہوئے، پورے ملک میں عام سڑکوں سے کھیتوں سے منڈی تک کا سڑکوں کا جال، پلوں کی تعمیر، پاکستان نیشنل سینٹر کی تعمیر، اسلامی سربراہی کانفرنس کا عمل اور لاہور میں 160 فٹ اونچا میناربنایا گیا، کراچی میں عباسی شہید اسپتال، لیاری جنرل اسپتال اور پشاور میں محمد حیات محمد شیرپاؤ اسپتال کی تعمیرکروائے، ایک سو 21 ارب کا پیکیج ڈیولپمنٹ، ملیر ڈیولپمنٹ اور لیاری ڈویلپمنٹ کا قیام، تھرکول کامنصوبہ، پڑوسی ممالک سے معاشی اور بہتر تعلقات، کچی آبادیوں کو مالکانہ حقوق، جدید اسپتال، تعلیم درس گاہیں، روزگار کے مواقع سمیت آج تک پیپلز پارٹی اسی روش کے ساتھ عوام کی خدمت کررہی ہے۔

 4 اپریل کو کارکنان پاکستان پیپلز پارٹی شہید ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کو دکھ اور رنج کے ساتھ نہیں بلکہ جوش وجذبے کے ساتھ ہمت اور قربانی کا عزم لئے گڑھی خدا بخش لاڑکانہ جاتے ہیں جہاں وہ بھٹو کے اس علم کو تھامے رکھنے کا عہد کرتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کسی انسان کا نام نہیں بلکہ ایک شخصیت اور سوچ کا نام ہے کہ ہر محب وطن جو ملک کی فلاح وبہبود کی خاطر جان دے سکتا ہے وہ بھٹو کی عکاسی کرتا ہے۔ تاریخ کے اوراق میں شہید ذوالفقار علی بھٹو کا نام اور کام رہتی ددنیا تک قائم رہے گا اور میں جانتا ہوں کہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح ؒ اور ان کے ساتھیوں نے ہمیں ایک آزاد اور پاک سر زمین کا حصول دیا اور اس زمین کو پھل کے قابل شہید ذوالفقار علی بھٹو نے بنایا جس کی افادیت سے آج تک عوام سرخرو ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں قائم تمام سیاسی پارٹیاں شہید ذوالفقار علی بھٹو کی قربانیوں اور ان کی خدمات پرانہیں خراج عقیدت پیش کرتی ہیں۔

Facebook Comments HS